BEST RESULT

Custom Search

Monday, November 9, 2015

ہم نامی کا مغالطہ

ہم نامی کا مغالطہ

تعارف، پہچان اور شناخت کے سلسلہ میں انسان کے نام کی بڑی اہمیت ہے- اسی کے ذریعہ ہم ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں، مگر کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک ہی نام کے دو یا اس سے زیادہ افراد ہوتے ہیں جن کو ہم نام کہاجاتا ہے، دوہم نام افراد کے درمیان فرق کرنے کے لیے عام طور پر ناموں کے ساتھ قبیلہ، خاندان، شہر، مسلک یا مشرب کی نسبتوں کے سابقے اور لا حقے لگادئیے جاتے ہیں، تاکہ دونوں کی شناخت الگ الگ قائم رہے- راویان حدیث میں بعض حضرات ایسے بھی ہیں جو نہ صرف یہ کہ ہم نام ہیں بلکہ ان کے والد اور ان کے دادا بھی ہم نام تھے- اس قسم کے افراد کے درمیان فرق کرنے میں بڑی دقت پیش آتی ہے- علم اسماء الرجال کے ماہرین نے اس سلسلہ میں بہت سی علامتیں وضع کی ہیں جن کی مدد سے ہم نام راویوں کے درمیان فرق کیا جاتا ہے، مگر پھر بھی یہ ایسا نازک مقام ہے کہ یہاں سلامتی سے گزرجانا بڑے کمال کی بات ہے- ورنہ ماہر سے ماہر عالم اسماء الرجال بھی یہاں کبھی نہ کبھی دھوکا کھاجاتا ہے-
ہمارے اکابر علما محدثین اور مصنفین میں بے شمار ایسے حضرات ہیں جو ہم نام ہیں، دوہم نام افراد میں سے ایک مشہور ہوں اور دوسرے کا نام پردہ گمنامی میں چلا جائے تو کوئی پریشانی کی بات نہیں، دشواری اس وقت پیش آتی ہے جب دو افراد ہم نام ہونے کے ساتھ ساتھ نامور بھی ہوں، ایسی صورت میں اکثر مغالطہ ہوتا ہے- کبھی ایک کی تصانیف دوسرے کی سمجھ لی جاتی ہیں اور کبھی دوسرے کی خدمات پہلے کے کھاتے میں ڈال دی جاتی ہیں-
ذیل میں ہم ایسے ہی بعض اکابر علما کے ناموں پر روشنی ڈالیں گے جو ہم نام ہونے کے ساتھ نامور بھی ہیں، ہم نے صرف چند ان علما کا انتخاب کیا ہے جو مشہور و معروف ہیں اور اکثر عوام تو عوام علمی حلقوں میں بھی ان دو حضرات کو ایک ہی سمجھ لیا جاتا ہے-
(۱) شیخ شہاب الدین سہروردی
(۱) شیخ شہاب الدین سہروردی صاحب سلسلہ سہروردیہ اور شیخ شہاب الدین سہروردی صاحب حکمۃ الاشراق کو عام طور پر ایک ہی سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ یہ دو الگ الگ شخصیات ہیں۔
اول الذکر کا پورا نام ابو حفص عمر بن محمد بن عبد اللہ شہاب الدین السہروردی ہے آپ کی ولادت سہرورد میں ۵۳۹ھ میں اور وفات بغداد میں ۶۳۲ھ میں ہوئی-
آپ کا لقب ’’شیخ الشیوخ‘‘ ہے- ’’ عوارف المعارف‘‘آپ کی مشہور کتاب ہے، اس کے علاوہ ’’نغبۃ البیان فی تفسیر القرآن‘‘ اور ’’جذب القلوب الی مواصلۃ المحبوب‘‘ بھی آپ کی تصانیف ہیں- ثانی الذکر سے آپ کو ممتاز کرنے کے لیے آپ کے نام کے ساتھ عموماً ’’شیخ الشیوخ‘‘ لگایا جاتا ہے یا پھر اکثر اوقات صرف ’’شیخ شہاب الدین سہروردی ‘‘سے آپ ہی کی ذات مراد ہوتی ہے۔
ثانی الذکر کا پورا نام ابو الفتح یحییٰ بن حبش بن امیرک شہاب الدین السہروردی ہے- ان کی ولادت سہرورد میں ۵۴۹ھ میں ہوئی- آپ کی بعض فلسفیانہ اور صوفیانہ آرا کی وجہ سے علما وقت نے آپ کے قتل کا فتویٰ دیا- سلطان الظاہر غازی نے آپ کو قلعہ حلب میں مقید کردیا اور وہیں ۵۸۷ھ میں آپ کو تختۂ دار پر لٹکا دیا گیا- آپ کی تصانیف میں ’’حکمۃ الاشراق‘‘ بہت مشہور ہے، اس کے علاوہ ’’ التلویحات‘‘، ’’ھیاکل النور‘‘ اور ’’ المشارع والمطارحات‘‘ بھی آپ کی تصانیف ہیں- اول الذکر سے آپ کو ممتاز کرنے کے لیے آپ کے نام کے ساتھ ’’ صاحب حکمۃ الاشراق‘‘ لگایا جاتا ہے یا شیخ شہاب الدین یحییٰ سہر وردی لکھا جاتا ہے-
(۲) ابن رشد
ابن رشد صاحب ’’تہافت التہافت‘‘ اور ابن رشد صاحب ’’البیان والتحصیل‘‘کو بھی عام طور پر ایک ہی سمجھ لیا جاتا ہے- حالانکہ یہ دو لوگ ہیں اول الذکر پوتے ہیں اور ثانی الذکر دادا- مزے کی بات یہ ہے کہ دونوں کی کنیت ابو الولید ہے دونوں کا نام محمد ہے، دونوں کے والد کا نام احمد ہے اور دونوں قرطبی ہیں-
اول الذکر کا پورا نام ابو الولید محمد بن احمد بن محمد بن احمد بن رشد القرطبی ہے ان کی ولادت ۵۲۰ھ اور وفات ۵۹۵ھ میں ہوئی- فلسفہ، طب، فقہ اور علم الکلام میں ۷۰ سے زیادہ کتب و رسائل آپ نے تصنیف فرمائے- حجۃ الاسلام امام غزالی کی معرکۃ الآرا کتاب ’’تہافت الفلاسفۃ‘‘ کا رد لکھنا بڑے دل گردے کا کام تھا- اس سلسلے میں آپ نے قلم اٹھایا اور جواب میں ’’ تہافت التہافت‘‘ تصنیف فرمائی جس میں فلاسفہ کا دفاع کرتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ دراصل امام غزالی شیخ الرئیس اور الفارابی کی عبارتیں ہی نہیں سمجھ سکے، اور بغیر سمجھے فلاسفہ پر کفر کا فتویٰ ٹھونک دیا، حالانکہ محققین کا فیصلہ یہ ہے کہ امام غزالی کے مقابلہ میں ابن رشد کے دلائل کمزور ہیں- آپ کی دوسری مشہور کتاب ’’بدایۃ المجتہد ونہایۃ المقتصد‘‘ ہے-
ثانی الذکر کا پورا نام ابو الولید محمد بن احمد بن رشد القرطبی ہے، ان کی ولایت ۴۵۵ھ اور وفات ۵۲۰ھ میں ہوئی- آپ کا شمار اجلہ فقہاء مالکیہ میں ہوتا ہے- مشہور سیرت نگار اور محدث امام قاضی عیاض مالکی (۴۷۶ھ -۵۴۴ھ) صاحب کتاب الشفا کو آپ سے شرف تلمذ حاصل ہے، آپ کی تصانیف میں ’’ البیان والتحصیل‘‘ ۲۰ جلد، ’’المقدمات والممہدات‘‘ ۳ جلد اور’’ فتاویٰ ابن رشد‘‘ ۳ جلد زیادہ مشہور ہیں-
ڈاکٹر محمد علی مکی نے ’’ بدایۃ المجتہد‘‘ کو غلطی سے آپ کی طرف منسوب کردیا ہے، حالانکہ وہ اول الذکر کی ہے- جب صرف ’’ ابن رشد‘‘ لکھا جاتا ہے تو اس سے اول الذکر مراد ہوتے ہیں اور ثانی الذکر ’’ ابن رشد الجد‘‘ لکھا جاتا ہے-
(۳) ابن قدامۃ
فقہ حنبلی میں ابن قدامۃ کی ’’ المغنی‘‘ کا نام کس نے نہیں سنا ہوگا اور ساتھ ہی ابن قدامۃ کی ’’ الصارم المنکی‘‘ مشہور و معروف کتاب ہے، ان دو کتابوں کے مصنف کو بھی غلطی سے ایک ہی سمجھ لیا جاتا ہے حالانکہ یہ دو ابن قدامۃ ہیں، اس مغالطہ کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ دونوں المقدسی ہیں اور دونوں الحنبلی ہیں۔
اول الذکر کا پورا نام ابو محمد مؤفق الدین عبد اللہ بن احمد ابن قدامۃ المقدسی الحنبلی ہے ،فقہ حنبلی میں ’’ المغنی‘‘ آپ کی مشہور کتاب ہے- ساتھ ہی اصول الفقہ میں ’’روضۃ الناظر‘‘ بھی آپ کی مشہور تصنیف ہے-
ثانی الذکر کا پورا نام ابو عبد اللہ شمس الدین محمد بن احمد بن عبد الہادی ابن قدامۃ المقدسی الحنبلی ہے ( ولادت ۷۰۵ھ وفات ۷۴۴ھ)- آپ نے ابن تیمیہ اور امام ذہبی سے اخذ علم کیا، جب امام السبکی نے شیخ ابن تیمیہ کا رد لکھا تو ان کے جواب میں ابن قدامۃ نے ’’ الصارم المنکی فی الرد علی بن السبکی‘‘ تحریر فرمائی- اول الذکر سے آپ کو ممتاز کرنے کے لیے عام طور پر آپ کو ابن قدامۃ الصغیر لکھا جاتا ہے-
(۴) ابن حجر
حافظ ابن حجر عسقلانی اور علامہ ابن حجر الہیتمی میں اکثر مغالطہ ہوتا ہے اور کبھی ابن حجر مکی اور ابن حجر الہیتمی کو ایک شحص سمجھ لیا جاتا ہے-
حافظ ابن حجر عسقلانی کی ذات گرامی محتاج تعارف نہیں آپ کا پورا نام ابو الفضل شہاب الدین احمد بن علی بن محمد الکنافی العسقلانی ہے، آپ کی ولادت ۷۷۳ھ اور وفات ۸۵۲ھ میں ہوئی، ’’ فتح الباری‘‘ ’’لسان المیزان‘‘ ’’ تہذیب التہذیب‘‘ اور ’’ الاصابۃ فی تمییر الصحابۃ‘‘ آپ کی شہرۂ آفاق تصانیف ہیں، عام طور پر اگر صرف حافظ بن حجر لکھا جاے تو آپ ہی کی ذات گرامی مراد ہوتی ہے-
علامہ ابن حجر الہیتمی کا پورا نام ابو العباس شہاب الدین احمد بن محمد بن علی ابن حجر الہیتمی ہے- آپ کی ولادت مصر میں ۹۰۹ھ میں اور وفات مکہ مکرمہ میں ۹۷۴ھ میں ہوئی- اسی وجہ سے کبھی آپ کو ابن حجر مکی بھی لکھا جاتا ہے- ’’ الجوہر المنظم فی زیارۃ قبر النبی المکرم‘‘، الصواعق المحرقہ‘‘ اور ’’ الخیرات الحسان فی مناقب ابی حنیفۃ النعمان‘‘ آپ کی مشہور تصانیف ہیں-
(۵) ابن عربی
شیخ اکبر محی الدین ابن عربی اور ابن العربی صاحب ’’احکام القرآن‘‘ کے درمیان بھی اکثر مغالطہ ہوجاتا ہے- دونوں کا نام محمد ہے، دونوں کی کنیت ابوبکر ہے دونوں کا تعلق اشبیلیہ اور اندلس سے ہے-
اول الذکر کا پورا نام ابوبکر محمد بن علی بن محمد بن عربی الحاتمی الاندلسی ہے(ولادت ۵۶۰ھ وفات۸۳۸ھ) آپ کا لقب محی الدین اور الشیخ الاکبر ہے، چار سو سے زیادہ کتب و رسائل آپ نے تصنیف فرمائی- الفتوحات المکیہ، خصوص الحکم اور تفسیر اکبر آپ کی مشہور کتب ہیں۔
ثانی الذکر کا پورا نام ابوبکر محمد بن عبد اللہ بن محمد ابن العربی المعافری المالکی الاشبیلی ہے( ولادت ۴۶۸ھ وفات ۵۴۳ھ)’’احکام القرآن‘‘ ’’العواصم من القواصم‘‘ اور ’’عارضۃ الاحوذی فی شرح الترمذی‘‘ آپ کی مشہور تصانیف ہیں، ان دونوں حضرات میں فرق کرنے کے لیے شیخ اکبر کو ابن عربی ( بغیر الف لام کے) اور ثانی الذکر کو ابن العربی (الف لام کے ساتھ) لکھا جاتا ہے-
(۶) ابن تیمیہ الحرانی
احادیث احکام کی مشہور کتاب ’’ منتقی الاخبار‘‘ کے مصنف ابن تیمیہ الحرانی کو غلطی سے وہ ابن تیمیہ الحرانی سمجھ لیا جاتا ہے جو شیخ الاسلام کے لقب سے مشہور ہیں- حالانکہ یہ دو الگ الگ شخصیات ہیں ۔
اول الذکر دادا ہیں اور ثانی الذکر پوتے، اول الذکر کا نام ابوالبرکات مجد الدین عبد السلام بن عبد اللہ ابن تیمیہ الحرانی الحنبلی ہے( ولادت ۵۹۰ھ وفادت ۶۵۲ھ) آپ منتقی الاخبار کے مصنف ہیں -قاضی شوکانی کی مشہور کتاب’’ نیل الاوطار‘‘ در اصل اسی منتقی الاخبار کی شرح ہے۔
ثانی الذکر کا پورا نام ابو العباس تقی الدین احمد بن عبد الحلیم بن عبد السلام ابن تیمیہ الحرانی ہے ( ولادت ۶۶۱ھ وفات ۷۶۸ھ) طلاق ثلاثہ، شد رحال اور وسیلہ و استعانت وغیرہ میں آپ نے اجماع امت کے خلاف فتویٰ دیا- بعض حضرات نے متشابہات کے مسئلہ میں تجسیم اور تشبیہہ کا عقیدہ بھی آپ سے منسوب کیا ہے مگر آپ کے موجودہ معتقدین اس کو اتہام قرار دے کر اس سے برأت ظاہر کرتے ہیں- ’’مجموعۃ فتاویٰ‘‘، ’’الصارم المسلول علی شا تم الرسول‘‘، ’’منہاج السنہ‘‘ اور ’’الرسائل والمسائل‘‘ آپ کی مشہور تصانیف ہیں- ان دونوں حضرات میں فرق کرنے کے لیے اول الذکر کو ابن تیمیہ الجد لکھا جاتا ہے-
(۷) حافظ زین الدین عراقی، ابن عراق اور ابن العراقی
حافظ زین الدین عراقی، ابن عراق اور ابن العراقی میں بھی اکثر دھوکا ہوجاتا ہے، یہ تینوں حضرات مشہور ہیں اور ان کی تصانیف بھی عام طور پر شائع ہوتی ہیں-
(الف) ابو الفضل زین الدین عبد الرحیم بن الحسین المعروف بہ حافظ عراقی ( ۲۷۵ھ ۔۷۰۶ھ) آپ کاشمار حفاظ حدیث میں ہوتا ہے- آپ کی سب سے مشہور کتاب ’’ المغنی عن حمل الاسفار فی الاسفار‘‘ ہے- امام غزالی کی’’ احیاء العلوم ‘‘میں وارد احادیث و آثار کی تخریج پر یہ کتاب مشتمل ہے- اور عام طورسے ’’احیاء العلوم ‘‘کے حاشیہ پر شائع ہوتی ہے- اس کے علاوہ ’’ ذیل علی المیزان‘‘، ’’ فتح المغیث‘‘، ’’التحریر فی اصول الفقہ‘‘، ’’تقریب الاسانید و ترتیب المسانید‘‘ وغیرہ آپ کی مشہور و مطبوع کتب ہیں-
(ب) ابن عراق: علی بن محمد بن علی بن عبد الرحمن بن عراق الکنافی (ولادت ۹۰۷ وفات ۹۶۳ھ مدینہ منورہ میں) آپ کی معروف کتاب ’’ نزیۃ الشریعۃ المرفوعۃ عن الاخبار الشنیعۃ الموضوعۃ‘‘ ہے ،یہ دو جلدوں میں ہے اور عام طور پر دستیاب ہے-
(ج) ابن العرافی: ولی الدین ابو زرعۃ احمد بن عبد الرحیم (ولادت ۷۶۲ ھ وفات ۸۲۶ ھ) آپ کی سب سے مشہور کتاب ’’البیان والتوضیح لمن اخرج لہ فی الصحیح وقد مس بضرب من التخریج‘‘ ہے، اس کے علاوہ ’’ حاشیۃ الکشاف‘‘، ’’اخبار انمدلسین‘‘ اور ’’الاطراف باوھام الاطلاف‘‘ بھی آپ کی تصانیف میں ہیں-
(۸) ابو حیان
مشہور تفسیر ’’ البحر المحیط‘‘ کے مصنف ابوحبان اورمشہور فلسفی و صوفی ابو حیان کو بعض وقت غلطی سے ایک ہی سمجھ لیا جاتا ہے- حالانکہ یہ دو لوگ ہیں- اول الذکر کا پورا نام محمد بن یوسف الغرناطی اثیر الدین ابوحیان ہے (ولادت ۶۵۴ھ وفات ۷۴۵ھ) ۲۰ سے زیادہ کتب کے مصنف ہیں- ’’تفسیر البحرالمحیط‘‘ آپ کی سب سے مشہور کتاب ہے جو ۸ جلدوں میں ہے اور دستیاب ہے- جب ابوحیان الاندلسی یا ابو حیان النحویج لکھا جائے تو آپ کی ذات مراد ہوتی ہے-
ثا نی الذکر کا پورا نام علی بن العباس ہے- آپ کی وفات لگ بھگ ۴۰۰ھ میں ہوئی، یا قوت الحموی نے آپ کو شیخ الصوفیہ لکھا ہے جب کہ علامہ ابن الجوزی نے زندیق لکھا ہے- اور اس امت کے تین سب سے بڑے زنادقہ میں آپ کو بھی شمار کیا ہے، آپ کی کتب میں ’’المقابسات‘‘، ’’الصداقۃ والصدیق‘‘، ا’’لبصائر والذخائر‘‘، ’’الامتناع والمسواسۃ‘‘ اور ’’المحاضرات والمناضرات‘‘ زیادہ مشہور ہیں- یہ ساری کتابیں فلسفیانہ اور صوفیانہ مباحث پر مشتمل ہیں- ابو حیان التوحیدی یا ابوحیان الصوفی جب لکھا جائے تو آپ کی ذات مراد ہوتی ہے-

(۹) امام ترمذی
بعض لوگ امام ترمذی اور حکیم ترمذی کو بھی ایک ہی سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ یہ بھی دو شخصیات ہیں اول الذکر مشہور امام حدیث ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ السلمی الترمذی ( ولادت ۲۰۹ھ وفات ۲۷۹ھ) ہیں جو جامع الترمذی اور الشمائل النبویہ کے جامع اور مرتب ہیں-
جب کہ ثانی الذکر صوفی ہیں جو حکیم ترمذی کے نام سے مشہور ہیں، آپ کی وفات (لگ بھگ) ۳۲۰ھ میں ہوئی، آپ کا پورا نام ابو عبد اللہ محمد بن علی بن الحسن ہے، آپ کاشمار اکابر صوفیا میں ہوتا ہے- ’’ختم الاولیا‘‘، ’’نوادر الاصول من احادیث الرسول‘‘ اور ’’ الریاضۃ و ادب النفس‘‘ آپ کی تصانیف ہیں
(۱۰) ابو عبدالرحمن السلمی
اسی طرح ابوعبد الرحمن السلمی بھی دوہیں ایک مشہور راویٔ قرأت ہیں اور دوسرے صوفی ہیں، ابو عبد الرحمن السلمی الصوفی (ولادت۳۲۵ھ، وفات۴۱۲ھ) کی مشہور کتب میں مقدمہ فی التصوف، طبقات الصوفیہ اور حقائق التفسیر شامل ہیں-
نوٹ :-مقالہ میں ذکر کردہ علما کی سن ولادت ووفات کے سلسلہ میں خیر الدین الزرکلی کی ’’ الاعلام‘‘ پر اعتماد کیا گیا ہے

Friday, October 2, 2015

حدود اختلاف

        منشی نورالحسن صاحب ساکن دورالہ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ سے بیعت ہیں نیک صالح شخص ہیں۔ وہ اپنا واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ چونکہ حضرت تھانویؒ مسلم لیگ کے حامی تھے۔ حضرت تھانویؒ نے اس کی حمایت میں ایک رسالہ بھی تحریر فرمایا تھا اسلئے میرا رجحان بھی لیگ کی طرف تھا اور میرٹھ حلقہ کی مسلم لیگ کا ممبر بھی تھا۔ ایک دن ایک میٹینگ میں میں نے کہا کہ بھائی ہمارے حضرت تھانویؒ لیگ کی حمایت فرماتے ہیں اور حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ بھی بزرگ ہیں وہ کانگریس کی حمایت فرماتے ہیں، ہم کیا کریں؟ میٹنگ میں ایک شخص نے جواب دیا کہ وہ( حضرت مدنیؒ) کہاں کے بزرگ آئے، وہ کیسے بزرگ؟ مجھے ان کے جواب سے سخت صدمہ ہوا اور میں نے ان سے کہا کہ اگر مسلم لیگ کے اندر بزرگوں کی شان میں گستاخی کی جاتی ہے تو ایسی مسلم لیگ سے میرا تو استعفی میں آئندہ شریک نہیں ہوں گا۔ اور اسی صدمہ میں میں تھانہ بھون حاضر ہوا۔ شب میں بھائی سلیمان صاحب سے جو حضرت تھانویؒ کے خادم تھے ملاقات ہوئی، ان سے اس واقعہ کا ذکر کیا اس نے کہا۔ مدنی صاحب آپ کی نظر میں بزرگ ہیں؟ بزرگ تو شیطان بھی ہوتا ہے۔ میں نے کہا یہ جواب صبح کو حضرت سے کہونگا۔ اس نے کہا، ہاں کہدینا، مجھے اور صدمہ ہوا کہ جب حضرت کے خادم کا یہ حال ہے تو اوروں کا کیا حال ہوگا۔ پوری رات بے چینی میں گذری۔ صبح کو مجلس میں حاضر ہوا میری ہمت نہیں تھی کہ عرض کروں۔ اتفاق ایسا ہوا کہ ایک خط جو حضرت کے پاس کسی نے لکھا تھا حضرت نے سنایا۔ خط کا مضمون یہ تھا:-
     "حضرت! میں دیوبند بھی گیا ہوں، وہاں رحمت ہی رحمت دیکھی اور یہاں زحمت۔ گویا وہاں عفو بے انتہا اور یہاں بات بات پر پکڑ اور نکتہ چینی اس کی کیا وجہ ہے"
حضرت نے جواب لکھا اور پھر جواب بھی سنایا، جس کا مضمون یہ تھا:-
        "کیا تمہارے نزدیک دریا اور ڈوکرہ میں کوئی فرق نہیں، میں چھوٹا سا ڈوکرہ ہوں اور حضرت مدنی دریا ہیں۔ ڈوکرہ ذرا سی ناپاکی کا متحمل نہیں ہوتا اور دریا میں اگر پیشاب بھی کردیا جائے تب بھی وہ ناپاک نہیں ہوتا"
یہ جواب سن کر مجھے ہمت ہوئی اور میں نے عرض کیا حضرت تو اپنے آپ کو ڈوکرہ اور حضرت مدنی کو دریا فرمارہے ہیں۔ اور یہ ملاّ سلیمان ان کو ایسا ایسا کہتا ہے اور اپنا واقعہ بیان کیا۔ حضرت نے فرمایا: کیا یہ بات آپ ان کے سامنے کہدیں گے۔ میں نے عرض کیا ضرور کہدونگا۔ ملاّ سلیمان کو بلایا گیا۔ حضرت نے ان سے فرمایا کہ تم ان کو جانتے ہو۔ انھوں نے جواب دیا: جی ہاں یہ میرے دوست کے بھائی ہیں۔ حضرت نے فرمایا تمہاری ان سے کوئی لڑائی تو نہیں۔ اس نے کہا نہیں، پھر حضرت نے میری طرف اشارہ کرکے فرمایا اپنا واقعہ بیان کرو۔ میں نے پورا واقعہ بیان کیا جو میرٹھ مسلم لیگ کی میٹنگ میں پیش آیا تھا کہ یہ واقعہ میں نے سلیمان سے بیان کیا اسنے کہا کہ مدنی صاحب کو تم بزرگ سمجھتے ہو، بزرگ تو شیطان بھی تھا۔ حضرت تھانویؒ نے سلیمان سے کہا یہ ٹھیک کہتے ہیں۔ انھوں نے اقرار کرلیا کہ جی ہاں ٹھیک کہتے ہیں۔ حضرت تھانویؒ نے ایکدوسرے خادم کو آواز دی اور فرمایا سلیمان کا کان پکڑ کر خانقاہ سے نکالدو اور فرمایا: آج سے میرا تعلق ختم، نہ مجھ سے بات چیت کی اجازت ہے نہ خط و کتابت کی نہ مجلس میں حاضری کی'
        سلیمان صاحب خانقاہ سے چلے گئے مگر انتہائی پریشان تھے۔ حافظ محمد اسماعیل پانی پتی( جو حضرتؒ سے خصوصی تعلق رکھتے تھے) کے واسطہ سے حضرت سے خط و کتابت کی اور معافی کی درخواست کی۔ حضرت نے ارشاد فرمایا جن کی شان میں گستاخی کی ہے ان سے معافی مانگیں اور ان سے( حضرت مدنی‌ؒ) سے لکھوا کر لائیں کہ میں نے معاف کیا۔ اس کے بعد سوچونگا کہ کیا فیصلہ کروں۔ سلیمان صاحب حضرت مدنیؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور صورتِ حال بیان کی اور معافی چاہی۔ حضرت مدنی نے معاف کیا اور لکھ دیا "میں نے سلیمان کو معاف کیا آپ بھی معاف فرمائیں" یہ تحریر لاکر حضرت تھانویؒ کی خدمت میں پیش کی۔ حضرت تھانویؒ نے فرمایا: کیا معلوم پورا واقعہ بیان بھی کیا یا نہیں، پورا واقعہ جاکر بیان کریں اور حضرت مولانا اپنے قلم سے لکھیں کہ سلیمان نے یہ واقعہ بیان کیا اور میں نے معاف کیا۔ چنانچہ یہ دوبارہ حضرت مدنیؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ حضرت یہ واقعہ لکھ کر پھر معافی تحریر فرما دیں۔ حضرت مدنی نے اپنے قلم سے تحریر فرمایا کہ سلیمان نے یہ واقعہ بیان کیا اور میں نے اس کو معاف کیا اور سفارش کرتا ہوں کہ آپ بھی معاف فرمادیں۔ اس کے بعد حضرت تھانویؒ نے معاف فرمایا اور مجلس میں حاضری کی اجازت دی مگر گفتگو کی اجازت نہیں دی، گفتگو کی اجازت اور بعد میں ہوئی۔۔۔۔۔۔

      حضرت تھانویؒ سے کسی شخص نے کہا حضرت مدنیؒ کے بارے میں کہ سیاست میں حصہ لیتے ہیں۔ حضرت تھانویؒ نے ارشاد فرمایا: "بس یہی دیکھا، یہ نہیں دیکھا کہ رات کو بارہ بجے تک بخاریؒ شریف بھی پڑھاتے ہیں"۔

آداب الاختلاف
افادات: مفتئ اعظم حضرت مولانا مفتی محمودالحسن صاحب گنگوہیؒ
مرتب: مولانا مفتی محمد فاروق صاحب دامت برکاتہم صفحہ نمبر141

Thursday, October 1, 2015

موبائل استعمال کرنے والوں کے لیے ایک نصیحت

سم اللہ الرحمن الرحیم

موبائل استعمال کرنے والوں کے لیے ایک نصیحت
رونگٹے کھڑے کر دینے والی کام کی بات

ایک فاضل اہل علم نے اللہ تعالی کی طرف سے ان کو سجھائی ہوئی ایک بہترین بات تحریر فرمائی ہے۔ 
🔹وہ لکھتے ہیں: کیا آپ جانتے ہیں کہ اللہ تعالی نے حضرات ِصحابہ کرام ؓ کا امتحان لیا تھا، جب کہ وہ حالت ِ احرام میں تھے- حج و عمرہ کے احرام کی حالت میں شکار ممنوع ہوتاہے- امتحان اس طرح ہوا کہ شکار کو ان کے اتنے قریب تک پہنچا دیا کہ اگر ان میں سے کوئی اسلحہ و آلات کے بغیرہاتھ سے شکار پکڑنا چاہے تو پکڑ سکے۔
قرآن میں ہے : 
’’ اے ایمان والو! اللہ تمہیں شکار کے کچھ جانوروں کے ذریعہ ضرور آزمائے گا جن کو تم تمہارے نیزوں اور ہاتھ سے پکڑ سکوگے ، تاکہ وہ یہ جان لے کہ کون ہے جو اس کو دیکھے بغیر بھی اس سے ڈرتا ہے۔ پھر جو شخص اس کے بعد بھی حد سے تجاوز کرے گا وہ دردناک سزا کا مستحق ہوگا۔‘‘ (مائدہ: ۹۴)
اس زمانے میں بھی ایسا ہی امتحان اور ابتلاء بکثرت پیش آرہا ہے، البتہ اس کا انداز اور طریقہ قدرے مختلف ہے۔
وہ کیا ہے اور کیسے ہے ؟
آج سے تقریباً ۱۰-- ۲۰ سال پہلے فحش تصاویر اور ناجائز ویڈیو کلپس وغیرہ کا حصول کافی حد تک دشوار اور مشکل ہوا کرتا تھا؛ لیکن آج کل موبائل اسکرین یا کمپیوٹر کے بٹن کو ہلکا سا ٹچ کرنے سے یہ سارے مناظر آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں۔ اعاذنا للہ منہ

اللہ تعالی کے ارشاد کو یاد کیجئے اور غور فرمائیے :
لیعلم اللہ من یخافہ بالغیب۔ اللہ تعالی جاننا چاہتا ہے کہ کون کون اللہ تعالی سے غائبانہ ڈرتا ہے۔ 
تنہائی میں اپنے جسمانی اعضاء کی خاموشی و بے زبانی سے دھوکے میں نہ پڑو؛ اسلیے کہ ایک دن ان کے بولنے کا بھی آنے والا ہے۔ 
قرآن میں ہے :
’ آج ہم انکے منہ پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے اور ان کے پیر ان کے کرتوت کی گواہی دیں گے۔‘

اللہ تعالی کے ارشاد کو پھر سے ذہن نشین کر لیجئے:
’اے ایمان والو! اللہ تمہیں شکار کے کچھ جانوروں کے ذریعہ ضرور آزمائے گاجن کو تم تمہارے نیزوں اور ہاتھ سے پکڑ سکوگے ، تاکہ وہ یہ جان لے کہ کون ہے جو اسے دیکھے بغیر بھی اس سے ڈرتا ہے۔ پھر جو شخص اس کے بعد بھی حد سے تجاوز کرے گا وہ دردناک سزا کا مستحق ہوگا۔‘
خلوت میں معصیت زیادہ خطرناک ہے۔
ایک بزرگ کا ارشاد ہے :
’’ جب کوئی آدمی گناہ میں مبتلا ہو، عین اسی وقت ہوا کے جھونکے سے دروازے کا پردہ ہلنے لگے اور اس کے ہلنے سے آدمی یہ سمجھ کر ڈر جائے کہ کوئی آگیا، تویہ ڈرنا اس گناہ سے بڑا ہے جو وہ کر رہا تھا۔‘‘کیوںکہ یہ شخص مخلوق کے دیکھنے کے اندیشے سے بھی ڈرتا ہے ، جب کہ اللہ تعالی اس کو یقینا دیکھ رہے ہیں ، پھر بھی خوف نہیں کرتا۔

کوئی شخص تصاویر دیکھنے میں مشغول ہو اور دروازے پر کچھ آہٹ محسوس ہو تو اس کی کیا کیفیت ہوتی ہے؟
’ کلیجہ منہ کوآ جاتا ہے،سانس رک جاتی ہے اور دھڑکن تیز ہوجاتی ہے۔ پھر وہ اپنا کمپیوٹر بند کرکے دروازہ کھول کر دیکھتا ہے تووہاں بلی ہوتی ہے۔ ‘
اے میرے پیارے بھائی ! اللہ تعالی اس سے بھی زیادہ قریب ہے ، اس کا خوف کیوں نہیں ؟
مراقبہ کی دیوار
آدمی اور اس کے موبائل کی ناجائزاوررسواکن حرکتوں کے درمیان ’اللہ کے دھیان ‘ کی دیوار کے سوا کوئی دوسری چیز حائل نہیں۔
علامہ شنقیطی ؒ فرماتے ہیں :
 تمام علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اللہ تعالی نے مراقبہ یعنی ’اللہ کے دھیان‘سے بڑھ کر کوئی واعظ اور اس سے بڑی کوئی ڈرانے والی چیز زمین پر نہیں اتاری۔پس جس نے اس مراقبہ کی دیوار کو ڈھا دیا اس نے بڑی جسارت کا مظاہرہ کیا اور اللہ تعالی کو جسارت دکھلانابڑی خطرناک چیز ہے۔
اس زمانہ کا بزرگ شخص :
کسی بزرگ کا ارشاد ہے : ظاہر میں اللہ کا دوست اورباطن میں اللہ کا دشمن نہ بنو۔ 
اگر ایک طرف ہم یہ کہتے ہیں کہ :’’اس زمانہ میں پہلے کی بہ نسبت حرام کاموں تک رسائی بہت آسان ہو گئی ہے، ‘‘وہیں ہمیں یہ بھی جان لینا چاہیے کہ’’ اس زمانہ میں ’ترک حرام‘سے جتنا اللہ کا قرب حاصل ہوگا اتنا کسی اور چیز سے حاصل نہ ہوگا۔‘‘
 تنہائی میں گناہ سے خصوصی اجتناب 
تنہائی اور خلوت کے گناہوں سے بچو، بطورخاص اہل خانہ کی غیر موجودگی میں موبائل ، کمپیوٹر اورٹیلی ویزن کے گناہوں سے۔ اس لیے کہ خلوت کے گناہ ایمان کی راہ سے ڈگمگا دیتے ہیںاور ثابت قدمی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
تنہائی کی عبادت کو لازم پکڑو۔ تم ا س سے اپنے نفس کو شہوات کی پکڑ میں آنے سے بچا سکوگے۔
اگر تم زندگی کی آخری سانس تک ایمان پر جمے رہنا چاہتے ہو تو خلوت میں مراقبہ یعنی ’اللہ کے دھیان ‘ کو لازم پکڑ لو۔
ابن القیم ؒ فرماتے ہیں : خلوت کے گناہ راہ ِحق سے متزلزل کردیتے ہیں اور عبادات سے ثبات قدمی نصیب ہوتی ہے۔
بندہ اپنی خلوت کو جتنی زیادہ پاکیزہ رکھے گا ، اللہ تعالی قبر میں اس کی تنہائی کو اسی قدر شاد و آباد رکھے گا۔
رہا معاملہ قیامت کے دن کا تو سنو!
حضرت ثوبان ؓ سے مروی ہے : نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :
’’میں اپنی امت کے کچھ لوگوں کو اچھی طرح جانتا ہوں ، جو قیامت کے دن مکہ کے پہاڑوں جیسی نیکیاں لے کر آئیں گے ؛لیکن اللہ تعالی ان ساری نیکیوں کو اکارت کر دیں گے۔ حضرت ثوبان ؓ نے عرض کیا  : اے اللہ کے رسول ! ان کے کچھ اوصاف و علامتیں ہمیں بتلا دیجئے : کہیں ایسا نہ ہو کہ بے خبری میںہم بھی انہیں میںسے ہو جائیں۔ حضور  ﷺ نے فرمایا سنو! وہ تمہارے ہی بھائی ہوں گے، تمہاری جنس اور نسل کے ہوں گے۔وہ تمہاری ہی طرح رات (کی نیکیوں)کوحاصل کریںگے ؛ لیکن جب اللہ کی حرام کردہ چیزوں کے ساتھ خلوت اور تنہائی کو پائیں گے تو ساری حدود توڑ کررکھ دیں گے۔ (رواہ ابن ماجہ)‘‘
موبائل ایک بینک لاکر کی طرح ہے۔
موبائل فون ایک صندوق ہے ، بالفاظ دیگر ’بینک لاکر‘ ہے، ان میں نیکیاں جمع کرو یا برائیاں۔ آپ اس میں جو بھی ڈالیں گے کل قیامت کے دن اپنے نامہ اعمال میں موجود پائیں گے۔
-----------------------------
اے اللہ ! ہمیں اپنا ایسا ڈر اور خشیت عطا فرما جو ہمارے اور تیری نافرمانیوں کے درمیان حائل ہو جائے۔
اے اللہ! ہم آپ سے خلوت وجلوت میں آپ کی خشیت کا سوال کرتے ہیں۔
ایک عربی مضمون کا ترجمہ، بہ حکم حضرت اقدس مولانا مفتی احمد خانپوری دامت برکاتہم ۔

Monday, September 28, 2015

القرامطة الشيعة وهجومهم على مكة في القرن الرابع الهجري

في سنة 317 هـ
كان المسلمون يطوفون حول الكعبة فاكتسح الكعبة جيش من الشيعة القرامطة وذبحوا في يوم واحد (30,000) ثلاثين ألف حاج من الرجال والنساء والأطفال...
وقف قائد الشيعة أبو طاهر القرمطي على باب الكعبة ونادى في الحجيج لمن الملك اليوم؟!. فلم يجبه أحد فقال :
أنا بالله وبالله أنا
يخلق الخلق وأفنيهم أنا
هدم الشيعة بئر زمزم ورموا فيها مئات الجثث من الذين قتلوهم من الحجيج حتى امتلأت البئر بالجثث وجمعوا فوقها بقية الجثث حتى صارت الجثث جبلا" ضخما"...
أمر قائد الشيعة القرامطة جيشه بخلع باب الكعبة ومزق كسوة الكعبة إربا" إربا" ونادى في الناس أين الطير الأبابيل أين الحجارة من سجيل ولم يجبه أحد!.
هرب الحجيج من جيش الشيعة وتعلق باستار الكعبة (1700) رجل وامراة لعل أستار الكعبة تشفع لهم عند الشيعة فنادى قائد الشيعة ابدأوا بهم فاذبحوهم...
جمع قائد الشيعة القرامطة حاجات بيت الله من النساء حول الكعبة وفي حجر إسماعيل وأمر جنوده باغتصابهنّ علنا ثم ذبحوهن ورموا جثثهنّ في بئر زمزم...
أمر قائد الشيعة القرامطة بخلع ميزاب الكعبة فصعد رجل من الشيعة ولما وصل الميزاب سقط الرجل على رأسه فانكسرت رقبته فقال قائدهم لا يصعد له أحدا...
هتك الشيعة القرامطة باب الكعبة ودنسوها ونهبوا منها كنوزا" عظيمة كان الملوك يهدونها للكعبة المشرفة وساقوها معهم إلى القطيف...
تبوّل قائد الشيعة القرامطة أبو طاهر الجنابي على الكعبة المشرفة ونادى في جيشة أين أبرهة والفيل والطير الأبابيل وهم يتقهقهون ويضحكون كالسكارى.
أمر زعيم الشيعة القرامطة أن يُهدم مكان الحجر الأسود وضرب بفاسه الحجر الأسود فانكسر شقين ثم حملوه معهم إلى القطيف وظلّ الحجر الأسود معهم (22) سنة...
أراد الشيعة القرامطة أن يسرقوا مقام إبراهيم فدسه أهل مكة في مكان آمن فهددهم وتوعدهم قائد الشيعة ولما رفضوا تسليمه قام بمجزرة كبرى في شعاب مكة...
أمر قائد الشيعة القرامطة بذبح جميع الحجيج حتى سالت أنهار الدم حول الكعبة كالسيل وقتل من الصباح إلى العصر (30،000) ألف حاج وحاجة ولم يترك أحدا"...
بنى الشيعة كعبة لهم بدلا" عن الكعبة في القطيف ووضعوا عليها الحجر الأسود وأمر جيوشه أن تعترض الحجاج فمن حج إلى كعبتهم تركوه ومن رفض سلبوه وقتلوه...
استغل الشيعة القرامطة ضعف الدولة العباسية وتفككها لدويلات وانشغالها بحرب مع ثورة الزنوج فعاثوا في الأرض فسادا" وروعوا الآمنين وهتكوا الأعراض...
لما رفض العرب والمسلمون الحج إلى كعبة الشيعة في القطيف باع الشيعة الحجر الأسود للخليفة العباسي بـ (50،000) ألف دينار ذهبيا" وعادت بعد (22) عاما".
سيطر الشيعة القرامطة على الجزيرة العربية وارتكبوا مجازر كبرى خاصة في طريق الحجاج فألغى أهل الشام والعراق الحج لشدة الرعب من شيعة القطيف...
أمر زعيم الشيعة القرامطة جميع الناس أن يتوجهوا بصلاتهم إلى كعبة القطيف بدلا" من مكة وأجبروا الناس على تحويل القبلة إلى القطيف ومن رفض ذبحوه...
سيطر الشيعة القرامطة على كثير من مناطق الجزيرة العربية وقاموا بمجازر جماعية لا مثيل لها في التاريخ وكانوا يغتصبون النساء فوق جثث القتلى...
هاجم الشيعة القرامطة بجيوشهم مدينة البصرة وقاموا بمجزرة كبرى استمرت (17) يوما" واستباحوا الأموال واغتصبوا نسائهم وهتكوا أعراضهم وأذلوهم.
غزا الشيعة القرامطة أطراف الشام وكانوا كلما مروا بقرية سلبوا الأموال وقتلوا الرجال واغتصبوا النساء ثم يحرقون القرية بما فيها من أطفال وعجائز.
وقف قائد الشيعة حول جثث الحجيج وعددهم (30،000) ألف وهو على فرسه يضحك ويتلو: (لإيلاف قريش) حتى وصل (وآمنهم من خوف).فقهقه وقال: ما آمنهم من خوفنا...
بنى الشيعة القرامطة كعبة في القطيف وبنوا حولها موضعا" سموه المشعر الحرام وموضعا" سموه عرفات وآخر سموه مِنى وأجبروا العوام على الحج إلى كعبتهم...
أباح زعماء الشيعة القرامطة لأتباعهم فعل الفاحشة بأمهاتهم وبناتهم فقال مرجعهم في نصوصه : "أحلّ البنات مع الأمهات ومن فضله زاد حِلُّ الصبي" .
كفى الله المسلمين وبلادهم شرهم وشر من يواليهم ويدعو للتقارب معهم ..

http://www.alharamain.gov.sa/index.cfm?do=cms.conarticle&contentid=5940&categoryid=1022
المعلومات + المرجع.                              انشروها حتى يعلم الجميع خطر هؤلاء اخزاهم  الله وجعل تدبيرهم تدميرا لهم  وان ياخذهم أخذ عزير مقتدر

حكم حلق اللحية

حكم حلق اللحية

��كلام 16 عالم من علماء الاسلام.رحمهم الله قديما وحديثا من مختلف المذاهب في حكم حلق اللحية.

��قال العلامةُ ابنُ حَزْمٍ الأندلسىُّ - رحمه الله - :
( واتفقوا ـ أي الأئمة ـ على أنَّ حَلْقَ اللحيةِ مُثْلَةٌ ـ أي : تَشْوِيه ـ لا تجوز )
[ مراتب الإجماع : ( 157 ) ) ، وانظر : المحلى ( 2 / 189 ) ]

��قال ابنُ عَبْدِ البَرِّ - رحمه الله تعالى - :
( ويحرم حلق اللحية ، ولا يفعله إلا المخنثون من الرجال ) [ التمهيد ]

��قال النووي - رحمه الله تعالى - :
( والمختار تركهاعلى حالها ، وألا يتعرض لها بتقصير شيء أصلاً ) [ شرح مسلم : ( 2 / 154) ]

�� قال القرطبي - رحمه الله تعالى - :
( لا يجوز حلقها ولا نتفها ولا قصها ) [ تحريم حلق اللحى : ( ص 5 ) ]

�� قال شيخُ الإسلام ابنُ تَيْمِيَّةَ - رحمه الله تعالى - :
( ويَحْرُم حلقُ اللحيةِ ) [ الاختيارات العلمية : ( ص 6 ) ]

��قال الحافظ العراقي - رحمه الله تعالى -  واستدل الجمهور على أن الأولى ترك اللحية على حالها ، وأن لا يقطع منها شيء ، وهو قول الشافعي وأصحابه )
[ طرح التثريب : (2 / 83 ) ]

��قال العدويُّ المالكي - رحمه الله تعالى -  نُقِلَ عن مالك كراهة حلق ما تحت الحنك ، حتى قال : إنه مِنْ فِعْلِ المجوس .. كما يحرم إزالة شعر اللحية )
[ حاشية العدوي على شرح رسالة ابن أبي زيد ( 2 / 411 ) ]
وانظر [ حكم اللحية في الإسلام لمحمد الحامد : ( ص 17 ) ]

��قال السَّفَّارِينيُّ الحنبلي - رحمه الله تعالى - المعتمد في المذهب ، حُرمَةُ حَلْقِ اللحية ) [ غذاء الألباب : ( 1 / 376 ) ]

�� قال ابن عابدين الحنفي :
( ويحرم على الرجل قطع لحيته ـ أي حلقها - وصرح في النهاية بوجوب قطع ما زاد على القبضة وأما الأخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله
بعض المغاربة ومخنثة الرجال ،فلم] يبيحه أحد وأخذها كلها فعل يهود الهند ومجوس الأعاجم )
[ رد المحتار : ( 2 / 418) .

�� قال الشيخ أحمد بن قاسم العبادي الشافعي - رحمه الله تعالى - :
( قال ابن الرِّفْعة في حاشية الكفاية : إن الإمام الشافعي قد نصَّ في الأم على تحريم حلق اللحيةوكذلك نصَّ الزَّرْكَشِيُّ والحُلَيْميُّ في شُعَب الإيمان ، وأستاذُه القَفَّالُ الشاشيُّ في محاسن الشريعة :على تحريم حلق اللحية )
[ حكم الدين في اللحية والتدخين : ( ص 31 ) ]

��قال الشيخ عبد الرحمن بن قاسم الحنبلي  وما لهم قاتلهم الله أنى يؤفكون أمرهم الله بالتأسي برسوله صلى الله عليه وسلم فخالفوه ، وعصوه وتأسوا بالمجوس والكفرة وأمرهم بطاعة رسوله ، وقد قال : أعفوا اللحى ، أوفوااللحى ، أرخوا اللحى ، أرجوا اللحى ، وفّروا اللحى .
فعصوه وعمدوا إلى لحاهم فحلقوها ، وأمرهم بحلق الشوارب فأطالوها ، فعكسوا القضية ، وعصوا الله جهاراً لتشويه ما جمل الله به أشرف شيء من ابن آدم وأجمله ) [ تحريم حلق اللحى (ص13) ]

��قال العلآمة الشنقيطي - رحمه الله تعالى - : عند تفسير قوله تعالى : ( قَالَ يَبْنَؤُمَّ لاَ تَأْخُذْ بِلِحْيَتِى وَلاَبِرَأْسِى ) :
هذه الآيةُ الكريمةُ تدلُّ على لزومِ إعفاءِ اللحية ، فهى دليلٌ قرآنيٌ على إعفاءِ اللحية وعدم حلقها .
[ أضواءالبيان : ( 4/ 506 ـ 507 ) ]

�� قال الشيخ الألباني - رحمه الله تعالى -  وجوب إعفاء اللحية وحرمة حلقها ) .
[ آداب الزفاف ( ص : 211 ) ] . وله كلام كثير في كتبه وأشرطته يصرح فيه بحرمة حلقها .

��قال الشيخ ابن باز - رحمه الله تعالى -  وهذا اللفظ في الأحاديث المذكورة يقتضي وجوب إعفاء اللحية وإرخائها ، وتحريم حلقها وقصها .
وقال أيضاً : إن تربية اللحية ، وتوفيرها ، وإرخاؤها ؛ فرض لا يجوز تركه )
وقال أيضاً : ( وهكذا حلق اللحية وتقصيرها من جملة الذنوب والمعاصي التي تنقص الإيمان وتضعفه
ويخشى منها حلول غضب الله ونقمته ) [ وجوب إعفاء اللحية ( ص : 18 ) ]

��قال الشيخ ابن عثيمين - رحمه الله تعالى - :حلق اللحية محرم لأنه معصية لرسول الله صلى الله عليه وسلم ، فإن النبي صلى الله عليه وسلم قال :
( أعفوا اللحى وحفوا الشوارب ) ولأنه خروج عن هدي المرسلين إلى هدي المجوس والمشركين.
[ مجموع فتاوى ابن عثيمين : ( 11 / 125 ) ]

�� قال الشيخ صالح الفوزان - حفظه الله - : ( إن الأحاديث الصحيحة تدل على حرمة حلق اللحية ) [ البيان : ( ص : 312 ) ]

Tuesday, September 22, 2015

بلغ العلے بكماله اور امیر خسرو کی رباعی

حضرت امیر خسرو رحمته الله علیه نے ایک بار بہت خوبصورت نعتیه رباعی لکھی اور حضرت نظام الدین اولیاء رحمته الله علیه کی خدمت میں پیش کی . حضرت نے رباعی سن کر فرمایا " خسرو ! رباعی خوب هے لیکن سعدی رحمتہ اللہ علیہ کی جو رباعی هے بلغ العلے بکماله ، اسکا جواب نہیں "
اگلے دن حضرت امیر خسرو رحمتہ اللہ علیہ نے پہلے سے زیادہ محنت سے مزید اچھی رباعی لکھی اور پیرو مرشد کو سنائی تو انھوں نے سن کر پھر فرمایا که خسرو رباعی خوب هے لیکن سعدی رحمتہ اللہ علیہ رباعی کا جواب نہیں . حضرت امیر خسرو رحمتہ اللہ علیہ کئی بار محنت کی لیکن پیرو مرشد هر بار یہی فرماتے که خسرو ! رباعی خوب هے لیکن سعدی رحمتہ اللہ علیہ کی رباعی کا جواب نہیں . آخر ایک دن حضرت امیر خسرورحمتہ اللہ علیہ نے عرض کی " سیدی ! سعدی رحمتہ اللہ علیہ نے بھی
نعتیه رباعی لکھی اور میں بھی کئی دن سے نعت لکھ کر پیش کر رها هوں لیکن آپ هر بار یہی فرماتے هیں که سعدی رحمتہ اللہ علیہ کی رباعی کا جواب
نہیں ، ایسا کیوں هے ؟
پیرو مرشد نے فرمایا ،
اچھا ، جاننا چاهتے هو تو آج آدھی رات کے وقت آنا .
چنانچہ امیر خسرو رحمتہ اللہ علیہ آدھی رات کے وقت حاضر خدمت هوئے تو مرشد کو وظائف میں مشغول پایا . فرمایا ، " خسرو ! ادھر آؤ ، میرے پاس بیٹھو اور دیکھو"
مرشد کی توجه هوئی اور حضرت امیر خسرورحمتہ اللہ علیہ نے دیکھا که دربار رسالت صلی الله علیه وآله وسلم آراستہ هے صحابه کرام رضی اللہ عنہ اجمعین اور هزاروں اولیاء کرام
موجود هیں . شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ دربار میں موجود هیں اور پڑھ رهے هیں ،
بلغ العلے بکماله ،...
کشف الدجا بجماله ...
حسنت جمیع خصاله ...
صلو علیه وآله ... صلو علیه وآله ...
اور نبی کریم صلی الله علیه وآله وسلم فرما رهے هیں ،
سعدی ! پھر پڑھو ،
سعدی رحمتہ اللہ کہتے هیں لبیک یا سیدی ! اور پھر رباعی پڑهنے لگتے هیں ،
رباعی ختم هوتی هے اور نبی اکرم صلی الله علیه وآله وسلم فرماتے هیں ، سعدی ! پھر پڑھو اور سعدی رحمتہ اللہ علیہ پھر پڑھنے لگتے هیں .
یه دیکھ کر امیر خسرو رحمتہ اللہ علیہ نے عرض کیا ، پیرو مرشد ! لکھتا تو میں بھی خوب هوں لیکن سعدی کی رباعی کا جواب نہیں ...
اور واقعی اس رباعی کا جواب نہیں . کہتے هیں جب حضرت سعدی رحمتہ اللہ علیہ نے یه رباعی لکھی تو تین مصرعے لکھ لئے ،
بلغ العلے بکماله ...
کشف الدجا بجماله ...
حسنت جمیع خصاله ...
لیکن چوتھا مصرع موزوں نہیں هو رها تها اسی پریشانی میں سو گئے تو خواب میں نبی کریم صلی الله علیه وآله وسلم کی زیارت کی اور دیکھا که سرکار صلی الله علیه وآله وسلم فرما رهے هیں ،
سعدی کہتے کیوں نہیں ،
صلو علیه وآله ...
تب سے یه رباعی زبان زد عام هے اور آج بھی اس کی مقبولیت میں فرق نہیں آیا ...
بلغ العلے بکماله ،...
کشف الدجا بجماله ...
حسنت جمیع خصاله ...
صلو علیه وآله ... صلو علیه وآله ۔