BEST RESULT

Custom Search

Monday, May 9, 2016

تاریخ : حقیقت ، ابتداء اور فوائد

تاریخ کیا ہے ؟
تاريخ ايک ايسا مضمون ہے جس ميں ماضی ميں پيش آنے والے لوگوں اور واقعات کے بارے ميں معلومات ہوتی ہيں
اناتول قراش کے خیال میں تاریخ گزشتہ حادثات و اتفاقات کے تحریری بیان سے عبارت ہے۔ ای ایچ کار کی رائے میں تحقیق شدہ واقعات کے ایک سلسلے پر مشتمل ہے۔ کارل بیکر کے نزدیک اقوال و افعال کا علم ہے۔ سیلی کی رائے میں تاریخ گزشتہ سیاست اور گزشتہ سیاست موجودہ تایخ ہے۔ (ڈاکٹر آفتاب اصغر، مقدمہ تاریخ مبارک شاہی۔ 22) اطخاوی کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسا علم ہے جس کاموضع انسان زماں و مکاں ہے، جس میں وہ زندگی بسر کرتا ہے۔ ابن خلدون کا کہنا ہے یہ ایک ایسا علم ہے جو کسی خاص عہد ملت کے حالات واقعات کو موضع بحث دیتاہے۔ ظہیرالدین مرغشی کے نزدیک یہ ایک ایسا علم ہے جو اگلے وقتوں کے بارے میں اطلاعات پر مشتمل ہے۔ ڈاکٹر محمد مکری کا قول ہے کہ تاریخ ایسا علم ہے جس میں کسی قوم یا فرد یا چیز کے گزشتہ حالات واقعات پر بحث کرتا ہے۔ آقائے مجید یکتائی کا کہنا ہے کہ اعصار و قرون کے ان احوال و حوادث کی آئینہ دار ہے، جو ماضی سے آگئی و مستقبل کے لئے تنبیہ کا باعث بنتے ہیں۔ (ڈاکٹر آفتاب اصغر، مقدمہ تاریخ مبارک شاہی۔22) حقیقت یہ ہے کہ تاریخ کا نظریات میں کتنا ہی اختلاف ہو، مگر اس حد تک سب متفق ہیں کہ یہ ایک ایسا علم ہے جو عہد گزشتہ کے واقعات اور اُس زماں و مکاں کے بارے میں جس میں واقعات وقوع پزیر ہوئے ہیں، آئندہ نسلوں کو معلومات بہم پہنچاتا ہے۔ یہی وجہ ہے تاریخ اتنی قدیم ہے کہ جتنی تحریر۔ یہ اور بات ہے تاریخ کی ابتدا اساطیر یا دیومالائی کہانیوں سے شروع ہوئی۔ گو تاریخ اور اساطیر مین فرق ہے۔ تاریخ کے کردار حقیقی اور زمان اور مکان متعین و مشخص ہوتے ہیں۔ جب کہ اساطیر میں کردار مقوق الفطرت مسخ شدہ یا محض تخیل کی پیداوار اور زمان و مکان غیر متعین اور نامشخص ہوتے ہیں۔ (ڈاکٹر آفتاب اصغر، مقدمہ تاریخ مبارک شاہی۔ 22، 23)
تاریخ کی ابتدا :
عمدة القاری کی جلد 7 میں علامہ بدرالدین عینیؒ تاریخ کی ابتداء کے حوالے سے فرماتے ہیں:
جب زمین پر انسان کی آبادی وسیع ہونے لگی تو تاریخ کی ضرورت محسوس ہوئی ، اس وقت ہبوطِ آدم علیہ السلام سے تاریخ شمار کی جانے لگی، پھر طوفانِ نوح علیہ السلام سے اس کی ابتدا ء ہوئی ، پھر نارِ خلیل سے، پھر یوسف علیہ السلام کے مصر میں وزیر بننے سے، پھر موسی علیہ السلام کے خروج ِمصر سے، پھر حضرت داؤد سے ،ان کے فوراً بعد سلیمان علیہ السلام سے پھر حضرت عیسیٰ علیہم السلام سے۔ اس کے بعد ہر قوم اپنے اپنے علاقہ میں کسی اہم واقعہ کو سن قرار دیتی تھی، مثلاً قوم ِاحمر نے واقعۂِ تبایعہ کو، قومِ غسان نے سد ِسکندری کو، اہلِ صنعاء نے حبشہ کے یمن پر چڑھ آنے کو سن قرار دیا۔جس طرح ہر قوم نے اپنی تاریخ کا مدار قومی واقعات وخصائص پر رکھا، اسی طرح اہلِ عرب نے بھی تاریخ کے لیے عظیم واقعات کو بنیاد بنایا، چناں چہ سب سے پہلے اہلِ عرب نے حرب ِبسوس (یہ وہ مشہور جنگ ہے جو بکر بن وائل اور نبی ذہل کے درمیان ایک اونٹنی کی وجہ سےچالیس سال تک جاری رہی) سے تاریخ کی ابتدا کی۔ اس کے بعد جنگ ِداحس ( جو محض گھڑدوڑ میں ایک گھوڑے کے آگے نکل جانے پر بنی عبس اور بنی ذبیان کے درمیان نصف صدی تک جاری رہی )پھرجنگ ِغبراء سے، پھر جنگ ِذی قار سے پھر جنگ ِفجار سے تاریخ کی ابتدا کی۔
اس کے بعد حضور ﷺ کے اسلاف میں سے ایک بزرگ کعب کے کسی واقعہ سے سالوں اورتاریخ کا حساب لگاتے رہے ،پھر اصحاب ِالفیل کے واقعہ سے، یہاں تک کہ عام الفیل کی اصطلاح ان کے یہاں رائج ہوئی ۔لیکن اتنی بات واضح ہے کہ رومیوں اور یوناینوں کے دور، بالخصوص سکندراعظم کی فتوحات سے تاریخ کا وہ حصہ شروع ہوتا ہے جس نے دنیا کے اکثر ملکوں کے حالات کو اس طرح دنیا کے سامنے پیش کیا کہ سلسلہ کے منقطع ہونے کی بہت کم نوبت آئی اور عام طور سے یہیں سے تاریخ زمانہ کی ابتدا سمجھی جاتی ہے۔
کچھ حضرات نے تاریخ کو 3 زمانوں میں تقسیم کیا:
1-قرون اولیٰ، جو ابتدائے عالم سے سلطنت روماتک ہے۔
2-قرون وسطیٰ جو سلطنت روما کے آخر زمانہ سے قسطنطنیہ کی فتح تک ہے۔
3- قرون آخر وقسطنطنیہ کی فتح سے تاحال ہے۔۔
تاریخ کے فوائد :
مقدمۂِ ابن خلدون میں علامہ ابن خلدون تاریخ کے فوائد پر نظر ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :
تاریخ ایک ایسی چیز ہے او رایک ایسا فن ہے جوکثیر الفوائد اور بہترین نتائج پر مشتمل ہے اورتاریخ کا علم ہم کو سابق امتوں کے اخلاق، حالات، انبیاء کی پاک سیرتوں
اور سلاطین کی حکومتوں او ران کی سیاستوں سے روشناس کرتا ہے، تاکہ جو شخص دینی ودنیوی معاملات میں ان میں سے کسی کی پیروی کرنا چاہے تو کر سکے۔
مولانا محمّد میاں مصنف ِتاریخ اِسلام تاریخ کا مقصد اور فائدہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ : جو حالات موجودہ زمانہ میں پیش آرہے ہیں ان کو گزرے ہوئے زمانے کی حالتوں سے ملا کر نتیجہ نکالنا او راس پر عمل کرنا تاریخ کا مقصد اور فائدہ ہے 

سلسلہ تصوف اور شجرہ تصوف

سلسلہ

اس سے مراد صحبت اور اعتماد کا وہ سلسلہ ہے جو موجودہ شیخ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم تک جاتا ہے ۔ہند میں چار بڑے سلاسل چل رہے ہیں ۔جو کہ چشتیہ ،نقشبندیہ ،قادریہ اور سہروردیہ ہیں۔جس شیخ سے آدمی بیعت ہوتا ہے تو اس کے ساتھ آدمی اس کے سلسلے میں داخل ہوجاتا ہے ۔ان سلاسل کی مثال فقہ کے چار طریقوں حنفی ،مالکی ،شافعی اور حنبلی یا طب کے مختلف طریقوں یعنی ایلوپیتھی ،ہومیوپیتھی ،آکو پنکچر اوریونانی حکمت وغیرہ سے دی جاتی ہے ۔ان کے اصولوں میں تھوڑا تھوڑا فرق ہے لیکن سب کا نتیجہ وہی روحانی صحت یعنی نسبت کا حاصل کرنا ہے ۔
چاروں سلسلوں کے مشائخ کے اسمائے گرامی

سلسلہ چشتیہ کے سرخیل حضرت خواجہ معین الدین چشتی (رحمۃ اللہ علیہ) ہیں۔ان کے آگے پھر دو شاخ ہیں چشتیہ صابریہ کے سرخیل حضرت صابر کلیری (رحمۃ اللہ علیہ) ہیں اور چشتیہ نظامیہ کے سرخیل حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء (رحمۃ اللہ علیہ) ہیں،سلسلہ قادریہ کے سرخیل حضرت شیخ عبد القادر جیلانی (رحمۃ اللہ علیہ)،سلسلہ سہروردیہ کے حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی (رحمۃ اللہ علیہ) اور سلسلہ نقشبندیہ کے حضرت شیخ بہاؤالدین نقشبندی (رحمۃ اللہ علیہ) ہیں۔

شجرہ اور اس کی اہمیت
آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مناسب جو اللہ تعالیٰ نے قُرآن میں بیان فر مائے ہیں چار ہیں۔یعنی قُرآن کی تلاوت سکھانا،صحابہ کرام (رضی اللہ عنہ) کا تزکیہ کرنا، کتاب کی تعلیم دینا اور حکمت کی تعلیم دینا۔قُرآن کی تلاوت کے شعبے کی ذمہ داری قرّا ءحضرات نے ،تزکیہ کی صوفیاء کرام نے اور علم و حکمت کی علماءکرام نے۔علماء کرام میں محدثین کرام نے احادیث شریفہ کو اُمت تک محفوظ طریقے سے پہنچانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔اس مقصد کے لئے وہ اپنی سندوں کی حفاظت کرتے ہیں اور اپنی سندوں کو اس ترتیب سے روایت کرتے ہیں جس ترتیب سے ان تک روایت پہنچی ہوتی ہے۔بعینہ اسی طرح صوفیاء کرام اپنی نسبت کو اسی ترتیب سے بیان کرتے ہیں جس ترتیب سے ان تک نسبت پہنچی ہوتی ہے۔نسبت کی اسی ترتیب کا بیان شجرہ کہلاتا ہے۔بعض حضرات نے اپنا شجرہ منظوم انداز میں چھاپا ہوتا ہے اور برکت کو حاصل کرنے کے لئے اس کو پڑھتے ہیں۔یہ دعائیہ شکل میں بھی ہوتی ہے اور مریدین اپنی دعا کی قبولیت کے لئے اس نسبت کو بطور وسیلہ پکڑتے ہیں۔

Sunday, May 8, 2016

پہلی وحی اور مکہ میں لکھنے کا رواج

پہلی ہی وحی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھانے کے بارے میں حکم دینا ایسی بات ہے، جو ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے نبئ امی کو کیوں پہلے ہی حکم میں اس کی طرف متوجہ کیا گیا اور اس کے بعد جو تیئس سالہ عرصہ گزرا، اس میں کچھ نہیں تو بیسیوں آیتیں ایسی ملتی ہیں جن میں علم کی تعریف اور اہمیت سمجھائی گئی ہے اور اس میں عجیب و غریب چیزیں بھی نظر آتی ہیں۔ مثلاً ایک طرف یہ کہا جائے گا۔ وما اوتیتم من العلم الا قلیلا (85:17) (اور تمھیں علم نا دیا گیا ہے مگر تھوڑا) دوسری طرف یہ بھی کہا گیا۔ 'قل رب زدنی علما' (114:20) (اور عرض کرو کہ اے میرے رب مجھے علم میں بڑھا) اسی طرح کی شاید ایک ضرب المثل بھی مشہور ہے – اطلبوا العلم من العھد الی اللحد (گہوارے سے قبر تک یعنی پیدا ہونے سے موت آنے تک علم سیکھتے رہو) ایک اور چیز ہے جس کی صحت کے متعلق ہمارے محدثین ٹیکنیکل نقطہ نظر سے اعتراض کریں گے ، لیکن بہرحال وہ بھی اثر انگیز چیز ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ 'علم سیکھو چاہے وہ چین ہی میں کیوں نہ ہو' عقلی اور تاریخی نقطئہ نظر سے مجھے اس پر اعتراض کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ بہرحال اس سلسلے میں پہلا سوال ہوگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چین کا علم کیسے ہوا؟ جب کہ عرب، ایشیا کے انتہائی مغرب میں ہے اور چین ، ایشیا کے انتہائی مشرق میں ہے اور ان دونوں ممالک میں کسی طرح کا کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ ان حالات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے علم ہوا کہ چین میں علوم و فنون پائے جاتے ہیں؟ سوال معقول ہے لیکن اگر ہمارا مطالعہ ذرا وسیع ہو او ہمیں اپنی علمی میراث سے ذرا زیادہ واقفیت ہو تو پھر یہ سوال باقی نہیں رہتا بلکہ خود بخود حل ہو جاتا ہے مثلاً 'مسعودی' کی کتاب 'مروج الذھب' کے نام سے ہمارا ہ پڑھا لکھا شخص واقف ہے۔ وہ بیان کرتا ہے کہ اسلام سے پہلے چینی تاجر عمان تک آتے تھے۔ بلکہ عمان سے آگے 'اہلہ یعنی بصرہ تک بھی پہنچتے تھے اور یوں یہ بات طے ہوجاتی ہے کہ اس زمانے میں عربوں کے لیے چین اور چینی اجنبی نہیں تھے۔ اس سے بھی زیادہ قابلِ غور واقعہ واقعہ ایک اور ہے کہ محمد بن حبیب البغدادی نے، جو ابنِ قیتبہ کا بھی استاد ہے' اپنی کتاب المجر میں لکھا ہے کہ ہر سال فلاں مہینے میں 'دبا' نامی مقام پرایک میلہ لگتا تھا' جس میں شرکت کے لیے سمندر پار سے بھی لوگ آیا کرتے تھے ان لوگوں میں ایرانی بھی ہوتے تھے، چینی بھی ہوتے تھے، ہندی اور سندھی بھی ہوتے تھے، مشرقی لوگ بھی ہوتے تھے، مغربی بھی ہوتے تھے وغیرہ وغیرہ ۔ دبا کی اہمیت کے سلسلے میں ایک چھوٹا سا واقعہ آپ کو یاد دلاؤں۔ جب عمان کا علاقہ اسلام قبول کرتا ہے تو عمان میں ایک گورنر ہوتا ہے،اس کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلمایک اور گورنر کا تقرر صرف بندرگاہ دبا کے امور کے لیے فرماتے ہیں۔ اس سے اس مقام کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔ غالباً اس انٹرنیشنل میلے کی وجہ سے بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہوں گے ، تجارتی جھگڑے ، کاروباری معاملات وغیرہ ، اس لیے عہدِ نبوی میں خصوصی افسر کی ضرورت محسوس کی گئی۔ ان دو واقعات کے بعد مسند احم بن حنبل پر نظر ڈالیے۔ جس کے بعد ہمیں کوئی شبہ نہیں رہتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان چینیوں سے ملاقات ہوئی تھی۔ میں ذکر کر چکا ہوں کہ مسعودی کے بیان کے مطابق چینی تاجر اپنے جہازوں میں سمندری راستے عمان کے علاوہ ابلہ یعنی بصرہ تک جاتے تھے اس دوسری روایت میں آپ دیکھ چکے ہیں کہ دبا نامی بندرگاہ میں، جو جزیرہ نمائے عرب کی دو سب سے بڑی بندر گاہوں میں سے ایک بندرگاہ تھی ، ہر سال میلا لگتا تھا، وہاں ہر سال چینی لوگ آتے تھے ۔ ان دوچیزوں کو ذہن میں رکھ کر مسند احمد بن حنبل کو پڑھیں۔ اس میں لکھا ہے کہ قبیلہ عبدلقیس کے لوگ ، جو عمان وہ بحرین میں رہتے تھے، مدینہ آئے اور اسلام قبول کیا۔ ایک چھوٹی سی چیز پر آپ کی توجہ منعطف کراتا ہوں وہ یہ کہ اس میں جو بحرین کا لفظ آیا ہے ، اس روایت میں اس سے مراد وہ جزیرہ نہیں ہے جسے ہم آج کل بحرین کہتے ہیں اور جو جزیرہ نما ئے عرب میں خلیج فارس کے اندر واقع ہے۔ اس زمانے میں اس جزیرہ کا نام 'اوال' تھا اور بحرین کا لفظ اُس علاقے کو ظاہر کرتا ہے جسے آج کل ہم الاحساء اور القطیف کا نام دیتے ہیں۔ بہر حال اس میں لکھا ہے کہ بحرین کے لوگ جن کا نام قبیلہ عبدالقیس ہے ،اسلام لانے کے لیے مدینہ آتے ہیں۔ اس روایت میں اس بات کی بھی تفصیل ملتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے کچھ سوالات کیے۔ مثلاً فلاں شخص ابھی زندہ ہے؟ کیا فلاں سردار زندہ ہے؟ فلاں مقام کا کیا حال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان سوالات کو سن کر وہ لوگ حیرت سے پوچھتے ہیں۔ یا رسول اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو ہم سے بھی زیادہ ہمارے ملک کے شہروں اور باشندوں سے واقف ہیں۔ یہ کیسے ہوا؟ ان لوگوں کے اس سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ 'میرے پاؤں تمہارے ملک کو بہت عرصے تک روندتے رہے ہیں۔' دوسرے لفظوں میں میں وہاں بہت دنوں تک مقیم رہا ہوں۔ اس صراحت کے بعد ہمیں شبہ نہیں رہتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غالباً شادی کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مال تجارت لے کر نا صرف شام جاتے ہیں، جس کی صراحتیں موجود ہیں بلکہ مشرقِ عرب کو بھی جاتےہیں تاکہ دبا کے میلے میں شرکت کر سکیں اور کوئی تعجب نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہیں پر چینی تاجروں کو بھی دیکھا ہو اور ممکن ہے اُن سے کچھ گفتگو کی ہو ۔اگر چینی وہاں آیا کرتے تھے تو اُنھیں کچھ ٹوٹی پھوٹی عربی آ جانی چاہئے۔ اس کے علاوہ وہاں پر یقیناً ایسے مترجم ہوتے ہوں گے جو چینی اور عربی دونوں زبانیں جانتے ہوں۔ بہر حال اس کا امکان ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چینیوں سے ملاقات کی اور میرا گمان ہے کہ ان کے ریشمی سامان پر خاص کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ ہوئی ہوگی،کیوںکہ چین کا ریشم نہایت ہی مشہور چیز تھی، ممکن ہے کہ ان کی صنعت و حرفت کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت ہی اچھا تاثر لیا ہو اور ان سے پوچھا ہو کہ تمھارے ملک سے یہاں تک آنے میں کتنے دن لگتے ہیں۔ اور مثلاً انھوں نے کہا ہو کہ چھ مہینے لگتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک اندازہ قائم کرنے کے لیے یہ کافی تھا اور اس کی روشنی میں اب اس حدیث کو پڑھئے " علم سیکھو چاہے چین ہی جانا پڑے"( جو تمھارے لیے دنیا کا بعید ترین ملک ہے ) کیونکہ علم کا سیکھنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ ' غرض ان ابتدائی چیزوں کے عرض کرنے کا منشا یہ تھا کہ قرآن مجید و حدیث شریف میں علم حاصل کرنے کی بڑی تاکید آئی ہے کیونکہ یہ انسانوں کے لیے نہایت مفید چیز ہے اور اسلام سے زیادہ فطری مذہب کون سا ہوسکتا ہے جو انسانوں کو ان کے فائدے کی چیز بتائے۔


یہ کہنا دشوار ہے کہ مکہ معظمہ میں ہجرت سے قبل رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم کے متعلق کیا کام کیا؟ کوئی مدرسہ قائم کیا یا مدرس مامور کیے؟ اس کا پتہ چلنا آسان نہیں ہے۔ غالباً ایسا ہوا بھی نہیں بجز قرآن کو مستند استاد سے پڑھنے کے۔ لیکن ایک چیز قابل ذکر ہے وہ یہ کہ ہمارے مورخین کے مطابق عربی زبان طویل عرصے تک بولی جانے والی زبان رہی تھی، تحریری زبان نہیں تھی۔ لکھنے کا رواج مکہ معظمہ میں ،حرب کے زمانے میں ہوا۔ یہ ابو سفیان کا باپ تھا۔ یعنی یہ دور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نوجوانی کا دورہے۔ جو لوگ آپ سے معمر تر تھے،شہر مکہ میں ان کے زمانے میں پہلی مرتبہ عربی زبان کی تحریر و کتابت ہونے لگی۔ اس کی وجہ بھی یہ بیان کی گئی ہے کہ ایک شخص عراق کے علاقے سے حیرہ سے وہاں آیا تھا۔ اُس نے مکہ معظمہ میں حرب کی بیٹی سے شادی کی اور اظہار شکر گزاری کے لیے حرب کو یہ راز بتلایا کہ ایسی کام کی باتیں ، جنھیں تم بھول جاتے ہو اور جنھیں یاد رکھنے کی ضرورت ہے، اُنھیں لکھ لیا کرو۔ یہ روایت ہمیں مختلف کتابوں میں ملتی ہے، مثلاً قدامہ بن جعفر کی کتاب الخراج اور اس کے استاد بلاذری کی فتح البلدان وغیرہ میں۔ دوسرے الفاظ میں مکہ میں لکھنے پڑھنے کا رواج عہدِ نبوی سے کچھ پہلے ہی شروع ہوا تھا اور بلاذری کو تو اصرار ہے کہ عہدِ نبوی کے آغاز پر وہاں سترہ سے زیادہ آدمی لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے۔ ممکن ہے کہ مبالغہ ہو یا کسی خاص عہد کا ذکر ہو اور بعد میں اس صورت میں ترقی ہوئی ہو اور زیادہ لوگ لکھنا پڑھنا جان گئے ہوں لیکن اس کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔ البتہیہ امر ضرور قابلِ ذکر ہے قبلِ اسلام مکے میں عورتیں بھی لکھنا پڑھنا جانتی تھیں چنانچہ شفاد بنت عبداللہ کو جو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رشتہ دار تھی ، لکھنا پڑھنا آتا تھا اور اسی واقفیت کے سبب سے بعد میں، جب وہ ہجرت کر کے مدینہ آئیں، تو ابن حجر کے بیان کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مدینہ کے ایک بازار میں ایک عہدہ پر مامور کیا۔ چونکہ انہیں لکھنا پڑھنا آتا تھا، اس لیے کوئی ایسا ہی کام ان کے سپرد کیا گیا ہوگا جس کا تعلق لکھنے پڑھنے سے ہو۔ ایک امکان میرے ذہن میں آتا ہے کہ اس بازار میں عورتیں بھی سامانِ تجارت لاتی ہوں گی لٰہذا ان کی نگرانی ان کی مدد اور ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے کسی عورت ہی کو مامور کیا جاسکتا تھا۔ بہر حال لکھنے پڑھنے کا رواج عہدِ نبوی کے آغاز کے زمانے میں ایک بلکل نئی چیز تھی اور اسکا نتیجہ یہ تھا کہ اس نے ابھی زیادہ ترقی نہیں کی تھی۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ دنیائے عرب کی سب سے پہلی تحریر میں لائی ہوئی کتاب قرآنِ مجید ہے۔ اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں لکھی گئی تھی۔ صرف چند ایک چیزیں مثلاً سبعہ معلقات، جن کو لکھ کر کہتے ہیں کہ بطور اعزاز و احترام کعبہ میں لٹکا دیا گیا تھا۔ اسی طرح بعض معاہدے بھی لکھے گئے ہوں گے۔ ' الفرست' میں ابن ندیم نے لکھا ہے کہ خلیفہ مامون کے خزانے میں ایک مخطوطہ یا ایک کاغذ کا پرچہ تھا جس میں ذرا بھدے خط کی کچھ عبارت تھی۔ لکھا ہے کہ عورتوں کے خط کے مشابہ تھا اور کہا کہ وہ عبدالمطلب کا خط تھا وغیرہ۔


ان چیزوں سے معلوم ہوتا ہے اس زمانے میں لکھنے پڑھنے کا آغاز ہو رہا تھا اور ابھی زیادہ ترقی نہٰں ہوئی تھی۔ اس کی وجہ شاید یہ بھی ہو۔کہ حیرہ سے آنے والا شخص وہی خط سکھائے گا جو حیرہ میں رائج ہے۔ وہاں کی زبان میں کل چوبیس حرف ہیں جب کہ عربی میں حروف کی تعداد اٹھائیس ہے۔ ظاہر ہے حیرہ میں رائج خط اس زبان کے لیے ناکافی ہوگا۔ اسی لیے حیرہ میں رائج خط کی مدد سے عربی زبان کے حروف میں امتیاز کرنا بھی دشوار تھا۔ عربی زبان کے حروف میں امتیاز قائم کرنے کی ایک ہی صورت تھی کہ مختلف حروف کے سلسلہ میں ایک نقطہ نیچے لگا کر 'ب' بنائیں اور اسی حروف پر ایک نقطہ اوپر لگا کر 'ن' بنائیں وغیرہ وغیرہ۔ اس سلسلے میں خطب البغدادی وغیرہ وغیرہ متعدد لوگوں کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ غالباً اس کوتاہی کو دور کرنے کا کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی فرمایا تھا۔ روایت ہے کہ ایک دن خلیفہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عبید غسانی نامی کاتب کو بلایا اور فرمایا کہ میں تمھیں کچھ لکھواتا ہوں اسے لکھو اور رقش کرو۔ غسان کہتا ہے 'رقش' کیا چیز ہے؟ وہ تبسم کرکے کہتے ہیں کہ میں ایک دن مدینہ منورہ میں تھا ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کاتب کی حثیت سے مجھے یاد فرمایا اور حکم دیا لکھو اور رقش کرو میں نے بھی پوچھا تھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رقش کیا چیز ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ یہ تھے کہ ' حروف پرجہاں ضرورت ہو نقطے لگاؤ' اس چھوٹی سی روایت سے جو ہمیں کئی کتابوں میں ملتی ہے ، گمان ہوتا ہے کہ نقطے لگا کر حروف میں امتیاز پیدا کرنا بہت بعد کی چیز نہیں ہے بلکہ عہدِ نبوی میں اس کا آغاز ہوگیا تھا لیکن کتب رسم المصاحف (یعنی قرآنی املاء) کے مؤلفوں یا خط عربی کے عام مورخوں کے ہاں اس کا کوئی ذکر نہیں ملتا البتہ اس کی تائید میں اب کچھ چیزیں بھی ہمٰں مل گئی ہیں۔ پہلی چیز یہ ہے کہ طائف کے مضافات میں ایک کتبہ ملا ہے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ خلافت میں انہی کے حکم سے طائف کے گورنر نے ایک تالاب تعمیر کرایا تھا، اس پر ایک کتبہ لگایا گیا ۔ اس کتبے کے کئی حروف پر نقطہ ہیں۔ یہ سن 50 ھ کا واقعہ ہے ۔ ظاہر ہے بعد کی جال سازی نہیں ہوسکتی۔ اس کتبے کے سب حروف پر نقطے نہیں بلکہ صرف چند حروف پر ہیں۔ یہ ذرا پرانی دریافت تھی، اب ایک نئی چیز ہمارے سامنے آئی ہے۔ جو اس سے بھی زیادہ موثر ہے۔ مصر میں کچھ جھلیاں (پارچمنٹ)دریافت ہوئی ہیں جن پر کچھ تحریریں لکھی ہوئی ہیں۔ ان میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کی خلافت بائیس ہجری کے زمانے کے دو خطوط ہیں۔ ان میں بھی نقطوں کا اہتمام نظر آتا ہے۔ یعنی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کے زمانے میں بھی ایک حد تک نقطے لگانے کا رواج تھا۔ اسے حجاج بن یوسف یا اس کے بعد کی چیز قرار دینا درست نہیں۔

Tuesday, May 3, 2016

غبارِ خاطر: میری کتابِ مقدس

غبارِ خاطر: میری کتابِ مقدس

بہت دردناک تھا یہ احساس کہ تعلیم کے نام پر جو کچھ میں حاصل کر رہا ہوں یہ مجھے صرف اس لائق بنائے گا کہ میں کسی مسجد میں امامت کر سکوں اور وہاں کچھ کھانستے بوڑھے صرف اس لئے میری تذلیل کرسکیں کہ وہ اپنی اولاد پر کنٹرول کھو چکے ہیں اور ان کے پاس اپنی بھڑاس نکالنے کے لئے 1400 روپے تنخواہ والے امام کے سوا کوئی سافٹ ٹارگٹ نہیں۔ اور وہ امام اس خوف کے سبب یہ ذلت برداشت کرتا جائے کہ اگر اس نے اُف کی تو اگلے ہی لمحے مسجد سے نکال دیا جائے گا اور اگر وہ نکال دیا گیا تو اس کے بچے کھلے آسمان تلے حالات کا جبر کیسے سہیں گے ؟ میرے والد نہایت جری انسان تھے، مسجد کمیٹی کے صدر سے لے کر مدرسے کے مہتمم تک ہر ایک کو جوتے کی نوک پر رکھتے تھے لیکن اس کے باوجود 1984ء کا وہ سال بھلائے نہیں بھولتا جب ہم مسجد کے اس مکان میں کسی پناہ گزین جیسی زندگی گزار رہے تھے۔ میرے والد کی آنکھوں میں اندیشے اور والدہ کے چہرے پر سناٹے براجماں تھے اور ہم بچوں نے مسکرانا چھوڑ دیا تھا۔

"تو میں اس لئے مدرسے میں پڑھ رہا ہوں کہ اپنے والد کے بعد اس ذلت کا بار اٹھا سکوں ؟ کیا کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے ؟"

یہ وہ دوسوالات تھے جو پندرہ برس کی عمر میں درجہ ثالثہ کے طالب علم کی حیثیت سے میرے ہوش اڑا گئے تھے۔ دوسرا آپشن تدریس تھا لیکن وہ پارٹ ٹائم جاب تو ہو سکتی تھی مگر متبادل نہیں کیونکہ اس کے پیکج میں مکان شامل نہیں تھا اور تنخواہ بھی ایسی شرمناک کہ اتنی قریبی چوک کا بھکاری ایک دن میں پا لیتا ہو۔ جب یہ بات طے ہوگئی کہ کوئی متبادل موجود نہیں تو اگلا سوال یہ تھا کہ ایسا کیوں ہے ؟ اس کا سبب کیا ہے ؟ ہر درسی کتاب کے آغاز پر مصنف کے حالات ضرور پڑھائے جاتے تھے۔ پچھلے تین سال سے جو ڈیڑھ درجن کتب پڑھ رکھی تھیں ان میں سے کسی ایک کا مصنف بھی پیشہ ور امام مسجد نہ تھا بلکہ تاریخ کا انکشاف یہ تھا کہ امامت کا پیشہ بننا ماضی قریب کا سانحہ تھا اور جب سے یہ ہوا علم اور اہل علم کی عزت خاک میں مل کر رہ گئی۔ اب سیدھا سا سوال تھا کہ پھر اس سے قبل علماء کا ذریعہ معاش کیا تھا ؟ وہ کماتے کیسے تھے اور گھر کیسے چلاتے تھے ؟ تاریخ بتا رہی تھی کہ علماء انہی پیشوں سے وابستہ تھے جن سے عوام و خواص وابستہ تھے۔ پیشے کے لحاظ سے عوام اور علماء کی کوئی تفریق نہ تھی۔ ایک ہی بازار میں سب کی دکانیں یا چھوٹی چھوٹی صنعتیں ہوتیں۔ ماضی کے بڑے بڑے ائمہ مجتہدین اور نامور علماء دین کے پیشے اور بزنس اٹھا کر دیکھ لیجئے آپ صدموں کے سمندر میں ڈوبتے چلے جائینگے اور سمجھ آتا چلا جائے گا کہ وہ اس قدر عزت دار کیوں تھے کہ صدیوں بعد بھی نام احترام سے لیا جاتا ہے اور ہم اتنے تہی دامن کیوں کہ لمحہ موجود میں ہی ذلت سہہ رہے ہیں ؟ انہوں نے غلہ، برتن، فرنیچر، کپڑا، مویشیوں اور ان کی پیداوار کو ذریعہ معاش بنایا تھا جبکہ دین کا فہم اور علم کی نعمت وہ پانی کی طرح مفت بانٹتے تھے اور ہم نے اللہ کے دین اور اس کے علم کو ہی ذریعہ معاش بنا لیا۔ اناللہ و انا الیہ راجعون۔

اب ایک ہی سوال رہ گیا تھا کہ ہم نے اجتماعی طور پر دین کو پیشہ کیوں بنا لیا، کوئی تو اس کی وجہ رہی ہوگی ؟ جواب سامنے کھڑا تھا کہ انگریزی استعمار کے دور میں دوہرا نظامِ تعلیم رائج ہوا۔ نیا نظام تعلیم انگریزی زبان اور انگریزی ثقافت پر مشتمل تھا۔ یہ نظام ایک نئی اور دلچسپ چیز تھی عوام نے فوری قبول کرلی اور ہم اسے ناجائز ! ناجائز ! کہتے چلے گئے نتیجہ یہ ہوا کہ پچاس سال بعد بازار اور اس کے قاعدے اس نئی تعلیم پر مبنی تھے اور یہ تعلیم ہمارے پاس تھی نہیں لھذا ہم بازار سے آؤٹ ہوگئے۔ بازار سے تو ہم آؤٹ ہوگئے لیکن وسائل رزق کی ضرورت برقرار تھی۔ ان حالات میں ہمارے پاس بیچ کھانے کے لئے دو ہی چیزیں تھیں ایک خدا کا دین اور دوسرا اس کا علم سو ہم نے اسی کو ذریعہ معاش بنا لیا، اگر ہم چاہتے تو اپنے درس نظامی میں فوری طور پر رد وبدل کر کے اسے نئے تقاضوں کے مطابق ڈھال سکتے تھے جس سے یہ صورتحال پیش نہ آتی لیکن افسوس ہم نے ایسا نہ کیا۔

صاحبو ! کیسے بتاؤں کہ کس قیامت کے تھے آگہی کے یہ لمحے۔ طبیعت میں آوارگی تو پہلے سے موجود تھی۔ اس صدمے کے نتیجے میں درس نظامی سے دل اچاٹ ہوگیا مگر دبنگ قسم کے والد کے ہوتے اسے چھوڑنا بھی ممکن نہ تھا چنانچہ درس نظامی خانہ پری کی حد تک پڑھتا بھی رہا لیکن درحقیقت اس کی آڑ میں فل ٹائم آوارگی ہونے لگی اور ساتھ ہی ساتھ غیرنصابی مطالعہ جاری رہا۔ میں جس ماحول میں کھڑا تھا وہاں اپنے خیالات کا اظہار آ بیل مجھے مار والی بات تھی۔ دورہ حدیث کرتے ہی حضرت لدھیانوی شہید کے ہاں نوکری شروع کردی۔ یہیں کافی عرصے بعد "غبار خاطر" ایک بار پھر نظر آئی جو لڑکپن میں ثقیل زبان کے سبب چوم کر چھوڑ دی تھی۔ غبارِ خاطر پڑھنی شروع کی تو یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ میری فکر میں یہ اسی طرح کا انقلاب لے کر آئی جیسے پچھلی قوموں کے لوگوں کے لئے آسمانی صحیفے لایا کرتے تھے۔ جب مولانا آزاد کو روایتی مولویت کی اینٹ سے اینٹ بجاتے دیکھا تو میری کیفیت اس مظلوم کی سی تھی جو عرصے سے غنڈوں میں گھرا ہو اور اچانک ایک ہیرو نمودار ہو کر انہیں پیٹنا شروع کردے۔ میں اس زمانے میں پنجابی فلمیں بہت زیادہ دیکھا کرتا تھا۔ مولانا آزاد میرے مولاجٹ بن گئے جو علمی نوری نتھوں کا اپنے قلم کے گنڈاسے بھرکس نکال رہے تھے۔ جبکہ میری آوارگی اور باغیانہ سوچ کو جو منظم فکری سرمایہ میسر آیا اس کی الگ بے پناہ اہمیت تھی۔ اس کتاب نے مجھے آگاہ کیا کہ حقیقی مولویت کیا ہوتی ہے۔

میں حلفیہ کہہ سکتا ہوں کہ اگر غبارِ خاطر نہ ہوتی تو آج میں مولویوں کا سب سے بدترین دشمن ہوتا۔ اس کتاب نے میری سوچ کو یہ رخ دیا کہ اس زمانے کا مولوی وہ مظلوم ہے جو اپنے اکابر کی عاقبت نااندیشی کی بھینٹ چڑھ گیا ہے۔ اسے پڑھایا ہی وہ نصاب گیا ہے جو اسے فقط ایک امام مسجد بنا سکتا ہے۔ اس غریب کے پاس کسی اور چیز کو اپنا ذریعہ معاش بنا کر علم کی خیرات مفت بانٹنے کا آپشن ہی نہیں۔ اور اکابر کی تعریفوں کے مصنوعی پل باندھ کر اسے اتنا اندھا کردیا گیا ہے کہ اسے نظر ہی نہیں آ رہا کہ اس کے ساتھ واردات کیا ہوگئی ہے۔ ایسے شخص سے دشمنی نہیں صرف ہمدردی کی جانی چاہئے جبکہ دشمنی اس سسٹم سے ہونی چاہئے جو اس اندوہناک سانحے کا ذمہ دار ہے۔ امت مسلمہ ہر شعبہ حیات میں زوال کا شکار ہے اور اس زوال میں علمائے دین اور علم دین کا زوال یہ ہے کہ یہ جنس بازار بن چکے۔ چنانچہ میں پچھلے بیس سال اس سسٹم کو ہی اپنے قلم سے نشانہ بنا رہا ہوں۔ جب میں ایسا کرتا ہوں تو کچھ پیادے اس کے دفاع کے لئے کھڑے ہوجاتے ہیں اور ان کا پہلا الزام یہ ہوتا ہے کہ میں علماء کا دشمن ہوں۔ اگر میں علماء کا دشمن ہوتا تو اپنے بڑے بیٹے کو عالم دین بناتا ؟ میں نے اسے عالم دین بھی بنایا اور اس کے فورا بعد اسے گرافک ڈیزائننگ کا کورس کرا کر یہی فن اس کا ذریعہ معاش بنا ڈالا ہے۔ اسے صاف بتادیا ہے کہ میرے جیتے جی تم اللہ کے دین کو ذریعہ معاش نہیں بنا سکتے۔ ہاں ! بغیر کسی معاوضے کے کسی مسجد میں اللہ کی رضاء کی خاطر نمازیں پڑھانا، جمعے کا خطبہ دینا، قرآنِ مجید یا حدیث کا درس دینا اختیار کرسکو تو اپنے باپ کی حیثیت سے میرا سر فخر سے بلند ہی دیکھو گے۔ اور جب تم ایسا کروگے تو کوئی کھانستا ہوا بوڑھا تمہاری تذلیل کی جرات نہیں کر سکے گا کیونکہ تمہارا رزق اس کے دیئے ہوئے چند ٹکوں سے وابستہ نہیں ہوگا۔ جھگڑا مولویت سے نہیں سسٹم سے ہے۔ اس سسٹم اور اس کے محافظوں کو بخشنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ میرے لئے مقصد حیات کا درجہ رکھتا ہے۔ اس ضمن میں مولانا آزاد میرے امام ہیں جبکہ غبار خاطر میرے لئے "کتابِ مقدس" درجہ رکھتی ہے۔ ایسا نہیں کہ میری فکر کا ہر حاصل اس کتاب سے ہے۔ اس میں بے شمار دیگر کتب کا بھی حصہ ہے لیکن یہ کتاب آغاز ثابت ہوئی تھی۔ اس نے میرے منتشر خیالات کا منظم کیا تھا اور مجھے گمراہی کے عین آغاز پر اپنے صفحات کی آغوش میں سنبھال لیا تھا۔ سوشل میڈیا میں پڑنے والی گالیاں اس فرسودہ سسٹم کے قلعے سے بلند ہوتا وہ شور و غوغا ہے جو میرے درست نشانے کی دلیل ہے۔ یہ گالیاں مجھے روکتی نہیں بلکہ مزید پرجوش کرتی ہیں۔ اور جب میں دیکھتا ہوں کہ اب نوجوان علماء یونیورسٹیوں میں جا کر جدید علوم حاصل کرکے دوسرے ذریعہ معاش اختیار کرنے لگے ہیں تو میری مسرت کی انتہاء نہیں ہوتی۔ الحمدللہ ثم الحمدللہ

ایک بڑی سطح کی تبدیلی کو رونما ہونے اور نتائج دینے کے لئے پندرہ سے تیس سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔ اگر علماء آج اللہ کے دین کی تجارت بند کردیں تو تیس سال بعد ان کا وہ وقار بحال ہوچکا ہوگا جو تاریخ کی کتب میں صرف متقدمین کے پاس ہی نظر آتا ہے۔ اس غلط فہمی سے نکل آیئے کہ 12 سو افراد کا آپ کے پیچھے نماز پڑھنا آپ کی عزت کی دلیل ہے۔ وہ آپ کی عزت کی وجہ سے آپ کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے بلکہ اس لئے پڑھتے ہیں کہ ان میں سے کسی کو نماز پڑھانی نہیں آتی۔ انکی نظر میں اپنی عزت کا اندازہ اپنی نام نہاد تنخواہوں سے لگایئے جو ایک چوکیدار اور ڈرائیور کی تنخواہ کے برابر ہوتی ہے ! ! !

Wednesday, April 27, 2016

زراعت اور اسلام

زراعت اور اسلام
قرآن مجید نے انسان کی جو ذمہ داریاں بتائی ہیںوہ تین طرح کی ہیں: ایک وہ جس کا تعلق انسان اور پوری کائنات سے ہے، دوسری وہ جس کا تعلق انسان اور اس روئے زمین سے ہے جہاں وہ آباد ہے، تیسری وہ جس کا تعلق انسان اور صرف خالقِ کائنات سے ہے۔ 
یوں تو ساری ذمہ داریوں کا تعلق خالق کائنات سے ہے؛ لیکن ایک خاص پہلو سے دیکھا جائے تو یہ تین ذمہ داریاں سامنے آتی ہیں ۔ جب اللہ تعالی نے فرشتوں کے سامنے تخلیق ِآدم کا ارادہ ظاہر کیا تواس موقع پر ارشاد فرمایا کہ وہ ایک جانشین پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ اللہ کا جانشین یقینا تمام مخلوقات سے افضل ہونا چاہیے۔،اسی لحاظ سے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا۔گویا خلافت وہ ذمہ داری ہے جس کا تعلق پوری کائنات سے ہے جس کااثر پوری کائنات پر پڑتا ہے۔ 
دوسری ذمہ داری وہ ہے جس کا تعلق صرف ذاتِ الٰہی سے ہے ’وماخلقتُ الجنَّ والانسَ اِلّالِیَعبدون‘ یعنی اللہ کی عبادت ۔یہ ذمہ داری صرف اللہ کی ذات سے تعلق رکھتی ہے۔ انسان اور اللہ کے در میان براہِ راست ربط اسی سے قائم ہوتا ہے۔
تیسری ذمہ داری وہ ہے جس کا تعلق اس روئے زمین سے ہے، اس ذمہ داری کا تذکرہ مختلف آیات میں مختلف انداز سے آیا ہے، ایک جگہ پر ہے کہ واستعمرکم فیھا اللہ تعالیٰ نے تم سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ تم اس روئے زمین کو آباد کرو، تعمیرارض اس آیت میں انسان کی ذمہ داری بتائی گئی ہے، اسی لیے زمین کو انسانوں کے لیے متاع کہا گیا یعنی زمین میں تمہارے لیے ایک ایسا وقفہ ہے جس میں تم اس کی نعمتوں سے متمتع ہوسکتے ہو اور زمین سے متمتع ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اسے آباد کیا جائے۔
زمین کی آبادکاری کے بارے میں قرآن کریم نے اور احادیث میں رسول اللہ  ﷺ نے متعدد ہدایات دی ہیں۔ واستعمرکم فیھاکی تفسیر میں علا مہ ابن کثیر ؒ نے لکھا ہے کہ ’اس کے معنی یہ ہے کہ اللہ تعالی نے تم کو اس زمین کا آبادکار بنایا ہے، اس سے رزق حاصل کروگے، اس میں کاشت کروگے اور اس سے وہ تمام فائدے حاصل کروگے جو تمہیں اس سے اٹھانے چاہیے‘(محاضرات معیشت : ۲۲)
علامہ قرطبیؒ نے لکھا ہے کہ اس آیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ زمین کی آبادکاری انسان کے ذمہ فریضہ ہے، یہ کام دینی طور پر فرض اور واجب ہے، اس لیے کہ جب اللہ تعالی کسی کام کاحکم دیتا ہے یا انسان سے مطالبہ کرتاہے تو وہ مطالبہ یا حکم فرضیت یا وجوب ظاہر کرتاہے۔ ‘(محاضرات معیشت : ۲۲)
علامہ ابوبکر جصاص رازیؒ مزید وضاحت کے ساتھ تحریر فرماتے ہیں کہ واستعمرکم فیھا کے الفاظ سے اندازہ ہوتاہے کہ تعمیر ِارض کا کام واجب ہے، تعمیر ِارض زراعت کے ذریعہ ہو ، شجرکاری اور باغبانی کے ذریعہ ہو یا عمارتیں بناکر ہو جس انداز سے بھی زمین کی آبادکاری ہو وہ قرآن کے اس حکم کی تعمیل ہوگی جس میں انسانوں کو اس زمین کے آباد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔‘(محاضرات معیشت : ۲۲)
تعمیر ِارض اور کاشتکاری ایسا فرض کفایہ ہے جوتمام مسلمانوں پر مجموعی حیثیت سے واجب ہے، اگر کچھ لوگ اس فرض کو بجا لائیںگے تو بقیہ مسلمانوں کے لیے یہ عمل مندوب و مباح ہوجائے گا۔
علامہ قرطبی ؒسورہ بقرہ ، آیت ۲۶۱، مثل الذین ینفقون أموالہم فی سبیل اللہ الآیۃ کی تفسیر میں رقم طراز ہے کہ’ زراعت فرض کفایہ ہے، اس لیے امیرالمؤمنین پر لازم ہے کہ لوگوں کو کھیتی باڑی، باغبانی اور شجرکاری جیسے کاموں پر مجبور کریں۔‘(تفسیر قرطبی : ۴-۳۲۲)
گویایہ فریضہ امت ِمسلمہ پر اس وقت تک باقی رہے گاجب تک اس کی پیداوار مسلمانوں کے لیے کافی نہ ہوجائے اورغیروں سے اس بابت استغناء حاصل نہ ہو جائے، جب کہ یہ اپنی وسعت و قدرت میں بھی ہو۔
چنانچہ امّتِ مسلمہ میں سے کوئی بھی کاشتکاری وغیرہ نہ کرے اوراس سلسلے میں غیروں پر اعتماد کیا جاتا رہے توپوری امّت مسلمہ اس فریضہ میں کوتاہی کرنے والی اوراس کی تارک شمار ہوگی۔
ایسی حالت میںامام المسلمین کوچاہیے کہ وہ لوگوں کو اس کام پر مجبور کریں تاکہ ان شعبوںمیں کفایت حاصل ہو۔ اگر یہ کام کفایت کے طور پر کوئی نہ کرے تو پھرہرشخص پر مستقلاً فرضِ عین ہوجائے گا ۔ خاص طورپرایسے وقت میں جب کہ انسان غذا سے عاجزہوجائے،اور لوگوں کا محتاج ہوجائے۔
 (ابن الحاج،المدخل:۴؍۴، بحوالہ :فضل الزراعۃ والعمل فی الأرض:۲۸) 


Sunday, April 24, 2016

حضرت عمرپرلائبریری جلانے کے اعتراض کا جواب

سکندر اعظم کے بعد بطلیموس ثانی (Ptolemy II) مصر کے علاقہ کا حکمراں بنا،اس کا زمانہ تیسری صدی ق م ہے۔ وہ ذاتی طور پر علم کا قدر داں تھا۔ اس نے اسکندریہ میں ایک کتب خانہ بنایا جس میں مختلف علوم کی تقریباً 5 لاکھ (500،000) کتابیں تھیں۔ یہی وہ کتب خانہ ہے جو تاریخ میں کتب خانہ اسکندریہ ( Library of Alexanderia ) کے نام سے مشہور تھا۔ یہ کتب خانہ بعد میں ( اسلامی دور سے پہلے) تباہ کردیا گیا۔ اس کتب خانہ کے بارے میں غلط طور پر یہ الزام لگایا جاتا ہےکہ حضرت عمر فاروق ؓ کے حکم سے اس کو جلایا گیا ۔ حالانکہ ظہور ِ اِسلام سے بہت پہلے چوتھی صدی عیسوی میں اس کا وجود ختم ہو چکا تھا۔
انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (1984) نے لکھا ہے کہ وہ رومی حکومت کے تحت تیسری صدی عیسوی تک موجود تھا (I/227) اس کے بعد وہ باقی نہ رہا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کتب خانہ کا نصف حصہ جولیس سیزر ( Julius Ceaser ) نے 47 ق م میں جلایا ۔ تیسری صدی عیسوی میں مسیحیوں کو اس علاقہ میں غلبہ حاصل ہوا۔ اس دوران غالباً 391ء میں مسیحیوں نے اس کو جلاکر آخری طور پر اسے ختم کیا۔ اس بات کا اعتراف انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا نے ان الفاظ میں کیا ہے۔
: These institiutions survived until the main museum and library were destroyed during the civil war of the 3rd century AD ; a subsidiary library was burned by Christians in AD 391 (I/479).
دو جگہ اس واضح اعتراف کے باوجود اسی انسائیکلوپیڈیا میں تیسرے مقام پر غیر ضروری طور پر کتب کی بربادی کو مسلم عہد کے ساتھ جوڑ دیا گیاہے۔ “سنسرشپ ” کے مقالہ کے تحت درج ہے کہ اس بات کے مختلف ثبوت موجود ہیں کہ اسکندریہ کا کتب خانہ مختلف مرحلوں میں جلایا گیا۔ 47 ق م میں جولیس سیزر کے ذریعہ ، 391ء ، 42ھ میں مسلمانوں کے ذریعہ ۔ بعد کے دونوں موقع پر یہ کہا گیا کہ ان کتابوں سے مسیحیت یا قرآن کو خطرہ ہے:
There are many accounts of the burning, in several stages, of part or all of the library at Alexandria, frm the siege f Julius Caesar in 47 BC to its destruction by Christians in AD 391 and by Muslims in 642. In the latter two instances, it was alleged that pagan literature presented a danger to the old and new Testaments or the Quran (3/1084)
معلوم نہیں یہاں مقالہ نگار نے مسلمانوں کو اس واقعہ کا ذمہ دار کیوں ٹھہرادیا حالانکہ خود برٹانیکا کے مذکورہ بالا دو اقتباسات اسکی واضح تردید کررہے یں۔ اسلام اپنی فطرت کے اعتبار سے علم کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، اسی نے پہلی دفعہ تحقیق کی آزادی کا ماحول دیا، جسکی وجہ سے وہ سب کام جن پر سقراط ، ارشمیدس وغیرہ کو موت دی گئی مسلمانوں نے آزادی سے کیے اور ہر شعبے میں مسلمانوں نے سائنس کو ترقی دی ۔
ڈاکٹر فلپ ہٹی اپنی کتاب ہسٹری آف دی عربس میں لکھتے ہیں کہ یہ کہانی کہ کتب خانہ اسکندریہ خلیفہ عمر کے حکم سے برباد کیا گیا اور شہر کے لاتعداد حماموں کی بھٹیاں 6 ماہ تک کتب خانہ کی کتابوں کو جلا کرگرم کی جاتی رہیں ‘ ان فرضی قصوں میں سے ہے جو اچھی کہانی مگر بری تاریخ بناتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ بطلیموس کا عظیم کتب خانہ اسلام سے بہت پہلے 48 ق م میں جولیس سیزر کے ذریعے جلایا جاچکا تھا۔ ایک اور کتب خان جو مذکورہ کتب خانے کا ذیلی کتب خانہ تھا وہ تھیوڈوسیس (Theodosius) کے حکم سے 389 عیسوی میں جلادیا گیا۔ اس لئے عرب فتح کے وقت کوئی قابل ذکر کتب خانہ اسکندریہ میں موجود نہ تھا۔ عبداللطیف البغدادی جس کی وفات 1231 عیسوی میں ہوئی، بظاہر پہلا شخص ہے جس نے بعد کے زمانہ میں اس فرضی قصہ کو بیان کیا ہے ، اس نے کیوں ایسا کیا، اسکا ثبوت کیا تھا ، ہم نہیں جانتے۔ تاہم اسکا بیان بعد میں نقل کیا گیا اور بعد کے مصنفوں نے اسکو بڑھا چڑھا کے پھیلایا۔
( Philip k. Hitti, History of the Arabs, London, 1970, page 166)
بہت سے عیسائی مصنفین نے اس اک غیر مستند روایت کی بنیاد پر مسلمانوں پر علم دشمنی کا الزام لگایا ، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ کام وہی کتب خانوں کے ساتھ شروع سے کرتے آرہے ہیں، اس کتب خانے کے علاوہ بھی جب بھی انہیں اقتدار ملا انہوں نے مسلمانوں کے کئی عظیم کتب خانے جلائے ، تاریخ اسلام کے تلخ حقائق میں سے ایک دردناک حقیقت عیسائیوں کے ہاتھوں کتب خانوں کا نذر آتش ہونا بھی ہے جس کے باعث میراثِ اسلامی اور علوم شریعت کا کثیر حصہ دنیا سے مفقود ہو گیا ۔ 503ھ میں طرابلس (لیبیا)پر عیسائیوں نے قبضہ کیا تو وہاں کے کتب خانوں کو جلا دیا۔ صلیبی جنگوں کے دوران عیسائیوں نے مصر ،شام ،سپین اور دیگر اسلامی ممالک کے کتب خانوں کو بری طرح جلا کر تباہ وبرباد کر دیا ۔ان کتب کی تعداد تیس لاکھ سے زائد تھی۔۔ سپین میں عیسائی غلبے کے بعد وہاں کے کتب خانے جلا دیئے گئے ۔ قاضی ابن عمار نے طرابلس میں عالیشان کتب خانے کی تاسیس کی جس میں ایک لاکھ سے زائد کتابیں تھیں ۔یہ کتب خانہ صلیبی جنگوں کے دوران برباد کر دیا گیا ۔

Wednesday, April 20, 2016

اختلافات کو بڑا کرکے دکھانا بڑی غلطی ہے

اختلاف ہونا اچھی بات بھی ہوسکتی ہے، اور بری بات بھی ہوسکتی ہے، لیکن کسی اختلاف کے سامنے مکبر شیشہ Magnifying Glass رکھ کر اسے کئی گنا بڑا کرکے دکھانا یقینا بہت بری بات ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ امت کا زیادہ گمبھیر مسئلہ اختلافات نہیں ہیں، بلکہ ہر اختلاف کو بہت بڑا کرکے دیکھنا اور دکھانا ہے۔
جاحظ، اسلامی تاریخ کا ایک زبردست تذکرہ نگار ہے، اس نے خلیفہ مامون رشید کا ایک واقعہ ذکر کیا کہ خراسان کے ایک عیسائی پادری نے اسلام قبول کیا، اس کے کچھ عرصے بعد وہ مرتد ہوکر دوبارہ عیسائی ہوگیا۔
مامون رشید نے اسے اپنے دربار میں طلب کیا اور اس سے بڑے ہی نرم اور ہمدردانہ لہجے میں اسلام سے لوٹ جانے کا سبب دریافت کیا، اس نے کہا، آپ لوگوں کے درمیان اتنے زیادہ اختلافات دیکھ کر میں متنفر اور بیزار ہوگیا ہوں۔ (أوحشني كثرة ما رأيت من الاختلاف فيكم)
مامون رشید نے اسے بتایا کہ ہمارے یہاں دو طرح کے اختلافات ہیں، ایک تو اس طرح کا اختلاف ہے جیسے اذان اور جنازے کی تکبیروں میں، تشہد کے الفاظ میں، عیدین کی نمازوں اور ایام تشریق کی تکبیروں میں، اسی طرح قرأتوں وغیرہ میں، تو یہ دراصل اختلاف ہے ہی نہیں، بلکہ یہ تو اختیار وگنجائش اور سہولت وکشادگی کی بات ہے، کوئی اقامت میں الفاظ کو دو دو بار ادا کرتا ہے تو کوئی ایک ایک بار، اور اس میں کوئی کسی کو نہ تو غلط قرار دیتا ہے اور نہ اس پر نکتہ چینی کرتا ہے۔ دوسرا اختلاف اس طرح کا ہے جیسے قرآن پاک کی کسی آیت کی تفسیر میں یا نبی پاک کی کسی حدیث کی تشریح میں اختلاف ہوجائے، ہمارے یہاں یہ اختلاف ضرور ہے لیکن ساتھ ہی یہ حقیقت بھی ہے کہ کتاب وسنت کی حقانیت اور ان کی اساسی حیثیت پر ہم سب اتفاق رکھتے ہیں۔ اگر اس طرح کا اختلاف ہمارے دین سے تنفر کی وجہ بنا ہے، تو دنیا میں تو کوئی کتاب ایسی نہیں ہے خواہ وہ تورات ہوانجیل ہو یا کوئی اور کتاب ہو، جس کے الفاظ کی تفسیر اور مفہوم کی تعبیر میں اختلاف نہیں ہوتا ہو، بلکہ دنیا میں کوئی زبان ایسی نہیں ہے جس کے الفاظ کے معنی میں اختلاف کی گنجائش نہیں ہو، اگر اللہ چاہتا تو اپنی کتاب اور اپنے رسولوں کے کلام کو اس طرح بنادیتا کہ ہمیں تفسیر وتشریح کی محنت کے بغیر مطلوب رہنمائی مل جاتی لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ دین ودنیا کی کوئی چیز ہم کو اس طرح نہیں ملی ہے کہ ہمیں اس کے لئے کوئی محنت نہیں کرنا پڑے، اگر ایسا ہو تو امتحان اور مسابقت کا تصور ہی نہیں رہ جائے، اللہ تعالی نے اس طرح دنیا کی بنا رکھی ہی نہیں ہے۔
تذکرہ نگار کے مطابق اس وضاحت سے وہ شخص مطمئن ہوکر دوبارہ دائرہ اسلام میں داخل ہوگیا۔ (تفصیلات کے لئے ملاحظہ ہو، جاحظ کی کتاب البیان والتبیین)۔ 
واقعہ میں نصیحت کا پہلو یہ ہے کہ وہ شخص اسلام سے اس لئے متنفر ہوگیا تھا کیونکہ اس نے اختلافات کے بڑھے ہوئے حجم کو دیکھا تھا، جب اس کے سامنے اختلافات کا حقیقی حجم آیا تو اس کی وحشت دور ہوگئی۔