BEST RESULT

Custom Search

Thursday, June 9, 2016

15 ولی اللہی نکات

 ولی اللہی نکات

شاہ ولی اللہ کے افکار کے مطابق انسان اور انسانی معاشرے کے بارے میں یہ پندرہ نکات سامنے آتے ہیں:

 1(الف)   انسان میں ذاتی غرض کی بجائے مفادِ عامہ کو اپنانے کی خصوصیت موجود ہے۔
 (ب)    انسان ہر قسم کی پاکیزگی اور جمالیاتی حِس کا حامل ہے۔
  (ج)    وہ اپنے علم کو بڑھانے اور خود غرضی سے پاک مقاصد کو پورا کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔
اگر انسان یہ تینوں خصوصیات کھو بیٹھے تو وہ انسان کہلانے کا مستحق نہیں۔
 2۔ فرد اور معاشرہ دو الگ الگ چیزیں نہیں ہیں۔ ایک انسان کی تکلیف پوری انسانیت کی تکلیف ہے۔
3۔معاشرے کی ترقی کے لئے تمام انسانوں کو معاشی طور پر خوشحال ہونا ضروری ہے۔
4۔اگر وہ خوشحال نہیں ہوں گے تو وہ مذہب اور اخلاقی ضابطوں کی پابندی نہیں کر سکیں گے اور معاشرہ تباہ ہو جائے گا۔ اس لئے لوگوں کی خوشحالی کا مطلب ہے ایک صالح اور نظریاتی معاشرے کا قیام۔
5۔اگر انسان کو صحیح ماحول اور مناسب تربیت میسر نہیں آئے تو وہ لالچی بن جاتا ہے۔ دوسروں کی محنت پر عیش کا خواہش مند ہو جاتا ہے۔ جب کوئی چیز ملتی ہے تو وہ اس میں اضافے کا خواہاں ہوتا ہے۔
6۔زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش سے ایک نظام پیدا ہو جاتا ہے۔ جس میں چالاک لوگوں کا ایک طبقہ تمام وسائلِ پیداوار کا مالک بن بیٹھتا ہے۔ اس نظام میں غریبوں اور مزدوروں کی کوئی عزت نہیں ہوتی۔ وہ دولت مند غاصبوں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ یہ نظام قیصر و کسریٰ کا نظام ہے۔
7۔اسلام قیصر و کسریٰ کے نظام کو توڑنے کے لئے آیا تھا۔
8۔ دولت کا حقیقی مالک خدا ہے۔ بنیادی طور پر کوئی چیز کسی کی ملکیت نہیں۔
9۔خدا کی ساری زمین ایک مسجد اور سرائے کی طرح ہے جو اس نے تمام مسافروں کے لئے وقف کر دی ہے۔ اس سے فائدہ اٹھانے میں سب انسان برابر کے شریک ہیں۔
10۔معدنیات کی کانیں (اور دیگر وسائلِ پیداوار) کسی ایک فرد کی ملکیت نہیں ہو سکتیں۔
11۔معاشرے میں امدادِ باہمی کے اصول کو اس طرح رائج کیا جائے کہ کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے لئے معاشی تنگی کا باعث نہ بننے پائے اور ہر شخص خوشحال زندگی بسر کر سکے۔
12۔ایسے معاشی ادارے جڑ سے ختم کئے جائیں جن کے ذریعے دولت چند ہاتھوں میں جانے کا موقع ہے۔
13۔معاشی استحکام اور غیر استحصالی نظام کے لئے ضروری ہے کہ ہر شخص کوئی نہ کوئی کام کرے اور اپنی روزی خود کمائے۔ دوسرے کی محنت سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔
14۔ایسے پیشے جو نہ تو براہ راست ملکی پیداوار میں مدد دےتے ہیں اور نہ پیداواری اداروں کی فہرست میں آتے ہیں یا جو پیشے صرف دولت مندوں کی عیش و عشرت میں مددگار کا کام دےتے ہیں ختم ہو جانے چاہئیں۔ ان پیشوں سے معاشرہ اخلاقی اور معاشی دونوں طرح زوال پذیر ہو جاتا ہے۔
15۔صرف دَس بیس درہم، گھر کی ضرورت کا سامان، استعمال کی چیزیں اور دن رات کے کاروبار میں استعمال ہونے والی رقم اکتناز نہیں۔ اس سے زیادہ دولت کا ذخیرہ اکتناز ہے جو اسلام میں حرام ہے۔

Tuesday, June 7, 2016

اپنا مزاج بدلنا مشکل ہے۔۔۔۔۔ ناممکن نہیں!!!

اپنا مزاج بدلنا مشکل ہے۔۔۔۔۔ ناممکن نہیں!!!
بعض افراد اپنے خاص مزاج کو جس پر وہ پروان ثرھتے ہیں، جس کے حوالے سے لوگ انھیں پہچانتے ہیں اور جس کی بنیاد پر لوگوں کے ذہنوں میں ان کا تصور ابھرتا ہے، اپنی ذات کا ایسا لازمہ سمجھتے ہیں جسے علیحدہ یا تبدیل کرنا ممکن نہیں۔ اس نوع کے افراد اپنی فطرت کے آگے جُھک جاتے اور اس پر اکتفا کر لیتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے وہ اپنی جسمانی ساضت اور اپنے پیدائشی رنگ کو جنھیں تبدیل کرنا ان کے بس میں نہیں ہوتا، تسلیم کر لیتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ آدمی جو اپنے آپ کو حالات کے سانچے میں ڈھالنے پر قادر ہے، سمجھتا ہے کہ انسان کے لیے طبائع کو بدلنا اتنا ہی آسان ہے جتنا لباس کو تبدیل کرنا!
ہمارے مزاج بہے پڑے دودھ کی مانند نہیں کہ اسے اکٹھا کر لانا محال ہو۔ طبع کی زمام ہمارے ہاتھ میں‌ہوتی ہے اور ہم چند مخصوص طریقے استعمال کر کے نہ صرف لوگوں کی عادتیں‌بلکہ اُن کے دماغ تک دوسرے رُخ پر ڈال سکتے ہیں۔
ابن حزم نے اپنی کتاب طوق الحمامہ میں اندلس کے ایک مشہور تاجر کا واقعہ نقل کیا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں:
“اندلس میں ایک تاجر اپنی کاروبارہ لیاقت اور ہوشیاری کی وجہ سے مشہور تھا۔ ایک بار اس میں“‌اور دیگر چار تاجروں میں مقابلہ ٹھن گیا۔ انہوں نے مارے حسد کے گتھ جوڑ کرلیا کہ اُسے زِچ کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھارکھیں گے۔
ایک صبھ وہ تاجر سفید براق لباس پہنے اور سفید عمامہ باندھے گھر سے دکان کی طرف روانہ ہوا۔ اُن چار تاجروں میں سے ایک تاجر اُسے راستے میں ملا۔ اس نے پہلے تو بڑی گرم جوشی سے اسے سلام کیا، پھر عمامے کی طرف دیکھ کر کہنے لگا:“کیسا خوش نما ہے یہ پیلا عمامہ!!“
وہ بولا:“تمھیں نظر نہیں آتا؟ یہ سفید عمامہ ہے۔“
اس نے جواب دیا :“ہے تو پیلا ہی، پر ہے خوبصورت۔“
تاجر نے پروانہ کی،اسے چھوڑ کر اور آگے چل دیا۔ ابھی چند قدم ہی چلا ہو گا کہ دوسرا تاجر ملا۔ اس نے بھی سلام کیای اور عمامے کی نظر اٹھا کر کہا:
“آج آپ بڑے خوب صورت نظر آرہے ہیں، لباس بھی اعلی ہے اور یہ سبز عمامہ تو بڑا ہی پیار الگ رہا ہے۔“
تاجر بوالا :“بھائی ! یہ سفید عمامہ ہے۔“
اس نے کہا:“نہیں جناب ، سبز ہے۔“
“سفید ہے یار۔ اب میری جان چھوڑ دو اور مجھے جانے دو۔“اس نے تنگ آکر کہا۔ وہ بے چارہ اپنے آپ سے باتیں کرتا چلتا رہا۔ بار بار یہ اطمینان کرنے کے لیے کہ عماممہ سفید ہے۔شِملے کی طرف دیکھتا جو کندھے پہ لٹک رہا تھا۔اسی شش وپنج میں وہ اپنی دکان پر پہنچا اور تالا کھولنے لگا تو تیسرا تار آگے بڑھا اور بولا:
“بھئی واہ! آج کی صبح تو بہت خوب صورت ہے۔ اس پر طرہ یہ تمھارا دلکش لباس، ماشاءاللہ! اور یہ تمھارا نیلا عمامہ تو سونے پر سہاگے کا کام کر رہا ہے۔“
تاجر نے پہلے تو اپنے عمامے کو بغور دیکھا پھر آنکھیں ملیں، پھر دیکھا اور بڑی لجاحت سے کہا:
“بھائی میرے! میرا عمامہ سفید ہے، سفید ہے۔“
وہ بولا:“اور نہی!نیلا ہے۔ مگر فکر کی کوئی بات نہیں، اچھالگ رہا ہے۔“
یہ کہہ کر اس نے سلام کیا اور چل دیا۔ تاجر چیختا رہا:
“عمامہ سفید ہے، سفید ہے، سفید ہے۔“
پھر اس نے عمامہ اتارا اور الٹ پلٹ کر اچھی طرح‌دیکھا۔ جب اطمینان ہو گیا کہ عمامہ سفید ہی ہے تو دوبارہ پہن لیا۔
وہ دکان مین بیٹھا اور اس دوران برابر عمامے کے سملے کو دیکھتا رہا۔ تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ چوتھا تاجر آخری پتا پھینکنے دکان میں داخل ہوا اور بولا:
“بھائی جان! مرحبا ، ماشاءاللہ یہ سرخ عمامہ آپ نے کہاں سے خریدا ہے؟“
تاجر پوری قوت سے چلایا:“میرا عمامہ نیلا ہے۔“
اس نے کہا:“ارے نہیں بھائی جان! یہ تو سرخ ہے۔“
تاجر بدحواس ہو گیا، کہنے لگا:“نہیں، سبز ہے، نہیں، نہیں، سفید ہے۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔۔۔ نیلا۔۔۔۔۔۔ سیاہ۔“
پھر ہنسا، پھر چیخا ، پھر رو دیا اور کھڑا ہو کر اُچھلا ، اس کے بعد باہر کی طرف دوڑ لگا دی۔“
ابن حزم کا کہنا ہے:
“اس کے بعد وہ تاجر پاگل ہو گیا۔ میں نے اسے کئی بار دیکھا۔ وہ اندلس کی سڑکوں پر مارا مارا پھرتا اور بچے اسے کنکر مارا کرتے تھے۔“
ملاحظہ کیجیے کہ کیسے ان لوگوں نے عام حیلوں‌اور مہارتوں کو استعمال کرتے ہوئے ایک آدمی کو نہ صرف اس کے معمول کے کاموں کی انجام دہی سے روک دیا بلکہ اس کا دماغ اُلٹا کر کے پاگل بنا دیا۔ پھر ہمارے لیے کیا مشکل ہے کہ ہم پڑھی لکھی اور قرآن و حدیث کے نور سے روشن مہارتوں کو عمل میں‌لاکر کامیاب زندگی گزارنے کی سعی نہ کریں۔
میرا آپ کو مشورہ ہے کہ آپ اچھے ہنر اور مفید مہارتوں سے سے واقفیت بہم پہنچائیں اور پھر انھیں اپنا کر سعادت مندی سے بہرہور ہوں۔ اور آگر آپ مجھ سے یہ کہیں گے کہ میں اپنی زندگی کونہیں‌بدل سکتا تو میں جوابا کہوں کہ کوشش کرکے تو دیکھیں، آپ بدل سکتے ہیں۔
اگر آپ کہیں گے کہ میں وہ طریقے نہیں جانتا تو میں کہوں گا کہ وہ طریقے سیکھ لیں۔ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث نہیں‌سنی:

انما العلم بالتعلم، وانما الحلم بالتحلم

“علم سیکھنے ہی سے آتا ہے اور تحمل اپنانے سے حاص ہوتا ہے۔“

نقطہ نظر

“بہادر وہ ہے جو نہ صرف اپنی مہارتیں‌بہتر بنائے اور اُنھیں ترقی دے بلکہ لوگوں کی مہارتوں کی مرحلہ وار بہتر بنانے اور بعض اوقات اُنھیں بدل ڈالنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہوں۔“

زندگی سے لطف اٹھائیے ۔ محمد العریفی ۔

Friday, June 3, 2016

حکمرانوں کی اقتدار کی ہوس

اقتدار کی ہوس شہزادوں اور بادشاہوں کو اندھا کردیتی ہے،دیوانہ اور سنگدل بھی، لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ اس ہوس کا انجام براہے۔

اقتدار کی ہوس کے باعث جو شام اور مصر کو جلارہے ہیں ، تاریخ سے سبق سیکھیں ،اس ہوس کا انجام برا ہے ۔

مشہور ہے:” اہل یونان نے ایک دیوی بنائی، بہت ہی عمدہ و خوبصورت۔ سفید مرمریں بدن پر تیکھے نقوش کھودے گئے۔ قامت میں نخرا اور کاٹھ میں ایک غرور بھرا۔ دیوی کو اٹھا کر” ایتھنز“ کے مرکزی چوک میں رکھ دیا گیا۔ لوگ جمع ہوئے، سراپا ناز کے حسن اور اعضاءکے توازن پر بے شمار داد دی گئی۔ تحسین کا یہ سلسلہ جاری تھا کہ کسی نے آواز لگائی۔ ”لوگو! دیکھو دیوی کی تو آنکھیں ہی نہیں۔“لوگوں نے چونک کر دیکھا، واقعی آنکھوں کی جگہ ہموار تھی۔ لوگ اعضاءکے توازن اور نقوش کی جادوگری میں اتنے کھو گئے تھے کہ انہیں آنکھوں کی کمی کا احساس ہی نہیں ہوا۔”ارے ارے اس کے تو پاؤں بھی غیر انسانی ہیں۔“ کسی نے ہانک لگائی۔ لوگوں کی نظریں بے اختیار دیوی کے قدموں میں آپڑیں۔ دیوی کے پاؤں نہیں تھے۔ بت تراش نے پنڈلیوں کے فوراً بعد پنکھ تراش دیے تھے۔ چیل کے لمبے لمبے بدصورت پنکھ۔”اوئے اس کا دل....“ مجمعے میں سے آواز آئی۔ سب کی نظریں سینے پر جا الجھیں۔ وہاں عین دل کے مقام پر ایک سوراخ تھا اور اس سوراخ میں لوہے کا ایک بدصورت ٹکڑا۔ لوگ سنگ تراش کو ڈھونڈنے لگے۔ بت ساز حاضر ہو گیا۔ لوگوں نے مذمت شروع کر دی۔ جب لوگ چیخ چیخ کر تھک گئے تو بت تراش نے اداس لہجے میں کہا۔”حضرات! یہ اقتدار کی دیوی ہے۔ اقتدار کی آنکھیں نہیں ہوتی ہیں۔ لہٰذا اقتدار کا پجاری اندھا ہوتا ہے۔ اقتدار کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ لہٰذا ہر وہ شخص جس میں رحم ہو، وہ بھی اقتدار تک نہیں پہنچ سکتا اور حضرات! اقتدار کے پاؤں بھی نہیں ہوتے، یہ اڑتا ہوا آتا ہے اور اڑتا ہوا واپس چلا جاتا ہے۔“





حقیقت یہی ہے کہ اقتدار کی ہوس ہر دور میں انسانوں کو اندھا، سنگدل اور دیوانہ بناتی آئی ہے۔ جس پر اقتدار کا بھوت سوار ہوجائے تو پھراقتدار کو حاصل کرنا اور اسے قائم رکھنا ہی اس کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد بن جاتاہے۔ بہت دفعہ ایسا بھی ہوا کہ اقتدار کے نشے نے بھائی کو بھائی کے سامنے لا کھڑا کیا اور ایک دوسرے کا خون بہانے سے بھی دریغ نہیں کیا گیا۔ مغلیہ دور حکومت میں اورنگزیب عالمگیر سب سے زیادہ پارسا باد شاہ گزرے ہیں، ان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ سلطنت ہند کی سیا ہ و سفید کے مالک ہو نے کے باوجود اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنے ہاتھ سے ٹوپیاں بنتے تھے اور قرآن مجید کی کتابت کر تے تھے۔ ایسے پارسا انسان اورنگزیب عالمگیر کی زندگی کا بھی ایک حصہ اقتدار کے حصول کے لیے اپنے والد شاہجہان اور اپنے بھائیوں مراد بخش ، شجاع اور دارا سے لڑتے گزرا۔


آج تک اقتدار نے کسی کے ساتھ وفا نہیں کی،اقتدار آتا بہت مشکل سے ہے، لیکن جاتے ہوئے پتا بھی نہیں چلتا۔

فرعون کو جب اس کے نجومیوں نے بتایا کہ ایک بچہ تمہارے اقتدار کے لیے خطرہ بنے گا تو فرعون پر یہ بہت شاق گزرا، اپنا اقتدار بچانے کی خاطر اس نے سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بے شمار نومولود بچوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا، لیکن اقتدار اس کا پھر بھی نہ بچ سکا اور فرعون دریا میں ڈوب کر عبرت ناک انجام سے دوچار ہوا۔
  • نمرود کو جب اپنا اقتدار ڈولتا ہوا نظر آیا تو وہ بھی اقتدار کی ہوس میں ایسا اندھا اور دیوانہ ہوا کہ مقرب پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈال دیا،لیکن اس کا اقتدار انتہائی ذلت و رسوائی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
  • فرانس کے بادشاہ لوئی شانزدہم بڑے ٹھاٹھ باٹھ اور شان و شوکت کے ساتھ ایک عرصہ اقتدار پر براجمان رہا،لیکن عوام نے شاہی محل پر حملہ کرکے بادشاہ اور ملکہ کو قید کیا، بعد ازاں دونوں کوموت کی سزادے دی گئی۔
  • عالم اسلام کے دو عظیم فاتح تیمور لنگ اور بایزید یلدرم جب تقریباً آدھی دنیا فتح کرچکے تو بلاشرکت غیرے پوری دنیا کے اقتدار کا مالک بننے کے لیے دونوں نے آپس میں لڑکر لاکھوں مسلمانوں کو خون میں نہلادیا، لیکن برا ہو اس اقتدار کا، یہ پھر بھی جاتا رہا۔
اگرماضی قریب میں جھانکیں تو تاریخ کی گواہی کھل کر سامنے آتی ہے۔
  • ایران کے رضا شاہ پہلوی نے بڑی عیاشی، دبدبے اور جبر کے ساتھ حکومت کی،لیکن اس کا کا انجام عبرت سے لبریز ہے۔
  • اقتدار کی محبت میں غرق حسنی مبارک نے طویل عرصہ تکبرونخوت کے ساتھ مصر پر راج کیا ، لیکن عوام کے ہاتھوں ذلت سے دوچار ہوا۔
  • کرنل معمر قذافی نے نصف صدی جابرانہ طریقے سے لیبیا کے اقتدار کے مزے لوٹے، وہ بھی عوام کے انتقام کا نشانہ بنا۔
  • صدام حسین نے بھی اقتدار کی ہوس میںعراق کو ہائی جیک کیے رکھا۔جب قدرت نے حساب برابر کیا تو صدام حسین کو پھانسی کے پھنداملا۔
  • پرویز مشرف نے زبردستی اقتدار چھینا،اقتدار کو طول دینے کےلئے ہر جائز و ناجائز طریقہ اختیار کیا، لیکن کل کا صدر آج عدالتوں کے چکر کاٹ رہا ہے۔


اقتدار کی ہوس کے باعث جو شام اور مصر کو جلارہے ہیں ، تاریخ سے سبق سیکھیں ،اس ہوس کا انجام برا ہے ۔

کیونکہ جب قدرت کی مار پڑتی ہے تو اقتدار، طاقت، عیش و طرب، حاکمیت اور فرعونیت کاسہ گدائی میں بدل جاتی ہے۔سچ ہے کہ اقتدار کی ہوس ہے ہی بری۔




Saturday, May 28, 2016

درہم، وزن، تاریخ اور فوائد

درہم خالص چاندی کا بنا ہوا سکّہ ہوتا ہے جسکا وزن 2.975 گرام ہوتا ہے۔ وزن کے اعتبار سے سات دینار کا وزن دس درہم کے برابر ہوتا ہے.

ترکی کی سلطنت عثمانیہ میں درہم 3.207 گرام کا تھا۔
1895 میں مصر میں درہم 3.088 گرام کا تھا.

تاریخ 

محمدصلی اللہ عليہ وسلّم کے دور میں چاندی کے ساسانیاور یونانی سکّے استعمال ہوا کرتے تھے، جس کا وزن 3 گرام سے لے کر 5۔3 گرام ہوا کرتا تھا۔ اہل عرب اس کاتبادلہ وزن کے حساب سے کیاکرتے تھے لیکن محمدصلی اللہ عليہ وسلّم نے ایک دینار کا وزن ایک مثقال قرار دیا، جو کہ 72 جو(barley) کے دانوں کے وزن کےبرابر ہوتاہے۔اور جدید معیار وزن کے مطابق اس کا وزن تقریبا 4.25 گرام ہوتاہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں ان سکّوں کو کاٹھا گیا اور اس کے وزن کوایک مثقال تک لایاگیا۔ اور آپ نے ایک معیار قائم کیا کہ سات دینار کا وزن دس دراہم کے برابر ہو۔ لہذا ایک درہم کا وزن تقریبا 2.975 گرام (تقریبا 3 گرام) ہوتاہے۔ حضرت عثمان کے دور میں اس پر بسم اللہ لکھا گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے پہلی مرتبہ اپنے سکّے جاری کئے۔ بعد میں عبدالملک بن مروان نے مسلمانوں میں باقائدہ طورسےاپنے سکّے ڈھالنے شروع کئے۔ جس کاوزن نہایت احتیاط کے ساتھ 2.975 گرام (تقریبا 3 گرام) رکھا گیا۔

معیارِ وزن

درہم کا وزن بھی ایک مثقال سے اخذ کیا گیا ہے۔ جس کا وزن 72 جو(barley) کے دانوں کے وزن کے برابر ہوتاہے، جوکہ 25۔4 گرام کے برابر ہوتاہے۔ حضرت عمر کے قائم کردہ معیارکے مطابق سات دینار کا وزن دس دراہم کے برابر ہو، تو ایک درہم کا وزن تقریبا 2.975 گرام (تقریبا 3 گرام) ہوتاہے۔ اور اس کی خالصیت کم ازکم 22 قیرات (یعنی 7۔91 فیصد) ہونی چاہئیے۔اس لئےجدید اسلامی درہم بنانے والی اکثرکمپنیاں مثلاً عالمی اسلامی ٹکسال، وکالہ انڈیوک نوسنتارہ، ضراب خانہ اسعار سنّت وغیرہ اسی معیار کو استعمال کرتی ہیں۔ 

استعمالترميم

درہم کے بہت سے استعمالات ہیں۔جن میں چند ایک مندرجھ ذیل ہیں۔

بطورِ زر(زر)
بطورِمعیار نصابِ زکوٰۃ
بطورِادائیگی زکوٰۃ
مہر کا نصابِ معیار
اسلامی قوانینِ سزاوجزا (حدود) میں اس کا استعمال

فوائد

چاندی کے درہم کےبہت سے فوائدہیں۔

چاندی کے درہم کے بہت سے فوائد ہیں۔ کیونکہ کرنسی کی قیمت اس کے اندر ہونی چاہیے۔ لہٰذا چاندی کے سکوّں کی اپنی ایک قدر و قیمت ہے جو پوری دنیا میں قابل قبول ہے کیونکہ یہ ایک حقیقی دولت ہے کوئی ردّی کاغذ نہیں۔جدید معاشی نظام سے پہلے جب لوگ آپس میں تجارت کرتے تھے تو وہ جفرافیائی حدود سے آزاد تھے۔ وہ دنیا میں جہاں بھی جاتےتھے سونے اور چاندی کے سکےّ وہاں وزن کے حساب سے قبول کیے جاتے تھے۔ لوگوں کو کوئی تکلیف نہیں ہوا کرتی تھیں۔ ایسا ممکن نہ تھا کہ امریکہمیں بیٹھا کوئی بینکر یا شخص ہندوستان کی پوری قوم کو غلام بناسکے۔ اور اسکے علاوہ یہ بھی ممکن نہ تھا کہافغانستان میں بیٹھا ہوا کوئی شخص اگر تجارت کرے تو یورپ میں بیٹھا ہوا کوئی بینکر اس میں سے اپنا حصّہ نکال لے۔یعنی تجارت حقیقی دولت میں ہوا کرتی تھیں اسی لیے انسان آزاد تھے۔اسکے ساتھ ساتھ لوگ حکومت کے دھوکوں سے بھی آزاد تھے۔ اگر کوئی حکومت یا بادشاہ منڈی میں دولت لانا چاہتا تھا تو اسے سونا یا چاندی کہیں سے ڈھونڈ کر لانا پڑتا تھا۔ ایسا نہ تھا کہ بے دریغ دولت(کاغذی کرنسی)کے روپ میں یکدم منڈی میں ڈال دی جاتی، روپے،ڈالر وغیرہ کی قیمت میں کمی ہوجاتی۔ جسکی سزا عام عوام کو بگتنی پڑتی۔

یعنی اس دور مین جب کوئی حکومت یا بادشاہ ملکی خزانہ لوٹ لیتے ہیں تو پھر انکے پاس سرکاری ملازمین وغیرہ کو تنخواہ دینے کے پیسے(کاغذی کرنسی)کم پڑجاتی ہے تو وہ زیادہ کاغذی کرنسی چھاپ دیتے ہیں تاکہ ملازمین کو تنخواہیں دی جاسکے تو کاغذی کرنسی کی قدر میں کمی ہوجاتی ہے، لہٰذا اگر کسی مزدور نے پچھلے دس سالوں میں ایک لاکھ روپے جمع کئے ہیں۔ تو حکومت کی کاغذی کرنسی کی زیادہ چھپوانی سے اب اسکے ایک لاکھ روپے کی قدر پچاس، ساٹھ ہزار روپے ہوگی۔لہٰذا اس مزدور کی آدھی دولت حکومت نے ہڑپ کرلی اور اس بیچارے کو پتہ ہی نہیں کہ اصل میں کیا ہوا اس کے ساتھ۔. لہٰذا کاغذی کرنسی کے زیادہ چھپوائی کے ذریعے دنیا کی ہر حکومت اپنی عوام کی دولت کو لوٹنے کیلئے استعمال کرتی ہیں۔ اسی لیے اگر کرنسی سونے کی ہو تو حکومت کے لئے ممکن نہیں کہ زیادہ کرنسی کو چھپوا سکےکیونکہ اب کرنسی کاغذ کی نہیں بلکہ سونے کی ہے۔ لہٰذا سونے اور چاندی سے بنے کرنسی سے عوام کی دولت، حکومت اور بین الاقوام ادارہ برائے زر(IMF)کے دھوکوں سے محفوظ رہتیں ہیں۔

اس کے علاوہ چاندی کے دراہم اپنی قیمت ہر دور میں برقرار رکھتی ہے۔ اگر آپ کے پاس سونے اور چاندی کے سکےّ ہو تو آپ خواہ کسی بھی ملک میں چلے جائے تو اس کی قیمت برقرار رہتی ہیں۔ چاہے وہ کوئی بھی دور ہو یا جیسے بھی حالات ہو، جنگ کا زمانہ ہو یا امن کا دور، ملک کی معاشی حالت خراب ہو یا اچھی ہو، ہر حالت میں سونااپنی قیمت کو برقرار رکھتی ہے۔ کیوں کہ سونے سے بنے کرنسی کی وجہ سے، کرنسی کی قیمت و قدر اس کے اندر ہوتی ہے جب کہ کاغذ سے بنی کرنسی کی قدر اس کے اندر نہیں ہوتی بلکہ وہ ایک کاغذ کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ اس لئے اگر ایک انسان سونے اور چاندی کے سکوّں کو زمین میں دبادے اور چھار، پانچ سو سال بعد کوئی شخص اس کو نکالے، تب بھی اس کی قیمت برقرار رہے گی، اور اس کے لئے یہ سکےّ ایک قیمتی خزانے کی شکل اختیار کریں گے۔ اس لئے اگر کسی کو آج سے چھار پانچ سو سال پہلے کے دور کے سکےّ مل جائے تو ہم کہتے ہے کہ اس کو خزانہ مل گیا ہے۔ یہ خزانہ دراصل اس دور کی کرنسی(روپیہ،پیسہ)ہی ہے، جو خزانے کی شکل اختیار کئے ہوئے ہے۔ اب آپ ذرا سوچئے کہ اگر اس دور میں بھی کرنسی کاغذ کی ہوتی تو پھر اس کی قدر ردّی کاغذ کے سوا کچھ بھی نا ہوتی۔ اس لئے اگر انسان سونا لیکر زمین میں دبا دے اور سو سال بعد اسکو نکالا جائے تو اسکی قیمت برقرار رہتی ہے۔ لہٰذا سونے چاندی کی وجہ سے وہ پرانا معاشی نظام پائیدار تھا۔اسکےعلاوہ سونے چاندی کے سکوّں کا یہ فائدہ بھی پہلے حکومتوں اور عوام کو ہوا کرتا تھا کہ اگر کوئی دشمن ملک آپکی کرنسی بنانا چاہتا تھا، تو اسے بھی سونے اور چاندی کے سکےّ ہی بنانے پڑتے تھے۔ اس کے لیے ممکن نہ تھا کہ وہ کوئی بھی ردّی کاغذ چھپوالیتا اور کرنسی کاپی کرلیتا۔

یعنی اس دور میں کرنسی کو دشمن ملک کی معیشت کو تباہ کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ دشمن ملک آپ کی کرنسی کو چھاپ کر آپ کے ملک کے منڈی میں لاتا ہے، تو آپ کے ملک میں کرنسی زیادہ ہوجاتی ہے، جس کی وجہ سے اس کی قدر میں کمی ہوجاتی ہے اور ملک کا پیسہ تباء ہوجاتا ہے، جسکی وجہ سے معیشت خراب ہوجاتی ہے۔ لیکن اس نظام میں یہ ممکن نہیں جہاں کرنسی سونے اور چاندی سے بنی ہو۔چنانچہ دنیا کا سب سے پائیدار معاشی نظام ایک ایسا نظام ہوسکتا ہے جس میں کرنسی کی قدر میں کمی نہ ہو، یعنی کرنسی کی اصل قدر اسکے اندر ہو۔

اس کے علاوہ اگر دشمن ملک آپ کی کرنسی چھاپ لے تو وہ صرف کاغذ کے چند نوٹوں کے بدلے آپ کے ملک کے مارکیٹ سے کوئی بھی چیز خرید سکتے ہیں۔ مثلاً وہ آپکے مارکیٹ سے سونا، چاندی،گندم، وغیرہ ، غرض ہر چیز خرید سکتے ہیں۔ لیکن سونے کی صورت میں یہ ممکن نہیں۔ کاغذی نوٹ جل کر راکھ ہو جاتے ہیں، پٹ جاتے ہیں، پانی لگنے سے خراب ہو جا تے ہیں، وقت کے ساتھ ساتھ خراب ہو جاتے ہیں لیکن سونا اور چاندی نا جل کر راکھ ہو تی ہیں اور نا ہی پانی لگنے سے خراب ہوتی ہیں اور 22 قیرات سونے کا سکّہ جس کی ساتھ تھوڑا سا تانبا ملا ہوا ہو ، کی عمر ساٹھ سال سے زیادہ ہوتی ہیں۔یعنی ساٹھ سال مسلسل استعمال کےبعد شاہد اس کے وزن میں ایک فیصد کمی آ جائے، جس کو واپس ٹکسال لے جا کر اس میں ایک فیصد سونا ڈالنا ہو گا۔ جب کہ کاغذی کرنسی کی عمر دو سے تین سال ہوتی ہیں۔ 

Monday, May 23, 2016

مولانا ظفر علی خان.. تاریخ صحافت کا درخشندہ باب


مولانا ظفر علی خان ........ تاریخ صحافت کا درخشندہ باب
مولانا ظفر علی خان19 جنوری، 1873ء میں کوٹ میرٹھ شہر وزیر آباد میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد کا نام مولوی سراج الدین تھا۔ پہلے آپ کا نام خداداد خاں رکھا گیا بعد میں اُن کی پیشانی پر فتح و جرا¿ت اور شجاعت و ظفر کے آثار دیکھتے ہوئے ان کا نام ظفر علی خاں رکھ دیا گیا۔ علی اللہ کا نام بھی ہے۔ علی ایک ایسا نام ہے جو جنگ ہو یا جلسہ، مسلمانوں میں حوصلہ، جراءت اور جوش و جذبہ پیدا کرتا ہے۔ ظفر علی خاں نے ابتدائی تعلیم مشن ہائی سکول وزیرآباد اور قرآن پاک کی تعلیم برصغیر کے نامور عالم دین حافظ عبدالمنان وزیرآبادی سے حاصل کی۔ بعد ازاں ظفر علی خاں نے اینگلو محمڈن کالج علی گڑھ سے فارغ التحصیل ہو کر ریاست حیدرآباد کے محکمہ داخلہ میں بحیثیت اسسٹنٹ سیکرٹری ملازمت کر لی۔ انہوں نے حیدرآباد میں ایک اطالوی کمپنی کے حیا سوز رقص کے بائیکاٹ کی پرزور حمایت کی جس پر ریاست کے انگریز ریذیڈنٹ سر مائیکل اوڈوائر نے حکومتِ ہند سے مولانا کی شکایت کر دی نتیجتاً انہیں فوری طور پر ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔ 

مولانا کے والد مولوی سراج الدین نے 1903ءمیں اپنے گاﺅں کرم آباد سے ایک ہفتہ وار اخبار ”زمیندار“ جاری کیا۔ والد کے انتقال کے بعد 1909ءمیں ظفر علی خاں اس کے ایڈیٹر مقرر ہوئے اور بعدازاں 1910ءمیں انہوں نے اپنے والد کے گہرے دوست چوہدری شہاب الدین جو کہ مشہور وکیل تھے، کے مشورے پر اخبار کو لاہور منتقل کر دیا۔ بعدازاں اخبار کو ہفتہ وار کی بجائے روزنامہ بنا دیا گیا اور یکم مئی 1911ءکو روزنامہ ”زمیندار“ کا پہلا پرچہ لاہور سے شائع ہوا۔

مولانا ظفر علی خاں کی شخصیت کا ایک اور اہم پہلو اُن کی صحافت، ادب اور سیاست سے جڑا ہوا ہے۔ اس صف میں مولانا کا کوئی ہم پلہ نہیں۔ نڈر، بے خوف، غرض و لالچ سے بے نیاز، کسی بھی جھوٹے پراپیگنڈے سے آپ کبھی دل برداشتہ نہیں ہوئے۔ جس مشن کو لے کر اُٹھے اُس کا علم بلند رکھا اور ظلم و استبداد کی طاقتوں کی خلاف پوری طرح نبردآزما رہے۔ دینِ اسلام کی سربلندی، شدھی اور سنگٹھن تحریکوں کے خلاف جہادِ مسلسل میں اُن کے پائے استقلال میں کبھی کوئی لغزش نہیں آئی۔ وہ برملا کہتے تھے کہ ”انسان آزاد پیدا ہوا ہے اور آزادی اُس کا پیدائشی حق ہے۔ انسان کا سر صرف خدائے لم یزل کے روبرو جھکنا چاہئے کیونکہ وہی عبادت کے قابل ہے۔“
انگریز کی غلامی اور ہندوستان کی محکومیت کے خلاف روزنامہ زمیندار کا کردار تاریخِ صحافت کا ایک درخشندہ باب ہے۔ مولانا میدانِ عرفات میں بارگاہِ ایزدی میں عرض گزار ہیں:
جو سزا چاہے، ہمیں دے لے کہ تُو مختار ہے
لیکن اپنوں کو نہ غیروں کی نظر میں خوار کر
ہند کو بھی اے خدا قیدِ غلامی سے چھڑا
اپنے گھر کا ہم کو بھی مالک بنا مختار کر

جیل میں چکی کی مصیبت کے ساتھ ساتھ مشق سخن جاری رکھنے کے لیے جو طرفہ طبیعت درکار ہے وہ حسرت کے ایک ہمعصر مولانا ظفر علی خاں کے حصے میں بھی آئی۔ ان دونوں کی مشکلیں اور مشغلے یکساں تھے۔ انگریز سے نفرت اور اس کی پاداش میں نظربندی۔ آزادی کا مطالبہ اور اس کے جواب میں جیل۔ دین کی خدمت، لہٰذا جائیداد قرق۔ اور جب اس احوال کو نظم کیا تو شعر بھی ضبط ہو گیا۔ شوق گناہ ہر سزا کے بعد بڑھتا چلا گیا اور ایک نے شائد گیارہ اور دوسرے نے چودہ سال قید اور نظربندی میں گزار دیئے۔ ان کی ایذا پسندی اور نازک خیالی کا یہ عالم تھا کہ ساری عمر مار کھاتے اور شعر کہتے گزر گئی۔ بالآخر سیاست کی راہ میں زندگی لٹا دینے کے بعد ان دونوں کا وہ سفر جو شور انگیزی سے شروع ہوا تھا، بڑھاپے اور قدر شناسی کی منزل پر ختم ہو گیا۔

مولانا کی شاعری کے دیوان: بہارستان، نگارستان، چمنستان، حبسیات کے صفحات سے درج ذیل چند اشعار پیش خدمت ہیں جن میں وہ جیل کی مشقت کا نقشہ یوں کھینچتے ہیں:
آج جن کی یہ خطا ہے کہ ذرا کالے ہیں
پی رہے ان کا لہو جیل کے رکھوالے ہیں
کبھی کولھو کی مشقت، کبھی چکی کا عذاب
جس سے ہاتھوں میں بچاروں کے پڑے چھالے ہیں
گوشت اور خون کے پرزے ہیں جو انگریزوں نے
قیصریت کی مشینوں کے لیے ڈھالے ہیں!
قید گورے بھی ہیں چوری میں مگر ان کے لیے
جیل سرکار نے گلزار بنا ڈالے ہیں
ہم کسی بات میں کم ان سے نہیں لیکن
اس کو کیا کیجئے وہ گورے ہیں ہم کالے ہیں
رنگ کے فرق پہ موقوف ہے قانونِ فرنگ
یوں نکلتے نئی تہذیب کے دیوالے ہیں
ہو گئے کس لیے کونسل کے سب ارکان خاموش
وہ بھی کیا ان ستم آرائیوں کے آلے ہیں
ہو گئیں زندہ روایاتِ احد زنداں میں
دانت ٹوٹے ہیں انہیں کے جو خدا والے ہیں

1934ء میں جب پنجاب حکومت نے اخبار پر پابندی عائد کی تو مولانا ظفر علی خان جو اپنی جرات اور شاندار عزم کے مالک تھے انہوں نے حکومت پر مقدمہ کردیا اور عدلیہ کے ذریعے حکومت کو اپنے احکامات واپس لینے پر مجبور کر دیا۔ اگلے دن انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور ایک طویل نظم لکھی جس کے ابتدائی اشعار یہ ہیں

یہ کل عرش اعظم سے تار آگیا
زمیندار ہوگا نہ تا حشر بند
تری قدرت کاملہ کا یقین
مجھے میرے پروردگار آگیا

مولانا ظفر علی خاں ہندوﺅں کے ساتھ چومکھی لڑائی لڑتے تھے۔ کہیں پنڈت مدن موہن مالویہ کے ساتھ شدھی اور سنگٹھن کی تحریک پر جھگڑا کیا اور اُن کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ہندوستان میں مسلمانوں کو شدھ کر کے ہندو دھرم میں شامل کرنے کی یہ سازش سوامی شردانند نے تیار کی تو مولانا کا قلم پوری قوت سے اُن کے مقابلے میں آ گیا اور لکھا:

اک مست الست قلندر نے جب کفر کے چیلوں کو رگڑا
پہلے تو رگڑنے ناک لگے پھر پاﺅں پڑے اور سر رگڑا
وہ شدھی دوڑی جاتی ہے اور پیٹتی چھاتی جاتی ہے
خود کہنے لگی اب جاتی ہے دھڑ مست قلندر دھڑ رگڑا
یہ رگڑے جھگڑے یونہی رہے کچھ روز اگر اخباروں میں
سن لو گے ماتھا بھارت نے اسلام کی چوکھٹ پر رگڑا

ہندوﺅں اور انگریزوں کے مکروہ ارادوں کے آگے آہنی دیوار بن کر مسلمانوں کی آزادی کے تحفظ اور حرمتِ رسول مقبول ﷺ اور دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے تن من دھن قربان کرنے والی عظیم شخصیت اور بطلِ حریت مولانا ظفر علی خاں کے بارے میں جس قدر بھی لکھا جائے وہ کم ہے۔
مولانا کے دل میں صرف برصغیر کے مسلمانوں ہی کا درد نہ تھا بلکہ دنیا کے جس حصے میں بھی مسلمانوں پر آفت آتی، مولانا تڑپ اٹھتے۔ انہوں نے دامے درمے سخنے قدمے ان کی مدد کی۔ چندہ ہی نہیں کندھا بھی دیا۔ عثمانیوں پر کوہِ غم ٹوٹا تو مولانا نے ٹرکش ریلیف فنڈ قائم کیا۔ پہلی دفعہ 61 ہزار 815 روپے آئے۔ دوسری دفعہ 24 ہزار پاﺅنڈ تیسری مرتبہ 20 ہزار پاﺅنڈ ترک حکومت کو پیش کیے۔ آپ کی اپیل پر لاکھوں پاﺅنڈ مزید بھیجے گئے جس پر مصطفےٰ کمال پاشا نے مولانا کے نام شکریہ اور تعریفی خطوط ارسال کیے۔
بابائے صحافت مولانا ظفر علی خاں انگریزوں اور ہندوﺅں سے لڑتے لڑتے اور تحریک آزادی کے لیے قوم کو تیار کرتے کرتے 27 نومبر 1956ءکو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے اور کرم آباد میں دفن ہیں۔ وہ اپنے پیچھے صحافیوں کے لیے تربیت کا ایک ایسا معیار چھوڑ گئے جو صدیوں تک مشعل راہ رہے گا۔
آسماں اس کی لحد پر شبنم افشانی کرے
مولانا الطاف حسین حالی نے مولانا ظفر علی خاں کے بارے میں لکھا:
اے دیں کے امتحان میں جانباز
اے نفرت حق میں تیغ عریاں
اے صدق و صفا کی زندہ تصویر
اے شیر دل اے ظفر علی خاں

(انور بشیرکی تحریر سے اقتباس)

Thursday, May 19, 2016

ستاروں اور سیاروں کا تقابلی جائزہ

ستاروں اور سیاروں کا تقابلی جائزہ

ہم جس جگہ رہتے ہیں اس کو ’’کرۂ ارض ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ سورج کے گرد چکر لگانے والے سیاروں میں سے ایک چھوٹا سا سیارہ ہے اس سے کئی گنا بڑے سیارے جیسے مشتری (Jupiter) اور زحل (Saturn) وہ بھی سورج کے تابع ہیں۔ سورج خود ایک کہکشاں کا ممبر ہے جس میں سورج سے کئی لاکھ گنا بڑے بڑے ستارے پائے جاتے ہیں اور ایسے ستاروں کی تعداد ہماری اس کہکشاں میں کئی سو بلین ہے۔ پھر اس طرح کی کئی سو بلین کہکشائیں اس کائنات میں موجود ہیں تو اس کائنات کی وسعتوں کا اندازہ لگائیں کہ وہ کس قدر عظیم الشان ہے اور جو اس کائنات کا بنانے والا ہے اس کی کیا شان ہوگی ؟
اس پوسٹ میں سیاروں اور ستاروں کا حجم کے اعتبار سے آپس میں تقابل دکھایا گیا۔
اس تصویر میں 6 گروپ بنائے گئے ہیں پہلے گروپ میں 4 سیارے ہیں جن میں زمین سب سے بڑی ہے اس کے بعد دوسرے گروپ میں زمین کو پہلے دکھایا گیا ہے تاکہ اندازہ ہوجائے کہ زمین جو پہلے گروپ میں سب سے بڑی تھی اب ان بڑے سیاروں کے مقابلے میں کتنی چھوٹی ہے۔ اسی ترتیب سے تمام گروپ میں سیاروں اور ستاروں کے حجم کو دکھایا گیا ہے ۔
ہر گروپ میں اوپر بائیں سے دائیں جانب نمبر وار ستاروں اور سیاروں کے نام انگریزی میں لکھے ہوئے ہیں ان میں سے جن کے نام اردو میں میسر ہوسکے وہ لکھ دئے گئے ہیں۔
آخر میں کائنات کا (سائنس دانوں کی معلومات کے مطابق) سب سے بڑا ستارہ ’’کلب اکبر‘‘ (VY Canis Majoris) ہے جس کے مقابلے میں سورج ایک نقطے کے برابر ہے تو ہماری زمین کی کیا حیثیت ہوگی۔ سبحان اللہ

Saturday, May 14, 2016

پندرھویں شعبان کا روزہ اور اس رات کے محرومین

           پندرھویں شعبان کا روزہ ہے یانہیں؟
           اس سلسلہ میں ایک روایت حضرت علیؓ کی ہے؛ ابن ماجہ شریف میں ہے کہ نبی کریم نے فرمایا پندرھویں شعبان کی رات میں قیام کرو اور اس کے دن میں روزہ رکھو۔ لیکن حضرت علیؓ والی یہ روایت نہایت ضعیف ہے۔(سنن ابن ماجه، كتاب إقامة الصلاة والسنة فيها، باب ما جاء في ليلة النصف من شعبان)
          بلکہ سننِ ابن ماجہ کی جن روایات پر محدثین نے نقد کیا ہے ان میں ایک یہ بھی ہے۔ علاّمہ عبد العظیم منذری نے بھی الترغیب و الترہیب میں حضرت علیؓ کی اس روایت کو ذکر کیا ہے،مگر شروع میں انہوں نے جو اصول بتلائے ہیں،اس کے مطابق بھی یہ روایت درست نہیں۔(کتاب الترغیب ،الترغیب فی صوم شعبان)
          مسائل کی جو کتابیں ہیں،ان میں جہاں نفل روزوں کا تذکرہ کیا گیا ہے،  وہاں بھی پندرویں شعبان کے روزہ کا تذکرہ نہیں ہے۔ احناف کی کتابوں میں بھی دسویں محرم اور نویں ذی الحجہ کے روزہ کا ذکرہے، ایام بیض کے روزے کا بھی ذکر ہے، لیکن پندرویں شعبان کے روزے کاخصوصیت سے کوئی ذکرنہیں ہے۔
           ویسے شعبان کے مہینہ میں نبی کریم کا کثرت سے روزہ رکھناثابت ہے۔ حضرت اُسامہؓ کی روایت مسلم شریف میں موجود ہے کہ نبی کریم   شعبان کے مہینے میں کثرت سے روزے رکھتے تھے، بلکہ کتب حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایام ممنوعہ کی وجہ سے ازواجِ مطہرات کے رمضان کے جو روزے رہ جاتے تھے ،انہیں اپنے روزے رکھنے کا موقع شعبان ہی میں نبی کریم  کے کثرت سے روزہ رکھنے کی وجہ سے ملتا تھا۔ حضور اکرم کثرت سے روزے رکھتے تھے اور فرماتے تھے کہ بندوں کے اعمال اس مہینہ میں پیش کئے جاتے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال ایسی حالت میں پیش ہوں کہ میں روزے کی حالت میں ہوں۔ ایک تو شعبان کے مہینہ میں روزہ رکھنے کی مستند فضیلت ہے، اس کی بنیاد پر۔اور دوسرا یہ کہ ایامِ بیض یعنی چاندنی راتوں۱۳ ، ۱۴ ، ۱۵  کے دنوں میں روزوں کا مستحب ہونا حدیث سے ثابت ہے،فقہا نے بھی لکھا ہے، اس طرح یہ پندرہویں شب کے بعد کا روزہ ہوتا ہے، اس معنی کر کے فضیلت والا ہوتا ہے۔ ان دو حیثیتوں سے رکھے تو کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔ مگر اس کو الگ سے مستحب سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ سب سے بہتر تو یہ ہے آدمی کہ ۱۳، ۱۴، ۱۵ کا روزہ رکھ لے، پھر بھی صرف پندرہ کا ہی رکھ لے گا تو کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔ بعضوں نے اسی اعتبار سے شعبان کے روزوں کی فضیلت کی وجہ سے اجازت دی ہے۔ خاص اس روایت کوپیشِ نظر نہ رکھا جائے ۔
          جن کی اس رات میں مغفرت نہیں ہوتی۔
           ان برکت والی راتوں میں اللہ تعالی کی طرف سے مغفرت کی جاتی ہے، لیکن حدیثوں میں آتا ہے کہ بعض ایسے گنہگار بھی ہیں کہ ان برکت والی راتوں میں بھی ان کے گناہ معاف نہیں ہوتے۔ (الترغیب والترہب ، کتاب الادب ،۱۱- الترہب من  التہاجروالتشاحن)
          ۰ایک تو شرک کرنے والا۔
          ۰دوسرامشاحن۔اپنے دل میں کینہ رکھنے والا۔ ’مشاحن‘ شحنہ سے ہے، کینہ ۔ کسی مسلمان کے متعلق اپنے دل میں کینہ رکھتا ہو تو اس کی بھی مغفرت اللہ تعالی کے یہاں نہیں ہوتی۔ آج کل ایک مصیبت ہم میں عام ہو گئی ہے۔ ہمارے معاشرہ میں آپس کے تعلقات خراب ہوتے ہیں۔ دو آپس میں لڑنے والے جنہوںنے آپس میں صلح نہ کی ہواورقطع تعلق رکھنے والے بھی اس میں آجاتے ہیں۔ آج کل ہمارے معاشرہ میں یہ وباء بھی بہت عام ہوتی جارہی ہے کہ غیر تو غیر اپنے رشتہ داروں میں بھی اتنی زیادہ آپس میں منافرت اور اتنا زیادہ قطع تعلق ہو جاتا ہے کہ بھائی بھائی کے ساتھ، قریبی رشتہ دار قریبی رشتہ دار کے ساتھ بولنے کے لئے روا دار نہیں ہوتے۔یہ بڑی خطرناک چیز ہے۔ ایسے موقعوں سے فائدہ اُٹھا کر کے ان تعلقات کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی جائے ورنہ اتنی مبارک راتوں میں بھی جن لوگوں کے گناہ معاف نہیں ہوتے،جن کی مغفرت نہیں ہوتی ان میں اس کو شامل کیا گیا ہے
          ۰جو شراب کا عادی ہو اس کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے۔
          ۰ماں باپ کا نافرمان بھی اس میں ہے۔
          ۰المنّان احسان کر کے جتلانے والا بھی اس وعید میں شامل ہے۔
          ایک بیماری ہمارے معاشرہ میں یہ بھی ہے کہ کسی کے ساتھ کوئی احسان کیا ہو تو چاہتے یہ ہیں کہ جس کے ساتھ احسان کیا ہے وہ میرا غلام بن کر رہے۔ ذرّہ برابر بھی اس کے مزاج کے خلاف کچھ ہواتوکہیںگے ارے یار ! ااس پر میں نے یہ احسان کیا، میں نے یوں کیا، فلاں کیا۔ دیکھو نا اس کے باوجود ایسا کام کیا ۔ بھائی ! یہ سب کچھ اللہ تعالی سے ثواب اور صلہ حاصل کرنے کے لئےکیا تھا،اس سے کیوں توقع رکھتے ہو۔یہ احسان کر کے جتلانے والا بھی ان لوگوں میں ہے،جس کی اتنی بڑی راتوں میں مغفرت نہیں ہوتی۔
          ۰ ٹخنے سے نیچے لنگی کرتہ پائجامہ رکھنے والا۔
           آج کل لمبے عربی کرتے پہننے کا بعض لوگوں کوشوق ہوتا ہے وہ بھی ٹخنے سے نیچے نہیں ہونا چاہئے۔ کرتہ ہو، پائجامہ ہو، پتلون ہو اور لنگی ہو تو بھی؛ ٹخنے ڈھک جاویں اس طرح پہنے تو ایسے آدمی کو حدیث میں شمار کیا گیا ہے کہ اس کی ان مبارک راتوں میں مغفرت نہیں ہوتی۔ یہ ٹخنے ڈھانکنے والا مرض بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ جوانوں کے اندر خاص طور سے۔اس سے اپنے آپ کو بچانے کی ضرورت ہے۔
          حضرت مولانا احتشام الحق تھانویؒ تو فرمایا کرتے تھے کہ ہمارا حال تو یہ ہے کہ انگریز کے کہنے سے نیکر اور چڈی پہن لی تو گھٹنے تک کھول دیے اور اللہ کے رسول کے کہنے سے ٹخنے کھولنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ پائجامہ ذرا اونچا رکھنے کے لئے بھی تیار نہیں۔انگریز کی مشابہت میں آدھا بدن کھولنے تک تیار ہیں اور اللہ کےرسول کی اتنی سی بات ماننے کو راضی نہیں، بلکہ بزرگوں نے لکھا ہے کہ بعض گناہ وہ ہوتے ہیں کہ آدمی نے گناہ کیا ،پھراس گناہ سے نکل آیا۔جیسے ایک آدمی زنا کرتا ہے، بد کاری کرتا ہے تو جب تک کہ وہ بدکاری میں مبتلا ہے وہاں تک وہ گناہ چل رہا ہے۔ وہ ختم ہو گیا۔ اب وہ گناہ اس کے سر پر تو ہے لیکن اس گناہ کے اندر تو مبتلا نہیں ہے۔ ایک آدمی شراب پی رہا ہے تو جب تک پی رہا ہے گناہ کر رہا ہے۔ پی چکا تو اس کے نامئہ اعمال میں تو وہ گناہ لکھ دیا گیا لیکن گناہ کا تسلسل ختم ہو گیا ،اب گناہ میں نہیں ہے۔ تو اب مسجد میں ہے تو یہ نہیں کہیں گے کہ شراب پی رہا ہے؛ لیکن بعض گناہ ایسے ہوتے ہیں کہ آدمی اس میں ایسامبتلا ہوتا کہ ہرحال میںگناہ چل رہاہے، چوبیس گھنٹے لگاتا ر وہ گناہ جاری رہتا ہے۔اسی میںیہ ٹخنے سے نیچے پائجامہ لٹکانا بھی ہے ، نماز پڑھ رہا ہے اور ٹخنہ ڈھکاہوا ہے تو و ہی گناہ چل رہا ہے، سویا ہوا ہے تب بھی اس گناہ کے اندر مبتلا ہے۔ بھائی جب اللہ تعالی کی مغفرت ہم چاہتے ہیں، اورطلب گار ہیں تو اپنے آپ کو ان چیزوں سے بچانے کا اہتمام ہو تا کہ ہم اپنی بڑی اور مبارک راتوں میں بھی اللہ تعالی کی مغفرت سے محروم نہ ہوں۔
                   اللہ تعالی ہمیں توفیق عطا فرمائیں۔ آمین۔ 
(مستفاد از وعظ حضرت اقدس مولانا مفتی احمد خانپوری دامت برکاتھم )