BEST RESULT

Custom Search

Thursday, August 18, 2016

علماء ومصلحین امت اور ان کے فتنے

*علماء ومصلحین امت اور ان کے فتنے*

از قلم : محدث العصر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ 

سب سے بڑا صدمہ اس کا ہے کہ مصلحین کی جماعتوں میں جو فتنے آج کل رونما ہورہے ہیں‘ نہایت خطرناک ہیں‘ تفصیل کا موقعہ نہیں‘ لیکن فہرست کے درجہ میں چند باتوں کا ذکر ناگزیر ہے:

*1- مصلحت اندیشی کا فتنہ*

یہ فتنہ آج کل خوب برگ وبار لارہاہے‘ کوئی دینی یا علمی خدمت کی جائے‘ اس میں پیش نظر دنیاوی مصالح رہتے ہیں‘ اس فتنہ کی بنیاد نفاق ہے‘ یہی وجہ ہے کہ بہت سی دینی وعلمی خدمات برکت سے خالی ہیں۔

*2- ہر دلعزیزی کا فتنہ*

جوبات کہی جاتی ہے‘ اس میں یہ خیال رہتا ہے کہ کوئی بھی ناراض نہ ہو‘ سب خوش رہیں‘ اس فتنہ کی اساس حب جاہ ہے۔

*3- اپنی رائے پر جمود واصرار*

اپنی بات کو صحیح وصواب اور قطعی ویقینی سمجھنا‘ دوسروں کی بات کو درخور اعتناء اور لائق التفات نہ سمجھنا‘ بس یہی یقین کرنا کہ میرا موقف سو فیصد حق اور درست ہے اور دوسرے کی رائے سو فیصد غلط اور باطل- یہ اعجاب بالرائے کا فتنہ ہے اور آج کل سیاسی جماعتیں اس مرض کا شکار ہیں- کوئی جماعت دوسرے کی بات سننا گوارا نہیں کرتی‘ نہ حق دیتی ہے کہ ممکن ہے کہ مخالف کی رائے کسی درجہ میں صحیح ہو یا یہ کہ شاید وہ بھی یہی چاہتے ہوں جو ہم چاہتے ہیں‘ صرف تعبیر اور عنوان کا فرق یا الا ہم فالا ہم کی تعیین کا اختلاف ہو۔

*4-سوء ظن کا فتنہ*

ہرشخص یا ہر جماعت کا خیال یہ ہے کہ ہماری جماعت کا ہر فرد مخلص ہے اور ان کی نیت بخیر ہے اور باقی تمام جماعتیں جو ہماری جماعت سے اتفاق نہیں رکھتیں‘ وہ سب خود غرض ہیں‘ ان کی نیت صحیح نہیں‘ بلکہ اغراض پر مبنی ہیں‘ اس کا منشاء بھی عجب وکبر ہے۔

*5- سوء فہم کا فتنہ*

کوئی شخص کسی مخالف کی بات جب سن لیتا ہے تو فوراً اسے اپنا مخالف سمجھ کر اس سے نہ صرف نفرت کا اظہار کرتاہے‘ بلکہ مکروہ انداز میں اس کی تردید فرض سمجھی جاتی ہے۔ مخالف کی ایک ایسی بات میں جس کے کئی محمل اور مختلف توجیہات ہوسکتی ہیں‘ وہی توجیہ اختیار کریں گے جس میں اس کی تحقیر وتذلیل ہو‘ کیا ”ان بعض الظن اثم“ ( یقیناً بعض گمان گناہ ہیں) اور ”ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث“ ( بدگمانی سے بچاکرو‘ کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے اور بڑے بڑے جھوٹ اسی سے پیدا ہوتے ہیں) کی نصوص مرفوع العمل ہوچکی ہیں؟․

*6-بہتان طرازی کا فتنہ*

مخالفین کی تذلیل وتحقیر کرنا‘ بلاسند ان کی طرف گھناؤنی باتیں منسوب کرنا۔ اگر کسی مخالف کی بات ذرا بھی کسی نے نقل کردی‘ بلاتحقیق اس پر یقین کرلینا اور مزے لے لے کر محافل ومجالس کی زینت بنانا‘ بالفرض اگر خود بہتان طرازی نہ بھی کریں‘ دوسروں کی سنی سنائی باتوں کو بلاتحقیق صحیح سمجھنا‘ کیا یہ نص قرآنی ”ان جاء کم فاسق بنباء فتبینوا“ الآیة ( اگر آئے تمہارے پاس کوئی گناہ گار خبر لے کر تو تحقیق کرلو) کے خلاف نہیں؟

*7- جذبہٴ انتقام کا فتنہ*

کسی شخص کو کسی شخص سے عداوت ونفرت یا بدگمانی ہے‘ لیکن خاموش رہتاہے لیکن جب ذرا اقتدار مل جاتاہے ‘ طاقت آجاتی ہے تو پھر خاموشی کا سوال پیدا نہیں ہوتا‘ گویا یہ خاموشی معافی اور درگذر کی وجہ سے نہیں تھی‘ بلکہ بیچارگی وناتوانی اور کمزوری کی وجہ سے تھی‘ جب طاقت آگئی تو انتقام لینا شروع کیا‘ رحم وکرم اور عفو درگذر سب ختم۔

*8-حب شہرت کا فتنہ*

کوئی دینی یا علمی یا سیاسی کام کیا جائے‘ آرزو یہی ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ داد ملے اور تحسین وآفرین کے نعرے بلند ہوں‘ درحقیقت اخلاص کی کمی یا فقدان سے اور خود نمائی ورباکاری کی خواہش سے یہ جذبہ پیدا ہوتا ہے‘ صحیح کام کرنے والوں میں یہ مرض پیدا ہوگیا اور درحقیقت یہ شرکِ خفی ہے‘ حق تعالیٰ کے دربار میں کسی دینی یا علمی خدمت کا وزن اخلاص سے ہی بڑھتا ہے اور یہی تمام اعمال میں قبول عند اللہ کا معیار ہے‘ اخبارات‘ جلسے‘ جلوس‘ دورے زیادہ تر اسی سلسلہ کی کڑیاں ہیں۔

*9- خطابت یا تقریر کا فتنہ*

یہ فتنہ عام ہوتا جارہاہے کہ لن ترانیاں انتہا درجہ میں ہوں‘ عملی کام صفر کے درجہ میں ہوں‘ قوالی کا شوق دامن گیر ہے‘ عمل وکردار سے زیادہ واسطہ نہیں۔ ”لم تقولون ما لاتفعلون کبر مقتا عند اللہ ان تقولوا مالاتفعلون“ ۔ ترجمہ:۔کیوں کہتے ہو منہ سے جو نہیں کرتے‘ بڑی بیزاری کی بات ہے اللہ کے یہاں کہ کہو وہ چیز جو نہ کرو “۔ (ترجمہ شیخ الہند) خطیب اس انداز سے تقریر کرتاہے گویا تمام جہاں کادرد اس کے دل میں ہے‘ لیکن جب عملی زندگی سے نسبت کی جائے تو درجہ صفر ہوتاہے۔

*10- پروپیگنڈہ کا فتنہ*

جو جماعتیں وجود میں آئی ہیں‘ خصوصاً سیاسی جماعتیں ان میں غلط پروپیگنڈہ اور واقعات کے خلاف جوڑ توڑ کی وبا اتنی پھیل گئی ہے جس میں نہ دین ہے اور نہ اخلاق‘ نہ عقل ہے نہ انصاف‘ محض یورپ کی دین باختہ تہذیب کی نقالی ہے‘ اخبارات‘ اشتہارات ریڈیو‘ ٹیلی ویژن‘ تمام اس کے مظاہر ہیں۔

*11- مجلس سازی کا فتنہ*

چند اشخاص کسی بات پر متفق ہوگئے یا کسی جماعت سے اختلاف رائے ہوگیا‘ فوراً اخبار نکالا جاتاہے بیانات چھپتے ہیں کہ اسلام اور ملک ‘ بس ہماری جماعت کے دم قدم سے باقی رہ سکتاہے۔ نہایت دل کش عنوانات اور جاذبِ نظر الفاظ وکلمات سے قرار دادیں اور تجویزیں چھپنے لگتی ہیں‘ امت میں تفرق وانتشار اور گروہ بندی کی آفت اسی راستے سے آئی ہے۔

*12- عصبیت جاہلیت کا فتنہ*

اپنی پارٹی کی ہربات خواہ وہ کیسی ہی غلط ہو‘ اس کی حمایت وتائید کی جاتی ہے اور مخالف کی ہربات پر تنقید کرنا سب سے اہم فرض سمجھا جاتا ہے‘ مدعئی اسلام جماعتوں کے اخبار ورسائل‘ تصویریں‘ کا رٹون‘ سینما کے اشتہار‘ سود اور قمار کے اشتہار اور گندے مضامین شائع کرتے ہیں‘ مگر چونکہ ”اپنی جماعت “ کے حامی ہیں‘ اس لئے جاہلی تعصب کی بنا پر ان سب کو بنظر استحسان دیکھا جاتاہے‘ الغرض جو اپنا حامی ہو وہ تمام بدکرداریوں کے باوجود پکا مسلمان ہے اور جو اپنا مخالف ہو‘ اس کا نماز روزہ کا بھی مذاق اڑایاجاتاہے۔

*13- حب مال کا فتنہ*

حدیث میں تو آیاہے کہ ”حب الدنیا رأس کل خطیئہ“ دنیا کی محبت تمام گناہوں کی جڑ ہے‘ حقیقت میں تمام فتنوں کا قدر مشترک حب جاہ یا حب مال ہے‘ بہت سے حضرات ”ربنا آتنا فی الدنیا حسنة“ کو دنیا کی جستجو اور محبت کے لئے دلیل بناتے ہیں‘ حالانکہ بات واضح ہے کہ ایک ہے دنیا سے تعلق اور ضروریات کا حصول- اس سے انکار نہیں‘ نیز ایک ہے طبعی محبت ‘ جو مال اور آسائش سے ہوتی ہے‘ اس سے بھی انکار نہیں‘ مقصد تو یہ ہے کہ حب دنیا یا حب مال کا اتنا غلبہ نہ ہو کہ شریعت محمدیہ اور دین اسلام کے تمام تقاضے ختم یا مغلوب ہوجائیں‘ اقتصاد واعتدال کی ضرورت ہے‘ عوام سے شکایت کیا کی جائے‘ آج کل عوام سے یہ فتنہ گذر کر خواص کے قلوب میں بھی آرہاہے‘ الا ماشاء اللہ! اس فتنے کی تفصیلات کے لئے ایک طویل مقالے کی ضرورت ہے‘ حق تعالیٰ توفیق عطا فرمائے‘ ہم ان مختصر اشاروں کو حضرت رسول اللہ کی محبت کی ایک دعا پر ختم کرتے ہیں:

*”اللہم! رزقنی حبک وحب من یحبک وحب عمل یقربنی الیک‘ اللہم ما رزقتنی مما احب فا جعلہ قوة فیما یحب وما زویت عنی مما احب فاجعلہ فراغاً لی فیما تحب‘ اللہم اجعل حبک احب الاشیاء الیّ من نفسی واہلی ومن الماء البارد“*

Sunday, August 14, 2016

پاکستان بنانے کا گناہ

’’پاکستان بنانے کا گناہ‘‘ اور مولانا مفتی محمودؒ
ازقلم: حضرت مولانا علامہ زاہد الراشدی صاحب
گزشتہ ایک کالم میں قارئین سے وعدہ کیا تھا کہ حضرت مولانا مفتی محمودؒ سے منسوب کیے جانے والے اس جملے کے بارے میں اصل صورتحال کی وضاحت کروں گا کہ
’’ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہیں تھے۔‘‘
یہ بات میرے سامنے ہوئی تھی اس لیے اس سلسلہ میں اصل قصہ کو تاریخ کے ریکارڈ پر لانا اپنی ذمہ داری سمجھتا ہوں۔ لیکن پہلے اس پس منظر کا ذکر ضروری ہے کہ مولانا مفتی محمودؒ کا تعلق اصلاً جمعیۃ علماء ہند سے تھا جس نے قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی۔ جمعیۃ علماء ہند کے ساتھ مجلس احرار اسلام نے بھی تحریک پاکستان کی مخالفت کی تھی اور ہندوستان کی تقسیم سے اختلاف کیا تھا اور روایتی جوش و خروش کے ساتھ کیا تھا۔ جبکہ علماء دیوبند کی ایک بڑی تعداد نے جمعیۃ علماء ہند سے الگ ہو کر جمعیۃ علماء اسلام کے نام سے تحریک پاکستان میں سرگرم کردار ادا کیا تھا۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اس انکار کی ضرورت ہے کہ جمعیۃ علماء ہند اور مجلس احرار اسلام دونوں قیام پاکستان کے خلاف تھیں اور انہوں نے اس کی مخالفت میں اپنی طرف سے کوئی کمی نہیں کی۔ ان جماعتوں کا موقف یہ تھا کہ:
مسلم لیگی قیادت نفاذ اسلام میں سنجیدہ نہیں ہے اور نہ ہی اس کی اہلیت رکھتی ہے۔
قیام پاکستان سے برصغیر کے مسلمان تقسیم ہو جائیں گے اور ایک دوسرے کے کسی کام نہیں آسکیں گے۔
مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد بھارت میں ہندوؤں کے رحم و کرم پر رہ جائے گی۔
جہاں تک نتائج کا تعلق ہے نصف صدی بعد ہمیں انہی نتائج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جن کا اظہار ان جماعتوں کے قائدین تحریک پاکستان کی مخالفت میں خدشات کی صورت میں کیا کرتے تھے۔ چنانچہ مسلم لیگی قیادت کئی بار اقتدار ملنے کے باوجود نفاذ اسلام کی طرف نصف صدی میں کوئی پیش رفت نہیں کر سکی۔ اور برصغیر کے مسلمانوں کی عظیم قوت کے تقسیم ہو جانے کے بعد مسلم لیگی راہنما چودھری خلیق الزمان مرحوم کے اس اعتراف کے بعد مزید کچھ کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی جو انہوں نے سقوط ڈھاکہ کے فورًا بعد ’’اخبار جہاں‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ
’’ہمارے طرز عمل کے باعث برصغیر کے مسلمان تین حصوں میں تقسیم ہوگئے ہیں جو ایک دوسرے کی کسی مشکل میں کام نہیں آسکتے۔‘‘
تاہم اس سب کچھ کے باوجود قیام پاکستان کی مخالفت ایک سیاسی رائے تھی جسے جمعیۃ علماء ہند اور مجلس احرار اسلام کے راہنماؤں نے اپنی انا کا مسئلہ نہیں بنایا۔ بلکہ جب دیکھا کہ مسلمانان ہند نے ان کی رائے کی حمایت نہیں کی اور مسلم لیگ کا ساتھ دیا ہے تو انہوں نے خوش دلی کے ساتھ اس فیصلہ کو قبول کر لیا۔ چنانچہ اس سلسلہ میں کچھ حقائق قارئین کے سامنے لانا ضروری سمجھتا ہوں۔تحریک پاکستان کی مخالفت میں علماء کرام میں سب سے نمایاں تین نام ہیں:
مولانا سید حسین احمد مدنیؒ
امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ
مولانا ابوالکلام آزادؒ
بلاشبہ ان تینوں حضرات نے قیام پاکستان کے خلاف اپنی رائے کو پورے شد و مد کے ساتھ پیش کیا مگر پاکستان بن جانے کے بعد ان کا طرز عمل کیا تھا اسے بھی سامنے رکھ لیجیے۔
حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ سے ان کے پاکستان میں رہنے والے عقیدت مندوں نے آئندہ کے بارے میں راہنمائی طلب کی تو انہوں نے واضح طور پر ہدایت کی کہ پاکستان کی سالمیت و استحکام کے لیے کام کریں اور ماضی کو بھول جائیں۔ مولانا مدنیؒ نے اس سلسلہ میں بڑی خوبصورت مثال دی جو ان کے مکتوب کی صورت میں شائع ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسجد بننے سے پہلے اہل محلہ کا اختلاف ہو سکتا ہے کہ مسجد یہاں بنے وہاں نہ بنے، اتنی جگہ میں بنے اور اتنی میں نہ بنے۔ لیکن جب ایک فریق کی رائے غالب آگئی اور انہوں نے دوسرے فریق کی رائے کے خلاف مسجد بنا لی تو اب یہ مسجد سب کے لیے مسجد ہی ہے۔ اور اس کا احترام اور اس کے تقدس کی حفاظت سب کی ذمہ داری ہے۔
اسی طرح امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے لاہور میں جلسہ عام منعقد کر کے اعلان کیا کہ قوم نے ان کی رائے کو قبول نہیں کیا اس لیے وہ قوم کا فیصلہ تسلیم کرتے ہوئے اس کے حق میں دستبردار ہوتے ہیں، اور اب وہ پاکستان کی سالمیت و استحکام کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے۔ چنانچہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کی پہلی جنگ میں مسلم لیگ کے ساتھ جس جماعت نے جہاد کشمیر کی حمایت میں رائے عامہ کو بیدار کرنے کے لیے سب سے زیادہ کام کیا وہ مجلس احرار اسلام تھی۔
اور مولانا ابوالکلام آزادؒ کے بارے میں بھی یہ بات تاریخ کے ریکارڈ پر آچکی ہے کہ تقسیم ہند کے موقع پر جب ریاستوں کو اس بات کا اختیار ملا کہ وہ اپنی مرضی سے پاکستان یا بھارت میں سے کسی کے ساتھ شامل ہو سکتے ہیں تو بلوچستان کی ریاست قلات کے نواب میر احمد یار خان مرحوم نے بھارت کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا۔ مگر اس کے اعلان سے قبل کانگریسی راہنماؤں سے رابطہ کے لیے اپنے وزیر دربار میر غوث بخش بزنجو مرحوم کو بھیجا تاکہ بھارتی حکومت سے گفت و شنید کے بعد بھارت کے ساتھ قلات کے الحاق کا باقاعدہ اعلان کر دیا جائے۔ میر غوث بخش بزنجو مرحوم دہلی پہنچے تو اس خیال سے پہلے مولانا ابوالکلام آزادؒ سے ملے کہ اس طرح کانگریس کی ہائی کمان کے ساتھ معاملات طے کرنے میں آسانی رہے گی۔ مولانا آزادؒ نے نواب قلات کے فیصلے پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے میر غوث بزنجو کو دوسرے کانگرسی راہنماؤں کے ساتھ ملنے سے روک دیا اور یہ تلقین کر کے واپس بھیج دیا کہ پاکستان بن چکا ہے اس لیے آپ لوگ پاکستان کے ساتھ الحاق کریں اور اسے مضبوط بنائیں۔
مولانا مفتی محمودؒ کا تعلق اسی قافلہ سے تھا اور اپنے ان اکابر کے اسی طرز عمل کے مطابق انہوں نے خود کو پاکستان کی سالمیت و استحکام میں اسلامی نظام کے نفاذ کی جدوجہد کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ اس سلسلہ میں ایک تاریخی واقعہ کا ذکر بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ 1970ء کے عام انتخابات کے بعد جب صدر یحییٰ خان نے پارلیمنٹ کا طلب کردہ اجلاس ملتوی کر دیا اور شیخ مجیب الرحمن نے اس کے رد عمل میں ہڑتال کا اعلان کر کے مشرقی پاکستان کا پورا نظام جام کر دیا تو پاکستان کی تقسیم کا خطرہ حقیقی طور پر بالکل سامنے نظر آنے لگا۔ اس موقع پر معاملات کو سلجھانے کے لیے قومی اسمبلی کی چھوٹی پارلیمانی پارٹیوں نے لاہور میں اجلاس منعقد کر کے فریقین سے مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے وفد میں مولانا مفتی محمودؒ بھی مذاکرات میں شرکت کے لیے ڈھاکہ گئے اور شیخ مجیب الرحمن سے ملے۔
مولانا مفتی محمودؒ نے جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلس شوریٰ میں ان مذاکرات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اور خان عبد الولی خان دونوں شیخ مجیب سے ملے اور ان سے دیگر بہت سی باتوں کے علاوہ یہ بھی کہا کہ:
’’شیخ صاحب! یہ بات یاد رکھیں کہ آپ مسلم لیگی ہیں اور ہم کانگرسی۔ کل آپ پاکستان بنا رہے تھے تو ہم نے کہا تھا کہ نہ بنائیں اس سے مسلمانوں کا نقصان ہوگا۔ اور آج آپ پاکستان توڑ رہے ہیں تو ہم آپ سے یہ کہنے آئے ہیں کہ اسے نہ توڑیں مسلمانوں کو نقصان ہوگا۔‘‘
اس پس منظر میں بعض مجالس میں اس وقت کے وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے ایک بیان کا جواب دیتے ہوئے، جس میں بھٹو مرحوم نے اپوزیشن پر پاکستان کی تقسیم کی ذمہ داری کا الزام عائد کیا تھاا ور مفتی صاحبؒ اس وقت اپوزیشن لیڈر تھے، مولانا مفتی محمودؒ نے کہا تھا کہ:
’’ہم پاکستان کی تقسیم کے ذمہ دار نہیں ہیں، اس کی ذمہ داری تم پر عائد ہوتی ہے۔ ہم تو ہندوستان کی تقسیم کے حق میں بھی نہیں تھے پاکستان کی تقسیم کے کس طرح حق میں ہو سکتے ہیں؟ یہ تقسیم کرنا تمہارا ہی کام ہے، کل بھی ملک تم نے تقسیم کیا اور آج بھی تم نے ملک کو دولخت کیا ہے۔ اگر یہ تقسیم گناہ ہے تو اس گناہ میں ہم نہ کل شریک تھے اور نہ آج اس گناہ میں ہم حصہ دار ہیں۔‘‘
الفاظ اور جملوں کی ترتیب میں کمی بیشی ہو سکتی ہے لیکن میں نے پوری کوشش کی ہے کہ مولانا مفتی محمودؒ نے جو کچھ کہا اس کا پورا مفہوم بیان ہو جائے۔ یہ بات انہوں نے اکتوبر 1975ء کے دورن جامع مسجد نور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں جمعیۃ علماء اسلام کے ملک گیر کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے تفصیل کے ساتھ کی تھی، اور میں اس کنونشن کا اسٹیج سیکرٹری تھا۔ جبکہ بعض دیگر مجالس میں بھی انہوں نے یہ بات کہی جسے یار دوستوں نے اس جملے میں تبدیل کر دیا کہ ’’ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہیں تھے۔‘‘ اور اس کے بعد سے اس بات کو مسلسل دہرایا جا رہا ہے۔
بہرحال علماء کا وہ حلقہ جس نے ایک سیاسی رائے اور موقف کے طور پر پاکستان کے قیام کی مخالفت کی تھی اور اسے جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے مجموعی مفاد میں مفید نہیں سمجھا تھا، انہوں نے پاکستان بن جانے کے بعد نہ صرف اسے خوش دلی کے ساتھ تسلیم کیا بلکہ آج وہی علماء پاکستان کے استحکام و سالمیت اور اسے ایک اسلامی نظریاتی ریاست بنانے کے لیے سب سے زیادہ سرگرم عمل ہیں، اور غالباً تحریک پاکستان کی اصل منزل بھی یہی ہے۔
www.zahidrashdi.org/tanqidat/pakistan-banany-ka-gunah-aur-maulana-mufti-mahmud

Tuesday, August 2, 2016

شیخ العرب والعجم ،شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رح


شیخ العرب والعجم ،شیخ الاسلام  حضرت مولانا سید
حسین احمدمدنی رح۔۔۔۔۔۔ خصائص سیرت پر ایک نظ
(از:ڈاکٹر ابو سلمان شاہ جہاں پوری)
علم وعمل کی دنیا میں عظیم الشان شخصیت کے ناموں کے ساتھ مختلف خصائص وکمالات کی تصویریں ذحن کے پردے پر نمایاں ہوتی ہیں، لیکن شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی علیہ الرحمہ کا نام زبان پر آتا ہے تو ایک کامل درجے کی اسلامی زندگی اپنے ذہن وفکر ، علم وعمل اور اخلاق وسیرت کے تمام خصائص وکمالات اور محاسن ومحامد کے ساتھ تصور میں ابھرتی اور ذہن کے پردوں پر نقش ہو جاتی ہے۔
اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ اسلامی زندگی کیا ہوتی ہے؟ تو میں پورے یقین اور قلب کے کامل اطمینان کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ حسین احمد مدنی کی زندگی کو دیکھ لیجئے اگرچہ یہ ایک قطعی اور آخری جواب ہے لیکن میں جانتا ہوں کہ اس جواب کو علمی جواب تسلیم نہیں کیا جائے گا اور ان حضرات کا قلب اس جواب سے مطمئن نہیں ہو سکتا، جنہوں نے اپنی دور افتادگی وعدم مطالعہ کی وجہ سے یا قریب ہو کر بھی اپنی غفلت کی وجہ سے ، یا اس وجہ سے کہ کسی خاص وذوق ومسلک کے شغف وانہماک ، یا بعض تعصبات نے ان کی نظروں کے آگے پردے ڈال دیئے تھے اور وہ حسین احمد کے فکر کی رفعتوں ، سیرت کی دل ربائیوں اور علم وعمل کی جامعیت کبریٰ کو محسوس نہ کرسکے تھے اور ان کے مقام کی بلندیوں کا اندازہ نہ لگا سکے تھے۔ اس لیے ضروری ہوگیا ہے کہ حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی کے فکر اور سیرت کے بعض خصائص کی طرف قارئین کرام کو توجہ دلاؤں۔
جامعیت علوم وفنون:
حضرت شیخ الاسلام ایک بلند پایہ عالم دین تھے۔ وہ اپنے دور کے بے مثال محدث تھے درس وتدریس اور تحقیق حدیث میں ان کا پایہ بہت  بلند تھا تدریس حدیث میں ان کا ایک خاص اسلوب تھا جس نے انہیں اقران وامثال میں امتیاز بخشا تھا وہ بہت بڑے فقیہ تھے اور انہیں نہ صرف فقہ کے مسائل ازبر تھے بلکہ فقہ وحدیث میں ان کا درجہ ایک محقق اور مجتہد کا تھا وہ مفسر بھی تھے اور نہ صرف حروف وسواد کی رہنمائی میں بلکہ معانی کی گہرائی میں اتر کر قرآن کے بصائر وحکم اور مسائل واحکام کی تشریح وتفسیر فرماتے تھے وہ ایک زاہد شب زندہ دار بزرگ اور اپنے وقت کے ایک عظیم الشان شیخ طریقت تھے انہیں انسان کے امراض نفس وقلب کا پتا چلانے میں حذاقت کا کمال حاصل تھا معالجہ نفس وطبائع اور اصلاح وتزکیہ میں انہیں یدطولیٰ ملا تھا۔ تاریخ عالم میں ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا اور تاریخ معاشیات ہند کے وہ ایک عظیم اسکالر تھے بحر سیاسیات ہندو انقلابات عالم اسلامی کے وہ بے مثل شناور تھے ۔ وہ ایک بلند پایہ مصنف تھے اور افکار کی دنیا میں ہلچل پیدا کردینے اور اپنے عہد کے مشہور خطیب بھی تھے جنگ آزادی میں انہوں نے اپنے جسم وجان اور وقت ومال کی بے مثال قربانیاں دی ہیں وہ ایک صاحب عزیمت شخص تھے ان کی زندگی میں بے شمار مواقع ایسے آئے تھے جب وہ رخصت سے فائدہ اٹھاسکتے تھے لیکن ان کی عزیمت اور بلند ہمتی سے رخصت کی پناہ گاہوں کی پستیوں اور ذلتوں کی طرف کبھی نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ عزائم وقت میں ان کے ذوق فکر وعمل کا پایہ ہمیشہ بلند رہا۔ ذوق میزبانی سے انہیں حصہ وافر ملا تھا وہ اپنے دور کے علماء وامرا اور صوفیہ ومشائخ میں سب سے بڑے مہمان نواز تھے۔ عرب خے حسن طبعیت اور عجم کے سوزدروں سے ان کی طبعیت کا خمیرا ٹھا تھا۔
حضرت شیخ الاسلام کے یہ تمام وہ کمالات ہیں جو حضرت کی صحبت وقربت رکھنے والا ہر شخص محسوس ومعلوم کرلیتا تھا۔ اور آج بھی حضرت کی زندگی کے مطالعے سے بہ آسانی ان خصائص وکمالات کا اندازہ کرلیا جاتا ہے لیکن میں حضرت کے بعض ان کمالات کی طرف آپ کی توجہ دلاؤں گا جن کے وزن وقدر کے اندازے کے لیے علم وسائنس کی اس ترقی یافتہ دنیا میں ابھی تک کوئی میزان اور پیمانہ ایجاد نہیں ہوا ہے۔
اخلاص:
حضرت شیخ الاسلام کے ان کمالات میں سے جو دیکھے اور دکھائے نہیں جاسکتے ۔ البتہ کوئی شخص بے میل ذوق ، متوازن ذہن اور قلب سلیم کی نعمتوں سے نوازا گیا ہو تو وہ حضرت کے ان خصائص وکمالات کو محسوس کرسکتا ہے۔
حضرت کی سیرت کا پہلا عنصر، حسن اخلاص ہے لیکن اخلاص کیا ہے اخلاص ایک جوہر سیرت ہے اس کا بیج قلب کی سرزمین میں پھوٹتا ہے ٍبرگ وبار پیدا کرتا ہے اور اس کی سرمدی مہک سے مشام روح معطر ہو جاتا ہے ۔ اس جو ہر سیرت کو ہم اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھ نہیں سکتے لیکن ذوق بے میل اور قلب سلیم ہو تو اسے خوشبو کی طرح محسوس ضرور کرلیا جاسکتا ہے۔ جوہر اخلاص دادوتحسین سے بے نیاز اور ستائش کی تمنا سے بے پروا ہوتا ہے۔ اخلاص چاہتا ہے کہ صلہ وثواب کی آرزو سے قلب کو پاک کرلیا جائے ۔ حسن اخلاص عشق کے مدعی سے مطالبہ کرتا ہے کہ میری محبت کا دم بھرتے ہو اور میرے قلب وصال کے طالب ہو تو پہلے اپنی ذات کے تمام اغراض سے دس بردار ہو جاؤ اور دنیاوی عیش وراحت کی ہر خواہش کو اپنے دل سے نکال پھینکو۔ غیرت اخلاص انسانی سیرت کی کسی کوتاہی کو برداشت نہیں کرسکتی۔ اخلاص اور لوث وغرض کبھی ایک قلب میں جمع نہیں ہو سکتے۔ صاحب غرض کبھی صاحب اخلاص نہیں ہو سکتا، جو بے غرض ہو تا ہے وہی صاحب اخلاص ہوتا ہے اور جو بے غرض ہوتا ہے وہ بے پناہ ہوتا ہے اور اسے بہ قول ایک عارف کے تلوار بھی نہیں کاٹ سکتی۔
حضرت شیخ الاسلام بے غرض تھے۔قوم وملت کی خدمت کو شعار بنا یا اور تحریک آزادی کی راہ میں قدم رکھا تو پہللے اپنے قلب کو غرض سے پاک کرلیا تاکہ کوئی تلاور انہیں کاٹ نہ سکے۔ حیدر آباد (دکن) کے وظیفے کی رشوت ہو یا کسی سرکاری مدرسے (مثل مدرسۂ عالیہ کلکة) کی پرنسپل شپ کی پیشکش ہو یا جامعہ ازہر (مصر) کے منصب بلند کا لالچ ہو ۔ حالات کی سنگینی کا خوف ہو یا خاندان کے مستقبل کا اندیشہ ، انہوں نے ہر خوف وحزن سے اپنے قلب کو پاک کرلیا تھا۔ اگر انہوں نے دارالعلوم میں کوئی مقام حاصل کیا تھا یا جمعیة علمائے ہند کی صدارت کو قبول کرلیا تھا تو صرف کسی کو اگر بڑھتے اور ذمہ داری اک بوجھ اٹھاتے نہ دیکھ کر، اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کا میدان خالی پاکر اور غلام ملک میں استعمار واستبداد کے عذاب سے سسکتی انسانیت کو نجات دلانے کے  لئے صرف اپنے اسلامی اور انسانی فرض کی ادائیگی کے لیے قدم آگے بڑھایا تھا۔ اگر چہ حضرت کا اخلاص تیس سال سے زیادہ عرصے تک آزمائش کی کسوٹی پر بار بار پرکھا جاتا رہا تھا اور آپ کے اخلاص کا سونا ہر دفعہ زر خالص ثابت ہو چکا تھا، لیکن ابھی آزمائش کا ایک مرحلہ باقی تھا یہ مرحلہ ملک کی آزادی کے بعد اس وقت پیش آیا جب حضرت کی خدمت میں ملک کا سب سے بڑا سول اعزاز پدم بھوشن پیش کیا گیا اگرہندوستان میں چند حضرات اس کے مستحق تھے تو  حضرت اس اعزاز کا سب سے زیادہ استحقاقق رکھتے تھے یہ حضرت کی عظیم الشان قومی خدمات کا صلہ نہیں، اعتراف تھا یہ اعزاز حکومت یا انتظامیہ کی طرف سے نہیں تھا بلکہ قوم کی جانب سے ملک کو آزادی اور قوم کو غلامی واستبداد کے عذاب سے نجات دلانے میں ان کی خدمات کے لئے اظہار تشکر تھا اس کو قبول کرلینے کے جواز میں، ایک سو ایک دلیلیں پیش کی جاسکتی تھیںا ور آج بھی کہ ملک کی آزادی کو نصف صدی پوری ہونے والی ہے اور ایک قرن آپ کی وفات حسرت آیات پر بھی گزر چکا ہے ، اس اعزاز کے لیے آپ کے استحقاق اور جواز کے با میں دورائیں نہیں ہو سکتیں آپ کو  معلوم ہے کہ حضرت شیخ الاسلام نے قوم کی ا س پیش کش اعزاز کا کیا جواب دیا تھا؟ کیا یہی جواب نہ تھا کہ میں نے جو کچھ کیا وہ اسلام کے ایک شرعی حکم اور ملکی فرض کی ادائیگی کے لیے تھا صلہ دستائش کی آرزو، اعتراف خدمت کے جذبے اور کسی اعزاز ومنزلت کے لیے نہ تھا۔
اسقامت:  حضرت شیخ الاسلام کی سیرت کی ایک خوبی وہ ہے جسے ہم استقامت سے موسوم کرتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ ایک شخص اپنے معتقدات وافکار میں نہایت مخلص ہو سکتا ہے لیکن اخلاص کے لیے یہ لاز م نہیں ہوتا کہ اس میں استقامت بھی ہو، یہ بات بالکل اسی طرح ہوتی ہے کہ جس طرح ایک صاحب استقامت کے لیے ضروری نہیں ہوتا کہ وہ راہ حق وصواب پر بھی ہو۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص اپنے فکر میں مخلص ہوتا ہے لیکن وہ راہ حق وحریت کے شدائد ومصائب کو برداشت نہیں کرسکتا۔ اگر آپ چاہیں تو رہروان جادۂ حق وحریت کو ان کے ذوق فکر وعمل کے لحاظ سے اس طرح تقسیم کرسکتے ہیں ۔
١۔   وہ حضرات جو فکر صحیح رکھتے ہیں یعنی  حق پسند ہوتے ہیں لیکن راہ عمل وسعی کے شدائد اور اعلان حق کے نتائج سے اس درجہ خوف زدہ ہوتے ہیں کہ لسان حق کا اعتراف واعلان نہیں کرسکتے۔
٢۔  وہ حضرات جو فکر صحیح بھی رکھتے ہیں اور لساناً حق کا اعتراف واعلان بھی کردیتے ہیں لیکن آزمائش کی کسوٹی پر  پورے نہیں اترتے اور
٣۔  وہ حضرات جو حق شناس بھی ہوتے ہیں ، اعلان واظہار حق سے بھی ان کی زبانیں بند نہیں رہتیں اور جب اس راہ کی مشکات پیش آتی ہیں انہیں خوف زدہ کرنے کے لیے پھانسی کے تختے لگا دیئے جاتے ہیں، آزمائش کی صلیبیں کھڑی کردی جاتی ہیں اور تعذیر وتعذیب کے لیے زندانوں اور کال کوٹھریوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ پھر انہیں متاثر کرنے کیلئے ان کے سامنے سے انعام یافتہ انسان نما حیوانوں کی قطاریں گزاری جاتی ہیں۔ پھر ان سے دریافت کیا جاتا ہے کہ بتاؤ حالات ووقت میں سچائی کا راستہ کون سا ہے؟ لیکن وہ نہ تو کسی چیز سے متاثر ہوتے ہیں،نہ کسی بات سے خوفزدہ ہوتے ہیں اور نہ کسی عمل سحر سے دھوکہ کھاتے ہیں۔ ان کا جواب ایک ہی ہوتا ہے کہ تو اپنی طاقت وقوت سے دھوکہ کھاتے ہیں۔ ان کا جواب ایک ہی ہوتا ہے کہ تو اپنی طاقت وقوت سے دھوکا نہ کھا۔ اقدار کا گھمنڈ نہ کر، انسانوں پر ظلم سے باز اور باطل اور غلامی کے مقابلے میں حق وآزادی کے انتخاب کا حق ان سے نہ چھین۔
حضرت شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رہروان جادۂ حق وحریت کی اس آخری جماعت کے رہنما تھے۔ آپ جانتے ہیں کہ کسی طاقت کی طرف سے کسی عہدہ ومنصب کی پیشکش سیدھی انگلی سے گھی نکالنے کی کوشش کا نام ہے اقتدار کے راستے سے کسی کو ہٹانے کی کوشش کا یہ پہلا مرحلہ ہوتا ہے پس ضروری ہے کہ اگر گھی سیدھی انگلیوں سے نہ نکلے تو انہیں ٹیڑھا کرلیا جائے اور اگر پہلے مرحلے میں کامیابی نہ ہو تو قیدوبند اور تعزیر وتعذیب کے دوسرے مرحلے کا آغاز کردیا جائے حضرت شیخ الاسلام کی پوری زندگی تاریخ کی روشنی میں دنیا کے سامنے ہے جسے دیکھنے کے لیے کسی باطنی بصیرت کی ضرورت نہیں ، ظاہری آنکھوں سے دیکھ اور پڑھ لیا جاسکتا ہے کہ قیدو بند اور تعزیر وتعذیب کے ہر مرحلے میں آپ کی استقامت غیر متزلزل رہی۔ جس طرح حکومت کی کوئی پرفریب پیش کش آپ کے اخلاص کو متزلزل نہ کرسکی تھی۔ اسی طرح تعذیر وتعذیب کا خوف آپ کے پا ثبات کو اس کی جگہ سے نہ ہلا سکا۔
آپ میں سے بعض حضرات شاید اس بات میں شک کریں کہ ایک دور میں ایک جماعت کی طرف سے حضرت کے خلاف جو ہنگامہ برپا کیا گیا تھا اسے ملک کے خان بہادروں، نوابوں ، جاگیرداروں کی سرپرستی اور حکومت کی پشت پناہی حاصل تھی لیکن اس بات کو تو بہر حال آپ تسلیم فرمائیں گے کہ کسی صاحب اخلاص ودیانت کا دنیا بھر کو راضی رکھنا اور خوش کرنا ممکن نہیں ۔ ممکن ہے ایک بڑی جماعت کو وہ اپنے اخلاص ودیانت کا گرویدہ بنالے لیکن افراد کی ایک چھوٹی سی چھوٹی جماعت اس کی مخالف ضرور رہ جائے گی۔  ہم تسلیم کرتے ہیں کہ افراد کی اس چھوٹی سی جمعیة کا تعلق اس خاص جماعت کے نظام فکر سے نہ تھا جس کے وہ واقعی رکن یا کارکن تھے لیکن سوال یہ ہے کہ اختلاف وناراضگی کی صورت میں ان کا رویہ کیا ہونا چاہئے تھا؟ آپ اس سوال کا جواب دینے کی زحمت نہ اٹھائیے۔ لیکن یہ ضرور سوچئے کہ مخالفت اور توہین وتضحیک کے اس طوفان بے تمیزی میں حضرت شیخ الاسلام کی استقامت کا کیا عالم رہا؟
خواہ آپ زبان سے اس کا اقرار نہ رکیں لیکن آپ کا دل گواہ دے گا کہ آزمائش کے اس مرحلے میں بھی جو حکومت کی طرف سے قیدوبند او ر تعزیر وتعذیب کی صورت میں پیش آیا ہو، خواب کسی جماعت کے کارکنوں کی طرف سے غیر شریفانہ مخالفت اور تضحیک وتوہین کی صورت میں نمایاں ہوا ہو، حضر ت شیخ الاسلام کا اخلاص بے عیب اور استقامت بے داغ ثابت ہوتی ہے۔
جامع مذہب وسیاست : 
حضرت شیخ الاسلام کی ایک خوبی علم وعمل ، دین وسیاست، تصور وحقیقت، روزوشب کے معمولات اور ملی قومی تقاضوں، واجبات دنیا وفکر آخرت کا حسن امتزاج و توازن اور کمال جامعیت ہے۔
ہماری تاریخ بڑے بڑے اصحاب علم سے ، عظیم مدبروں اور مفکروں سے ، نہایت ذہین افراد سے ملک وقوم کے بڑے بڑے خدمت گزاروں ، نہایت دین داروں، شیرف دنیا پرستوں سے، عدیم المثال شاعروں سے ، سراپا عمل مجاہدوں سے ، شب زندہ دار زاہدوں اور عابدوں سے اور اپنے علم وعمل سے یا اپنے ذہن کی فکر پیمائیوں اور تخیل آفرینیوں سے ایک دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈالنے والوں سے کبھی خالی نہیں رہی لیکن حضرت شیخ الاسلام کے توازن وجامعیت کی شخصیت کی دید کے لیے چشم نرگ کو صدیوں تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔
حضرت شیخ الاسلام علم وعمل کی جامعیت کی مثال تھے۔ وہ عالم تھے مگر فکرو فلسفہ کی گھتیاں ہی نہ سلجھاتے رہے، عملی زندگی کے تقاضوں کو بھی ملحوظ رکھا۔ زندگی کے میدان میں ان کی شخصیت سراپا عمل نظر آتی ہے لیکن علم وفکر کی دنیا سے ان کا رشتہ اس وقت بھی قائم ہوتا تھا دین کے واجبات اور سیاست کے فرائض میں ایک ایسا حسین توازن پیدا کیا تھا کہ خالص سیاسی ہنگاموں اور ہجوم افکار واعمال میں  بھی فرائض وسنن تو کیا مستحبات بھی نہ چھوٹتے تھے آپ کی ذات گرامی تصور وحقیقت کا مجمع البحرین تھی روزوشب کے معمولات میں فی اللیل رہبان وفی النھار فرسان کی مثال تھے۔ حضرت دین وسیاست کی تفریقی کے قائل نہ تھے لیکن آپ کے موازن فکر اور جامع سیرت کا کمال یہ تھا کہ قوم اور ملت کا ہر تقاضا اور ہر کام اپنے وقت پر اور اپنے دائرے میں صحیح طور پر انجام پاتا رہا ۔
وہ انسان جو اپنا جی جان اور خاندان کنبہ رکھتا ہے ان کے واجبات اور ذمہ داریوں سے کیوں کر چھٹکارا پاکستا ہے، بچوں کی پرورش ان کی تعلیم وتربیت اور ان کی زندگی کی ضروریات واحتیاجات بعض اوقات انسان کو فکر آخرت سے غافل بھی کردیتی ہیں لیکن ٹھیک اسی طرح آخرت کی فکر اورعبادت وریاضت کا ذوق وانہماک بھی دنیاوی واجبات وفرائض میں غفلت اور کوتاہی کا موجب ہوتا ہے جام شریعت اور سندان عشق سے کھیلان اور دونوں کے حدود برقراررکھنا ، ہر مدعی اتباع شریعت اور حقوق عبادودنیا کے فہم ادراک کا ذوق رکھنے والے  کے لیے ممکن نہیں رہتا لیکن حضرت شیخ الاسلام کے لیے جام وسندان کا یہ ملاپ محض ایک کھیل تھا۔ حضرت کا کمال یہ تھا کہ وہ ایک کامل درجے کی دینی واسلامی زندگی اور اس کے تمام ظاہری وباطنی لوازم کے ساتھ سیاست کے بحر مواج میں تختہ بندی کا عزم لے کر اترے تھے اور اس کے پانی کی ایک چھینٹ سے اسلامی شرعی زندگی کو آلودہ اور دامن تر کیے بغیر وہ زندگی کے آخری سفر پر روانہ ہوگئے۔
فیضان سیرت کا ایک خاص پہلو:
اب میں حضرت شیخ الاسلام کے فیضان سیرت کے ایک خاص پہلو کی طرف آپ کی توجہ دلاناچاہتا ہوں۔
آپ جانتے ہیں کہ کسی خاص کمیونٹی کے مفادات کی بات کرنا، اس میں مذہبی عصبیت پیدا کرنا، اس کے افراد کو منظم کرنا، انہیں خاص انداز سے تعلیم دینا ، ان کی تربیت کرنا اور اس  کمیونٹی کے سامنے ایک نصب العین رکھنا اور اگر پہلے سے کوئی نصب العین ہو جو فراموش کردیا گیا ہو تو اسے یاد دلانا اور اس کے لیے جان ومال کی قربانی اور وقت کے ایثار کی دعوت دینا اور اسی ذریعے کو اس کی ہر طرح کی کامیابی کا ضامن قرار دینا عام طور پر فرقہ واریت کہلاتا ہے اور کسی سوسائٹی میں فرقہ واریت کی زہر ناکی اور سمیت اس کی زندگی اس کی جمعیة اور امن وسکون کے لیے تباہی اور ہلاکت کا جو سروسامان اپنے اندر رکھتی ہے اس پر کسی بحث کی ضرورت نہیں ۔ حضرت شیخ الاسلام کی زندگی آپ کے سامنے ہے اس کا یہ پہلو چھپا ہوا نہیں کہ حضرت نے مسلمانوں کے ملی اورفرقہ وارانہ مفاد کو ہمیشہ پیش نظر رکھا۔ مسلمانوں میں مذہبی عصبیت پیدا کی۔ ان میں اسلامی زندگی پیدا کرنے کی تلقین کی۔ رضائے الٰہی اور اتباع سنت کو زندگی کا نصب العین بنانے اور اسلامی فکروسیرت کو اپنانے کی دعوت دی اور اسلام اور صرف اسلام کے لیے جان ومال اور وقت کے ایثاروقربانی کا جذبہ پیدا کرنے کے زندگی بھر داعی رہے جمعیة کے نظام کو مستحکم کرنے یعنی مسلمانوں کی بہترین خدمات انجام دیںے کے لیے رضا کاروں کے ایک مستحکم نظام کی ضرورت کو محسوس کیا اور ملت کے جاں نثاروں کا ایک نظم قائم بھی کردیا اور جیس اکہ پہلے عرض کرچکا ہوں کہ حضرت خود بھی ایک کامل درجے کی دینی اور شرعی زندگی رکھتے تھے صرف اتنا ہی نہیںبلکہ انہوں نے ذبیحۂ گاؤ کے لئے ہمیشہ اصرار کیا نہرو رپورٹ کی مخالفت کی ،  بندے ماترم کے خلاف احتجاج کیا واردھا تعلیمی اسکیم کو رد کرتے ہوئے ایک متبادل تعلیم اسکیم پیش کی۔ سی پی گورنمنٹ کی وویا مندر اسکیم کو جوں کا توں قبول کرنے سے صاف انکار کیا۔ کشمیر اور دوسری ریاستوں میں مسلم حقوق کی پامالی کے خلاف نہ صرف جمعیة کے پلیٹ فارم سے احتجاج کیا، اخبارات میں مضامین لکھوائے اور عملی میدان میں حصہ لیا، گاندھی جی کے پرارتھنا کے گیت کو مسلمانوں کے عقیدے کے بالکل خلاف، مسلمانوں کے لیے قطعاً ناقابل قبول بتایا اور اسے صرف گاندھی جی کا فعل قرار دیا۔ ١٩٣٧ء اور١٩٣٨ء کے دوران میں کانگریسی حکومتوں کے کردار اور فیصلوں کے خلاف سب سے زیادہ لیکن سنجیدہ، مدلل اور مثبت تنقید کے محاذ کے رہنما حضرت شیخ الاسلام تھے۔
ان تمام باتوں کے باوجود یہ حقیقت اور حضرت کی سیرت کا یہ فیضان بھی ملک کے سامنے ہے کہ اس سے فرقہ واریت پیدا نہیں ہوئی جو انسانی سوسائٹی کے لیے تباہی اور  ہلاکت کا موجب ہوتی ہے حضرت شیخ الاسلام ایک مذہبی شخصیت ہونے کے باوجود ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح کے قومی رہنما تھے حالانکہ تاریخ میں ایسے قومی رہنماؤں اور سیرتوں کی مثالیں بھی موجود ہیں جو اگرچہ قطعاً مذہبی نہ تھیں اور بقول مولانا غلام رسول مہر مسلمان تھے لیکن سورۂ اخلاص بھی نہ پڑھ سکتے تھے لیکن ان کے ایک ایک قول اور ایک ایک عمل نے انسانی سوسائٹی اور ملک کی معاشرتی زندگی میں مذہبی تعصب اور منافرت کا جو زہر گھولا تھا ، وہ چالیس سال سے زیادہ عرصے میں بھی دور نہ ہو سکا۔ اور فرقہ واریت کا جو سبق ایک خاص قومی سطح پر حالات سے نمٹنے کے لیے پڑھایا گیا تھا، اس کے اثرات نے معاشرتی زندگی کو تہ وبالا اور باہمی اعتماد ومحبت کی فضا کو مسموم کردیا ہے۔
جو بات کہنا چاہتا ہوں ، یہ ہے کہ ایک شخص نے پڑوسی کو ڈرانے کے لیے (تعصب کا) ایک کتا پا لا تھا بھونکنا اور کاٹنا کتے کی فطرت میں شامل ہوتا ہے ایک مدت کے بعد مالک نے ضرورت نہ سمجھتے ہوئے کتے کو آزاد کردیا اب وہ کتا دوسروں ہی کو نہیں اپنے سابق مالک کے خاندان کو بھی بھنبھوڑ رہا ہے۔ پورا خاندان خوف زدہ ہے۔ خاندان کا اطمینان وسکون تباہ ہوگیا ہے اب مالک دوبارہ اس کے گلے میں پٹا ڈالنا اور اسے قابومیں کرنا چاہتا ہے لیکن اب یہ اس کے بس کی بات نہیں رہی یہ ایک عذاب الٰہی ہے اللہ تعالیٰ کسی قوم کو اس کی بداعمالیوں اور ظلموں سے باز آجانے کے لیے زیادہ سے زیادہ مہلت دیتا ہے اور رحمت الٰہی انتظار کرتی ہے کہ نزول عذاب سے پہلے وہ قوم اپنی بداعمالیوں سے باز آجائے، لیکن جب اس کی مہلت ختم ہو جاتی ہے اور عذاب کا نزول شروع ہو جاتا ہے تو پھر سنت الٰہی پوری ہو کر رہتی ہے اور قوم کو اس کی بداعمالیوں کی پوری پوری سزا ملتی ہے۔
اور یہ حضرت شیخ الاسلام کی سیرت ہی کا فیضان ہے کہ حضرت کے وابستگان دامن، وہ ہندوستان میں ہوں ، خواہ پاکستان میں یا دنیا کے کسی اور ملک میں ہوں ، فرقہ واریت کے جذبات سے پاک ، تعصب ومنافرت سے دور ونفور، خدا کی مخلوق سے سب سے بڑھ کر محبت کرنے والے اور دنیا کے سب سے زیادہ فراخ قلب انسان ہیں، صاحب عزم وہمت ہیں، اپنے مذہب پر مستقیم ، اپنے اعتماد میں راسخ اور اپنے دلوں میں سارے  جہاں کا درد اور احترام آدمیت لیے ہوئے بلا تفریق مذہب وملت دنیا کے تمام انسانوں کی خدمت کے لیے ہمہ وقت آمادہ ومستعد نظر آتے ہیں۔
حضرت شیخ الاسلام کی سیرت کے اس پ ہلو کے مطالعے اس کے فیضان کے مشاہدے اور حالات کے تجزئیے سے ہم یہ نتیجہ بھی نکالتے ہیں کہ یہ خیال ہر گز درست نہیں کہ فرقہ سراریت یا تعصب کا تعلق مذہبی خیالات وافکار یا تعلیمات سے ہے۔
سیاسی رہنمائی:
حضرت شیخ الاسلام جنگ آزادی میں صف اول کے رہنما تھے۔ ریشمی رومال تحریک کی وہ اہم شخصیت تھے(١٩١٧ء ) قید مالٹا سے رہائی اور ہندوستان واپسی (١٩٢٠ئ) کے بعد حضرت نے ایک بھرپور سیاسی زندگی گزاری ۔ اس دوران میں سب سے پہلی تحریک خلافت کی تھی اس کے لئے ترک موالات کا جو پروگرام وضع کیا گیا تھا اسے کامیاب بنانے اور تحریک خلافت کے مقاصد کے حصول کے لیے آپ نے سرگرم حصہ لیا۔(٢١۔١٩٢٠ئ) سائمن کمیشن کو بے ضرورت سمجھااور اس کی مخالفت کی (١٩٢٧ئ) کمیونل ایوارڈ کو قومی مقاصد کے لیے نہ صرف ناکافی سمجھا بلکہ نقصان دہ تصور کیا اور اس کی مخالفت کی (١٩٣٢ئ) واردھا تعلیمی اسکیم پر تنقید کی اور اسے قابل قبول بنانے کیلئے مناسب ومثبت تجاویز پیش کیں(١٩٢٨ئ) شاردا ایکٹ کے خلاف تحریک کے رہنماؤں میں آپ ایک بلند قامت شخصیت تھے(١٩٢٩ئ) سول میرج کے قانون کے خلاف تحریک پیدا کی(١٩٣٢ئ) اسلامی اوقاف کی حفاظت اور انہیں ان کے متعین مصارف میں خرچ کرنے اور حکومت کے دست تصرف سے انہیں بچانے کی کوششوں کی رہنمائی کا شرف جمعیة علمائے  ہند اور اس کے صدرنشین حضرت شیخ الاسلام کو حاصل تھا(١٩٣٧ئ) ودیا مندراسکیم کو اس کی طے شدہ صورت میں قبول کرنے سے انکار کیاّ١٩٣٨ئ) اردو کے بارے میں یوپی کانگریس کمیٹی اور کانگریس حکومت کے رویے کو انصاف اور کانگریس کی متفقہ پالیسی کے خلاف پایا تو انہیں فرقہ وارانہ نقطۂ نظر سے باز رکھنے کی کوشش کی(١٩٣٨ئ) شریعت بل کے نفاذ کی کوششوں میں سب سے زیادہ منظم حصہ  حضرت کی جماعت نے لیا تھا(١٩٣٧ء ) نظم جماعت کی تحریک کی رہنمائی (١٩٢٠ئ)سے اور امارت شرعیہ کے قیام کی تحریک کا سہرا جمعیة علمائے ہند اور اس کے زعما کے سر ہے۔ اس کی تاریخ ١٩٤٧ء سے تقریباً ٢٥ سال پہلے شروع ہوتی ہے انفساخ نکاح کے قانون، خلع بل ، قاضی بل، طلاق کا ترمیمی بل وغیرہ کے لیے کوششیں (٤١۔١٩٣٩ئ) حضرت شیخ الاسلام اور جمعیة علمائے ہند جس کے آ پ صدر تھے، کی ملی خدمات میں سنہری حرفوں سے لکھی جائیں گی۔
حضرت شیخ الاسلام کے یہ تمام کارنامے ملی مفاد اور اسلامی شرعی زندگی کے لیے قیام وتحفظ کے نقطہ نظر سے تھے آپ نے ان تمام تحریکوں میں بھی بڑھ چڑھ کر  حصہ لیا جن کا فائدہ کسی ایک قوم یا ملت کے لیے مخصوص نہ تھا بلکہ ان کے فوائد نہ صرف پورے ملک کے لیے عام تھے۔ بیرون ملک کے مسلمان ممالک اور تمام برطانوی مقبوضات اور دنیا کی تمام محکوم اور غلام قوموں کو پہنچنے والے تھے ۔ ان تحریکوں میں سب سے بڑی تحریک ملک کی آزادی اور استقلال قومی کی تحریک تھی ،اس کے بعد ریشمی رومال اور خلافت کی تحریکات اور ترک موالات کا پروگرام تھا، پھر سول نافرمانی کی تحریک (١٩٣٠ء و١٩٤٠ء ) نمک ستیہ گرہ، کھدر کے استعمال اور سودیشی مال کے بائیکاٹ کی تحریکات پیدا ہوئی اور آخری اہم تحریک ہندوستان چھوڑدو کی تحریک (١٩٤٢ء ) تھی۔ حضرت شیخ الاسلام نے ان تمام تحریکوں میں حصہ لیا اور اس سلسلے میں آپ کو قیدو بند کی صعوبتوں اور ایثاروقت ومال کی آزمائشوں سے گزرنا پڑا۔
١٩٤٠ء کے بعد آپ کو سخت آزمائشوں اور بڑی کٹھنائیوں سے گزرنا پڑا۔ خا ص طور پر ملک کی آزادی سے قبل کے ڈھائی تین برس آپ کے لیے سخت مشکلات کے تھے۔ اس دوران لوگ آپ کی جان کے لاگو اور عزت کے دشمن ہوگئے تھے۔ آپ کو نہ صرف تحریک پاکستان کا مخالف بلکہ مسلمانوں کا دشمن کہا گیا۔ حالانکہ ہندوستان کے سیاسی مسئلے میں آپ اپنا ایک نظریہ اور مسئلے کے حل کے لیے ایک فارمولا رکھتے تھے اگر کوئی دوسرا نظریہ رکھنے والا جمعیة علماء کے زعما سے یہ توقع رکھتا کہ وہ اس کے حق میں اپنے نظرئیے اور اس کے لیے اپنے بہترین دلائل سے دست بردار ہو جائیں و یہ حق حضرت شیخ الاسلام جمعیة علمائے ہند اور دوسری قوم پر ور مسلمان جماعتوں اور ان کے زعما کو بھی  حاصل ہونا چاہئے تھا کہ وہ ان کے حق میں اپنے نظرئیے اور اپنے دلائلس ے دستبردار ہو جائیں۔ جمعیة علمائے نے جو فارمولا وزارتی مشن کے سامنے پیش کیا تھا اور جسے مدنی فارمولا کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اسے مجلس احرار اسلام، مومن کا نفرنس، جمعیة القریش، شیعہ پولیٹیکل کانفرنس، مسلم مجلس کے علاوہ سندھ ، بلوچستان، سرحد، بنگال وغیرہ کی متعدد جماعتوں کی بھی حمایت حاصل تھی۔ لیکن کسی جماعت نے دوسری جماعت سے بے سوچے سمجھے اس منصوبے کو مان لینے کی توقع کے بجائے اصل مسئلے پر سنجیدگی کے ساتھ اور ٹھنڈے دل سے غور کرنے اور متفقہ طور پر کسی ایک نتیجے پر پہنچنے کی آرزو کی تھی۔
مدنی فارمولا:
شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ملک کی سیاسی اور فرقہ وارانہ مسئلے میں اپنی ایک مستقل رائے رکھتے تھے۔ حضرت کے نزدیک اس مسئلے کا صحیح ترین حل وہ فارمولا تھا جسے جمعیة علمائے ہندنے اپنے پلیٹ فارم سے ١٩٣١ء میں پیش کیا تھا اور بعد میں بعض وضاحتوں اور تشریح کے ساتھ ١٩٤٥ء میں قوم کے سامنے رکھا تھا اور یہی فارمولا ملک کی قوم پرور جماعتوں کی تائید کے ساتھ کیبنٹ مشں کے سامنے پیش کیا تھا جس کے بارے میں مشں کی رائے تھی کہ یہ ایک سنجیدہ غور وفکر کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے، اس کے پیچھے سیاسی بصیرت کارفرما ہے اور قابل عمل اس فارمولے میں برصغیر ہندوسان کے ہر صوبے کو مستقل اکائی کی حیثیت حاصل تھی، چند مفوضہ امور کے علاوہ تمام معاملات میں صوبے آزادوخود مختار تھے۔ مفوضہ امور کی ذمے داری مرکز کی تھی مرکز کی ہیئت ترکیبی میں ٢٥ ہندوؤں کے بالمقابل ٤٥ سیٹیں مسلمانوں کی تھیں جب کہ ١٠ سیٹیں اقلیتوں کے لیے مخصوص تھیں کوئی ایسا سیاسی ، اجتماعی ، تہذیبی معاشرتی مسئلہ جس کا تعلق مسلمانوں سے ہو، ان کی دو تہائی اکثریت کے اتفاق رائے کے بغیر طے نہیں کیا جاسکتا تھا۔
یہ وہی منصوبہ تھا جس کے صوبوں کو مختلف گروپوں کی شکل میں مرکز کی اسی ہیئت ترکیبی کے ساتھ وہی حقوق واختیارات تفویض کئے گئے تھے اور کانگریس کی طرف سے مولانا ابو الکلام آزاد نے پیش کیا تھا اور کیبنٹ مشن نے بعض جزوی ترامیم کے بعد اپنا لیا تھا اور ملک کی دیگر جماعتوں کے بہ شمول مسلم لیگ کے زعما کی اس یقین دہانی پر کہ اس کے ذریعے پاکستان کی بنیاد فراہم کردی گئی ہے ، مسلم لیگ کونسل نے بھی اسے منظور کرلیا تھا، لیکن کانگریس کے صدر پنڈت جواہر لال نہرو کی جانب سے اس منصوبے کی ایک شق کی غلط تشریح سے فائدہ اٹھا کر مسلم لیگ اس منصوبے کے بارے میں اپنی منظوری سے دستبردار ہوگئی اور اپنے سابق موقف پر  لوٹ گئی۔ جس پر اس کے ثبات نے تقسیم ملک کے نتیجے اور قیام پاکستان کے انجام پر  پہنچا دیا۔
اب جس طرح اس عہد کی خوبیاں بانیان پاکستان کے نصیب کی تاریخ ہیں، اسی طرح اگر اس دور میں ہندوستان کے  مسلمانوں کے مسئلے میں پیچیدگیاں پیدا ہوئی ہیں یا پاکستان میں مختلف  قومیتوں اور مقامی اور غیر مقامی کے مسئلے نے سراٹھایا ہے ، اسلامی نظام کے نفاذ کی منزل تقریباً نصف صدی کی مسافت طے کرنے کے بعد بھی قریب نظر نہیں آتی، اسلام کے نظام سیاسی یا طرز حکمرانی کا مسئلہ ہنوذ تصفیہ طلب ہے اسلامی تہذیب کی تعریف پر بھی اگر اتفاق نہیں ہو سکا، اردو ہندی مسئلے کے بجائے اردو بنگالی مسئلہ پیدا ہو کر ملک دولخت ہو چکا ہے ، اردو اور مقامی زبانوں کا مسئلہ موجود ہے اور اردو کے نفاذ کی راہ بھی ہموار نہیں اور سب سے بڑھ کر شریعت کا مسئلہ ہی مابہ النزاع ہے تو اس کے لیے اسی تحریک کے رہنماؤں کی بدنیتی اور بے دینی کو ذمے دار قرار دینا چاہئے اور یہ حقیقت تسلیم کی جانی چاہئے کہ زندگی کے واقعی مسائل کے تصفیے کے لیے حقیقی بنیاد کی ضرورت ہوتی ہے زندگی کے مسائل خوبصورت نعروں اور گلے کی قوت سے طے نہیں کیے جاسکتے اور نہ مفروضوں پر ان کے تصفیے کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ر


Monday, August 1, 2016

قوت برداشت پیدا کیجئے ۔

●●● قوت برداشت :
●صدر ایوب خان پاکستان کے پہلے ملٹری ڈکٹیٹر تھے‘ وہ روزانہ سگریٹ کے دو بڑے پیکٹ پیتے تھے‘ روز صبح ان کا بٹلر سگریٹ کے دو پیکٹ ٹرے میں رکھ کر ان کے بیڈ روم میں آجاتاتھا اورصدر ایوب سگریٹ سلگا کر اپنی صبح کا آغاز کرتے تھے‘ وہ ایک دن مشرقی پاکستان کے دورے پر تھے‘ وہاں ان کا بنگا لی بٹلرانہیں سگریٹ دینا بھول گیا‘ جنرل ایوب خان کو شدید غصہ آیا اورانہوں نے بٹلر کو گالیاں دینا شروع کر دیں۔ جب ایوب خان گالیاں دے دے کر تھک گئے تو بٹلر نے انہیں مخاطب کر کے کہا ’’جس کمانڈر میں اتنی برداشت نہ ہو وہ فوج کو کیا چلائے گا‘ مجھے پاکستانی فوج اور اس ملک کا مستقبل خراب دکھائی دے رہا ہے‘‘۔ بٹلر کی بات ایوب خان کے دل پر لگی ‘ انہوں نے اسی وقت سگریٹ ترک کر دیا اور پھر باقی زندگی سگریٹ کو ہاتھ نہ لگایا۔

●آپ نے رستم زمان گاما پہلوان کا نام سنا ہو گا۔ہندوستان نے آج تک اس جیسا دوسرا پہلوان پیدا نہیں کیا‘ ایک بار ایک کمزور سے دکاندار نے گاما پہلوان کے سر میں وزن کرنے والاباٹ مار دیا۔ گامے کے سر سے خون کے فوارے پھوٹ پڑے‘ گامے نے سرپر مفلر لپیٹا اور چپ چاپ گھر لوٹ گیا۔ لوگوں نے کہا’’ پہلوان صاحب آپ سے اتنی کمزوری کی توقع نہیں تھی‘ آپ دکاندار کو ایک تھپڑ مار دیتے تو اس کی جان نکل جاتی‘‘۔ گامے نے جواب دیا ’’مجھے میری طاقت نے پہلوان نہیں بنایا‘ میری برداشت نے پہلوان بنایا ہے اور میں اس وقت تک رستم زمان رہوں گا جب تک میری قوت برداشت میرا ساتھ دے گی‘‘۔

●قوت برداشت میں چین کے بانی چیئرمین ماؤزے تنگ اپنے دور کے تمام لیڈرز سے آگے تھے‘ وہ75سال کی عمر میں سردیوں کی رات میں دریائے شنگھائی میں سوئمنگ کرتے تھے اوراس وقت پانی کا درجہ حرارت منفی دس ہوتا تھا۔ ماؤ انگریزی زبان کے ماہر تھے لیکن انہوں نے پوری زندگی انگریزی کا ایک لفظ نہیں بولا ۔آپ ان کی قوت برداشت کا اندازا لگائیے کہ انہیں انگریزی میں لطیفہ سنایا جاتا تھا‘ وہ لطیفہ سمجھ جاتے تھے لیکن خاموش رہتے تھے لیکن بعدازاں جب مترجم اس لطیفے کا ترجمہ کرتا تھا تو وہ دل کھول کر ہنستے تھے ۔

●قوت برداشت کا ایک واقعہ ہندوستان کے پہلے مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر بھی سنایا کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے انہوں نے زندگی میں صرف ڈھائی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کی پہلی کامیابی ایک اژدھے کے ساتھ لڑائی تھی‘ ایک جنگل میں بیس فٹ کے ایک اژدھے نے انہیں جکڑ لیا اور بابر کو اپنی جان بچانے کیلئے اس کے ساتھ بارہ گھنٹے اکیلے لڑنا پڑا۔ ان کی دوسری کامیابی خارش تھی۔ انہیں ایک بارخارش کا مرض لاحق ہو گیا‘خارش اس قدر شدید تھی کہ وہ جسم پر کوئی کپڑا نہیں پہن سکتے تھے۔ بابر کی اس بیماری کی خبر پھیلی تو ان کا دشمن شبانی خان ان کی عیادت کیلئے آ گیا۔ یہ بابر کیلئے ڈوب مرنے کا مقام تھا کہ وہ بیماری کے حالت میں اپنے دشمن کے سامنے جائے۔ بابر نے فوراً پورا شاہی لباس پہنا اور بن ٹھن کر شبانی خان کے سامنے بیٹھ گیا‘ وہ آدھا دن شبانی خان کے سامنے بیٹھے رہے‘ پورے جسم پر شدید خارش ہوئی لیکن بابر نے خارش نہیں کی۔ بابران دونوں واقعات کو اپنی دو بڑی کامیابیاں قرار دیتا تھا اورآدھی دنیا کی فتح کو اپنی آدھی کامیابی کہتا تھا۔

●دنیا میں لیڈرز ہوں‘ سیاستدان ہوں‘ حکمران ہوں‘ چیف ایگزیکٹو ہوں یا عام انسان ہو‘ان کا اصل حسن ان کی قوت برداشت ہوتی ہے۔ دنیا میں کوئی شارٹ ٹمپرڈ‘ کوئی غصیلہ اور کوئی جلد باز شخص ترقی نہیں کر سکتا۔ دنیا میں معاشرے‘ قومیں اور ملک بھی صرف وہی آگے بڑھتے ہیں جن میں قوت برداشت ہوتی ہے۔ جن میں دوسرے انسان کی رائے‘ خیال اور اختلاف کو برداشت کیا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک‘ ہمارے معاشرے میں قوت برداشت میں کمی آتی جا رہی ہے۔ ہم میں سے ہر شخص ہروقت کسی نہ کسی شخص سے لڑنے کیلئے تیار بیٹھا ہے۔

●یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کیا ہم اپنے اندر برداشت پیدا کر سکتے ہیں؟ اس کا جواب ہاں ہے اور اس کا حل رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ میں ہے۔

●ایک بار ایک صحابیؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا ’’یارسول اللہ ﷺآپ مجھے زندگی کو پر سکون اور خوبصورت بنانے کاکوئی ایک فارمولہ بتا دیجئے‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا ’’غصہ نہ کیا کرو‘‘ آپﷺ نے فرمایا ’’دنیا میں تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ اول وہ لوگ جو جلدی غصے میں آجاتے ہیں اور جلد اصل حالت میں واپس آ جاتے ہیں۔ دوم وہ لوگ جو دیر سے غصے میں آتے ہیں اور جلد اصل حالت میں واپس آ جاتے ہیں اور سوم وہ لوگ جو دیر سے غصے میں آتے ہیں اور دیر سے اصل حالت میں لوٹتے ہیں‘‘ آپﷺ نے فرمایا ’’ ان میں سے بہترین دوسری قسم کے لوگ ہیں جبکہ بدترین تیسری قسم کے انسان‘‘۔

●غصہ دنیا کے90فیصد مسائل کی ماں ہے اور اگر انسان صرف غصے پر قابو پا لے تواس کی زندگی کے 90فیصد مسائل حل ہوجاتے ہیں۔