BEST RESULT

Custom Search

Monday, July 25, 2016

مسلک علماء دیوبند

علماء ِ دیوبند اپنے مسلک اور دینی رخ کے لحاظ سے کلیۃ ً اہل ِ سنت والجماعت ہیں اور اہل ِ سنت کا بھی اصل حصہ ہیں ہندوستان میں یہ سلسلہ قوت کے ساتھ اجتماعی رنگ میں حضرت الامام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی قدس سرہ سے زیادہ پھیلا اور چمکا اس سلسلہ کی وہ کڑی جو آج ہندوستان میں اہل ِ سنت والجماعت کے مسلک کی ترجمان اور رواں دواں ہے علمائے دیوبند ہیں ، جنہوں نے تعلیم وتربیت کے ذریعہ اس سلسلہ کو مشرق سے مغرب تک پہنچایا اور پھیلایا ۔
مسلک ِ دیوبند کو ئی جدید فرقہ نہیں!
علماء ِ دیوبند صرف اہل ِ سنت والجماعت کے اصول وقوانین ہی کے از اول تا آخر پابند رہے ہیں بلکہ ان کے متوارث ذوق کو بھی انہوں نے تھاما اور محفوظ کیا ہے پھر وہ خود رَوقسم کے اہل ِ سنت نہیں بلکہ اوپر ان کا استناد اور سندی سلسلہ ملا ہو اہے اس لئے مسلک کے لحاظ سے نہ وہ کوئی جدید فرقہ ہیں اورنہ بعد کی پیداوار ہیں بلکہ وہی قدیم اہل ِ سنت والجماعت کا مسلسل سلسلہ ہے جو اوپر سے تسلسل اور استمرار اور سند ِ متصل کے ساتھ کابر اً عن کابرٍ چلا آرہا ہے، وقت کے عوامل اور افراط وتفریط نے چونکہ اہل ِ سنت میں مختلف شاخیں پیدا کردیں اور ہر نئی شاخ نے اصل ہو نے کا دعویٰ کیا جودعوے کی حد تک نہ رہا بلکہ اپنے وجود وبقاء کیلئے ہر شاخ نے اصل طبقہ کے خلاف محاذ بناکر اسے غیر اصل اور اپنے کو اصل ثابت کرنے کی جد وجہد کا آغاز بھی کردیا جیسا کہ اصل سے کٹی ہو ئی شاخوں کا طرزِ عمل یہی ہوتا ہے اس لئے حقیقی اصل عوام کی نگاہوں میں مشتبہ ہونے لگی اور بہت سے سوالات اٹھنے لگے مگر اصل بہر حال اصل ہی ہو تی ہے اورمعیار پر کسنے کے بعد اس کی اصلیت پوری طرح کھل کرسامنے آجاتی ہے ۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی تعلق مع اللہ کی ساری نسبتوں کے جامع
اہل ِ سنت والجماعت کے اس اصل طبقے یا علمائے دیوبند کے اس جامع ومعتد ل ترین مسلک جس میں افراط ہے نہ تفریط نہ غلو ہے نہ مبالغہ بلکہ کمال ِ اعتدال اور جامعیت کا جوہر پیوست ہے وہ اس وجہ سے کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے تمام منتسب شعبوں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب تمام ذوات ِ قدسیہ کے تعلق کواپنے مسلک کا رکن بنایا اور انہی کی روشنی میں آگے بڑھتے ہیں کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی تعلق مع اللہ کی ساری نسبتوں کے جامع اور فرد ِ اکمل ہیں ۔
اس اصول کی روشنی میں دیکھا جائے تو شریعت کے تمام علمی وعملی شعبے اور نہ صرف علمی اور شرعی شعبے بلکہ دین کی ساری حجتیں جن سے یہ شعبے اور خود شریعت بنتی ہے وہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے مختلف الانواع نسبتوں کے ثمرات وآثار ہیں مثلاً آپ کی نسبت اسلامی سے عملی احکام کا شعبہ پیدا ہواجس کا اصطلاحی نام ’’فقہ‘‘ ہے آپ کی نسبت ِایمانی سے عقائد کاشعبہ پیدا ہوا جس کا فنی نام ’’ کلام ‘‘ ہے آپ کی نسبت ِاحسانی سے تزکیۂ نفس اور تکمیل ِ اخلاق کاشعبہ پیداہوا جس کا اصطلاحی نام’’ تصوف‘‘ ہے ۔
اہل ِ سنت والجماعت اور مسلک ِ دیوبند کے عناصر ِ ترکیبی
غرض دین کے شعبے ہوں یا حجتیں سب سنت ِ نبوی کی مختلف نسبتوں سے پیدا شدہ ہیں جن کے اصطلاحی نام بعد میں رکھ لئے گئے جب کہ ان کواور ان کے قواعد وضوابط کوسنت ِ نبوی سے اخذ کر کے فنون کی صورت دے دی گئی مگر ان کی حقیقتیں قدیم اور پہلے ہی ذاتِ نبوی سے وابستہ تھیں اس لئے یہ سارے  دین کے شعبے فقہ ،تصوف ،حدیث ، تفسیر ، روایت ، درایت حقائق ، اصول ، حکمت ، کلام اور سیاست وغیرہ  سنت کے اجزاء ثابت ہوئے جن کوعلمائے دیوبند نے جوں کا توں لے کر اپنے مسلک کا رکن بنالیا اور اس مسلک کے عناصر ِ ترکیبی قرار پائے پھر انہی شعبوں کی تحقیقات اور خصوصی مہارت وحذاقت سے اسلام میں خاص خاص طبقات پیداہوئے جواپنے اپنے فن کے مناسب ناموں سے موسوم ہوئے جیسے متکلمین ، فقہاء، صوفیاء ، محدثین ،مجتہدین،اصولیین ،عرفاء ، حکماء اور خلفاءغیرہ ۔
پس جیسے علمائے دیوبند کارجوع ان شعبوں کی طرف یکساں ہے اور کسی شعبہ پر غلو کے ساتھ زورِ دنیا ان کا مسلک نہیں بلکہ ان تمام شعبوں کی طرف ان کارجوع یکساں ہے جبکہ یہ تمام شعبے یکسانیت کے ساتھ ذات ِ بابرکت نبوی سے انتساب رکھتے ہیں ایسے ہی ان شعبوں کی مقدس شخصیتوں کی طرف رجوع اور ان کا ادب واحترام یکساں ہے جب کہ ان میں سے ہر شخصیت کسی نہ کسی جہت سے ذات ِ اقدس ِ نبوت سے وابستہ ہے ۔
جیسا کہ حضرات صحابہ کرام ؓ میں ہر رنگ اور ہر طبقے کے افراد جمع تھے او رایک دوسرے کی عظمت ، ومحبت اورادب واحترام میں بھی انتہائی مقام پر تھے اس لئے امت کے اہل ِ علم وفضل افراد میں افضل ترین اور مقبول ترین ذوات اور اعلیٰ ترین طبقات وہی سمجھے گئے ہیں جن میں ان تمام شعبہائے دین کے اجتماع سے جامعیت کی شان پیداہو گئی ہو اور وہ بیک دم قرآن وحدیث فقہ واصول ، تصوف ، کلام ،روایت ، درایت ،پھر راہِ عمل کے اخلاق میں فقر وامارت، زہد ومدنیت ،عبادت وخدمت ،خلوت پسندی وجلوت آرائی ،بوریہ نشینی وحکمرانی کے ملے جلے احوال وکیفیات سے سرفرازہوئے ہوں۔
مسلک ِ علمائے دیوبند کا مزاج
مسلک علمائے دیوبند محض اصول پسندی کا نام ہے نہ شخصیت پرستی کانہ ان کے یہاں دین اوردینی تربیت کے لئے تنہا لٹریچر کا فی ہے نہ تنہا شخصیت ،نہ تنہا مطالعہ ، نہ اپناذاتی ذہن غور وفکر کے لئے کافی ہے بالفاظ ِ مختصر لٹریچر بشرط ِ معیت وملازمت ِ صدیقین سے اس مسلک کامزاج بنا جس میں کسی ایک کے احترام سے قطع نظر جائز نہیں اور جبکہ جامعیت واعتدال اور احتیاط ومیانہ روی ہی مسلک کا جوہر ہے تودین کے ان تمام شعبوں اور علمی اصول میں قرآن وحدیث سے لے کرفقہ وکلام اور تصوف واصول وغیرہ کی چھوٹی سے چھوٹی جزئی پر جمنا اور حکمت واعتدال کے ساتھ اسے مشعل ِراہ بنانا ہی اس مسلک کا امتیاز ہے۔ ذوات اور شخصیات کی لائن میں حضرات انبیاء کرام علیھم الصلوٰۃوالسلام سے لے کر ائمہ ، صلحاء ،مشائخ صوفیاء اور حکماء کی ذوات ِ قدسیہ تک کے بارے میں افراط وتفریط سے الگ رہ کران کی عظمت متابعت پر قائم رہناہی اس مسلک کی امتیازی شان ہے ۔
عقیدہ ٔتوحید اور مسلک علمائے دیوبند کانقطہ ٔاعتدال
سو اس مسلک میں اصل چیز توحید ِ خداوندی پر زور دینا ہے جس کے ساتھ شرک یا موجبات ِ شرک جمع نہ ہو سکیں اور کسی بھی غیر اللہ کی اس میں شرکت نہ ہو .لیکن ساتھ ہی تعظیم اہل اللہ اور توقیر اہل فضل وکمال کو اس کے نافی سمجھنا مسلک کاکوئی عنصر نہیں پس تعظیم اس حد تک کہ توحید مجروح نہ ہو اور توحید اس درجہ تک کہ تعظیم اہل ِ دل متاثر نہ ہو یہی نقطہ ٔ اعتدال ہے جو مسلک علمائے دیوبند ہے ۔
حضرات انبیاء علیہم السلام اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں دیوبند کامسلک
حضرات انبیاء کرام کے بارے میں نہ تو ان کا مسلک غلو زدہ اور بے بصیرت طبقوں کی طرح ہے کہ خدا اور انبیاء میں کوئی فرق نہیں صرف ذاتی اور عرضی کا فرق ہے (معاذاللہ )یا خدا ان میں حلول کئے ہوئے ہیں اور وہ ایک محض پر دہ ٔ مجاز ہیں جن میں ربانی حقیقت سمائی ہوئی ہے گویا وہ خدا کے اوتار ہیں یاوہ بشر کی عام نوع سے الگ مافوق الفطرت کوئی اور مخلوق ہیں جن میں نوع ِبشری کی مماثلت نہیں بلکہ انبیاء کرام کے بارے میں علمائے دیوبند کامسلک یہ ہے کہ وہ بشر بھی ہیں، نوع ِبشر سے الگ ان کی کوئی نوع نہیں اسلئے جہاں انکی بے ادبی کفر ہے اور عظمت عین ایمان ہے وہیں اس عظمت میں شرک کی آمیزش بھی کفر  ہے ۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بھی علمائے دیوبند کا مسلک وہی نقطہ ٔاعتدال اور میانہ روی ہے جو خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی پیدا کردہ ہے چنانچہ علمائے دیوبند بصدق ِ قلب سید الکونین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو افضل الکائنات افضل البشر اور افضل الانبیاء یقین کرتے ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ آپ کی بشریت کا اقرار کرتے ہیں غلوئے عقیدت ومحبت میں نفی بشریت یا ادعاء ِ اوتار یا پردہ ٔ مجاز وغیرہ کہنے کی جرأت نہیں کرتے ،وہ آپ کی ذات ِ بابرکت کو تمام انبیاء کرام علیھم السلام کی تمام کمالاتی خصوصیات ،خلت ،اصطفائیت ،کلمیت ،روحیت ،صادقیت ، مخلصیت ، صدیقیت وغیرہا کا جامع بلکہ مبداء نبوت انبیاء اور منشاء ولایت اولیاء سمجھتے ہیں ،وہ آپ کی اطاعت ِمطلقہ کو فر ض عین جانتے ہیں لیکن آپ کی عبادت کو جائزنہیں سمجھتے، وہ آپ کو ساری کائنات میں فر د ِ اکمل اور بے نظیر جانتے ہیں لیکن آپ ؐ میں خصوصیات ِ الوہیت تسلیم نہیں کرتے اور اس میں ذاتی اور عرضی کا فرق معتبر نہیں سمجھتے وہ آپؐ کے ذکر ِ مبارک اورمدح وثناء کو عین عبادت سمجھتے ہیں لیکن اس میں عیسائیوں جیسے مبالغے جائز نہیں سمجھتے کہ حدودِبشریت کوحدود ِ الوہیت سے جا ملائیں وہ برزخ میں آپ کی جسمانی حیات کے قائل ہیں لیکن وہاں معاشرت ِ دنیوی کے قائل نہیں وہ اسکے اقراری ہیں کہ آج بھی امت کے ایمان کاتحفظ گنبد ِ خضراء ہی کے منبع ِ ایمانی سے ہورہا ہے لیکن پھر بھی وہ آپ کو حاضر وناظر نہیں جانتے جو کہ خصوصیت ِ الوہیت میں سے ہے وہ آپ کے علم ِ عظیم کو ساری کائنات کے علم سے خواہ ملائکہ ہوں یا انبیاء یا اولیاء بمراتب بے شمار زیادہ اور بڑھ کر جانتے ہیں لیکن پھر بھی اس کے ذاتی اور محیط ہونے کے قائل نہیں ۔
غرض تمام ظاہری وباطنی کمالات میں آپﷺ کو ساری مخلوقات میں بلحاظ ِ کمال وجمال یکتا بے نظیر اور بے مثال سمجھتے ہیں لیکن خالق کے کمالات سے ان کمالات کی وہی نسبت مانتے ہیں جومخلوق سے ہو سکتی ہے خالق کی ذات وصفات اورکمالات سب لا محدود ہیں اور مخلوق کی ذات وصفات اورکمالات سب محدود ہیں۔
صحابۂ کرام ؓکے بارے میں علمائے دیوبند کا مسلک
خدااور رسول نے من حیث الطبقہ اگر کسی گروہ کی تقدیس بیان کی ہے تووہ صرف صحابہ کرامؓ کاطبقہ ہے ان کے سوا کسی طبقہ کو من حیث الطبقہ مقدس نہیں فرمایا کہ کسی طبقہ کی تقدیس کی ہو مگر اس پورے کے پورے طبقہ کو راشد ومرشد ، راضی ومرضی، تقی القلب ، پاک باطن ،مستمر الطاعت ،محسن وصادق اور موعود بالجنۃ فرمایا پھر ان کی عمومی مقبولیت وشہرت کوکسی خاص قرن اوردور کے ساتھ مخصوص اور محدود نہیں رکھا بلکہ عمومی گردانا ۔
علمائے دیوبند نے اپنے اس مسلک میں بھی رشتہ ٔ اعتدال کوہاتھ سے نہیں جانے دیا اور کسی گوشہ سے بھی افراط وتفریط اور غلو کو آنے نہیں دیا ان کے نزدیک تمام صحابہ کرام شرف ِ صحابیت اور صحابیت کی بزرگی میں یکساں ہیں اس لئے محبت وعظمت میں بھی یکساں ہیں .البتہ باہم فرق ِ مراتب بھی ہے ، لیکن یہ فرق چونکہ نفس ِصحابیت کا فرق نہیں اس لئے اس سے نفس ِصحابیت کی محبت وعقیدت میں بھی فرق نہیں پڑسکتا ۔
اسی طرح علمائے دیوبند ان کی عظمت وجلال کی وجہ سے انھیں بلااستثناء نجومِ ہدایت مانتے ہیں اور یہ کہ بعد والوں کی نجات انہی کے علمی وعملی اتباع کے دائرہ میں محدود ہے لیکن انہیں شارع تسلیم نہیں کرتے کہ حق ِ تشریع ان کیلئے ماننے لگیں ۔
صحابہ کرام ؓ پر تنقید اور مشاجراتِ صحابہ ؓ میں مسلک ِ دیوبند
چونکہ ان مقدسین میں کمالِ زہد وتقویٰ اور کمالِ فراست وبصیرت کی وجہ سے جذبات ِمعصیت مضمحل اوردواعی ٔ طاعت مستقل تھے ،معصیت سے وہ ہمہ وقت بیگانہ تھے اور طاعت ِ حق میں یگانہ ایمان وتقویٰ ان کے قلوب میں مزین اور کفر وفسوق ان کے باطن میں مبغوض تر تھا یہی وجہ ہیکہ علمائے دیوبند انہیں غیر معصوم کہنے کے باوجود بوجہ محفوظیت دین کے بارے میں قابل ِ تنقید وتبصرہ نہیں سمجھتے ، ان کے مشاجرات اور باہمی نزاعات میں خطاء وصواب کا تقابل ہے ، حق وباطل یا طاعت ومعصیت کانہیں .اور سب جانتے ہیں کہ مجتہد خاطی کو اجر ملتا ہے نہ کہ زجر ۔ پس ان کا باہمی معاملات میں (جوکہ نیک نیتی اور پاک نفسی پر مبنی تھی)حسب ِ مسلک ِ علمائے دیوبند نہ بد گمانی جائزہے نہ بد زبانی یہ توحید کامقام ہے نہ تنقید کا ’’تلک دماء طھّر اللّٰہ عنھا ایدینا فلانلوّث بھا السنتنا‘‘
(حضرت عمر بن عبد العزیزؒ)

یہی وجہ ہے کہ علمائے دیوبندنے شخصیتوں کے عظمت کے اقرا ر کے ساتھ ان کے صواب کوصواب کہا اور خطاء کو خطاء پھر خطاء کا وہ علمی عذر بھی پیش ِنظر رکھاجو ایک اچھی اور مقدس شخصیت کی خطا ء میں پنہاں ہوتا ہے نیز اس خطاء پر اس کی ساری زندگی کو خاطئانہ قرار دینے کی غلطی نہیں کی ۔
اولیاءاللہ،تصوف اور علمائے دیوبند
اولیائے کرام ،صوفیائے عظا م کا طبقہ مسلکِ علمائے دیوبند کی رو سے امت کے لئے روح ِ رواں کی حیثیت رکھتا ہے، جس سے امت کی باطنی حیات وابستہ ہے جو اہلِ حیات ہے، اس لئے علمائے دیوبند ان کی محبت وعظمت کو ایمان کے تحفظ کے لئے ضروری سمجھتے ہیں مگر غلوکے ساتھ اس محبت وعظمت میں انہیں ربوبیت کامقام نہیں دیتے، ان کی تعظیم شرعاً ضروری سمجھتے ہیں لیکن اس کےمعنیٰ عبادت کے نہیں لیتے کہ انہیں یا ان کی قبروں کو سجدہ ورکوع اور طواف ونذر یا منت یا قربانی کا محل بنا لیا جائے وہ ان کی منور قبروں سے استفادہ اور فیض حاصل کرنے کے قائل ہیں ، لیکن انہیں مشکل کشا ،حاجت روا،دافع البلا ء و الوباء نہیں سمجھتے کہ وہ صرف شان ِ کبریائی ہے۔
مروجہ رسوم ،ایصال ِ ثواب اور مسلک ِ دیوبند
وہ رسوم ِ شادی وغم کو اسوہ ٔ حسنہ اور سلف ِ صالحین کے سادہ اور بے تکلف طریق ِ عمل میں محدود رکھنا چاہتے ہیں ، اغیار کی نقالی یا تشبہ کو قابلِ ردسمجھتے ہیں ،غمی کے رسموں ، تیجہ ، دسواں ، چہلم اور برسی وغیرہ کو بدعت سمجھتے ہیں .اس لئے سختی سے روکتے ہیں ، اور شادی کی مروجہ رسوم کو خلاف ِسنت جانتے ہیں اسلئے انہیں رد بھی کرتے ہیں ۔
وہ ایصالِ ثواب کو مستحسن اور اموات کا حق سمجھتے ہیں مگر اس کی مخصوص صورتیں بنانے کے قائل نہیں ، جنہیں مخصوص اصطلاحات نیاز ، فاتحہ وغیرہ کے وضع کردہ عنوانات سے یا د کیا جاتا ہے ۔
تکمیل ِ اخلاق تزکیۂ نفس اور شریعت وطریقت سے متعلق مسلک ِ دیوبند
وہ تکمیل ِ اخلاق اور تزکیۂ نفس کے لئے حسب ِ سلاسلِ طریقت مشائخ کی بیعت وصحبت کو حق اور طریقت کے اصول وہدایات کی پابندی تجربۃً مفید اور ضروری سمجھتے ہیں ،لیکن طریقت کو شریعت سے الگ کوئی مستقل راہ نہیں سمجھتے جو سینہ بسینہ چلی آرہی ہو بلکہ شریعت ہی کے باطنی اور اخلاقی حصہ کوطریقت کہتے ہیں جو اصلاحِ قلب کا راستہ ہے اور جسے شریعت نے احسان کہا ہے اسلئے کہ اس اصول کو کتاب وسنت ہی سے ثابت شدہ جانتے ہیں .مگر اس لائن کی بے اصولی یا خلاف ِ اصول یا من گھڑت رواجی رسوم کوطریقت نہیں سمجھتے اور ان کے اختیار کرنے کوخلافِ سنت سمجھ کر قابلِ رد سمجھتے ہیں ۔
فقہ اور فقہاء سے متعلق مسلک ِ دیوبند
فقہ اور فقہاء کے سلسلہ میں بھی علمائے دیوبند کا مسلک وہی جامعیت اورجواہر اعتدال لئے ہوئے ہے جو اولیاء ، علماء کے بارے میں انہوں نے اپنے سامنے رکھا جس کا خلاصہ بطور اصول یہ ہے کہ وہ دین کے بارے میں آزادی ٔنفس سے بچنے دینی بے قیدی اور خود رائے سے دور رہنے اور دین کو تشتت اور پراگندگی سے بچانے کے لئے اجتہادی مسائل میں فقہ معین کی پابندی اور ایک ہی امام ِ مجتہد کے مذہب کے دائرے میں محدود رہنا ضروری سمجھتے ہیں اس لئے وہ اور ان کی تربیت یافتہ جماعت فقہیات میں حنفی المذہب ہے لیکن اس سلسلہ تقلید اور اتباع میں بھی اعتدال وجامعیت کی روح سرایت کئے ہوئے ہے جس میں افراط وتفریط کا وجود نہیں نہ تو ان کے یہاں یہ آزادی ہے کہ وہ سلف کے قائم کردہ اصولِ تفقہ اور ان سے استنباط کردہ مسائل ہی کے قائل نہ ہوں اورہر قدم پر اور ہر زمانہ میں ایک نیا فرقہ مرتب کرنے کے خبط میں گرفتار ہوں یا بالفاظ ِ دیگر اپنے فہم ورائے کی قطعیت کے توہّم میں اجتہادِ مطلق کا دعویٰ لیکر کھڑے ہوں۔ اور نہ اس کے برعکس فقہیات میں ایسے جمود اور بے شعوری کے قائل ہیں کہ ان کے فقہی مسائل کی تحقیق وتدقیق یا ان کے مآخذوں کا پتہ چلانے کے لئے کتاب وسنت کی طرف مراجعت کرنا بھی گناہ تصور کرنے لگیں اور ان فقہی استنباطوں کارشتہ بھی قرآن وحدیث سے جوڑنا اور ان کی مزید حجتیں اپنی وسعت ِ علم سے نکال لانابھی خود رائے اور آزادی ٔ نفس کے مترادف باور کریں ۔
پس وہ بلاشبہ مقلد اورفقہ ِ معین کے پابند ہیں مگر اس تقلید میں بھی محقق ہیں جامد نہیں تقلید ضرور ہے مگر کورانہ نہیں پس ایک طرف تو وہ خود رائے اور آزادی ٔنفس سے بچنے کی خاطر نصوص ِ کتاب وسنت کو بنیاد مانتے  ہیں اقوالِ سلف اور ذوق ِ سلف تک کا پابند رہنا ضروری سمجھتے ہیں اور دوسری طرف بے بصیرتی اور کور ذہنی سے بچنے کی خاطر اصول ِ افتاء اور فتاویٰ کو ان کے اصل مآخذوں سے نکلتا ہو ا دیکھنے سے بھی بے تعلق رہنا نہیں چاہتے .غرض نہ تو وہ مجتہدین فی الدین کے بعد اجتہاد ِ مطلق کے قائل ہیں اور نہ ہی جنس ِ اجتہاد کی کلی نفی کرکے فتاویٰ کے حقائق وعلل کے استخراج اور ان کے مؤیدات کے استنباط سے گریزاں ہیں بلکہ تقلید کے ساتھ تحقیق کا ملاجلارنگ لئے ہوئے ہے۔
حدیث اورمحدثین سے متعلق مسلک ِ دیوبند
حدیث کے سلسلہ میں بھی علمائے دیوبند کا مسلک نکھرا ہوا اور صاف ہے اور اس میں وہی جامعیت اور اعتدا ل کا عنصر غالب ہے جو دوسرے مقاصد ِ دین میں ہے بنیادی بات یہ ہیکہ وہ حدیث کو چونکہ قرآن شریف کا بیان اور دوسرے درجہ میں مصدرِ شریعت سمجھتے ہیں اس لئے کسی ضعیف سے ضعیف حدیث کو بھی چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتے بشرط یہ کہ وہ قابل ِ احتجاج ہو حتیٰ کہ متعارض روایات کے سلسلہ میں بھی ان کی سب سے پہلے سعی اخذ وترک کے بجائے تطبیق وتوفیق اور جمع بین الروایات کی ہوتی ہے تاکہ ہر حدیث کسی نہ کسی طرح عمل میں آجائے متروک نہ ہو کیونکہ ان کے نزدیک سلسلہ روایات میں اِعمال اولیٰ ہے اِہمال سے ۔
فہم ِمرادات ِربانی اور تعین مرادات ِنبویﷺ کی اصل
علمائے دیوبند کا مسلک فہم ِمرادات ِربانی اور تعین مرادات ِنبوی میں کیا ہے اور وہ کن اصول سے یہ متعین کرتے ہیں کہ فلاں آیت اور فلاں روایت سے اللہ اور رسولﷺ نے فلاں مطلب کاارادہ کیا ہے کیونکہ فہمِ مراد کے سلسلہ میں جبکہ مختلف مذاق اور طریقے پیدا ہوگئے ہیں جن میں اصل اور حقیقی طریقہ مل کر فی زمانہ کچھ غیر متعارف بلکہ نا قابلِ توجہ ہو گیا ہے ۔
علمائے دیوبندکے مسلک پر ہر فہمِ مراد کا طریقہ نہ خود رائے ہے نہ ادبیت ہے نہ رسم ورواج ہے نہ افسانہ وحکایات ہے او رنہ نظریات ِ زمانہ ہے بلکہ تعلیم وتربیت ہے جس کے وہی دو بنیادی رکن ہیں ایک کتاب وسنت اور ایک روشن ضمیر مربی واستاد اور اس کے ساتھ دو شرطیں. ایک استاد اور ایک تربیت یافتہ ذہنیت ۔
متوارث ذوق کیا ہے ؟ کیوں ضروری ہے ؟
جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ نے اور صحابہ سے تابعین نے تابعین سے تبع تابعین نے اور پھر ان سے قرون ِ مابعد نے سلسلہ بہ سلسلہ کابراً عن کابرٍ اساتذہ کے ساتھ کتاب وسنت کی تعلیم حاصل کی اور فہم ِ قرآن وحدیث میں ان کی تربیت سے وہ متوارث ذوق حاصل کیا جو اوپر والوں کاتھا اور وہی سلف سے خلف تک توارث کے ساتھ آج تک منتقل ہو تا چلا آرہا ہے اور اس ذوق اور تیار کردہ ذہن میں وہ منقولہ مرادیں جو اللہ سے رسول ؐ تک ،رسول سے صحابہ تک ،صحابہ سے تابعین تک ،تابعین سے تبعِ تابعین تک اس کے بعد سے آج کے دور تک سند کے ساتھ آئیں کیونکہ کلام کی بہت سی خصوصیات لب ولہجہ طرز وادا اور طریق ِتکلم اور ہیئت ِ متکلم سے بھی تعلق رکھتی ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ کیفیات ِ کلام اور ہیئتیں کاغذ پر مرتسم نہیں ہوسکتیں پھر مراد کی تعیین میں اوپروالوں کا طرز ِ عمل اور نمونہ ٔ عمل بھی کافی اورد خیل ہے ظاہر ہیکہ عمل کا یہ نقشہ بھی کاغذ اور کالے نقوش میں نہیں سما سکتا مزید یہ کہ دلوں میں ایمانی حرارت کی کیفیات اور عشق ومحبت کے جذبات جو اپنے جذب وکشش سے اتباعِ حق پر ابھارتے ہیں دلوں سے ہی دلوں میں آسکتے ہیں کاغذ اور سیاہ حروف کے راستہ یا کسی اور طریقہ سے منتقل نہیں ہوسکتے اور جب کہ ان سب چیزوں کو تعین ِ مراد میں عظیم دخل بلکہ فہمِ مراد ان پر موقوف ہے اور ان کا تعلق صرف صاحب ِ ذوق اور صاحب ِ عمل اور صاحب ِ طرز شخصیتوں سے ہے کاغذ سے نہیں۔
کتاب اللہ کے ساتھ رجال ا للہ کی ضرورت
اس لئے جو طبقہ ان سارے شخصیاتی موثرات سے کٹ کر محض کاغذ اور لٹریچر کا ہو رہا ہے وہ صرف اپنے ہی نا تربیت یا فتہ نفس اور اپنے ہی خود رَو ذہن کے آزاد تخیلات اور مجر درائے سے مرادات ِ خداوندی کو سمجھنے کی کوشش کرے گا تو ظاہر ہے کہ یہ خود اس کا اپنامفہوم اورخود اس کی اپنی ہی مراد ہوگی خدا کی مراد نہیں ہوسکتی اسلئے یہ فہمِ مراد نہ ہو گا بلکہ وہمِ مراد ہوگااسی لئے جیسا کہ علمائے دیوبند کا اصل مسلک قانون ا ورشخصیت سے مرکب تھا ایسے ہی ان کا تفہیمی مسلک اور فہمِ مراد کا راستہ بھی انہی دو چیزوں سے ہے کتاب اور استاذ اور ان کے ساتھ استناد اور تربیت ِ ذہن وذوق وہ کتاب سے دین کی متعینہ تعبیر لیتے ہیں اور شخصیتوں سے ان تعبیروں کے معانی ومرادات اخذ کرتے ہیں استناد سے ان کارابطہ ذات ِنبوی سے قائم کرتے ہیں اورتربیت سے ذہن کو زیغ سے بچا کراخذ ِ مراد کی استقامت پیدا کرتے ہیں ان میں سے جو رکن بھی گرجائے گا فہم ِ مراد کی عمارت میں اتنا نقص اور کھوٹ پیدا ہو جائے گا جس سے وہ غیر معتبر ٹہر جائیگا ۔
تعلیم ہی اصل ِاصول
بہرحال دارالعلوم کایہ مسلک جامع معتدل اور ہمہ گیر ہے اور اس کے لئے اصل اصول تعلیم کورکھا ہے کیونکہ دین کا ہر شعبہ علم سے ہی وجود پذیر ہوتا ہے جہل سے نہیں تبلیغ یا تصنیف ، تمکین ہو یا سیاست ، تصوف ہو یا ریاضت ،یہ سب علم کی فروعات ہیں جو علم ہی سے وجود پذیر ہوتی ہیں علم نہ ہوتو جہالت کے ساتھ یا ان کاوجود ہی نہیں ہوسکتا یااگر ہوگاتو فتنہ بنے گا .سیاست علم سے کٹ جائے تو پرویزی وچنگیزی ،خطابت علم سے کٹ جائے تو پیشہ ورانہ وعظ گوئی ہے ، تبلیغ کی پشت پر علم نہ ہو تو رسمی تحریک اور رواجی تنظیم ہے جو علم کے لئے مہلک ہے ، تصوف کے ساتھ علم نہ ہو تو رہبانیت اور زندقہ ہے ، بحث ومناظرہ کے پیچھے علم نہ ہو تو گروہی جھڑپ اور دھڑہ بندی ہے السنۂ غیر کی پشت پر علمی مقاصد نہ ہو تو محض فنی ریسرچ یا غرض مندی ہے جس سے دین برپانہیں ہوسکتا بلکہ تلبیس کا فتنہ پھیل سکتا ہے غرض یہ تمام شعبے علم کی فروعات ہیں اور علم کے بغیر فتنے ہیں البتہ اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ان کے بغیر علم بھی طاقتور نہیں ہو سکتا اس کی قوت، وسعت ِ زینت اورتاثیر وتصرف انہی شعبو ں پر موقوف ہے اگر یہ نہ ہو تو علم کا بقاء واستحکام مشکل ہے علم کی زیادتی تو بعد کی بات ہے  پس یہ شعبے تو علم کے بغیر وجود نہیں پا سکتے اور علم ان کے بغیر بقا نہیں پا سکتا دونوں ہی ایک دوسرے کے لئے لازم وملزوم ہیں مگر اصل اصول علم ہے اور اس کے فروعی مقاصد یہ شعبے ہیں اس لئے مسلک ِ علمائے دیوبند میں تعلیم کو جو اہمیت حاصل ہے وہ مستقلاً کسی دوسرے شعبہ کو حاصل نہیں ۔
مسلک کاعملی نقشہ شخصی کیوں نہیں ؟
مسلک کے اس عملی نقشہ کو ادار ہ کی بنیادوں میں لپیٹ کر پیش کیا گیااور اس کا نام بھی نہیں لیا گیاکہ وہ کوئی نقشہ پیش کیا جارہاہے بلکہ ادار ی عمل کی لائنوں سے ذہنو ںمیں جماتے رہے اور عمل کرتے رہے اس لئے افراد بدلتے گئے مگر نقشہ قائم رہااور ان اسلاف کے بعد بھی ان کے اخلافِ رشید نے مسلک کے اسی نقشہ کے مطابق جد وجہد جاری رکھی جس سے دارالعلوم کے راستے تعلیم وتدریس کے عموم کے ساتھ ساتھ کم وبیش یہ تمام شعبے اور عملی نقشے جاری رہے اور ان کے چلانے والے علماء کی پیدا وار بھی بدستور جاری رہی جس سے اس ادارہ کے مسلک کے تحت اس کے مخلص محافظ ہزار ہا علماء ، محدث فقیہ ،متکلم ، خطیب ، واعظ ، مناظر  مفتی ، قاضی ،صوفی ،سیاسی اور محقق پیداہوئے اورہند و بیرونِ ہند میں پھیل کر اعلاءِ کلمۃ اللہ کافریضہ انجام دیا ۔
اس جامع ِمسلک کے عناصرِترکیبی
تو علمائے دیوبند کا یہی وہ جامع مسلک اور طریقۂ عمل ہے جس سے اس جماعت کامزاج جامع بنا اور اسمیں جامعیت کے ساتھ اعتدال قائم ہوا جس سے چند بندھے جڑے مسائل یا خاص خاص فنون یا عملی گوشوں کو لیکر ان میں جمود اختیار کرلینا اور اسی میں اسلام کو منحصر کردینایااسی کو پورا اسلام سمجھ لینا اس کامسلک نہیں بلکہ اس میں تعلیم ، تبلیغ ، تصنیف، سلوک، تذکیر ،اصلاح ،اجتماعیت اورجمعیت اور ساتھ ہی تعلیمی سلسلہ دین کے تمام علمی شعبے کلام، فقہ،تصوف ،حدیث ،تفسیر اصول اور حکمت وغیرہ پھر انداز ِ فکر میں دین کی ایک ایک جزئی پر تصلب اورجمنا مگر اصولِ مذہب کے دائرہ میں رہ کر مسائل وفتوے کے اختلافی اقوال میں ترجیح وانتخاب کی حد تک صلاحیت مند مفکر اہلِ علم کا اجتہاد کرلینا بشرطیکہ اجتہاد اور وسعت ِفکر خود رائے اورذہنی بے قیدی سے خالی ہو ساتھ ہی ہمہ وقت ذکر سے غافل نہ رہنا بشرطیکہ وہ تقشف اور رنگ ِ رہبانیت سے خالی ہو نیز اجتماعیت سے خالی نہ ہونا بشرطیکہ وہ زمانہ کی رسمیات کی نقالی سے خالی ہو وغیرہ یہ سب اس جامع مسلک کے عناصر ِ ترکیبی ہیں اسی طرح ان شعبوں سے متعلقہ طبقات کی شخصیتوں میں سے کسی ایک طبقہ یا ایک شخصیت کو لیکر دوسری شخصیتوں سے منحرف ہوجانا یا ان سے سوءِ ادب اور گستاخی سے پیش آنا بھی ان کامسلک نہیں بلکہ وہ بیک وقت محدثین، متکلمین ، فقہاء،صوفیاء،حکماء،عرفاء،خلفاء، امراء سبھی کے ادب کے جامع اور سب ہی سے استفادہ اور خوشہ چینی کے مقام پر ہیں اس لئے یہ مسلک جامع ِعقل و عشق جامعِ علم ومعرفت ،جامع ِ عمل واخلاق، جامعِ دیانت وسیاست ،جامع ِ مجاہد ہ وجہاد ، جامع ِ درایت وروایت جامعِ خلوت وجلوت ،جامع ِ عبادت و معاشرت ،جامعِ حکم وحکمت جامعِ ظاہر وباطن اور جامع ِحال وقال مسلک ہے نقل وعقل کے لباس میں پیش کرنے کا مکتب ِ فکر اسے حکمت ِ ولی اللہ ہی سے ملا، اصولِ دین کو معقول سے محسوس بنا کردکھلانے کا فکر اسے حکمت ِ قاسمیہ سے ملا ، فروع ِدین میں رسوخ واستحکام پیدا کرنے کا جذبہ اسے قطب الارشاد حضرت رشید احمد گنگوہی ؒؒکی حکمت ِ عملی سے ملا ، سلوک میں عاشقانہ جذبات کا والہانہ جوش وخروش اسے قطب ِ عالم حضرت حاجی امداد اللہ قدس سرہ  سے ملا اورتصوف کے ساتھ اتباع ِ سنت کا شوق وذوق اسے حضرت مجدد الف ِثانی  ؒ اور سید احمد شہید رائے بریلی قدس سرّ ھما سے ملا ،حدیث کے ساتھ فقہ فی الدین کی نسبت اور استناد اسے حضرت شاہ عبد الغنی نقشبندی قدس سرہ سے ملا اس طرح اس مسلک میں جامعیت واعتدال کے یہ سارے عناصر بیک وقت جمع ہو گئے اور اس طرح دین کے مختلف شعبوں کی ظاہری وباطنی نسبتیں مختلف اربابِ نسبت اہل اللہ کی توجہات وتعرفات سے اسے حاصل ہوئیں جنہوں نے ملکر اور یک جا ہو کر ایک مجموعی اور معتدل مزاج پیدا کردیا ۔
دیوبندی مسلک کے متعلق علامہ اقبال کا مقولہ
مسلک علمائے دیوبند کے اس جامع اور معتدل مزاج کو دیکھ کر ڈاکٹر اقبال مرحوم نے دیوبند یت کے بارے میں ایک جامع اور بلیغ جملہ استعمال کیا تھا جو اس مسلک کی صحیح تصویر کھینچ دیتا ہے ان سے کسی نے پوچھا کہ یہ دیوبندی کیا فرقہ ہے ؟ کہا کہ نہیں!   ’’ ہر معقول پسند دیندار کا نام دیوبندی ہے ‘‘
بہر حال اس جامعیت ِ اصول وشخصیات سے پیدا شدہ امتزاج کا نام مسلک ِ علمائے دیوبند ہے اور یہی دیوبندیت یا قاسمیت ہے محض درس ِ نظامی کی کتابیں پڑھنے پڑھانے کا نام دیوبندیت نہیں ۔الحمد للہ الذی بنعمتہ تتم الصالحات
(از: حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب نوّراللہ مرقدہ   ،تلخیص :مولاناسید نذیر احمدصاحب قاسمی)

Friday, July 22, 2016

اردو مکالمہ نویسی برائے طلبہ

مکالمہ نویسی
مکالمہ دو یا دو سے زیادہ آدمیوں کی باہمی بات چیت کو کہتے ہیں۔ اس بات چیت یا گفتگو کے کئی پہلو ہوتے ہیں۔ اسی گفتگو سے ہم ایک دوسرے تک اپنے دل کی بات پہنچاتے ہیں اور ایک دوسرے کے خیالات سے آگاہ ہوتے ہیں۔
مکالمہ زبانی بھی ہوتا ہے اور تحریری بھی۔ اسی سے ایک دوسرے کے جو ہر و کردار کا پتا چلتا ہے اور کسی کردار کی شخصیت کھل کر سامنے آتی ہے۔ یہی مکالمات ڈراما، ناول اور افسانے کی جان ہیں۔ انہی کی کامیابی سے ناول ، افسانہ اور فلم وغیرہ کی کامیابی کی شہرت پھیلتی ہے اور ان ہی سے ہم ایک دوسرے کی قدر و قیمت کا اندازہ کرتے ہیں۔
مکالمہ ایک فطری بات چیت بھی ہے اور مصنوعی گفتگو بھی۔ مگر بہر حال مصنوعی میں فطرت کا لحاظ رکھنا پڑتا ہے۔ روز مرہ بول چال اور لہبہ کے ساتھ اشارات ایک اچھی مکالمے کی جان ہیں۔ الجھائو اور تکلفا نہ گفتگو مکالمے کو بے مزہ کر دیتی ہے۔ موقع گفتگو کے مطابق ہی تاثر متکلم پر بھی پر بھی طاری ہونا چاہیے۔ خیال رکھنا چاہیے کہ گفتگو شرافت و تہذیب کے دائرے سے باہر قدم نہ رکھے۔ مخاطب کے مرتبے اور درجے کا خیال رکھا جائے ۔ ضرورت کے مطابق اشارات کے ساتھ آواز کی نرمی ، سختی، اتار، چڑھائو بھی زیر نظر رہنا چاہیے۔
گفتگو کا انداز ایسا ہونا چاہیے کہ بات سے بات خود بخود نکلتی آئے۔ ایک ہی بات بار بار دہرانے سے بھی گفتگو میں پھیکاپن پیدا ہوجاتا ہے۔
زبان کا روز مرہ کے مطابق ہونا ضروری ہے۔ زبان جس قدر روز مرہ کے مطابق ہوگی، اتنی ہی موثر ہوگی۔ اب ہم چند مکالمے بطور نمونہ درج کرتے ہیں:
مریض اور طبیب
مریض: السلام علیکم ! حکیم صاحب
طبیب: وعلیکم السلام ! تشریف رکھیے۔
مریض: حکیم صاحب!تشریف رکھنا ہی تو مشکل ہے۔
طبیب: کیوں بھئی ایسی کیا تکلیف ہوگئی ہے۔
مریض: تکلیف ہی تکلیف ہے۔ رات بھر پریشان رہا ہوں۔ گھڑی بھر سو نہیں سکا۔
طبیب: تکلیف تو بھئی تکلیف ہی ہے۔ صحت ٹھیک نہ ہو تو چین نہیں آتا۔
مریض: کچھ دوا بھی دیجیے مرا جارہا ہوں۔
طبیب: بیماری بتائو تو دوا دوں۔
مریض: حکیم صاحب! پیٹ میں سخت درد ہے۔ بیٹھے چین آتا ہے نہ للیٹے ۔
طبیب: یہ درد کب سے ہے؟
مریض: آج رات سے ۔
طبیب: رات کیا کھایا تھا؟
مریض : روٹی کا ایک ٹکڑا۔
طبیب: کیا آپ نے پہلے کبھی روٹی نہیں کھائی؟ رات کی روٹی میں کیا خاص بات تھی؟
مریض: رات کی روٹی میں خاص بات یہ تھی کہ وہ جلی ہوئی تھی۔
طبیب: ارے! تم جلی ہوئی روٹی کھاگئے؟
مریض: صرف ایک ٹکڑا کھایا تھا۔
طبیب: اوہو! کیا آپ کی نظر کمزور ہے۔ لیٹ جائو تمہاری آنکھوں میں دارو ڈالتا ہوں۔
مریض: نظر ٹھیک ہے۔ پیٹ میں کچھ ڈالیے تاکہ درد سے جان بچے ۔
طبیب: وعدہ کرو کہ آئندہ جلی ہوئی روتی نہیں کھائو گے۔
مریض: سو بار وعدہ کرتا ہوں ۔ ہائے میرا پیٹ!
(طبیت مسہل کی ایک گولی مریض کو کھلاتا ہے)
مریض: حکیم صاحب! شکریہ۔ درد کم ہو رہا ہے۔ میں جاتا ہوں۔
طبیب: ارے میاں ! دوا کی قیمت تو دیتے جائو۔
مریض: دو اکی قیمت درد سے آرام ہی تو ہے۔
طبیب: دوا کی قیمت دام بھی ہیں، جن سے دوائیں خریدی جاتی ہیں۔
مریض: (دواکی قیمت ادا کر کے) السلام علیکم! حکیم صاحب
طبیب: وعلیکم السلام۔ روٹی کھانے سے پہلے دیکھ لیا کرو کہ جلی ہوئی تو نہیں ۔
(مریض شکریہ ادا کرتا ہوا چلا جاتا ہے)۔
دوکاندار اور خریدار
خریدار: السلام علیکم!
دوکاندار: وعلیکم السلام۔ آیئے تشریف لایئے۔
خریدار: آپ کی دکان میں رومال بھی ہوں گے؟
دکاندار: رومال ہی نہیں جرابیں، بنیانیں، چھتریاں سبھی کچھ ہے۔
خریدار: رومال دکھایئے۔ کوئی سستا سا سوتی ہو۔
دکاندار: یہ دیکھیے رومال ۔ نہایت نفیس اور نرم
خریدار: آپ نے جرابوں کا ذکر کیا تھا۔ وہ بھی دکھایئے۔
دکاندار: رومال کے متعلق کیا فیصلہ ہے۔ کتنے پیش کروں؟
خریدار: جرابیں دکھایئے تو رومال کا فیصلہ بھی ہوجائے گا۔
دکاندار: یہ دیکھیے جرابیں۔ ریشمی ہیں ریشمی۔ کتنے جوڑے پیش کروں۔
خریدار: آپ مال دکھا رہے ہیں قیمت نہیں بتاتے۔ کیا آپ اپنی چیزیں بن داموں بیچتے ہیں؟
دکاندار: ہاں صاحب! بالکل مفت۔ قیمت برائے نام ہے۔ رومال دس روپے کا ہے۔ اور جرابوں کا جوڑابیس روپے کاْ
خریدار: میاں دکاندار! یہ قیمت تو بہت زیادہ ہے۔ ویسے رومال بھی نفیس ہے اور جرابیں بھی۔
دکاندار: ہم اپنے مال کو چند پیسوں کے نفع پربیچتے ہیں۔ کسی اور دکان سے دریافت کر لیں۔ پھر آپ کی تسلی ہو جائے گی۔
خریدار: رومال اور جرابوں کی صحیح صحیح قیمت بتایئے۔ میں کچھ اور چیزیں بھی خریدوں گا۔
دکاندار: صاحب! ہماری دکان کا حساب ’’باٹا‘‘ جیسا سمجھیے۔ ایک زبان ایک دام۔
خریدار: اگر آپ سچ مچ درست کہتے ہیں تو مجھے آپ کی سچائی پر فخر ہے۔ اب سچی دکان چھوڑ کر جھوٹی دکانوں پر نہیں جائوں گا۔
دکاندار: پھر حکم کیجیے۔ آپ کی قدر دانی کا شکریہ!
خریدار: پانچ رومال، پانچ جوڑے جراب، اور ایک چھتری بھی باندھ دیجیے، مگر اچھی سی ہو۔
دکاندار: یہ لیجیے۔ آپ کی تشریف آوری کا شکریہ۔
خریدار: رقم تو آپ نے نہ بتائی نہ وصول کی۔ شکریہ مفت میں دے مارا۔
دکاندار: یہ لیجیے بل! کل ۱۹۰ روپے ہی تو ہوئے۔
خریدار: یہ لیجیے دو سو روپے ۔ اپنی رقم وصول کیجیے اور بقایا دیجیے۔
دکاندار: یہ تو لینے کے دینے پڑگئے۔ اچھا آپ کی خوشی کے لیے یہ لیجیے دس روپے۔ 
دوہم جماعت
ناصر: کہاں جا رہے ہو؟ باسط میاں!
باسط: اخاہ۔ آپ ہیں۔ السلام علیکم۔
ناصر: یہا کیا کہ سر پیر کا ہوش نہیں اور بازار کو بھاگے جارہے ہو۔
باسط: بھائی صاحب! سلام کا جواب تو دیا ہوتا۔
ناصر: وعلیکم السلام۔ سچ مانو تمہیں دیکھ کر سلام کا جواب تک یا نہ رہا۔
باسط: اور اب بھی بے خودی کی کیا بات ہے۔ انگریزی کتاب کا ترجمہ خرید نے جا رہا ہوں۔ انگریزی کمزور ہے نامیری۔
باسط: انگریزی ایسا مضمون نہیں جس کے متعلق پریشان ہونے کی ضرورت ہو۔
ناصر: کیا مطلب؟
باسط: مطلب یہ ہے کہ میں مدد کے لیے حاضر ہوں۔
ناصر: شکریہ دوست! یہ تو بتائو کہ تم کہاں جا رہے ہو؟
باسط: جا کہاں رہا ہوں۔ یہی حساب کا خلاصہ خریدنے ک ارادہ ہے۔
ناصر: حساب میں تمہاری مدد میں کر سکتا ہوں۔
باسط: شکریہ ! مگر یہ دونوں مضمون تیار کیسے ہوں گے اور ہم ایک دوسرے کی مدد کیوں کر کریں گے ۔
ناصر: ہمارے گھر میں آجایا کرو اور حساب کی مشق کر لیا کرو۔
باسط: ٹھیک ہے۔ آئندہ ہم دونوں مل کر سکول کا کام کیا کریں گے اور ایک دوسرے کی مدد سے اپنی کمی پوری کرلیا کریں گے ۔
درزی خانے میں
(شاکر اور ناصر دونوں بھائی درزی خانے میں داخل ہوتے ہیں)
شاکر: السلام علیکم!
درزی: و علیکم السلام۔ کہیے کیسے آنا ہوا؟ کہیں بھول تو نہیں پڑے۔
شاکر: آپ کی طبیعت کیسی ہے ماسٹر جی!
درزی : شکر ہے۔
ناصر: ماسٹرجی ! ییہ کپڑا لیجیے۔ میرا سوٹ یار کر دیجیے۔ شاکر کے لیے دو شلواریں اور ایک قمیض تیار کیجیے۔
درزی: کس حساب سے خریدا ہے یہ کپڑا؟
شاکر: ساٹھ روپے فی میٹر۔
ناصر: میری قمیض کے لیے کتنا کپڑا درکار ہوگا؟
شاکر: اڑھائی میٹر۔ یہ کپڑا تین میٹرہے۔ آدھ میٹر کی واسکٹ بنا دیجیے۔
درزی: جو ارشاد ہو، مگر زمانے کے فیشن کا خیال بھی رکھنا پڑتا ہے نا۔
ناصر: اب ہمارے کپڑے کب تک تیار ہو جائیں گے؟
درزی: صرف پندرہ دن تک ۔ آج پیر ہے اگلا پیر چھوڑ کر آئندہ پیر کو آیئے ان شاء اللہ آپ کے کپڑے تیار ہوں گے۔
شاکر: ماسٹر جی! پیروں کے پھیر میں نہ رکھیے گا۔ ہمارے پاس اتنا وقت نہیں۔
درزی: فکر نہ کریں۔ ہمیں اپنے وقت کی بھی قدر ہے۔ کام آرہا ہے اور ختم ہونے میں نہیں آتا۔ سچی بات بھی کہتے ہیں اور لوگوں کو وعدوں پر بھی ٹرخاتے ہیں۔
ناصر: مگر ہمیں نہ ٹرخانا ورنہ ہماری دوستی بھی ٹرخ جائے گی۔
درزی: نہیں یہ صرف باتیں ہی ہیں۔ بھلا نراوعدوں سے کام چلتا ہے کہیں۔
شاکر: شکریہ ماسٹر صاحب!
درزی: دونوں جوانوں کی آمد کا شکریہ۔
تاریخ پاکستان
(کلاس میں لڑے شور مچا رہے ہیں۔ استاد صاحب کے آتیھ ہی خاموشی چھا جاتی ہے)
استاد: جاوید! بتایئے پاکستان کب وجود میں آیا تھا؟
جاوید: پاکستان ۱۴ اگست ۱۹۴۷ ء کو وجود میں آیا تھا۔
استاد: سب سے پہلے برصغیر پاک و ہند میں اسلامی سلطنت کی بنیاد کس نے رکھی تھی؟
جاوید: محمد بن قاسم نے برصغیر میں اسلامی سلطنت کی بنیادرکھی تھی اور بعد میں آنے والے فاتحوں کے لیے سلطان محمود غزنوی اور محمد غوری نے راستہ صاف کیا تھا۔
استاد: شاباش! محمد بن قاسم نے کس سنہ میں ہندوستان پر حملہ کیا تھا؟
ناصر: ۹۲ھ تھا جب کہ اس نوجوان فاتح نے راجہ داہر کو شکست دے کر سندھ میں اسلامی حکومت قائم کی ۔
استاد: سلطان محمود غزنوی نے ہندوستان پر کتنے حملے کیے اور اسلامی حکومت کو کس قدر و سعت دی؟
باسط: سلطان محمود غزنوی نے ہندوستان پر سترہ حملے کیے اور پنجاب و سندھ کو اسلامی حکومت میں شامل کیا۔
استاد: سلطان محمد غوری نے دہلی کو فتح کیا اور اسلامی سلطنت کا بانی کون تھا؟
شکیل: ہندوستان میں مستقل اسلامی حکومت کا بانی سلطان قطب الدین ایبک تھا۔ اس کے بعد خلیجی ، تغلق، لودھی خاندان حکمران رہے ۔
استاد: مغلیہ خاندان کا بانی کون تھا اور اس دورکے مشہور حکمرانوں کے نام بتایئے؟
قاسم: مغلیہ خاندان کے بانی کا نام ظہیر الدین بابر تھا۔ اس خاندان کے مشہور بادشاہ ہمایوں، اکبر، جہانگیر، شاہجہاں اور اورنگ زیب ہیں۔
استاد: ہندوستان پر ہزار سالہ اسلامی حکومت کا خاتمہ کس بادشاہ پر ہوا؟
ناظم: ہندوستان میں مسلمانوں کی ہزار سالہ حکومت بہادر شاہ ظفر پر ختم ہوئی اور انگریز ہندوستان کے حاکم ہوگئے۔
استاد: پاکستان کس طرح قیام پزیر ہوا؟
نعمان: برصغیر پاک وہندمیں مسلمانوں کی حالت نہایت ابتر ہوگئی تھی۔ انگریز اور ہندو دونوں مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہے تھے۔ علامہ اقبال نے قوم جھنجھوڑا اور پاکستان کا نظریہ پیش کیا۔ جسے قائداعظم محمد علی جناح کی شبانہ روز محنت اور جہدوجہد نے انگریز اور ہندو کو شکست دے کر قائل کر لیا کہ پاک وہند کے وہ علاقے جن میں مسلمانوں کی اکثریت ہے پاکستان کے نام سے آزاد و آباد رہیں۔ چنانچہ ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو پاکستان کے قیام کا اعلان ہوا اور قائداعظم پاکستان کے پہلے حاکم مقرر ہوئے۔ 
ہوٹل میں
(مسٹر حامد اپنے بارہ سالہ بیٹے کے ساتھ ہوٹل میں داخل ہوتے ہیں)
حامد: السلام علیکم!
منیجر: وعلیکم السلام۔ خوش آمدید۔ کیا حکم ہے؟
حامد: مجھے دو بستر کا کمرہ چاہیے۔
منیجر: آج کل مہمانوں کی آمد زیادہ ہے۔ تیسری منزل پر صرف ایک کمرہ خالی ہے۔
حامد: منیجر صاحب! کمرہ صاف ستھرا اور ہوا دار ہوناچاہیے۔
منیجر: ہمارے ہوٹل کا ہر کمرہ نہایت صاف ستھرا ہے۔ آپ اوپر جا کر دیکھ لیں۔
حامد: مجھے آپ کی باتوں پر اعتماد ہے۔
منیجر: آپ کتنے دن تک ٹھہریں گے؟
حامد: صرف دو دن تک۔ ہم مری جارہے ہیں، واپسی پر پھر دو دن ٹھہریں گے۔
منیجر: ۲۸۵نمبر کمرہ کی چابی لیجیے۔ امید ہے کہ ہماری خدمت سے خوش ہوں گے۔
حامد: شکریہ!
بیرا: کیا تناول فرمائیںگے آپ ؟
حامد: طاہر بیٹے! آپ کیا کھائیںگے؟ کھانوں کی فہرست دیکھتا ہے۔
طاہر: دہی پلائو اور شامی کباب۔
حامدـ: بیرے! میرے لیے بھنا ہوا مرغ اور بچے کے لیے ایک پلیٹ پلائو، ایک پلیٹ شامی کباب، دہی اور سلاد لائو۔
(بیرا سب کچھ حاضر کرتا ہے۔ کھانے سے فارغ ہو کر)
حامد: بیرے ! بل لائو۔
بیرا: یہ لیجیے حضور!
حامد: ایک سو پچیس روپے ہوئے سب۔ یہ لو پانچ روپے بخشش۔
بیرا: شکریہ جناب!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکری القلم لائبیری۔ 

Wednesday, July 13, 2016

15 جولائی کو اپنے گھر اور مساجد کے لئے سمت قبلہ کا تعین کریں.

15 جولائی کو اپنے گھر اور مساجد کے لئے سمت قبلہ کا تعین کریں.
چونکہ 27 مئی اور 15 جولائی کو سورج کامیل تقریبا 21.4 درجہ شمالی ہوتا ہے آسمان پر اس کا راستہ بالکل وہی ہوتا ہے جو مکہ مکرمہ کا دائرۃ الارض ہے (دائرۃ الارض کی تعریف آخر میں دیکھیں) چناچہ سورج مکہ مکرمہ کے دائرۃ الارض پر سفر کرتا ہے اس لئے جب مکہ مکرمہ کے نصف النہار کے وقت عین اس کے اوپر سمت الراس (عین سر کے اوپر) پر پہچ جاتا ہے تو سورج اور اورمکہ مکرمہ کے درمیان وہی نسبت قائم ہوجاتی ہے جو چھت پر لٹکے ہوئے بلب اور زمین پر اس کے بالمقابل نقطے پر ہوتی ہے اس وقت سورج کو دیکھ کر یقینی طور پر قبلہ کی سمت معلوم کی جاسکتی ہے ۔
اب یہ سمجھئے کہ وقت کے عالمی معیار  یعنی گرینیچ ٹائم کے مطابق 27 مئی کو 9 بج کر 18 منٹ اور 15 جولائی کو 9 بج کر 27 منٹ پر مکہ مکرمہ میں عین نصف النہار کا وقت ہوتا ہے اور اس وقت سورج مکہ مکرمہ کے سمت الراس پر ہوتا ہے ۔اس وقت جن مقامات میں دن ہو اور سورج انہیں نظر آرہا ہو ایسے مقامات والے سورج کو دیکھ کر سمت قبلہ درست کر سکتے ہیں ، چونکہ ہندوستان کا وقت گرینچ ٹائم سے + 5.30 ساڑھے پانچ گھنٹہ اگے ہے ۔ اس اعتبار سے  پورے ہندوستان میں 27 مئی کو 2 بج کر 48 منٹ اور 15 جولائی کو 2 بج کر 57 منٹ پر اور پاکستان میں 27 مئی کو 2 بج کر 18 منٹ پر اور 25 جولائی کو 2 بج کر 27 منٹ پر سمت قبلہ درست کی جاسکتی ہے ۔ ان تاریخوں سے ایک دن آگے پیچھے بھی تقریبا وقت یہی ہوتا ہے ۔
زمین پر قبلے کا خط کھینچنے کا طریقہ یہ ہوگا کہ کوئی عمودی چیز لکڑی وغیرہ زمین پر گاڑ دیں وقت مذکورہ پر عمودی چیز کا جو سایہ زمین پر پڑے اس پر Scale رکھ کر لکیر کھینچ لیں یہی اس جگہ کا خط قبلہ ہوگا سایہ کا رخ قبلے کی مخالف جانب ہوگا مثلا پاکستان بھر میں عمود کے سائے کا رخ مشرق کی طرف ہوگا اس سائے پر مغرب کی جانب رخ کرلیں تو ٹھیک قبلہ رخ ہوجائیں گے۔ پھر اس سائے کے 90 کے زاوئیے پر ایک اور لکیر لگائیں جو کہ صٖف کی لکیر ہوگی۔ 

اب تصویر کو دوبارہ دیکھیں انشا اللہ سمجھ آجائے گا۔
دائرۃ الارض : زمین پر بننے والا بڑا دائرہ ۔
میل شمس (Declination of Sun) : سورج کا آسمانی خط استوا سے شمالا جنوبا چلنا ’’ میل شمس ‘‘ کہلاتا ہے ۔ اس کو آسانی کے لئے ’’سورج کا عرض‘‘ بھی کہتے ہیں ۔
سمت الراس (Zenith) : کسی مقام کے عین سر کے اوپر آسمان میں موجود فرضی نقطہ ’’سمت الراس ‘‘ کہلاتا ہے ۔

Friday, July 1, 2016

عید کے معمولات و آداب

عیدین کے دن خوشی و مسرت کے دن ہیں، اور ان ایام کیلئے کچھ عبادات، آداب اور عادات بھی ہیں، جن میں سے کچھ یہ ہیں:

1-             غسل کرنا
یہ عمل صحابہ کرام سے ثابت ہے، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ سے ایک آدمی نے غسل کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: "اگر  چاہو تو روزانہ غسل کرو" تو آدمی نے کہا: "نہیں!  جسے غسل کہا جاتا ہے اس کے بارے میں سوال ہے" تو علی رضی اللہ عنہ  نے فرمایا:  "وہ غسل جمعہ کے دن، یوم عرفہ کے دن، عید الاضحی، اور عید الفطر کے دن ہوتا ہے"
اسے امام شافعی نے اپنی "مسند الشافعی" صفحہ: (385) میں ذکر کیا ہے اور البانی رحمہ اللہ نے ارواء الغلیل (1/176) میں اسے صحیح کہا ہے۔

2-              نئے کپڑے زیب تن کرنا

چنانچہ اس بارے میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ :  عمر رضی اللہ عنہ نے بازار سے ریشمی جبہ  خریدا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے اور عرض کیا: "یا رسول اللہ! آپ بھی اس کے ساتھ کا جبہ عیدین اور وفود سے ملاقات کیلئے خرید لیں" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: (یہ ایسے شخص کا لباس ہے جس کا [آخرت میں ]کوئی حصہ نہیں ہے)
بخاری: (906) مسلم: (2068)، امام بخاری نے اس حدیث پر عنوان قائم کرتے ہوئے لکھا ہے: "باب ہے عیدین  پر زیب و زینت اختیار کرنے کے بارے میں"

ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان مواقع میں زیب و زینت اختیار کرنا ان کے ہاں بھی مشہور و معروف تھا" انتہی
" المغنی " ( 2 / 370 )

ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اس حدیث سے  عید کیلئے زیب و زینت اختیار کرنے کا علم ہوتا ہے، اور یہ  بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایسا کرنا ان کے ہاں عام اور مشہور تھا" انتہی
" فتح الباری " لابن رجب ( 6 / 67 )

شوکانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اس حدیث سے  عید کے موقع پر زیب و زینت اختیار کرنے کی دلیل اس طرح لی جاتی ہے  کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کو عید کے دن خوبصورت لباس پہننے  سے منع نہیں فرمایا بلکہ  ممانعت کی تو صرف ریشمی لباس سے  کی" انتہی
" نيل الأوطار " ( 3 / 284 )

اس بات پر عمل صحابہ کرام کے زمانے سے لیکر اب تک  چلا آ رہا ہے۔

ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"بیہقی نے صحیح سند کیساتھ نافع سے بیان کیا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما عیدین کے موقع پر اچھے سے اچھا لباس زیب تن کرتے تھے"

نیز انہوں نے ایک جگہ یہ بھی کہا ہے کہ:
"عیدین کے موقع پر خوبصورت لباس زیب تن  کرنے میں عید نماز کے لئے جانے والے، یا گھر میں بیٹھے رہنے والے، حتی کہ خواتین و بچے سبھی  شامل ہیں" انتہی
" فتح الباری " لابن رجب (6/68 ، 72)

جبکہ کچھ اہل علم کا کہنا ہے کہ : اگر اعتکاف کیا ہو تو پھر عید کیلئے اعتکاف والے کپڑوں میں  ہی جائے، لیکن یہ بات درست نہیں ہے۔

3-             اچھی خوشبو لگانا

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے صحیح ثابت ہے کہ وہ عید الفطر کے دن خوشبو لگایا کرتے تھے، جیسے کہ فریابی کی کتاب: "احکام العیدین" صفحہ: 83 میں موجود ہے۔

ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ : میں نے اہل علم کو  عیدین کے دن  زیب و زینت  اور خوشبو لگانے کو مستحب کہتے ہوئے سنا ہے" ، اسی طرح امام شافعی نے بھی اسے مستحب کہا ہے۔
" فتح الباری" از: ابن رجب ( 6 / 68 )

مذکورہ زیب و زینت  اور خوشبو کا استعمال  خواتین کی طرف سے گھر کی چار دیواری میں خاوند،  محرم اور گھر کی خواتین کے سامنے ہوگا۔

چنانچہ موسوعہ فقہیہ (31/116) میں ہے کہ:
"خوبصورت لباس، بیرونی و اندرونی صفائی ستھرائی،  جسمانی بد بو سے چھٹکارا، وغیرہ دیگر امور میں عید نماز کیلئے جانے والے اور [مجبوری کی بنا پر]گھر میں  رہنے والے تمام افراد کیلئے ہے؛ کیونکہ یہ دن زیب و زینت کا دن ہے، اس لئے تمام کا حکم برابر ہوگا"

4-             تکبیرات کہنا

عید الفطر کے موقع پر عید کا چاند نظر آتے ہی تکبیرات کہنا مسنون ہے؛ کیونکہ فرمانِ باری تعالی ہے:
{ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ}
ترجمہ: تا کہ تم گنتی پوری کرو، اور اللہ تعالی کی کبریائی اسی طرح بیان کرو جیسے اس نے تمہاری رہنمائی کی ہے۔[البقرة : 185]

اس آیت کے مطابق گنتی روزوں کی تعداد پوری ہونے سے مکمل ہوگی ، اور تکبیرات  کا آخری وقت  یہ ہے کہ  جب امام خطبہ کیلئے  آ جائے۔

5-             رشتہ داروں سے ملاقاتیں

عید کے دن رشتہ داروں، پڑوسیوں اور دوستوں  کیساتھ  ملاقات کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، لوگوں میں اس کا اہتمام عام پایا جاتا ہے۔

بلکہ یہ  بھی کہا گیا ہے کہ عید نماز کیلئے آتے جاتے راستہ تبدیل کرنے کا حکم بھی اسی لیے دیا گیا ہے کہ  زیادہ سے زیادہ  لوگوں سے ملاقات ہو۔

بہت سے اہل علم عید نماز کیلئے آتے جاتے  وقت راستہ تبدیل کرنے کو مستحب کہتے ہیں، چنانچہ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ : "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن آتے جاتے راستہ تبدیل کرتے تھے" بخاری: (943)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:
"یہ بھی کہا گیا ہے کہ: تا کہ آپ زندہ اور فوت شدہ رشتہ داروں کے اہل خانہ سے ملیں، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ: صلہ رحمی کیلئے راستہ تبدیل کرتے تھے" انتہی
" فتح الباری " ( 2 / 473 )

6-             مبارکباد دینا

اس کیلئے کوئی بھی اچھے الفاظ استعمال کیے جا سکتے ہیں، اس کیلئے افضل ترین الفاظ " تَقَبَّلَ اللهُ مِنَّا وَمِنْكُمْ" ہیں؛ کیونکہ یہ الفاظ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت ہیں۔
چنانچہ جبیر بن نفیر کہتے ہیں کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام  عید کے موقع پر جب آپس میں ملتے تو ایک دوسرے کو کہتے: " تَقَبَّلَ اللهُ مِنَّا وَمِنْكَ"۔
حافظ ابن حجر نے " فتح الباری " ( 2 / 517 ) میں اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔

مالک رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا:
"عید کی نماز سے واپس آنے کے بعد اگر کوئی  اپنے بھائی سے کہہ دے کہ: " تَقَبَّلَ اللهُ مِنَّا وَمِنْكَ، وَغَفَرَ اللهُ لَنَا وَلَكَ " اور آگے سے جواب میں بھی اسی طرح کے الفاظ کہے تو کیا یہ مکروہ ہے؟ " تو انہوں نے کہا: "یہ مکروہ نہیں ہے" انتہی
" المنتقى شرح الموطأ " ( 1 / 322 )

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"عید کے دن مبارک باد دیتے ہوئے نماز عید کے بعد ایک دوسرے کو یہ کہنا کہ: " تَقَبَّلَ اللهُ مِنَّا وَمِنْكُمْ " یا "اللہ تعالی آپکو بار بار عیدیں نصیب کرے" اس طرح کے دیگر دعائیہ کلمات کہنا ، متعدد صحابہ کرام سے  مروی ہے کہ وہ ایسا کیا کرتے تھے،  ائمہ کرام نے اس بارے میں رخصت ہی دی ہے، جیسے کہ امام احمد کہتے ہیں کہ: "میں کسی کو عید کی مبارکباد یتے ہوئے پہل نہیں کرتا، لیکن اگر کوئی مجھے مبارکباد دے تو میں اس کا جواب دیتا ہوں، کیونکہ جواب دینا واجب ہے"
مبارکباد دینے سے متعلق احادیث میں کہیں بھی حکم نہیں ہے، اور نا ہی اس سے کہیں ممانعت  موجود ہے، اس لئے مبارکباد ینااور نہ دینا دونوں طرح درست ہے"
" مجموع الفتاوى " ( 24 / 253 )

7-             کھانے پینے کا اہتمام

کھانے پینے کا خصوصی اہتمام کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، یہ اہتمام گھر میں یا گھر سے باہر  کسی ہوٹل وغیرہ میں بھی ہو سکتا ہے، تاہم کسی ایسے ہوٹل میں کھانے کا اہتمام نہ کریں جہاں پر شراب نوشی  ہو، یا وہاں  موسیقی کی آواز آ رہی ہو، یا پھر مرد و زن کا مخلوط ماحول ہو۔

کچھ علاقوں میں ایسا بھی ممکن ہے کہ  مرد و زن کے مخلوط ماحول ، اور دیگر شرعی مخالفات سے  بچنے کیلئے زمینی یا سمندری  سفر بھی کر سکتے ہیں۔

نبیشہ ہذلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ایام تشریق کھانے پینے، اور ذکر الہی کے دن ہیں) مسلم: (1141)

8-             جائز تفریح

فیملی کے ساتھ ساحل بری، بحری سفر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اسی طرح  قدرتی  طور پر خوبصورت علاقوں   اور تفریحی پارک وغیرہ  میں بھی جا سکتے ہیں بشرطیکہ وہاں کوئی غیر شرعی امور نہ ہو ں، اسی طرح موسیقی سے خالی ملی نغمے اور ترانے بھی سنے جا سکتے ہیں۔

چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی  ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے ، اس وقت دو چھوٹی بچیاں  جنگ بعاث کے ترانے گا رہیں تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بستر پر لیٹ گئے اور اپنا چہرہ دوسری جانب کر لیا، پھر اس کے بعد ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے مجھے ڈانٹ پلائی اور کہا: "نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شیطان کی بانسریاں؟" اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم متوجہ ہوئے اور فرمایا: (انہیں ترانے پڑھنے دو) ، چنانچہ جب آپ کی توجہ  دوسری جانب ہوئی  تو میں نے انہیں ہاتھ سے اشارہ کیا اور وہ دونوں وہاں سے چلتی بنیں۔

اسی طرح عید کا دن  تھا اور سیاہ فام  لوگ  نیزوں اور ڈھالوں سے کھیل رہے تھے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا یا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی مجھ سے پوچھا تھا: (کیا تم انہیں کھیلتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہو؟) تو میں نے کہا : "ہاں" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کر لیا، میرا گال آپ کے رخسار پر تھا، اور  آپ نے انہیں فرمایا: (بنی ارفدہ [یعنی حبشہ کے لوگو!] اپنے کام میں لگے رہو) تو جب میں تھک گئی تو آپ نے پوچھا: (کافی ہے؟) میں نے کہا: "جی ہاں" تو آپ نے فرمایا: (چلو اب چلی جاؤ) ۔
بخاری: (907) مسلم: (829)

اور ایک روایت میں ہے کہ: عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن فرمایا تھا: (تاکہ یہودیوں کو علم ہو جائے کہ ہمارے دین میں وسعت ہے، بیشک مجھے وسیع ظرف  دین حنیف دے کر بھیجا گیا ہے)
مسند احمد: (50/366) مسند احمد کے محققین نے اسے حسن قرار دیا ہے، اور البانی رحمہ اللہ نے اسے سلسلہ صحیحہ: (4/443) میں "جید" کہا ہے۔

اور نووی رحمہ اللہ نے اس حدیث پر یہ عنوان قائم کیا ہے :
"باب ہے اس بیان میں کہ: عید کے دنوں  میں معصیت سے خالی کھیل کود میں رخصت ہے"

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اس حدیث میں متعدد فوائد ہیں:

عید کے دنوں میں  اہل خانہ  کیلئے ہر قسم کی فراوانی  کریں تا کہ اس کا  دل خوشگوار ہو جائے، بدن کو عبادت سے کچھ راحت دیں، اور آج کے دن [نفلی]عبادت سے دوری بہتر ہے، نیز اس میں یہ بھی ہے کہ: عید کے دنوں میں اظہار مسرت دینی شعائر میں سے ہے"
" فتح الباری " ( 2 / 514 ).

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمارے اور آپ کے نیک اعمال قبول فرمائے، اور ہم سب کو دین و دنیا  کی خیر سے نوازے۔