BEST RESULT

Custom Search

Wednesday, January 27, 2016

علمائے ديوبند

سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمة الله عليه اکابرین علمائے دیوبند کے بارے میں رقمطراز ہیں:

”متقدمین کا قافلہ جارہا تھا، اس میں سے چند قدسی روحیں پیچھے رہ گئیں، اللہ رب العزت نے اس دور میں ان کو پیدا فرمادیا، تاکہ متاخرین کو متقدمین کے نمونے کا پتہ چل سکے۔“

شاہ جی رحمة الله عليه کے اس فرمان کے پیچھے یہ حقیقت پنہاں ہے کہ بزرگانِ دیوبند کے قلوب عشق نبوی صلى الله عليه وسلم میں دھڑکتے تھے۔ یوں لگتا ہے کہ اُن حضرات نے اتباع سنت نبوی صلى الله عليه وسلم کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایاہوا تھا۔ ان حضرات نے اپنے مقام پر رہ کر سنت کی پیروی کو حرزِ جاں بنایا ہوتا تھا اور جب انہیں بارگاہِ رسالت صلى الله عليه وسلم میں حاضری کا شرف حاصل ہوتا تھا تو وہ آداب نبوی صلى الله عليه وسلم کی ایسی بے نظیر مثالیں قائم کرتے تھے کہ ان کو پڑھ کر آج بھی قارئین پر رقت طاری ہوجاتی ہے۔

جب اِدھر سے اطاعت و فرمانبرداری کا یہ عالم تھا تو پھر بارگاہِ رسالت صلى الله عليه وسلم سے بھی مکاشفات ومنامات کی صورت میں ان کی خوب حوصلہ افزائی ہوتی تھی۔ اسے ... ”نگاہِ نبوت کی فیاضی...“ سے ہی تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ زیر نظر مضمون میں دربار رسالت صلى الله عليه وسلم سے ہونے والی نظر عنایت کی چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔

* بانی دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمة الله عليه ایک مرتبہ حج کو جاتے ہوئے پنجلاسہ (ضلع انبالہ) کے ایک باکمال بزرگ راؤ عبداللہ شاہ رحمة الله عليه سے ملنے کے لیے تشریف لے گئے اور ان سے عرض کیا، ”حضرت! میرے لیے دُعا فرمائیے۔“ اس پر راؤ عبداللہ شاہ رحمة الله عليه نے فرمایا:

”بھائی! میں تمہارے لیے کیا دعا کروں، میں نے اپنی آنکھوں سے تمہیں دونوں جہاں کے بادشاہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے سامنے بخاری شریف پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔“(ارواح ثلاثہ:،ص:۱۹۳)

دیوان محمد یاسین صاحب دیوبندی حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمة الله عليه کے خدام میں سے تھے۔ نہایت دردناک آواز میں ذکر کرتے اور بہت رُلاتے تھے۔ فرماتے تھے کہ ایک مرتبہ میں چھتہ کی مسجد میں شمالی گنبد کے نیچے ذکر جہر میں مشغول تھا۔ حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمة الله عليه مسجد کے صحن میں شمالی جانب مراقب اور متوجہ تھے اور توجہ کا رخ میرے ہی قلب کی جانب تھا۔ اسی اثنا میں مجھ پر ایک حالت طاری ہوئی اورمیں نے بحالت ذکر دیکھا کہ مسجد کی چار دیواری تو موجود ہے مگر چھت اور گنبد کچھ نہیں ہے، بلکہ ایک عظیم الشان نور اور روشنی ہے جو آسمان تک فضا میں پھیلی ہوئی ہے۔ یکایک میں نے دیکھا کہ آسمان سے ایک تخت اتر رہا ہے اور اس پر خاتم الانبیاء صلى الله عليه وسلم تشریف فرما ہیں اور چاروں خلفاء کونوں پر موجود ہیں۔ وہ تخت اترتے اترتے بالکل میرے قریب آکر مسجد میں ٹھہرگیا اور حضرت امام الانبیاء صلى الله عليه وسلم نے خلفاء میں سے ایک سے فرمایا: ”بھائی! ذرا مولانا محمد قاسم کو بلالو“۔ وہ تشریف لے گئے اور مولانا کے ہمراہ آئے۔ امام الانبیاء صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا، ”مولانا! مدرسہ کا حساب لائیے۔“ عرض کیا، جی حاضر ہے اور یہ کہہ کرحساب بتانا شروع کردیا اور ایک ایک پائی کا حساب دیا۔ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کی خوشی اور مسرت کی کوئی انتہا نہ تھی۔ بہت ہی خوش ہوئے ۔ اس کے بعد وہ تخت آسمان کی طرف رجوع کرتا ہوا نظروں سے غائب ہوگیا۔ (حکایات اولیاء از حضرت مولانا اشرف علی تھانوی،ص:۴۴۵)

* حکیم الامت حضرت مولانامحمداشرف علی تھانوی رحمة الله عليه کو بارگاہِ رسالت صلى الله عليه وسلم میں اتنا بلند مقام حاصل تھا کہ ایک مرتبہ بنگلہ دیش کے دارالخلافہ ڈھاکہ کے ایک بزرگ کو حضور نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی خواب میں زیارت ہوئی۔ حضور صلى الله عليه وسلم نے ان سے فرمایا ”اشرف علی کو میرا سلام پہنچانا۔“ وہ حضرت تھانویرحمة الله عليه سے واقف نہ تھے، اس لیے عرض کیا، حضور! میں ان سے ناواقف ہوں۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا، ”ظفر کے ذریعے“۔ اس سے مراد مولانا ظفر احمد عثمانی رحمة الله عليه تھے جو حضرت تھانوی رحمة الله عليه کے حقیقی بھانجے تھے اور وہ بزرگ ان سے واقف بھی تھے۔ اس وقت مولانا ظفراحمد عثمانی رحمة الله عليه ڈھاکہ میں ہی مقیم تھے۔ چنانچہ صبح ہوتے ہی انھوں نے اس خواب کی مولانا ظفراحمد صاحب کو خبر دی، جو انھوں نے حضرت تھانوی رحمة الله عليه تک پہنچائی۔ جب حضرت تھانوی رحمة الله عليه کو یہ مژدہ جانفزا پہنچا تو آپ پر فرطِ ادب و مسرت سے ایک خاص کیفیت طاری ہوگئی اور زبان سے بے ساختہ نکلا... وَعَلَیْکَ السَّلاَمُ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ... اوراُس دن کے تمام معمولات موقوف کرکے سارا دن درود شریف پڑھنے میں مشغول رہے۔ (سیرت اشرف،ص:۵۲۷)

* مولانا قاری محمد طیب رحمة الله عليه لکھتے ہیں کہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمة الله عليه نے اٹھارہ برس حرم نبوی صلى الله عليه وسلم میں بیٹھ کر خود صاحب کتاب وسنت (نبی کریم صلى الله عليه وسلم) کے پاس اوران کے زیرنظر رہ کر درسِ کتاب وسنت دیا، جس سے مشرق و مغرب کے ہزارہا عوام و خواص اور علماء وفضلاء مستفید ہوئے اور حجاز و شام، مصر و عراق اور ترک و تاتار وغیرہ تک آپ کے کمالات کا شہرہ پہنچ گیا۔ (مقدمہ شیخ الاسلام)

ایک دن آپ اردو اشعار کی ایک کتاب پڑھ رہے تھے کہ آپ کے سامنے یہ مصرعہ آیا:

”ہاں اے حبیب! رخ سے ہٹا دو نقاب کو“

یہ مصرعہ آپ کوبہت اچھا لگا۔ چنانچہ آپ نے روضہٴ اطہر کے قریب پہنچ کر صلوٰة و سلام کے بعد نہایت بے قراری کے عالم میں یہ مصرعہ پڑھنا اور شوق دیدار میں رونا شروع کردیا۔ کچھ دیر کے بعد آپ کو اسی بیداری کی حالت میں نظر آیا کہ جناب رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سامنے ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے ہیں، آپ صلى الله عليه وسلم کا چہرہ مبارک سامنے ہے اور بہت چمک رہا ہے۔ (نقش حیات،ج:۱،ص:۹۲)

شہور عالم اور بزرگ مولانا مشتاق احمد انبیٹھوی رحمة الله عليه نے بیان فرمایا کہ ایک بار زیارت بیت اللہ سے فراغت کے بعد دربار رسالت میں حاضری ہوئی تو مدینہ طیبہ کے قیام کے وقت مشائخ وقت سے یہ تذکرہ سناکہ امسال روضہٴ اطہر سے عجیب کرامت کا ظہور ہوا ہے۔ ایک ہندی نوجوان نے جب بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر صلوٰة و سلام پڑھا تو دربارِ رسالت سے ... وَعَلَیْکُمُ السَّلاَم یَا وَلَدِیْ... کے پیارے الفاظ سے اس کوجواب ملا۔ اس واقعہ کو سن کر قلب پر ایک خاص اثر ہوا۔ مزید خوشی کا سبب یہ بھی تھا کہ یہ سعادت ہندی نوجوان کو نصیب ہوئی ہے۔ دل تڑپ اٹھا اوراس ہندی نوجوان کی جستجو شروع کردی تاکہ اس محبوبِ بارگاہِ رسالت کی زیارت سے مشرف ہوسکوں اور خود اس واقعہ کی تصدیق بھی کرلوں۔ تحقیق کے بعد پتہ چلا کہ وہ ہندی نوجوان سید حبیب اللہ مہاجر مدنی رحمة الله عليه کے فرزند ارجمند مولانا حسین احمد مدنی رحمة الله عليه ہیں... ابتداءً انھوں نے خاموشی اختیار کی لیکن اصرار کے بعد فرمایا ”بے شک جو آپ نے سنا وہ صحیح ہے۔“ (الجمعیة شیخ الاسلام نمبر،ص:۴۹)

* شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمة الله عليه کی حیات میں فیض باغ لاہور کے عبدالقادر راج نے خواب میں دیکھا کہ نبی علیہ الصلوٰة والسلام خدام الدین کے دفتر میں تشریف فرما ہیں اور حضرت لاہوری رحمة الله عليه آپ کے سامنے دو زانو بیٹھے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور صلى الله عليه وسلم کے سامنے اپنے ایک ساتھی کو پیش کیا جو مسلک کے بارے میں جھگڑا کرتا تھا، اور دریافت کیا کہ امت کے موجودہ فرقوں میں سے کونسا فرقہ حق پرہے۔ آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے حضرت لاہوری رحمة الله عليه کی طرف اشارہ کرکے فرمایا:

”یہ جو کچھ کہتے ہیں، وہ حق ہے۔“ (خدام الدین: ۲۳/فروری ۱۹۶۳/)

* امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمة الله عليه تقسیم ہند کے بعد سیاست سے الگ ہوکر خاتم النّبیین صلى الله عليه وسلم کی ختم نبوت کی حفاظت پر ہی کمربستہ ہوگئے۔ چنانچہ آپ نے اس سلسلہ میں ملک بھر کے دورے کیے اور ناموس رسول صلى الله عليه وسلم کے تحفظ کے لیے مسلمانوں کو بیدار کیا۔ یوں آپ قادیانیت کے لیے درّئہ عمر فاروق ثابت ہوئے۔

اسی زمانے کی بات ہے کہ حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی رحمة الله عليه حج کے لیے تشریف لے گئے۔ ارادہ یہ تھا کہ اب پاکستان واپس نہیں آئیں گے۔ مدینہ منورہ میں قیام کے دوران حضور نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی خواب میں زیارت ہوئی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے ان سے فرمایا:

”یہاں دین کاکام خوب ہورہا ہے، پاکستان میںآ پ کی ضرورت ہے، پاکستان میں جاکر میرے بیٹے عطاء اللہ شاہ بخاری کو میرا سلام کہنا اور کہنا، ختم نبوت کے محاذ پر تمہارے کام سے میں گنبدخضرا میں خوش ہوں، ڈٹے رہو، اس کام کو خوب کرو، میں تمہارے لیے دعا کرتا ہوں۔“

حضرت درخواستی رحمة الله عليه حج سے واپسی پر سیدھے ملتان پہنچے۔ شاہ جی رحمة الله عليه چارپائی پر تھے۔ حضرت درخواستی رحمة الله عليه نے خواب سنایا تو شاہ جی رحمة الله عليه تڑپ کر نیچے گرپڑے۔ کافی دیر کے بعد ہوش آیا۔ بار بار پوچھتے درخواستی صاحب! میرے آقا صلى الله عليه وسلم نے میرا نام بھی لیا تھا۔ حضرت درخواستی رحمة الله عليه کے ہاں میں جواب دینے پر پھر وجد کی حالت طاری ہوجاتی۔

حضرت مولانا محمد علی جالندھری رحمة الله عليه فرماتے ہیں کہ حضرت مولانا رسول خان رحمة الله عليه جو بہت بڑے محدث تھے، نے فرمایا کہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم جماعت صحابہ رضوان الله تعالى عليهم اجمعين میں تشریف فرماہیں۔ حضور نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں (ایک سنہری طشت میں آسمان سے) ایک دستار مبارک لائی گئی۔ آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے جناب صدیق اکبررضى الله تعالي عنه کو حکم دیا:

”اٹھو اور میرے بیٹے عطاء اللہ شاہ کے سرپر باندھ دو، میں اس سے خوش ہوں کہ اس نے میری ختم نبوت کے لیے بہت سارا کام کیا ہے۔“ (تقاریر مجاہد ملت،ص:۷)

* شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا کاندھلوی رحمة الله عليه کو بارگاہِ نبوی صلى الله عليه وسلم میں اس قدر مقبولیت حاصل تھی کہ خودنبی کریم صلى الله عليه وسلم کے اشارے پر سعودی حکومت نے آپ کو مدینہ طیبہ میں سکونت اوراقامت کی خصوصی اجازت مرحمت فرمائی۔

ایک مرتبہ مولانا عبدالحفیظ نے صلوٰة و سلام عرض کرنے کے بعد شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریارحمة الله عليه کی طرف سے صلوٰة وسلام عرض کیا اور صحت کے لیے (دعا کی) درخواست کی۔ حضور اقدس صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا:

”ان کے لیے تو ہم خود دعا کرتے ہیں، ان کو یاد دلانے کی ضرورت نہیں۔“

پھر دعا وغیرہ میں مشغول ہوگئے۔ تھوڑی دیر کے بعد دیکھا کہ حضور انور صلى الله عليه وسلم کی دائیں جانب ایک گلدستہ ہے جس میں مختلف قسموں کے دس بارہ پھول ہیں۔ ان میں سے ایک پھول ذرا بڑا اورابھرا ہوا ہے۔ حضور اکرم صلى الله عليه وسلم نے اس بڑے پھول کی طرف اشارہ کرکے فرمایا:

”یہ (شیخ الحدیث رحمة الله عليه) ہمارے گلدستے کے سب سے بڑے اور سب سے زیادہ خوشبودار پھول ہیں۔“ (بہجة القلوب،ص:۲۶)

ماہنامہ دارالعلوم ، شماره 10-11 ، جلد : 92 ذيقعده 1429 ھ مطابق اكتوبر - نومبر 2008ء

Monday, January 25, 2016

یوم جمہوریہ ، قانون ساز مجلس اور مسلم ممبران

قانون ساز مجلس اور مسلم ممبران
رمیض احمد تقی 
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ دستورِہند دنیا کا طویل ترین آئین ہے،چنانچہ ابتدا میں جب دستور تیار ہوا، تواس وقت یہ آٹھ جدول،بائیس حصے اور 395 دفعات،جو تقریباً اسی ہزار الفاظ کو شامل ہیں، پر مشتمل تھا۔اب کسی کے ذہن میں یہ بات کھٹک سکتی ہے کہ اس قدر طویل ترین قانون کس نے اور کتنے دنوں میں ترتیب دیا؟ تو گواس کا تمام تر سہرا ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کو ہی جاتا ہے، جو ڈرافٹنگ کمیٹی کے صدر تھے، تاہم حقیقت میں ہر مذہب اورہر مکتبِ فکر کے ماہرین نے اپنے خونِ جگر سے ہندوستانی آئین کی تشکیل میں حصہ لیا ہے۔
در حقیقت قانون سازی کاآغاز تومسٹر ریمزی میک ڈونالڈ کے وقت ہی ہو چکا تھا،جب وہ 1929میں برطانیہ کے وزیر اعظم بنے تھے، چنانچہ انہوں نے سائمن سرجن( Serjon Symon )کی سفارش پربرطانوی نژاد ہندکے آئین پر بات کرنے کے لئے ہندوستانی سیاستدانوں کو مدعو کرنے کا فیصلہ کیا، چونکہ ہندوستانی عوام تقریباً برطانوی حکومت کے ظلم وبربریت والے قانون سے تنگ آگئی تھی، حتی کہ ان کے بعض لوگوں نے بھی اُس قانون کو فطرت مخالف اور غیرانسانی تصور کیاتھا، جس کے نتیجہ میں سن 1930 میں برطانیہ میں گول میز کانفرنس منعقد ہوئی، مگر صد افسوس کہ یہ سنہرا موقع سیاست کی بھینٹ چڑھ گیا، مسلم لیگ اور کانگریس کے درمیان بحث ومباحثہ کا لامتناہی سلسلہ چل پڑا اورہندوستانی سیاست کا رنگ پھیکا پڑنے لگا،تاہم 8 اگست 1940 کو وائسرائے ہند لارڈلن لتھگو (Linlithgow Lord) نے جنرل گورنر ایگزیکٹیو کونسل اور ایڈوائزری کونسل کی توسیع و قیام کے بارے میں ایک قرارداد پیش کی،جس کو ’’اگست پیشکش‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے ، جس میں اقلیتوں کو مکمل حقِ رائے دہندگی اور انہیں خود کا آئینی مسودہ تیار کرنے کی اجازت ملی ، پھر 1946 کی کابینہ مشن پلان کے تحت9 دسمبر 1946 کو آئین ہال (موجودہ پارلیمنٹ ہاؤس کا مرکزی ہال) میں قانون ساز اسمبلی کی پہلی میٹنگ منعقد ہوئی ۔1946 کے اواخر اور 1947 کے ابتدائی زمانے میں مسلم لیگ کے ارکان نے قانون ساز مجلس میں شرکت کی، لیکن 1947 میں بر صغیر ہندوپاک کی تقسیم کے بعد مسلم لیگ کے بے شمار ممبران پاکستان ہجرت کرگئے اور آج وہی پاکستانی آئین کے بانی بھی ہیں، جبکہ اس کے 28 ممبران اور مختلف ریاستوں اور مختلف مذہب وملت سے چنندہ سیکڑوں ممبران نے مل کر26 نومبر 1949 کوآئینِ ہند کا مسودہ تیار کیاجو 26جنوری 1950 کو نافذ کیا گیااور پھر ہر سال ہم اسی دن کو یوم جمہوریہ کے طور پر مناتے ہیں۔
یہاں کچھ سوالات آپ کے ذہنوں میں پیدا ہوسکتے ہیں کہ تقسیم کے بعد قانون ساز مجلس میں کتنے مسلم ممبران باقی رہ گئے تھے ،نیز ان کے حیات و کارناموں کی تاریخ کہاں ہیں؟ کیونکہ اس حوالے سے ہمارا آج کل کا مطالعہ صرف چند ہی مسلم ناموں کے ارد گرد گھومتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ قانون ساز مجلس میں 28 لوگ تو صرف مسلم لیگ کے ارکان تھے، جبکہ کئی مسلمانوں نے مختلف صوبوں سے قانون سازمجلس میں شرکت کی اور انہوں نے صرف شرکت ہی نہیں کی؛ بلکہ اپنی زبردست علمی مہارت،بے لاگ اور منصفانہ تجزیوں اور دلائل وبراہین سے دستورِ ہند کو سجایا اور سنوارا ہے؛ چنانچہ 1949 کے اسمائے ارکان دستور ساز مجلس کی فہرست کے مطابق 12 فیصد مسلم ارکان قانون ساز مجلس کے ممبر تھے، یعنی 302 اراکین میں سے 35 مسلم ممبران تھے اوریہ اعدادوشمار تو ان مسلم ممبران کے ہیں، جن کے تذکرے مختلف کتابوں اور مضامین میں بکھرے پڑے ہیں ،جبکہ کوئی نہیں جانتا کہ مزیدکتنے مسلم ممبران تھے،جو مذہبی،نسلی اور قبائلی تعصب کے شکارہوئے ؟
یہ ایک لاریب حقیقت ہے کہ گو انسان مفاد پرستی کی غرض سے تاریخی واقعات میں خرد برد کرنے کی ہزارہا سعی کرتاہے، مگر پھربھی تاریخ کے مشمولات اپنے طالبِ علموں پر تمام گوشوں کو اجاگر کردیتے ہیں؛القصہ جب میں نے ابتدائی قانون ساز اسمبلی کے ارکان کے حوالے سے کتابوں اور مضامین کو کھنگالنا شروع کیا ، تو ایک لمحہ کے لیے حیران وششدر رہ گیا کہ حادثات نے جن چہروں پرفراموش کاری کی سیاہی پوتنے کی کوشش کی ہے ، وہ نہایت ہی پر نور اور زیورِ علم سے آراستہ تھے، ان کا فکروفن، علم وتدبر اور آگہی مثلِ آفتاب تابندہ ودرخشندہ تھی، مگر ہماری حرماں نصیبی کہ ہم نے ان کے حیات اورکارناموں کے ساتھ انصاف نہیں کیا،ان کے کارنامے تو درکنار ہم نے ان کے ناموں کو بھی جاننے کی زحمت نہیں کی۔ اب اس طویل مدت کے بعدان سب کے اسما کو بالتفصیل بتانا تو ممکن بھی نہیں، کیونکہ کہیں بعض کے صرف اسماملتے ہیں، تو کہیں ان کامعمولی تذکرہ، البتہ میں نے اپنی تلاش وتتبع کے بعد اس مختصر مقالے میں 35؍ مسلم ارکانِ قانون ساز مجلس کے اسمائے گرامی کوذکر کرنے کا التزام کیاہے:
(1) مولانا ابوالکلام آزاد (11 نومبر 1888۔ 22 فروری 1958) ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم
(2) عبدالقادر محمد شیخ
(3) ابوالقاسم خان (5 اپریل 1905 ۔ 31 مارچ 1991) جو A.K خان سے زیادہ مشہورتھے، آپ بنگالی وکیل، صنعت کار اور سیاستدان تھے۔
(4) عبدالحمید
(5) عبدالحلیم غزنوی (1876۔1953)آپ ایک سیاستداں، تعلیمی اور ثقافتی امور کے سرپرست اور زمینداربھی تھے۔
(6) سید عبدالرؤف
(7) چوہدری عابد حسین
(8) شیخ محمد عبداللہ (دسمبر 1905 ۔8 ستمبر1982)
(9) سید امجد علی (1907 ۔ 5 مارچ1997 )
(10) آصف علی ( 11مئی 1888 ۔ 1 اپریل1953 )آپ پیشے سے ایک وکیل تھے، آپ پہلی بار ہندوستان کی طرف سے امریکہ کے سفیر مقرر ہوئے اورکئی سال تک اڑیسہ(اوڈیشہ) کے گورنر بھی رہے۔
(11) بشیر حسین زیدی (1898 ۔ 29 مارچ 1992) عام لوگوں میں آپB.H. زیدی سے زیادہ معروف تھے۔
(12) بی پوکر) (B.Pocker صاحب بہادر (1890۔1965) آپ وکیل اور سیاستداں تھے۔
(13) بیگم عزیز رسول (1908۔2001) سیاستداں اور قانون ساز اسمبلی میں واحد مسلم خاتون۔
(14) حیدر حسین
(15) مولاناحسرت موہانی(معروف شاعر،مجاہدِ آزادی،اردوے معلی کے بانی مدیر)
(16)حسین امام
(17) جسیم الدین احمد
(18) کے ٹی ایم احمد ابراہیم
(19) قاضی سید کریم الدین۔ ایم اے، ایل ایل بی (19 جولائی 1899 ۔14 نومبر 1977) 
(20) کے اے محمد
(21) لطیف الرحمن
(22) محمد اسماعیل صاحب (1896۔1972) انڈین یونین مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے ایک ہندوستانی سیاستداں تھے، راجیہ سبھا اور لوک سبھا دونوں کے رکن تھے ،کیرل ان کا آبائی وطن تھا جہاںآپ کو’’قائدِ ملت‘‘ کے لقب سے جانا جاتا تھا۔
(23) محبوب علی بیگ صاحب بہادر (ہندوستانی قانون ساز اسمبلی کے ممتاز رکن ،جنہوں نے اقلیتوں کے مسائل کی نمائندگی میں ایک اہم کردار ادا کیا، خاص طور پرآزادیِ مذہب کے حوالے سے آپ نے کئی ترمیمات اور اضافے کیے)۔ 
(24) محمد اسماعیل خان
(25) محمد حفظ الرحمن یعنی مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی
(26) محمد طاہر
(27) شیخ محمد عبداللہ ) 5 دسمبر 8-1905ستمبر (1982 سیاستداں اورصوبۂ جموں و کشمیر سے آئین ساز اسمبلی کے ممتاز رکن تھے۔
(28) مرزا محمد افضل بیگ
(29) مولانا محمد سعید مسعودی
(30)نذیر الدین احمد
(31) رفیع احمد قدوائی ( 18فروری 1894۔ 24 اکتوبر 1954)معروف مجاہدِآزادی،کانگریسی لیڈراورآزادہندوستان کے پہلے وزیرمواصلات)
(32) راغب احسن
(33) سید جعفر امام
(34) سر سید محمدسعد اللہ ( 21 مئی 1885 ۔ 8 جنوری 1955) آسام کے پہلے وزیر اعلی ۔
(35)تجمل حسین
قانون ساز اسمبلی میں مولانا ابوالکلام آزادؒ کی شراکت اور آئین کا مسودہ تیار کرنے میں ان کے کارنامے کو کبھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، ان کی نگرانی میں ایک بڑی تعدادمیں آئین کی تصحیح وتخریج کا کام کیا گیا، انہوں نے مختلف مذاہب،قبائل اورکثیرلسانی وتہذیبی ملک ہندوستان کے لوگوں کے لیے قانون کو متوازن اور معتدل بنانے میں ایک اہم کردار ادا کیا، تعلیمی نظام کو بہتراورخوب تربنانے کے لیے آپ نے بہت ساری ترمیمات اور اضافے کیے ، یہی وجہ تھی کہ انہیں ہندوستان کا پہلا وزیرِ تعلیم نام زد کیا گیا اور بحیثیتِ وزیرِ تعلیم انہوں نے بے شمار تعلیمی ، تعمیری اور اصلاحی کام انجام دیے ،انھوں نے اپنی وزارت کے دوران سائنس،آرٹس اورادب کوفروغ دینے کے لیے متعددادارے قائم کیے،جواب بھی نہ صرف موجودہیں؛بلکہ قابلِ قدرخدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کے انہی کارناموں کو زندہ وتابندہ رکھنے کے لیے ان کے یومِ پیدائش کے موقع پر ہرسال پورے ملک میں ’’قومی تعلیمی دن‘‘ منایا جاتا ہے۔
لفظِ’ ’ اقلیت ‘‘ قدیم زمانے سے ہی ہمارے خوش حال ہندوستان کے لیے منحوس ثابت ہواہے،چنانچہ یہ جناب تجمل حسین ہی تھے جنہوں نے قانون ساز مجلس میں بہ آوازِ بلند اس لفظ کی مخالفت کی اور کہا:’’اقلیت کی اصطلاح برطانوی تخلیق ہے اور جب وہ چلے گئے، تو اس لفظ کو بھی چلا جانا چاہیے ، برائے مہربانی اس لفظ کو اپنی لغت سے غائب کردیجیے ، ہندوستان میں کوئی اقلیت میں نہیں ہے ، بلکہ تنوع میں وحدت ہی ہماری پہچان ہے ‘‘۔ 
بیگم عزیز رسول، متحدہ صوبہ جات کی طرف سے آئین ساز اسمبلی میں اکلوتی مسلم خاتون تھیں،جنہوں نے کئی اہم مسائل کی طرف ارکان کی توجہ مبذول کرائی ، وزرا کے لیے آفس اور وقت کی تعیین ،جس میں وہ وہ تندہی اور یکسوئی کے ساتھ لوگوں کے مسائل حل کرسکیں یہ انہی کاعظیم کارنامہ ہے،تقسیم کے وقت جب اقلیتوں نے ہندوستان میں اپنے مستقبل کو غیر محفوظ خیال کیا ، تو یہ وہی دلیر خاتون تھیں جنہوں نے قانون ساز اسمبلی میںیہ کہا تھا:’’میرے گمان کے مطابق ریزرویشن خودایک تباہ کن ہتھیار ہے، جو ہمیشہ کے لیے اقلیت کو اکثریت سے جدا کردے گا، پھر اقلیتوں کے لیے کوئی موقع نہ ہوگا کہ اکثریت کی اچھائیوں کو سمجھ سکیں اور یہی علیحدگی پسند اور فرقہ واریت کو جنم دیتا ہے ، جسے ہمیشہ ہمیش کے لیے معاشرہ سے دور کردینا چاہیے۔‘‘
دستور سازی کے وقت صرف اقلیتوں ہی کے مسائل نہیں تھے،مسلم ممبران نے بے شمار جگہوں پر ارکانِ مجلس کی توجہات کو متعدد ترامیم اور نظر ثانی کی طرف مبذول کرایا ، انہوں نے آئین کو مؤثر اور قابل عمل بنانے کے لئے بے لاگ اورمنصفانہ تجزیے کیے ، یہ وہ مسلمان تھے جو صرف قانون داں ہی نہیں تھے، بلکہ ان میں سے کئی تو دوسرے ممالک کے قوانین کے حفاظ ، وکلا اور بیرسٹر تھے،مگر صد افسوس کہ ان نابغۂ روزگار شخصیات کے حیات وکارناموں پر آج تک ایک کتاب بھی تصنیف نہیں کی گئی اور نہ کسی مقالہ نگارنے ان کے کارناموں کو یکجا کرنے کی زحمت کی؛تاکہ وہ ذہنوں میں زندہ رہتے ، آزادی کے بعدکے کچھ تنگ ذہن مصنفین نے توان کی کارگزاریوں پرخطِ نسخ پھیراہی،مگران کے ساتھ ہم نے بھی شعوری یا غیر شعوری طورپر ان کو اور ان کے کارناموں کو فراموش کردیا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آئینِ ہند؛ بلکہ تاریخِ ہند خواہ کوئی بھی لکھے،مسلمانوں کے بغیر کبھی مکمل ہو ہی نہیں سکتی ، اگرہم اپنے ان محسنوں کے تئیں دیانت داری سے کام لیتے اور کسی بھی قسم کے تعصب کو روا نہیں رکھتے، توہم کب کے چاند پر پہنچ چکے ہوتے اور یہ ملک وہاں نہیں ہوتا جہاں آج ہے!!!
منقول :
E-mail:rameez01sbi@gmail.com