BEST RESULT

Custom Search

Thursday, June 16, 2016

بچے پر ماں کی محبت کے اثرات

بچے کی جسمانی صحت، ذہنی صحت اور نشوونما اس کی Personal Growth کیلئے ماں اور ممتایعنی ماں کی محبت بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں بعد میں یہ بچے کی شخصیت اور مستقبل کی ذہنی صحت پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ بچے کی آئندہ شخصیت اور آنے والے کل کا دارومدار انہی دو چیزوں پر ہوتا ہے۔

.1ماں کی محبت
.2 بچے کا ماں سے تعلق
اگر اللہ نہ کرے ماں کا انتقال ہوجائے تو اس کی جگہ کوئی اور نہیں لے سکتا۔ یہ دکھ اور محرومی بچہ ساری زندگی محسوس کرتا ہے۔ ماں اور بچے کے درمیان محبت، الفت، انسیت کا جاری و ساری چشمہ اور تعلق دونوں کی یکساں آبیاری کرتا ہے اور یہ رشتہ دونوں کو اطمینان و انبساط اورخوشی سے ہمکنار کرتا ہے۔
ماں کی محبت اور شفقت سے محرومی کو ہم Maternal Deprivation کہتے ہیں اس کی چندوجوہات ہیں۔
باپ/ ماں کا انتقال، طویل بیماری، جسمانی معذوری، ذہنی معذوری، نفسیاتی بیماری، صاحب خانہ کی بیروزگاری، تنگی ترشی، گھر کا ٹوٹ جانا، طلاق، علیحدگی، ماں کا سارا دن ملازمت اور روزگار پر رہنا، جنگ، قحط، زلزلہ اوراس جیسے دوسرے امور۔
ماں کو بچے سے محبت ہے، بچہ محبت کرنا سیکھ لیتا ہے۔ اب وہ ساری عمر لوگوں سے محبت اور شفقت سے پیش آئے گا۔
اگر بچے کوماں کی محبت نہیں ملے گی تو وہ گرد و پیش سے نفرت کرنا سیکھ لے گا اور ساری عمر لوگوں سے نفرت کرتا رہیگا۔
ان نفسیاتی الجھنوں کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم بچپن اور لڑکپن میں پیش آنے والے حالات کا ماں سے محبت کے رشتے کااور باپ سے تعلق کا جائزہ لیں یا چھان بین کریں۔ آگے چل کر زندگی میں پیش آنے والے مسائل انہی روابط اور تعلقات کے چاروں طرف گھومتے ہیں۔ وہ بچے جو اپنی ماں سے محروم ہوجاتے ہیں طرح طرح کی نفسیاتی پریشانیوں کا شکار رہتے ہیں ملنے جلنے والوں کے ساتھ کام کرنے والوں سے ضرورت سے زیادہ محبت‘ توجہ کے طلب گار ہوتے ہیں۔ بسا اوقات یہ لوگ خطرناک حد تک کینہ پرور ہوجاتے ہیں اور بدلہ لینے کیلئے خطرناک حد تک بڑھ جاتے ہیں ان کی ساری زندگی انہی دائروں میں گھومتی رہتی ہے۔ آنے والی زندگی میں نہ وہ کسی سے محبت کرتے ہیں اور نہ محبت کرنا سیکھتے ہیں۔ ایک شرمساری اداسی، افسردگی ساری عمر ان کا پیچھا کرتی ہے۔ وہ ساری عمراضطراب اور بے چینی کا شکار رہتے ہیں وہ اس پر کیسے قابو پائیں انہیں نہیں معلوم کہ انہیںاپنے شدید جذبات، ہیجانات کو کیسے کنٹرول کرنا ہے۔ کس طرح خود کو طوفان سے محفوظ رکھنا ہے وہ اپنی ساری زندگی ان گتھیوں کو سلجھانے اور بھول بھلیوں میں اپنا رستہ تلاش کرنے کی اچھی بری کوشش میں گزار دیتے ہیں وہ خود اپنے ساتھ اور دنیا کے ساتھ قابل عزت تعلقات استوار نہیں کرپاتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ماں کی محبت نہ ملنے سے بچے بڑے ہوکر بے راہ روی کا شکار ہوجاتے ہیں اور اپنی زندگی میں دباﺅ سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھ پاتے اور اگر دباﺅ کا سامنا کرنا پڑے تو وہ حالات سے نمٹنے کے لئے سماج دشمن اطوار اپناتے ہیں اور ان کی شخصیت ٹوٹ پھوٹ کرکجروی کا شکار ہوجاتی ہے۔ نفسیات اور عمرانیات میں اسے Anti Social Personality Psycopath کہتے ہیں۔ یہ لوگ اول عمر سے قانون شکنی کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔
اینٹی سوشل پرسنیلٹی کی علامات میں دوسروں کے حقوق کا پاس نہ کرنا‘ معاشرے کے رسموں رواج کا احترام نہ کرنا، دھوکہ دینا، جھوٹ بولنا، دوسرے لوگوں کو ذاتی فائدہ یعنی حصول لذت کیلئے استعمال کرنا، چڑچڑا پن ، لڑنا جھگڑنا، جارحانہ رویہ، دوسروں کا خیال نہ کرنا، مستقل مزاجی سے ملازمت نہ کرنا، غیر ذمہ داری، قرضہ کو واپس نہ کرنا، شرمندہ نہ ہونا، معافی نہ مانگنا۔
والدین کی طلاق ہونے کی صورت میں، سوتیلے باپ یا ماں کے مسترد کرنے کی وجہ سےUnhealthy Relationships بن جاتے ہیں اس تکلیف دہ صورتحال سے بچہ بہت زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ یہ کم عمری کے تجربات آنے والی زندگی کا احاطہ کئے رہتے ہیں جس طرح انسان کا سایہ ساری عمر اس کا پیچھا کرتا ہے۔ اسی طرح یہ ناخوشگوار معاملات ساری عمر انسان کے ساتھ رہتے ہیں اوروقت گزرنے کے ساتھ شام کے سائے کی طرح یہ طویل سے طویل ہوتے چلے جاتے ہیں۔
بسااوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ ماں اپنی جگہ موجود ہے مگر وہ غربت یا باپ کی بے روزگاری، بیماری یا اپنی بیماری کی وجہ سے بچے پر وہ توجہ نہیں دے پاتی جو بچہ کی Nourishment Nurturance جیسی ضرورت کا اہتمام کرسکے۔ ماں کی جگہ دادی، نانی لے لیتی ہے مگر وہ اپنی صحت و ضعیفی کی وجہ سے وہ توجہ نہیں دے سکتی اور محنت نہیں کرسکتی جو بچے کی پرورش کا بنیادی تقاضہ ہے اور یہ کام ملازمہ بھی نہیں کرسکتی۔
والدین کا بچوں کے ساتھ ناروا سلوک، مارپیٹ کرنا، گالی گلوچ کرنا، مسترد کرنا، غفلت، نظر انداز کرنا ایسا ہی ہے جیسے بچے کے سر پر باپ کا سائبان اور ماں کا سایہ نہ ہو۔ والدین اپنے بچوں کی اچھی اور معیاری پرورش کریں گے تو یہ آگے چل کر اچھے معاشرے اور اچھی ذہنی صحت کے ضامن ہوں گے۔
انسان کی کردار سازی اور شخصیت کی بڑھوتری میں اس کے گھر کا ماحول بہت اہم رول ادا کرتا ہے۔ ہم لوگ اپنے گھر، ہسپتال کی صفائی ستھرائی پر بہت زور دیتے ہیں، اسکول کی کارکردگی پر نظر رکھتے ہیں مگر گھر، گھرانے، گرہستی کے ٹوٹنے اور بکھرنے کو بھول جاتے ہیں۔ انہی Broken homes سے نکل کر یہ بچے، نوجوان آگے چل کر اپنے دشمن آپ بن کر سماج کے تارپود بکھیرتے ہیں، ہر بچے کی ذہنی اور جسمانی نشوونما کے لئے گھر، ماں کی محبت، باپ کا سایہ، بہن بھائی کا ساتھ بہت ضروری ہے۔ اگر بچے کو ماں کی محبت سے محروم کردیا جائے تو وہ بے راہ روی کا شکار ہوجاتا ہے۔ جس طرح بچے کی جسمانی ضرورت کیلئے وٹامن اور پروٹین ضروری ہیں اسی طرح ذہنی صحت کیلئے محبت اور ماں کی آغوش بہت ضروری ہے۔ ہر بچے کی اچھی نگہداشت معاشرے کی ذہنی فلاح و بہبود اور سماج کی ذہنی صحت کیلئے ضروری ہے۔ ٹوٹے پھوٹے گھرانے سے آنے والے بچے بڑے ہوکر باہر کی دنیا میں اپنی جگہ نہیں بناسکتے۔

Monday, June 13, 2016

کامیابی چاہتے ہیں تو 10 مشکل کام ضرور کریں

کامیابی چاہتے ہیں تو 10 مشکل کام ضرور کریں

کامیابی کی خواہش ہر کوئی رکھتا ہے لیکن اس کے حصول کے لیے تگ و دو سب نہیں کرتے- یا تو بعض افراد کامیابی کے سفر میں آنے والی مشکلات کو دیکھ کر ہی سفر ادھورا چھوڑ دیتے ہیں یا پھر کچھ لوگوں کو درست رہنمائی نہیں مل پاتی- ایک کامیاب زندگی حاصل کرنے کے لیے آپ اپنے اندر موجود چند مشکل کاموں کے خوف کا خاتمہ کیجیے جو آپ کو آگے بڑھنے سے روک رہے ہیں- وہ کونسے مشکل کام ہیں جو آپ کو ضرور کرنے ہیں٬ آئیے ہم بتاتے ہیں-
 

یہ ایک حقیقت ہے کہ اکثر لوگ چند مخصوص موضوعات پر کسی سے فون پر بات کرنے سے بھی ہچکچاتے ہیں لیکن آپ کو چاہیے کہ ایسی فون کال ضرور کریں اور کھل کر بات کریں تاکہ آپ میں اعتماد بحال ہو-

بیشتر افراد کے لیے صبح سویرے جاگنا دنیا کا مشکل ترین کام ہوتا ہے تاہم اگر کامیابی چاہیے تو پھر صبح جاگنا بھی پڑے گا-
 

عام طور پر انسان نے پیمانہ بنا رکھا ہے کہ “ جتنا سامنے والا کرے گا ہم بھی اتنا ہی کریں گے“ لیکن اس پیمانے ترک کیجیے اور دوسروں کا خیال اس سے زیادہ کیجیے جتنا وہ آپ کا کرتے ہیں-

چاہے کوئی آپ کی پیروی نہ بھی کر رہا تو بھی خود کو ایک رہنما تصور کرتے ہوئے فیصلہ کیجیے-
 
اس وقت بھی کام مکمل کر کے دینے کی عادت ڈالیے جب آپ اسے بہانہ بنا کر نظرانداز کرنا بھی ممکن ہو-
 

کسی بھی ناکامی کی صورت میں کوشش کرنا نہ چھوڑیے کیونکہ کوشش ہی وہ شے ہے جو آپ کو کامیابی تک لے جائے گی-

ایسے لوگوں کے ساتھ بھی بہترین رویہ اپنائیے جو آپ کو پسند نہیں کرتے یا پھر آپ ان کو پسند نہیں کرتے-
 
ہمیشہ اپنے اقدامات کے جوابات دینے کے لیے تیار رہیں جو حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوجائیں-
 

ہر رکاوٹ کو دور کرتے ہوئے اپنی منزل کی جانب سفر ہر صورت جاری رکھیے کیونکہ اگر آپ نے رکاوٹوں یا مشکلات کو بہانہ بنا لیا تو زندگی صرف بہانے تراشنے میں ہی گزر جائے گی-
 
کسی بھی کام کی مکمل تفصیلات ضرور جانیے چاہے آپ اس سے جان چھڑا بھی سکتے ہوں اور آپ کو یہ آسان بھی معلوم ہورہا ہو-

Saturday, June 11, 2016

قرآن مجید کی سورتیں، آیات، کلمات اور حروف​

قرآن مجید کی سورتیں، آیات، کلمات اور حروف​

قرآن مجید کی سورتوں، آیات، کلمات اور حروف میں مع اختلاف:​

راجح قول کے مطابق قرآن مجید میں114 سورتیں ہیں- 

آیات کی تعداد: اکثر علماء کے نزدیک کل آیات (6666) ہیں- 
بعض کے نزدیک (6616) آیات ہیں- 
بعض کے نزدیک (6216) آیات ہیں-
بعض کے نزدیک (6237) آیات ہیں-

کلمات کی تعداد: قرآن پاک کے کلمات کی تعداد کے بارے میں درج ذیل مشھور اقوال ہیں: ​

1/ (77933)
2/ (77437)
3/ (77277)

حروف کی تعداد: اس میں مشھور قول دو ہیں: ​

1/ (323671)
2/ (323760)

سورتوں کی ترتیب اور اقسام:​

سورتوں کی ترتیب: قرآن مجید کی آیات کی ترتیب اور سورتوں کی ترتیب کو جاںنا بہت ضروری ہے- مفسرین اور علماء کا اس بات پر تو اتفاق ہے کہ آیات کی ترتیب توقیفی ہے یعنی نبی ۖ نے جبرئیل علیہ السلام کی اطلاع کے مطابق ہرسورت کے اندر آیات کو مرتب کیا اور کئی ایک احادیث سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے- البتہ سورتوں کی ترتیب کے بارے میں اختلاف ہے کہ موجودہ مصحف کی ترتیب بھی رسول اللہ ۖ نے بتلائی تھی یا صحابہ کرام رض نے اپنے اجتہاد سے ایسا کیا ہے- 

سورتوں کی اقسام: قرآن پاک کی سورتوں کی مختلف اقسام بتائی گئی ہیں، مثلا:

1/ طواسیم: وہ سورتیں جو"طس" یا "طسم" سے شروع ہوتی ہیں- 

2/ حوامیم: وہ سورتیں جو "حم" سے شروع ہوتی ہیں- 

3/ مسبّحات: وہ سورتین جو "سبّح" یا "یسبّح" سے شروع ہوتی ہیں-

4/ العتاق الاول: یہ 5 سورتیں ہیں: (1) بنی اسرائیل (2) الکھف (3) مریم (4) طہ (5) الانبیاء –

قرآن مجید کی سورتوں کو ایک اور انداز سے 4 حصوں سے تقسیم کیا گیا ہے:​

1/ السّبع الطّوال: سورہ قاتح کے بعد والی 7 لمبی سورتوں کو "سبع الطوال" کہتے ہیں-

2/ المئین: وہ سورتیں جن کے آیات (100) یا اس سے زیادہ ہوں ان کو "المئین" کہتے ہیں- 

3/ المثانی: وہ سورتیں جن کی تعداد (100) سے کم ہوں ان کو مثانی کہتے ہیں- 

"مثانی" کا معنی بار بار دہرائی جانے والی- کہ "طوال" اور "مئین" کی نسبت زیادہ دہرائی جاتی ہیں یا ان میں احکام و قصص کو تکرار سے بیان کیا گیا ہے اس لیے ان کو مثانی کہتے ہیں- 

4/ المفصّل: سورۃ ق یا سورۃ الحجرات سے سورۃ الناس تک کا حصہ مفصل کہلاتا ہے اور اس کی مندرجہ ذیل 3 اقسام ہیں-

1/ طوال المفصّل: سورۃ الحجرات یا سورۃ ق سے سورۃ البروج تک- 
2/ اوساط المفصّل: سورۃ البروج سے سورۃ البیّنہ تک- 
3/ قصار المفصّل: شورت البیّنہ سے سورۃ الناس تک-

قرآن مجید کی سورتوں، آیات، کلمات اور حروف کے اعتبار سے قرآن کا نصف:​

1/ سورتوں کی گنتی کے اعتبار سے"سورۃ الحدید" پر پہلا نصف ختم ہوتا ہے اور "سورۃ الجادلۃ" سے دوسرا نصف شروع ہوتا ہے- 
2/ آیات کے اعتبار سے سورۃ الشعراء کیآیت 45 ( فاالقی موسی عصاہ فاذا ھی تلقف ما یافکون) تا نصف اول ہوتا ہے اور( فاالقی السّحرۃ سجدین) آیت:46 سے دوسرا نصف شروع ہوتا ہے- 
3/ کلمات کے اعتبار سے سورۃ الحج کیآیت نمبر 20 کے کلمہ (والجلود) پر نصف اول ختم ہوتا ہے اور آیت نمبر 21 کے کلمہ (ولھم مّقامع) سے دوسرا نصف شروع ہوتا ہے- 
4/ حروف کے اعتبار سے نصف کے بارے میں 2 قول ہیں:

(1) سورۃ کھف آیت نمبر 19 کے لفط(ولیتلطّف) پر نصف اول مکمل ہوتا ہے- 
(2) سورۃ کھف آیت نمبر 74 کے لفظ(نکرا) کے کاف پر نصف اول مکمل ہوتا ہے- 

Thursday, June 9, 2016

15 ولی اللہی نکات

 ولی اللہی نکات

شاہ ولی اللہ کے افکار کے مطابق انسان اور انسانی معاشرے کے بارے میں یہ پندرہ نکات سامنے آتے ہیں:

 1(الف)   انسان میں ذاتی غرض کی بجائے مفادِ عامہ کو اپنانے کی خصوصیت موجود ہے۔
 (ب)    انسان ہر قسم کی پاکیزگی اور جمالیاتی حِس کا حامل ہے۔
  (ج)    وہ اپنے علم کو بڑھانے اور خود غرضی سے پاک مقاصد کو پورا کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔
اگر انسان یہ تینوں خصوصیات کھو بیٹھے تو وہ انسان کہلانے کا مستحق نہیں۔
 2۔ فرد اور معاشرہ دو الگ الگ چیزیں نہیں ہیں۔ ایک انسان کی تکلیف پوری انسانیت کی تکلیف ہے۔
3۔معاشرے کی ترقی کے لئے تمام انسانوں کو معاشی طور پر خوشحال ہونا ضروری ہے۔
4۔اگر وہ خوشحال نہیں ہوں گے تو وہ مذہب اور اخلاقی ضابطوں کی پابندی نہیں کر سکیں گے اور معاشرہ تباہ ہو جائے گا۔ اس لئے لوگوں کی خوشحالی کا مطلب ہے ایک صالح اور نظریاتی معاشرے کا قیام۔
5۔اگر انسان کو صحیح ماحول اور مناسب تربیت میسر نہیں آئے تو وہ لالچی بن جاتا ہے۔ دوسروں کی محنت پر عیش کا خواہش مند ہو جاتا ہے۔ جب کوئی چیز ملتی ہے تو وہ اس میں اضافے کا خواہاں ہوتا ہے۔
6۔زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش سے ایک نظام پیدا ہو جاتا ہے۔ جس میں چالاک لوگوں کا ایک طبقہ تمام وسائلِ پیداوار کا مالک بن بیٹھتا ہے۔ اس نظام میں غریبوں اور مزدوروں کی کوئی عزت نہیں ہوتی۔ وہ دولت مند غاصبوں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ یہ نظام قیصر و کسریٰ کا نظام ہے۔
7۔اسلام قیصر و کسریٰ کے نظام کو توڑنے کے لئے آیا تھا۔
8۔ دولت کا حقیقی مالک خدا ہے۔ بنیادی طور پر کوئی چیز کسی کی ملکیت نہیں۔
9۔خدا کی ساری زمین ایک مسجد اور سرائے کی طرح ہے جو اس نے تمام مسافروں کے لئے وقف کر دی ہے۔ اس سے فائدہ اٹھانے میں سب انسان برابر کے شریک ہیں۔
10۔معدنیات کی کانیں (اور دیگر وسائلِ پیداوار) کسی ایک فرد کی ملکیت نہیں ہو سکتیں۔
11۔معاشرے میں امدادِ باہمی کے اصول کو اس طرح رائج کیا جائے کہ کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے لئے معاشی تنگی کا باعث نہ بننے پائے اور ہر شخص خوشحال زندگی بسر کر سکے۔
12۔ایسے معاشی ادارے جڑ سے ختم کئے جائیں جن کے ذریعے دولت چند ہاتھوں میں جانے کا موقع ہے۔
13۔معاشی استحکام اور غیر استحصالی نظام کے لئے ضروری ہے کہ ہر شخص کوئی نہ کوئی کام کرے اور اپنی روزی خود کمائے۔ دوسرے کی محنت سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔
14۔ایسے پیشے جو نہ تو براہ راست ملکی پیداوار میں مدد دےتے ہیں اور نہ پیداواری اداروں کی فہرست میں آتے ہیں یا جو پیشے صرف دولت مندوں کی عیش و عشرت میں مددگار کا کام دےتے ہیں ختم ہو جانے چاہئیں۔ ان پیشوں سے معاشرہ اخلاقی اور معاشی دونوں طرح زوال پذیر ہو جاتا ہے۔
15۔صرف دَس بیس درہم، گھر کی ضرورت کا سامان، استعمال کی چیزیں اور دن رات کے کاروبار میں استعمال ہونے والی رقم اکتناز نہیں۔ اس سے زیادہ دولت کا ذخیرہ اکتناز ہے جو اسلام میں حرام ہے۔

Tuesday, June 7, 2016

اپنا مزاج بدلنا مشکل ہے۔۔۔۔۔ ناممکن نہیں!!!

اپنا مزاج بدلنا مشکل ہے۔۔۔۔۔ ناممکن نہیں!!!
بعض افراد اپنے خاص مزاج کو جس پر وہ پروان ثرھتے ہیں، جس کے حوالے سے لوگ انھیں پہچانتے ہیں اور جس کی بنیاد پر لوگوں کے ذہنوں میں ان کا تصور ابھرتا ہے، اپنی ذات کا ایسا لازمہ سمجھتے ہیں جسے علیحدہ یا تبدیل کرنا ممکن نہیں۔ اس نوع کے افراد اپنی فطرت کے آگے جُھک جاتے اور اس پر اکتفا کر لیتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے وہ اپنی جسمانی ساضت اور اپنے پیدائشی رنگ کو جنھیں تبدیل کرنا ان کے بس میں نہیں ہوتا، تسلیم کر لیتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ آدمی جو اپنے آپ کو حالات کے سانچے میں ڈھالنے پر قادر ہے، سمجھتا ہے کہ انسان کے لیے طبائع کو بدلنا اتنا ہی آسان ہے جتنا لباس کو تبدیل کرنا!
ہمارے مزاج بہے پڑے دودھ کی مانند نہیں کہ اسے اکٹھا کر لانا محال ہو۔ طبع کی زمام ہمارے ہاتھ میں‌ہوتی ہے اور ہم چند مخصوص طریقے استعمال کر کے نہ صرف لوگوں کی عادتیں‌بلکہ اُن کے دماغ تک دوسرے رُخ پر ڈال سکتے ہیں۔
ابن حزم نے اپنی کتاب طوق الحمامہ میں اندلس کے ایک مشہور تاجر کا واقعہ نقل کیا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں:
“اندلس میں ایک تاجر اپنی کاروبارہ لیاقت اور ہوشیاری کی وجہ سے مشہور تھا۔ ایک بار اس میں“‌اور دیگر چار تاجروں میں مقابلہ ٹھن گیا۔ انہوں نے مارے حسد کے گتھ جوڑ کرلیا کہ اُسے زِچ کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھارکھیں گے۔
ایک صبھ وہ تاجر سفید براق لباس پہنے اور سفید عمامہ باندھے گھر سے دکان کی طرف روانہ ہوا۔ اُن چار تاجروں میں سے ایک تاجر اُسے راستے میں ملا۔ اس نے پہلے تو بڑی گرم جوشی سے اسے سلام کیا، پھر عمامے کی طرف دیکھ کر کہنے لگا:“کیسا خوش نما ہے یہ پیلا عمامہ!!“
وہ بولا:“تمھیں نظر نہیں آتا؟ یہ سفید عمامہ ہے۔“
اس نے جواب دیا :“ہے تو پیلا ہی، پر ہے خوبصورت۔“
تاجر نے پروانہ کی،اسے چھوڑ کر اور آگے چل دیا۔ ابھی چند قدم ہی چلا ہو گا کہ دوسرا تاجر ملا۔ اس نے بھی سلام کیای اور عمامے کی نظر اٹھا کر کہا:
“آج آپ بڑے خوب صورت نظر آرہے ہیں، لباس بھی اعلی ہے اور یہ سبز عمامہ تو بڑا ہی پیار الگ رہا ہے۔“
تاجر بوالا :“بھائی ! یہ سفید عمامہ ہے۔“
اس نے کہا:“نہیں جناب ، سبز ہے۔“
“سفید ہے یار۔ اب میری جان چھوڑ دو اور مجھے جانے دو۔“اس نے تنگ آکر کہا۔ وہ بے چارہ اپنے آپ سے باتیں کرتا چلتا رہا۔ بار بار یہ اطمینان کرنے کے لیے کہ عماممہ سفید ہے۔شِملے کی طرف دیکھتا جو کندھے پہ لٹک رہا تھا۔اسی شش وپنج میں وہ اپنی دکان پر پہنچا اور تالا کھولنے لگا تو تیسرا تار آگے بڑھا اور بولا:
“بھئی واہ! آج کی صبح تو بہت خوب صورت ہے۔ اس پر طرہ یہ تمھارا دلکش لباس، ماشاءاللہ! اور یہ تمھارا نیلا عمامہ تو سونے پر سہاگے کا کام کر رہا ہے۔“
تاجر نے پہلے تو اپنے عمامے کو بغور دیکھا پھر آنکھیں ملیں، پھر دیکھا اور بڑی لجاحت سے کہا:
“بھائی میرے! میرا عمامہ سفید ہے، سفید ہے۔“
وہ بولا:“اور نہی!نیلا ہے۔ مگر فکر کی کوئی بات نہیں، اچھالگ رہا ہے۔“
یہ کہہ کر اس نے سلام کیا اور چل دیا۔ تاجر چیختا رہا:
“عمامہ سفید ہے، سفید ہے، سفید ہے۔“
پھر اس نے عمامہ اتارا اور الٹ پلٹ کر اچھی طرح‌دیکھا۔ جب اطمینان ہو گیا کہ عمامہ سفید ہی ہے تو دوبارہ پہن لیا۔
وہ دکان مین بیٹھا اور اس دوران برابر عمامے کے سملے کو دیکھتا رہا۔ تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ چوتھا تاجر آخری پتا پھینکنے دکان میں داخل ہوا اور بولا:
“بھائی جان! مرحبا ، ماشاءاللہ یہ سرخ عمامہ آپ نے کہاں سے خریدا ہے؟“
تاجر پوری قوت سے چلایا:“میرا عمامہ نیلا ہے۔“
اس نے کہا:“ارے نہیں بھائی جان! یہ تو سرخ ہے۔“
تاجر بدحواس ہو گیا، کہنے لگا:“نہیں، سبز ہے، نہیں، نہیں، سفید ہے۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔۔۔ نیلا۔۔۔۔۔۔ سیاہ۔“
پھر ہنسا، پھر چیخا ، پھر رو دیا اور کھڑا ہو کر اُچھلا ، اس کے بعد باہر کی طرف دوڑ لگا دی۔“
ابن حزم کا کہنا ہے:
“اس کے بعد وہ تاجر پاگل ہو گیا۔ میں نے اسے کئی بار دیکھا۔ وہ اندلس کی سڑکوں پر مارا مارا پھرتا اور بچے اسے کنکر مارا کرتے تھے۔“
ملاحظہ کیجیے کہ کیسے ان لوگوں نے عام حیلوں‌اور مہارتوں کو استعمال کرتے ہوئے ایک آدمی کو نہ صرف اس کے معمول کے کاموں کی انجام دہی سے روک دیا بلکہ اس کا دماغ اُلٹا کر کے پاگل بنا دیا۔ پھر ہمارے لیے کیا مشکل ہے کہ ہم پڑھی لکھی اور قرآن و حدیث کے نور سے روشن مہارتوں کو عمل میں‌لاکر کامیاب زندگی گزارنے کی سعی نہ کریں۔
میرا آپ کو مشورہ ہے کہ آپ اچھے ہنر اور مفید مہارتوں سے سے واقفیت بہم پہنچائیں اور پھر انھیں اپنا کر سعادت مندی سے بہرہور ہوں۔ اور آگر آپ مجھ سے یہ کہیں گے کہ میں اپنی زندگی کونہیں‌بدل سکتا تو میں جوابا کہوں کہ کوشش کرکے تو دیکھیں، آپ بدل سکتے ہیں۔
اگر آپ کہیں گے کہ میں وہ طریقے نہیں جانتا تو میں کہوں گا کہ وہ طریقے سیکھ لیں۔ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث نہیں‌سنی:

انما العلم بالتعلم، وانما الحلم بالتحلم

“علم سیکھنے ہی سے آتا ہے اور تحمل اپنانے سے حاص ہوتا ہے۔“

نقطہ نظر

“بہادر وہ ہے جو نہ صرف اپنی مہارتیں‌بہتر بنائے اور اُنھیں ترقی دے بلکہ لوگوں کی مہارتوں کی مرحلہ وار بہتر بنانے اور بعض اوقات اُنھیں بدل ڈالنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہوں۔“

زندگی سے لطف اٹھائیے ۔ محمد العریفی ۔

Friday, June 3, 2016

حکمرانوں کی اقتدار کی ہوس

اقتدار کی ہوس شہزادوں اور بادشاہوں کو اندھا کردیتی ہے،دیوانہ اور سنگدل بھی، لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ اس ہوس کا انجام براہے۔

اقتدار کی ہوس کے باعث جو شام اور مصر کو جلارہے ہیں ، تاریخ سے سبق سیکھیں ،اس ہوس کا انجام برا ہے ۔

مشہور ہے:” اہل یونان نے ایک دیوی بنائی، بہت ہی عمدہ و خوبصورت۔ سفید مرمریں بدن پر تیکھے نقوش کھودے گئے۔ قامت میں نخرا اور کاٹھ میں ایک غرور بھرا۔ دیوی کو اٹھا کر” ایتھنز“ کے مرکزی چوک میں رکھ دیا گیا۔ لوگ جمع ہوئے، سراپا ناز کے حسن اور اعضاءکے توازن پر بے شمار داد دی گئی۔ تحسین کا یہ سلسلہ جاری تھا کہ کسی نے آواز لگائی۔ ”لوگو! دیکھو دیوی کی تو آنکھیں ہی نہیں۔“لوگوں نے چونک کر دیکھا، واقعی آنکھوں کی جگہ ہموار تھی۔ لوگ اعضاءکے توازن اور نقوش کی جادوگری میں اتنے کھو گئے تھے کہ انہیں آنکھوں کی کمی کا احساس ہی نہیں ہوا۔”ارے ارے اس کے تو پاؤں بھی غیر انسانی ہیں۔“ کسی نے ہانک لگائی۔ لوگوں کی نظریں بے اختیار دیوی کے قدموں میں آپڑیں۔ دیوی کے پاؤں نہیں تھے۔ بت تراش نے پنڈلیوں کے فوراً بعد پنکھ تراش دیے تھے۔ چیل کے لمبے لمبے بدصورت پنکھ۔”اوئے اس کا دل....“ مجمعے میں سے آواز آئی۔ سب کی نظریں سینے پر جا الجھیں۔ وہاں عین دل کے مقام پر ایک سوراخ تھا اور اس سوراخ میں لوہے کا ایک بدصورت ٹکڑا۔ لوگ سنگ تراش کو ڈھونڈنے لگے۔ بت ساز حاضر ہو گیا۔ لوگوں نے مذمت شروع کر دی۔ جب لوگ چیخ چیخ کر تھک گئے تو بت تراش نے اداس لہجے میں کہا۔”حضرات! یہ اقتدار کی دیوی ہے۔ اقتدار کی آنکھیں نہیں ہوتی ہیں۔ لہٰذا اقتدار کا پجاری اندھا ہوتا ہے۔ اقتدار کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ لہٰذا ہر وہ شخص جس میں رحم ہو، وہ بھی اقتدار تک نہیں پہنچ سکتا اور حضرات! اقتدار کے پاؤں بھی نہیں ہوتے، یہ اڑتا ہوا آتا ہے اور اڑتا ہوا واپس چلا جاتا ہے۔“





حقیقت یہی ہے کہ اقتدار کی ہوس ہر دور میں انسانوں کو اندھا، سنگدل اور دیوانہ بناتی آئی ہے۔ جس پر اقتدار کا بھوت سوار ہوجائے تو پھراقتدار کو حاصل کرنا اور اسے قائم رکھنا ہی اس کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد بن جاتاہے۔ بہت دفعہ ایسا بھی ہوا کہ اقتدار کے نشے نے بھائی کو بھائی کے سامنے لا کھڑا کیا اور ایک دوسرے کا خون بہانے سے بھی دریغ نہیں کیا گیا۔ مغلیہ دور حکومت میں اورنگزیب عالمگیر سب سے زیادہ پارسا باد شاہ گزرے ہیں، ان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ سلطنت ہند کی سیا ہ و سفید کے مالک ہو نے کے باوجود اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنے ہاتھ سے ٹوپیاں بنتے تھے اور قرآن مجید کی کتابت کر تے تھے۔ ایسے پارسا انسان اورنگزیب عالمگیر کی زندگی کا بھی ایک حصہ اقتدار کے حصول کے لیے اپنے والد شاہجہان اور اپنے بھائیوں مراد بخش ، شجاع اور دارا سے لڑتے گزرا۔


آج تک اقتدار نے کسی کے ساتھ وفا نہیں کی،اقتدار آتا بہت مشکل سے ہے، لیکن جاتے ہوئے پتا بھی نہیں چلتا۔

فرعون کو جب اس کے نجومیوں نے بتایا کہ ایک بچہ تمہارے اقتدار کے لیے خطرہ بنے گا تو فرعون پر یہ بہت شاق گزرا، اپنا اقتدار بچانے کی خاطر اس نے سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بے شمار نومولود بچوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا، لیکن اقتدار اس کا پھر بھی نہ بچ سکا اور فرعون دریا میں ڈوب کر عبرت ناک انجام سے دوچار ہوا۔
  • نمرود کو جب اپنا اقتدار ڈولتا ہوا نظر آیا تو وہ بھی اقتدار کی ہوس میں ایسا اندھا اور دیوانہ ہوا کہ مقرب پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈال دیا،لیکن اس کا اقتدار انتہائی ذلت و رسوائی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
  • فرانس کے بادشاہ لوئی شانزدہم بڑے ٹھاٹھ باٹھ اور شان و شوکت کے ساتھ ایک عرصہ اقتدار پر براجمان رہا،لیکن عوام نے شاہی محل پر حملہ کرکے بادشاہ اور ملکہ کو قید کیا، بعد ازاں دونوں کوموت کی سزادے دی گئی۔
  • عالم اسلام کے دو عظیم فاتح تیمور لنگ اور بایزید یلدرم جب تقریباً آدھی دنیا فتح کرچکے تو بلاشرکت غیرے پوری دنیا کے اقتدار کا مالک بننے کے لیے دونوں نے آپس میں لڑکر لاکھوں مسلمانوں کو خون میں نہلادیا، لیکن برا ہو اس اقتدار کا، یہ پھر بھی جاتا رہا۔
اگرماضی قریب میں جھانکیں تو تاریخ کی گواہی کھل کر سامنے آتی ہے۔
  • ایران کے رضا شاہ پہلوی نے بڑی عیاشی، دبدبے اور جبر کے ساتھ حکومت کی،لیکن اس کا کا انجام عبرت سے لبریز ہے۔
  • اقتدار کی محبت میں غرق حسنی مبارک نے طویل عرصہ تکبرونخوت کے ساتھ مصر پر راج کیا ، لیکن عوام کے ہاتھوں ذلت سے دوچار ہوا۔
  • کرنل معمر قذافی نے نصف صدی جابرانہ طریقے سے لیبیا کے اقتدار کے مزے لوٹے، وہ بھی عوام کے انتقام کا نشانہ بنا۔
  • صدام حسین نے بھی اقتدار کی ہوس میںعراق کو ہائی جیک کیے رکھا۔جب قدرت نے حساب برابر کیا تو صدام حسین کو پھانسی کے پھنداملا۔
  • پرویز مشرف نے زبردستی اقتدار چھینا،اقتدار کو طول دینے کےلئے ہر جائز و ناجائز طریقہ اختیار کیا، لیکن کل کا صدر آج عدالتوں کے چکر کاٹ رہا ہے۔


اقتدار کی ہوس کے باعث جو شام اور مصر کو جلارہے ہیں ، تاریخ سے سبق سیکھیں ،اس ہوس کا انجام برا ہے ۔

کیونکہ جب قدرت کی مار پڑتی ہے تو اقتدار، طاقت، عیش و طرب، حاکمیت اور فرعونیت کاسہ گدائی میں بدل جاتی ہے۔سچ ہے کہ اقتدار کی ہوس ہے ہی بری۔




Saturday, May 28, 2016

درہم، وزن، تاریخ اور فوائد

درہم خالص چاندی کا بنا ہوا سکّہ ہوتا ہے جسکا وزن 2.975 گرام ہوتا ہے۔ وزن کے اعتبار سے سات دینار کا وزن دس درہم کے برابر ہوتا ہے.

ترکی کی سلطنت عثمانیہ میں درہم 3.207 گرام کا تھا۔
1895 میں مصر میں درہم 3.088 گرام کا تھا.

تاریخ 

محمدصلی اللہ عليہ وسلّم کے دور میں چاندی کے ساسانیاور یونانی سکّے استعمال ہوا کرتے تھے، جس کا وزن 3 گرام سے لے کر 5۔3 گرام ہوا کرتا تھا۔ اہل عرب اس کاتبادلہ وزن کے حساب سے کیاکرتے تھے لیکن محمدصلی اللہ عليہ وسلّم نے ایک دینار کا وزن ایک مثقال قرار دیا، جو کہ 72 جو(barley) کے دانوں کے وزن کےبرابر ہوتاہے۔اور جدید معیار وزن کے مطابق اس کا وزن تقریبا 4.25 گرام ہوتاہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں ان سکّوں کو کاٹھا گیا اور اس کے وزن کوایک مثقال تک لایاگیا۔ اور آپ نے ایک معیار قائم کیا کہ سات دینار کا وزن دس دراہم کے برابر ہو۔ لہذا ایک درہم کا وزن تقریبا 2.975 گرام (تقریبا 3 گرام) ہوتاہے۔ حضرت عثمان کے دور میں اس پر بسم اللہ لکھا گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے پہلی مرتبہ اپنے سکّے جاری کئے۔ بعد میں عبدالملک بن مروان نے مسلمانوں میں باقائدہ طورسےاپنے سکّے ڈھالنے شروع کئے۔ جس کاوزن نہایت احتیاط کے ساتھ 2.975 گرام (تقریبا 3 گرام) رکھا گیا۔

معیارِ وزن

درہم کا وزن بھی ایک مثقال سے اخذ کیا گیا ہے۔ جس کا وزن 72 جو(barley) کے دانوں کے وزن کے برابر ہوتاہے، جوکہ 25۔4 گرام کے برابر ہوتاہے۔ حضرت عمر کے قائم کردہ معیارکے مطابق سات دینار کا وزن دس دراہم کے برابر ہو، تو ایک درہم کا وزن تقریبا 2.975 گرام (تقریبا 3 گرام) ہوتاہے۔ اور اس کی خالصیت کم ازکم 22 قیرات (یعنی 7۔91 فیصد) ہونی چاہئیے۔اس لئےجدید اسلامی درہم بنانے والی اکثرکمپنیاں مثلاً عالمی اسلامی ٹکسال، وکالہ انڈیوک نوسنتارہ، ضراب خانہ اسعار سنّت وغیرہ اسی معیار کو استعمال کرتی ہیں۔ 

استعمالترميم

درہم کے بہت سے استعمالات ہیں۔جن میں چند ایک مندرجھ ذیل ہیں۔

بطورِ زر(زر)
بطورِمعیار نصابِ زکوٰۃ
بطورِادائیگی زکوٰۃ
مہر کا نصابِ معیار
اسلامی قوانینِ سزاوجزا (حدود) میں اس کا استعمال

فوائد

چاندی کے درہم کےبہت سے فوائدہیں۔

چاندی کے درہم کے بہت سے فوائد ہیں۔ کیونکہ کرنسی کی قیمت اس کے اندر ہونی چاہیے۔ لہٰذا چاندی کے سکوّں کی اپنی ایک قدر و قیمت ہے جو پوری دنیا میں قابل قبول ہے کیونکہ یہ ایک حقیقی دولت ہے کوئی ردّی کاغذ نہیں۔جدید معاشی نظام سے پہلے جب لوگ آپس میں تجارت کرتے تھے تو وہ جفرافیائی حدود سے آزاد تھے۔ وہ دنیا میں جہاں بھی جاتےتھے سونے اور چاندی کے سکےّ وہاں وزن کے حساب سے قبول کیے جاتے تھے۔ لوگوں کو کوئی تکلیف نہیں ہوا کرتی تھیں۔ ایسا ممکن نہ تھا کہ امریکہمیں بیٹھا کوئی بینکر یا شخص ہندوستان کی پوری قوم کو غلام بناسکے۔ اور اسکے علاوہ یہ بھی ممکن نہ تھا کہافغانستان میں بیٹھا ہوا کوئی شخص اگر تجارت کرے تو یورپ میں بیٹھا ہوا کوئی بینکر اس میں سے اپنا حصّہ نکال لے۔یعنی تجارت حقیقی دولت میں ہوا کرتی تھیں اسی لیے انسان آزاد تھے۔اسکے ساتھ ساتھ لوگ حکومت کے دھوکوں سے بھی آزاد تھے۔ اگر کوئی حکومت یا بادشاہ منڈی میں دولت لانا چاہتا تھا تو اسے سونا یا چاندی کہیں سے ڈھونڈ کر لانا پڑتا تھا۔ ایسا نہ تھا کہ بے دریغ دولت(کاغذی کرنسی)کے روپ میں یکدم منڈی میں ڈال دی جاتی، روپے،ڈالر وغیرہ کی قیمت میں کمی ہوجاتی۔ جسکی سزا عام عوام کو بگتنی پڑتی۔

یعنی اس دور مین جب کوئی حکومت یا بادشاہ ملکی خزانہ لوٹ لیتے ہیں تو پھر انکے پاس سرکاری ملازمین وغیرہ کو تنخواہ دینے کے پیسے(کاغذی کرنسی)کم پڑجاتی ہے تو وہ زیادہ کاغذی کرنسی چھاپ دیتے ہیں تاکہ ملازمین کو تنخواہیں دی جاسکے تو کاغذی کرنسی کی قدر میں کمی ہوجاتی ہے، لہٰذا اگر کسی مزدور نے پچھلے دس سالوں میں ایک لاکھ روپے جمع کئے ہیں۔ تو حکومت کی کاغذی کرنسی کی زیادہ چھپوانی سے اب اسکے ایک لاکھ روپے کی قدر پچاس، ساٹھ ہزار روپے ہوگی۔لہٰذا اس مزدور کی آدھی دولت حکومت نے ہڑپ کرلی اور اس بیچارے کو پتہ ہی نہیں کہ اصل میں کیا ہوا اس کے ساتھ۔. لہٰذا کاغذی کرنسی کے زیادہ چھپوائی کے ذریعے دنیا کی ہر حکومت اپنی عوام کی دولت کو لوٹنے کیلئے استعمال کرتی ہیں۔ اسی لیے اگر کرنسی سونے کی ہو تو حکومت کے لئے ممکن نہیں کہ زیادہ کرنسی کو چھپوا سکےکیونکہ اب کرنسی کاغذ کی نہیں بلکہ سونے کی ہے۔ لہٰذا سونے اور چاندی سے بنے کرنسی سے عوام کی دولت، حکومت اور بین الاقوام ادارہ برائے زر(IMF)کے دھوکوں سے محفوظ رہتیں ہیں۔

اس کے علاوہ چاندی کے دراہم اپنی قیمت ہر دور میں برقرار رکھتی ہے۔ اگر آپ کے پاس سونے اور چاندی کے سکےّ ہو تو آپ خواہ کسی بھی ملک میں چلے جائے تو اس کی قیمت برقرار رہتی ہیں۔ چاہے وہ کوئی بھی دور ہو یا جیسے بھی حالات ہو، جنگ کا زمانہ ہو یا امن کا دور، ملک کی معاشی حالت خراب ہو یا اچھی ہو، ہر حالت میں سونااپنی قیمت کو برقرار رکھتی ہے۔ کیوں کہ سونے سے بنے کرنسی کی وجہ سے، کرنسی کی قیمت و قدر اس کے اندر ہوتی ہے جب کہ کاغذ سے بنی کرنسی کی قدر اس کے اندر نہیں ہوتی بلکہ وہ ایک کاغذ کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ اس لئے اگر ایک انسان سونے اور چاندی کے سکوّں کو زمین میں دبادے اور چھار، پانچ سو سال بعد کوئی شخص اس کو نکالے، تب بھی اس کی قیمت برقرار رہے گی، اور اس کے لئے یہ سکےّ ایک قیمتی خزانے کی شکل اختیار کریں گے۔ اس لئے اگر کسی کو آج سے چھار پانچ سو سال پہلے کے دور کے سکےّ مل جائے تو ہم کہتے ہے کہ اس کو خزانہ مل گیا ہے۔ یہ خزانہ دراصل اس دور کی کرنسی(روپیہ،پیسہ)ہی ہے، جو خزانے کی شکل اختیار کئے ہوئے ہے۔ اب آپ ذرا سوچئے کہ اگر اس دور میں بھی کرنسی کاغذ کی ہوتی تو پھر اس کی قدر ردّی کاغذ کے سوا کچھ بھی نا ہوتی۔ اس لئے اگر انسان سونا لیکر زمین میں دبا دے اور سو سال بعد اسکو نکالا جائے تو اسکی قیمت برقرار رہتی ہے۔ لہٰذا سونے چاندی کی وجہ سے وہ پرانا معاشی نظام پائیدار تھا۔اسکےعلاوہ سونے چاندی کے سکوّں کا یہ فائدہ بھی پہلے حکومتوں اور عوام کو ہوا کرتا تھا کہ اگر کوئی دشمن ملک آپکی کرنسی بنانا چاہتا تھا، تو اسے بھی سونے اور چاندی کے سکےّ ہی بنانے پڑتے تھے۔ اس کے لیے ممکن نہ تھا کہ وہ کوئی بھی ردّی کاغذ چھپوالیتا اور کرنسی کاپی کرلیتا۔

یعنی اس دور میں کرنسی کو دشمن ملک کی معیشت کو تباہ کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ دشمن ملک آپ کی کرنسی کو چھاپ کر آپ کے ملک کے منڈی میں لاتا ہے، تو آپ کے ملک میں کرنسی زیادہ ہوجاتی ہے، جس کی وجہ سے اس کی قدر میں کمی ہوجاتی ہے اور ملک کا پیسہ تباء ہوجاتا ہے، جسکی وجہ سے معیشت خراب ہوجاتی ہے۔ لیکن اس نظام میں یہ ممکن نہیں جہاں کرنسی سونے اور چاندی سے بنی ہو۔چنانچہ دنیا کا سب سے پائیدار معاشی نظام ایک ایسا نظام ہوسکتا ہے جس میں کرنسی کی قدر میں کمی نہ ہو، یعنی کرنسی کی اصل قدر اسکے اندر ہو۔

اس کے علاوہ اگر دشمن ملک آپ کی کرنسی چھاپ لے تو وہ صرف کاغذ کے چند نوٹوں کے بدلے آپ کے ملک کے مارکیٹ سے کوئی بھی چیز خرید سکتے ہیں۔ مثلاً وہ آپکے مارکیٹ سے سونا، چاندی،گندم، وغیرہ ، غرض ہر چیز خرید سکتے ہیں۔ لیکن سونے کی صورت میں یہ ممکن نہیں۔ کاغذی نوٹ جل کر راکھ ہو جاتے ہیں، پٹ جاتے ہیں، پانی لگنے سے خراب ہو جا تے ہیں، وقت کے ساتھ ساتھ خراب ہو جاتے ہیں لیکن سونا اور چاندی نا جل کر راکھ ہو تی ہیں اور نا ہی پانی لگنے سے خراب ہوتی ہیں اور 22 قیرات سونے کا سکّہ جس کی ساتھ تھوڑا سا تانبا ملا ہوا ہو ، کی عمر ساٹھ سال سے زیادہ ہوتی ہیں۔یعنی ساٹھ سال مسلسل استعمال کےبعد شاہد اس کے وزن میں ایک فیصد کمی آ جائے، جس کو واپس ٹکسال لے جا کر اس میں ایک فیصد سونا ڈالنا ہو گا۔ جب کہ کاغذی کرنسی کی عمر دو سے تین سال ہوتی ہیں۔