BEST RESULT

Custom Search

Friday, October 2, 2015

حدود اختلاف

        منشی نورالحسن صاحب ساکن دورالہ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ سے بیعت ہیں نیک صالح شخص ہیں۔ وہ اپنا واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ چونکہ حضرت تھانویؒ مسلم لیگ کے حامی تھے۔ حضرت تھانویؒ نے اس کی حمایت میں ایک رسالہ بھی تحریر فرمایا تھا اسلئے میرا رجحان بھی لیگ کی طرف تھا اور میرٹھ حلقہ کی مسلم لیگ کا ممبر بھی تھا۔ ایک دن ایک میٹینگ میں میں نے کہا کہ بھائی ہمارے حضرت تھانویؒ لیگ کی حمایت فرماتے ہیں اور حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ بھی بزرگ ہیں وہ کانگریس کی حمایت فرماتے ہیں، ہم کیا کریں؟ میٹنگ میں ایک شخص نے جواب دیا کہ وہ( حضرت مدنیؒ) کہاں کے بزرگ آئے، وہ کیسے بزرگ؟ مجھے ان کے جواب سے سخت صدمہ ہوا اور میں نے ان سے کہا کہ اگر مسلم لیگ کے اندر بزرگوں کی شان میں گستاخی کی جاتی ہے تو ایسی مسلم لیگ سے میرا تو استعفی میں آئندہ شریک نہیں ہوں گا۔ اور اسی صدمہ میں میں تھانہ بھون حاضر ہوا۔ شب میں بھائی سلیمان صاحب سے جو حضرت تھانویؒ کے خادم تھے ملاقات ہوئی، ان سے اس واقعہ کا ذکر کیا اس نے کہا۔ مدنی صاحب آپ کی نظر میں بزرگ ہیں؟ بزرگ تو شیطان بھی ہوتا ہے۔ میں نے کہا یہ جواب صبح کو حضرت سے کہونگا۔ اس نے کہا، ہاں کہدینا، مجھے اور صدمہ ہوا کہ جب حضرت کے خادم کا یہ حال ہے تو اوروں کا کیا حال ہوگا۔ پوری رات بے چینی میں گذری۔ صبح کو مجلس میں حاضر ہوا میری ہمت نہیں تھی کہ عرض کروں۔ اتفاق ایسا ہوا کہ ایک خط جو حضرت کے پاس کسی نے لکھا تھا حضرت نے سنایا۔ خط کا مضمون یہ تھا:-
     "حضرت! میں دیوبند بھی گیا ہوں، وہاں رحمت ہی رحمت دیکھی اور یہاں زحمت۔ گویا وہاں عفو بے انتہا اور یہاں بات بات پر پکڑ اور نکتہ چینی اس کی کیا وجہ ہے"
حضرت نے جواب لکھا اور پھر جواب بھی سنایا، جس کا مضمون یہ تھا:-
        "کیا تمہارے نزدیک دریا اور ڈوکرہ میں کوئی فرق نہیں، میں چھوٹا سا ڈوکرہ ہوں اور حضرت مدنی دریا ہیں۔ ڈوکرہ ذرا سی ناپاکی کا متحمل نہیں ہوتا اور دریا میں اگر پیشاب بھی کردیا جائے تب بھی وہ ناپاک نہیں ہوتا"
یہ جواب سن کر مجھے ہمت ہوئی اور میں نے عرض کیا حضرت تو اپنے آپ کو ڈوکرہ اور حضرت مدنی کو دریا فرمارہے ہیں۔ اور یہ ملاّ سلیمان ان کو ایسا ایسا کہتا ہے اور اپنا واقعہ بیان کیا۔ حضرت نے فرمایا: کیا یہ بات آپ ان کے سامنے کہدیں گے۔ میں نے عرض کیا ضرور کہدونگا۔ ملاّ سلیمان کو بلایا گیا۔ حضرت نے ان سے فرمایا کہ تم ان کو جانتے ہو۔ انھوں نے جواب دیا: جی ہاں یہ میرے دوست کے بھائی ہیں۔ حضرت نے فرمایا تمہاری ان سے کوئی لڑائی تو نہیں۔ اس نے کہا نہیں، پھر حضرت نے میری طرف اشارہ کرکے فرمایا اپنا واقعہ بیان کرو۔ میں نے پورا واقعہ بیان کیا جو میرٹھ مسلم لیگ کی میٹنگ میں پیش آیا تھا کہ یہ واقعہ میں نے سلیمان سے بیان کیا اسنے کہا کہ مدنی صاحب کو تم بزرگ سمجھتے ہو، بزرگ تو شیطان بھی تھا۔ حضرت تھانویؒ نے سلیمان سے کہا یہ ٹھیک کہتے ہیں۔ انھوں نے اقرار کرلیا کہ جی ہاں ٹھیک کہتے ہیں۔ حضرت تھانویؒ نے ایکدوسرے خادم کو آواز دی اور فرمایا سلیمان کا کان پکڑ کر خانقاہ سے نکالدو اور فرمایا: آج سے میرا تعلق ختم، نہ مجھ سے بات چیت کی اجازت ہے نہ خط و کتابت کی نہ مجلس میں حاضری کی'
        سلیمان صاحب خانقاہ سے چلے گئے مگر انتہائی پریشان تھے۔ حافظ محمد اسماعیل پانی پتی( جو حضرتؒ سے خصوصی تعلق رکھتے تھے) کے واسطہ سے حضرت سے خط و کتابت کی اور معافی کی درخواست کی۔ حضرت نے ارشاد فرمایا جن کی شان میں گستاخی کی ہے ان سے معافی مانگیں اور ان سے( حضرت مدنی‌ؒ) سے لکھوا کر لائیں کہ میں نے معاف کیا۔ اس کے بعد سوچونگا کہ کیا فیصلہ کروں۔ سلیمان صاحب حضرت مدنیؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور صورتِ حال بیان کی اور معافی چاہی۔ حضرت مدنی نے معاف کیا اور لکھ دیا "میں نے سلیمان کو معاف کیا آپ بھی معاف فرمائیں" یہ تحریر لاکر حضرت تھانویؒ کی خدمت میں پیش کی۔ حضرت تھانویؒ نے فرمایا: کیا معلوم پورا واقعہ بیان بھی کیا یا نہیں، پورا واقعہ جاکر بیان کریں اور حضرت مولانا اپنے قلم سے لکھیں کہ سلیمان نے یہ واقعہ بیان کیا اور میں نے معاف کیا۔ چنانچہ یہ دوبارہ حضرت مدنیؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ حضرت یہ واقعہ لکھ کر پھر معافی تحریر فرما دیں۔ حضرت مدنی نے اپنے قلم سے تحریر فرمایا کہ سلیمان نے یہ واقعہ بیان کیا اور میں نے اس کو معاف کیا اور سفارش کرتا ہوں کہ آپ بھی معاف فرمادیں۔ اس کے بعد حضرت تھانویؒ نے معاف فرمایا اور مجلس میں حاضری کی اجازت دی مگر گفتگو کی اجازت نہیں دی، گفتگو کی اجازت اور بعد میں ہوئی۔۔۔۔۔۔

      حضرت تھانویؒ سے کسی شخص نے کہا حضرت مدنیؒ کے بارے میں کہ سیاست میں حصہ لیتے ہیں۔ حضرت تھانویؒ نے ارشاد فرمایا: "بس یہی دیکھا، یہ نہیں دیکھا کہ رات کو بارہ بجے تک بخاریؒ شریف بھی پڑھاتے ہیں"۔

آداب الاختلاف
افادات: مفتئ اعظم حضرت مولانا مفتی محمودالحسن صاحب گنگوہیؒ
مرتب: مولانا مفتی محمد فاروق صاحب دامت برکاتہم صفحہ نمبر141

Thursday, October 1, 2015

موبائل استعمال کرنے والوں کے لیے ایک نصیحت

سم اللہ الرحمن الرحیم

موبائل استعمال کرنے والوں کے لیے ایک نصیحت
رونگٹے کھڑے کر دینے والی کام کی بات

ایک فاضل اہل علم نے اللہ تعالی کی طرف سے ان کو سجھائی ہوئی ایک بہترین بات تحریر فرمائی ہے۔ 
🔹وہ لکھتے ہیں: کیا آپ جانتے ہیں کہ اللہ تعالی نے حضرات ِصحابہ کرام ؓ کا امتحان لیا تھا، جب کہ وہ حالت ِ احرام میں تھے- حج و عمرہ کے احرام کی حالت میں شکار ممنوع ہوتاہے- امتحان اس طرح ہوا کہ شکار کو ان کے اتنے قریب تک پہنچا دیا کہ اگر ان میں سے کوئی اسلحہ و آلات کے بغیرہاتھ سے شکار پکڑنا چاہے تو پکڑ سکے۔
قرآن میں ہے : 
’’ اے ایمان والو! اللہ تمہیں شکار کے کچھ جانوروں کے ذریعہ ضرور آزمائے گا جن کو تم تمہارے نیزوں اور ہاتھ سے پکڑ سکوگے ، تاکہ وہ یہ جان لے کہ کون ہے جو اس کو دیکھے بغیر بھی اس سے ڈرتا ہے۔ پھر جو شخص اس کے بعد بھی حد سے تجاوز کرے گا وہ دردناک سزا کا مستحق ہوگا۔‘‘ (مائدہ: ۹۴)
اس زمانے میں بھی ایسا ہی امتحان اور ابتلاء بکثرت پیش آرہا ہے، البتہ اس کا انداز اور طریقہ قدرے مختلف ہے۔
وہ کیا ہے اور کیسے ہے ؟
آج سے تقریباً ۱۰-- ۲۰ سال پہلے فحش تصاویر اور ناجائز ویڈیو کلپس وغیرہ کا حصول کافی حد تک دشوار اور مشکل ہوا کرتا تھا؛ لیکن آج کل موبائل اسکرین یا کمپیوٹر کے بٹن کو ہلکا سا ٹچ کرنے سے یہ سارے مناظر آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں۔ اعاذنا للہ منہ

اللہ تعالی کے ارشاد کو یاد کیجئے اور غور فرمائیے :
لیعلم اللہ من یخافہ بالغیب۔ اللہ تعالی جاننا چاہتا ہے کہ کون کون اللہ تعالی سے غائبانہ ڈرتا ہے۔ 
تنہائی میں اپنے جسمانی اعضاء کی خاموشی و بے زبانی سے دھوکے میں نہ پڑو؛ اسلیے کہ ایک دن ان کے بولنے کا بھی آنے والا ہے۔ 
قرآن میں ہے :
’ آج ہم انکے منہ پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے اور ان کے پیر ان کے کرتوت کی گواہی دیں گے۔‘

اللہ تعالی کے ارشاد کو پھر سے ذہن نشین کر لیجئے:
’اے ایمان والو! اللہ تمہیں شکار کے کچھ جانوروں کے ذریعہ ضرور آزمائے گاجن کو تم تمہارے نیزوں اور ہاتھ سے پکڑ سکوگے ، تاکہ وہ یہ جان لے کہ کون ہے جو اسے دیکھے بغیر بھی اس سے ڈرتا ہے۔ پھر جو شخص اس کے بعد بھی حد سے تجاوز کرے گا وہ دردناک سزا کا مستحق ہوگا۔‘
خلوت میں معصیت زیادہ خطرناک ہے۔
ایک بزرگ کا ارشاد ہے :
’’ جب کوئی آدمی گناہ میں مبتلا ہو، عین اسی وقت ہوا کے جھونکے سے دروازے کا پردہ ہلنے لگے اور اس کے ہلنے سے آدمی یہ سمجھ کر ڈر جائے کہ کوئی آگیا، تویہ ڈرنا اس گناہ سے بڑا ہے جو وہ کر رہا تھا۔‘‘کیوںکہ یہ شخص مخلوق کے دیکھنے کے اندیشے سے بھی ڈرتا ہے ، جب کہ اللہ تعالی اس کو یقینا دیکھ رہے ہیں ، پھر بھی خوف نہیں کرتا۔

کوئی شخص تصاویر دیکھنے میں مشغول ہو اور دروازے پر کچھ آہٹ محسوس ہو تو اس کی کیا کیفیت ہوتی ہے؟
’ کلیجہ منہ کوآ جاتا ہے،سانس رک جاتی ہے اور دھڑکن تیز ہوجاتی ہے۔ پھر وہ اپنا کمپیوٹر بند کرکے دروازہ کھول کر دیکھتا ہے تووہاں بلی ہوتی ہے۔ ‘
اے میرے پیارے بھائی ! اللہ تعالی اس سے بھی زیادہ قریب ہے ، اس کا خوف کیوں نہیں ؟
مراقبہ کی دیوار
آدمی اور اس کے موبائل کی ناجائزاوررسواکن حرکتوں کے درمیان ’اللہ کے دھیان ‘ کی دیوار کے سوا کوئی دوسری چیز حائل نہیں۔
علامہ شنقیطی ؒ فرماتے ہیں :
 تمام علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اللہ تعالی نے مراقبہ یعنی ’اللہ کے دھیان‘سے بڑھ کر کوئی واعظ اور اس سے بڑی کوئی ڈرانے والی چیز زمین پر نہیں اتاری۔پس جس نے اس مراقبہ کی دیوار کو ڈھا دیا اس نے بڑی جسارت کا مظاہرہ کیا اور اللہ تعالی کو جسارت دکھلانابڑی خطرناک چیز ہے۔
اس زمانہ کا بزرگ شخص :
کسی بزرگ کا ارشاد ہے : ظاہر میں اللہ کا دوست اورباطن میں اللہ کا دشمن نہ بنو۔ 
اگر ایک طرف ہم یہ کہتے ہیں کہ :’’اس زمانہ میں پہلے کی بہ نسبت حرام کاموں تک رسائی بہت آسان ہو گئی ہے، ‘‘وہیں ہمیں یہ بھی جان لینا چاہیے کہ’’ اس زمانہ میں ’ترک حرام‘سے جتنا اللہ کا قرب حاصل ہوگا اتنا کسی اور چیز سے حاصل نہ ہوگا۔‘‘
 تنہائی میں گناہ سے خصوصی اجتناب 
تنہائی اور خلوت کے گناہوں سے بچو، بطورخاص اہل خانہ کی غیر موجودگی میں موبائل ، کمپیوٹر اورٹیلی ویزن کے گناہوں سے۔ اس لیے کہ خلوت کے گناہ ایمان کی راہ سے ڈگمگا دیتے ہیںاور ثابت قدمی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
تنہائی کی عبادت کو لازم پکڑو۔ تم ا س سے اپنے نفس کو شہوات کی پکڑ میں آنے سے بچا سکوگے۔
اگر تم زندگی کی آخری سانس تک ایمان پر جمے رہنا چاہتے ہو تو خلوت میں مراقبہ یعنی ’اللہ کے دھیان ‘ کو لازم پکڑ لو۔
ابن القیم ؒ فرماتے ہیں : خلوت کے گناہ راہ ِحق سے متزلزل کردیتے ہیں اور عبادات سے ثبات قدمی نصیب ہوتی ہے۔
بندہ اپنی خلوت کو جتنی زیادہ پاکیزہ رکھے گا ، اللہ تعالی قبر میں اس کی تنہائی کو اسی قدر شاد و آباد رکھے گا۔
رہا معاملہ قیامت کے دن کا تو سنو!
حضرت ثوبان ؓ سے مروی ہے : نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :
’’میں اپنی امت کے کچھ لوگوں کو اچھی طرح جانتا ہوں ، جو قیامت کے دن مکہ کے پہاڑوں جیسی نیکیاں لے کر آئیں گے ؛لیکن اللہ تعالی ان ساری نیکیوں کو اکارت کر دیں گے۔ حضرت ثوبان ؓ نے عرض کیا  : اے اللہ کے رسول ! ان کے کچھ اوصاف و علامتیں ہمیں بتلا دیجئے : کہیں ایسا نہ ہو کہ بے خبری میںہم بھی انہیں میںسے ہو جائیں۔ حضور  ﷺ نے فرمایا سنو! وہ تمہارے ہی بھائی ہوں گے، تمہاری جنس اور نسل کے ہوں گے۔وہ تمہاری ہی طرح رات (کی نیکیوں)کوحاصل کریںگے ؛ لیکن جب اللہ کی حرام کردہ چیزوں کے ساتھ خلوت اور تنہائی کو پائیں گے تو ساری حدود توڑ کررکھ دیں گے۔ (رواہ ابن ماجہ)‘‘
موبائل ایک بینک لاکر کی طرح ہے۔
موبائل فون ایک صندوق ہے ، بالفاظ دیگر ’بینک لاکر‘ ہے، ان میں نیکیاں جمع کرو یا برائیاں۔ آپ اس میں جو بھی ڈالیں گے کل قیامت کے دن اپنے نامہ اعمال میں موجود پائیں گے۔
-----------------------------
اے اللہ ! ہمیں اپنا ایسا ڈر اور خشیت عطا فرما جو ہمارے اور تیری نافرمانیوں کے درمیان حائل ہو جائے۔
اے اللہ! ہم آپ سے خلوت وجلوت میں آپ کی خشیت کا سوال کرتے ہیں۔
ایک عربی مضمون کا ترجمہ، بہ حکم حضرت اقدس مولانا مفتی احمد خانپوری دامت برکاتہم ۔

Monday, September 28, 2015

القرامطة الشيعة وهجومهم على مكة في القرن الرابع الهجري

في سنة 317 هـ
كان المسلمون يطوفون حول الكعبة فاكتسح الكعبة جيش من الشيعة القرامطة وذبحوا في يوم واحد (30,000) ثلاثين ألف حاج من الرجال والنساء والأطفال...
وقف قائد الشيعة أبو طاهر القرمطي على باب الكعبة ونادى في الحجيج لمن الملك اليوم؟!. فلم يجبه أحد فقال :
أنا بالله وبالله أنا
يخلق الخلق وأفنيهم أنا
هدم الشيعة بئر زمزم ورموا فيها مئات الجثث من الذين قتلوهم من الحجيج حتى امتلأت البئر بالجثث وجمعوا فوقها بقية الجثث حتى صارت الجثث جبلا" ضخما"...
أمر قائد الشيعة القرامطة جيشه بخلع باب الكعبة ومزق كسوة الكعبة إربا" إربا" ونادى في الناس أين الطير الأبابيل أين الحجارة من سجيل ولم يجبه أحد!.
هرب الحجيج من جيش الشيعة وتعلق باستار الكعبة (1700) رجل وامراة لعل أستار الكعبة تشفع لهم عند الشيعة فنادى قائد الشيعة ابدأوا بهم فاذبحوهم...
جمع قائد الشيعة القرامطة حاجات بيت الله من النساء حول الكعبة وفي حجر إسماعيل وأمر جنوده باغتصابهنّ علنا ثم ذبحوهن ورموا جثثهنّ في بئر زمزم...
أمر قائد الشيعة القرامطة بخلع ميزاب الكعبة فصعد رجل من الشيعة ولما وصل الميزاب سقط الرجل على رأسه فانكسرت رقبته فقال قائدهم لا يصعد له أحدا...
هتك الشيعة القرامطة باب الكعبة ودنسوها ونهبوا منها كنوزا" عظيمة كان الملوك يهدونها للكعبة المشرفة وساقوها معهم إلى القطيف...
تبوّل قائد الشيعة القرامطة أبو طاهر الجنابي على الكعبة المشرفة ونادى في جيشة أين أبرهة والفيل والطير الأبابيل وهم يتقهقهون ويضحكون كالسكارى.
أمر زعيم الشيعة القرامطة أن يُهدم مكان الحجر الأسود وضرب بفاسه الحجر الأسود فانكسر شقين ثم حملوه معهم إلى القطيف وظلّ الحجر الأسود معهم (22) سنة...
أراد الشيعة القرامطة أن يسرقوا مقام إبراهيم فدسه أهل مكة في مكان آمن فهددهم وتوعدهم قائد الشيعة ولما رفضوا تسليمه قام بمجزرة كبرى في شعاب مكة...
أمر قائد الشيعة القرامطة بذبح جميع الحجيج حتى سالت أنهار الدم حول الكعبة كالسيل وقتل من الصباح إلى العصر (30،000) ألف حاج وحاجة ولم يترك أحدا"...
بنى الشيعة كعبة لهم بدلا" عن الكعبة في القطيف ووضعوا عليها الحجر الأسود وأمر جيوشه أن تعترض الحجاج فمن حج إلى كعبتهم تركوه ومن رفض سلبوه وقتلوه...
استغل الشيعة القرامطة ضعف الدولة العباسية وتفككها لدويلات وانشغالها بحرب مع ثورة الزنوج فعاثوا في الأرض فسادا" وروعوا الآمنين وهتكوا الأعراض...
لما رفض العرب والمسلمون الحج إلى كعبة الشيعة في القطيف باع الشيعة الحجر الأسود للخليفة العباسي بـ (50،000) ألف دينار ذهبيا" وعادت بعد (22) عاما".
سيطر الشيعة القرامطة على الجزيرة العربية وارتكبوا مجازر كبرى خاصة في طريق الحجاج فألغى أهل الشام والعراق الحج لشدة الرعب من شيعة القطيف...
أمر زعيم الشيعة القرامطة جميع الناس أن يتوجهوا بصلاتهم إلى كعبة القطيف بدلا" من مكة وأجبروا الناس على تحويل القبلة إلى القطيف ومن رفض ذبحوه...
سيطر الشيعة القرامطة على كثير من مناطق الجزيرة العربية وقاموا بمجازر جماعية لا مثيل لها في التاريخ وكانوا يغتصبون النساء فوق جثث القتلى...
هاجم الشيعة القرامطة بجيوشهم مدينة البصرة وقاموا بمجزرة كبرى استمرت (17) يوما" واستباحوا الأموال واغتصبوا نسائهم وهتكوا أعراضهم وأذلوهم.
غزا الشيعة القرامطة أطراف الشام وكانوا كلما مروا بقرية سلبوا الأموال وقتلوا الرجال واغتصبوا النساء ثم يحرقون القرية بما فيها من أطفال وعجائز.
وقف قائد الشيعة حول جثث الحجيج وعددهم (30،000) ألف وهو على فرسه يضحك ويتلو: (لإيلاف قريش) حتى وصل (وآمنهم من خوف).فقهقه وقال: ما آمنهم من خوفنا...
بنى الشيعة القرامطة كعبة في القطيف وبنوا حولها موضعا" سموه المشعر الحرام وموضعا" سموه عرفات وآخر سموه مِنى وأجبروا العوام على الحج إلى كعبتهم...
أباح زعماء الشيعة القرامطة لأتباعهم فعل الفاحشة بأمهاتهم وبناتهم فقال مرجعهم في نصوصه : "أحلّ البنات مع الأمهات ومن فضله زاد حِلُّ الصبي" .
كفى الله المسلمين وبلادهم شرهم وشر من يواليهم ويدعو للتقارب معهم ..

http://www.alharamain.gov.sa/index.cfm?do=cms.conarticle&contentid=5940&categoryid=1022
المعلومات + المرجع.                              انشروها حتى يعلم الجميع خطر هؤلاء اخزاهم  الله وجعل تدبيرهم تدميرا لهم  وان ياخذهم أخذ عزير مقتدر

حكم حلق اللحية

حكم حلق اللحية

��كلام 16 عالم من علماء الاسلام.رحمهم الله قديما وحديثا من مختلف المذاهب في حكم حلق اللحية.

��قال العلامةُ ابنُ حَزْمٍ الأندلسىُّ - رحمه الله - :
( واتفقوا ـ أي الأئمة ـ على أنَّ حَلْقَ اللحيةِ مُثْلَةٌ ـ أي : تَشْوِيه ـ لا تجوز )
[ مراتب الإجماع : ( 157 ) ) ، وانظر : المحلى ( 2 / 189 ) ]

��قال ابنُ عَبْدِ البَرِّ - رحمه الله تعالى - :
( ويحرم حلق اللحية ، ولا يفعله إلا المخنثون من الرجال ) [ التمهيد ]

��قال النووي - رحمه الله تعالى - :
( والمختار تركهاعلى حالها ، وألا يتعرض لها بتقصير شيء أصلاً ) [ شرح مسلم : ( 2 / 154) ]

�� قال القرطبي - رحمه الله تعالى - :
( لا يجوز حلقها ولا نتفها ولا قصها ) [ تحريم حلق اللحى : ( ص 5 ) ]

�� قال شيخُ الإسلام ابنُ تَيْمِيَّةَ - رحمه الله تعالى - :
( ويَحْرُم حلقُ اللحيةِ ) [ الاختيارات العلمية : ( ص 6 ) ]

��قال الحافظ العراقي - رحمه الله تعالى -  واستدل الجمهور على أن الأولى ترك اللحية على حالها ، وأن لا يقطع منها شيء ، وهو قول الشافعي وأصحابه )
[ طرح التثريب : (2 / 83 ) ]

��قال العدويُّ المالكي - رحمه الله تعالى -  نُقِلَ عن مالك كراهة حلق ما تحت الحنك ، حتى قال : إنه مِنْ فِعْلِ المجوس .. كما يحرم إزالة شعر اللحية )
[ حاشية العدوي على شرح رسالة ابن أبي زيد ( 2 / 411 ) ]
وانظر [ حكم اللحية في الإسلام لمحمد الحامد : ( ص 17 ) ]

��قال السَّفَّارِينيُّ الحنبلي - رحمه الله تعالى - المعتمد في المذهب ، حُرمَةُ حَلْقِ اللحية ) [ غذاء الألباب : ( 1 / 376 ) ]

�� قال ابن عابدين الحنفي :
( ويحرم على الرجل قطع لحيته ـ أي حلقها - وصرح في النهاية بوجوب قطع ما زاد على القبضة وأما الأخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله
بعض المغاربة ومخنثة الرجال ،فلم] يبيحه أحد وأخذها كلها فعل يهود الهند ومجوس الأعاجم )
[ رد المحتار : ( 2 / 418) .

�� قال الشيخ أحمد بن قاسم العبادي الشافعي - رحمه الله تعالى - :
( قال ابن الرِّفْعة في حاشية الكفاية : إن الإمام الشافعي قد نصَّ في الأم على تحريم حلق اللحيةوكذلك نصَّ الزَّرْكَشِيُّ والحُلَيْميُّ في شُعَب الإيمان ، وأستاذُه القَفَّالُ الشاشيُّ في محاسن الشريعة :على تحريم حلق اللحية )
[ حكم الدين في اللحية والتدخين : ( ص 31 ) ]

��قال الشيخ عبد الرحمن بن قاسم الحنبلي  وما لهم قاتلهم الله أنى يؤفكون أمرهم الله بالتأسي برسوله صلى الله عليه وسلم فخالفوه ، وعصوه وتأسوا بالمجوس والكفرة وأمرهم بطاعة رسوله ، وقد قال : أعفوا اللحى ، أوفوااللحى ، أرخوا اللحى ، أرجوا اللحى ، وفّروا اللحى .
فعصوه وعمدوا إلى لحاهم فحلقوها ، وأمرهم بحلق الشوارب فأطالوها ، فعكسوا القضية ، وعصوا الله جهاراً لتشويه ما جمل الله به أشرف شيء من ابن آدم وأجمله ) [ تحريم حلق اللحى (ص13) ]

��قال العلآمة الشنقيطي - رحمه الله تعالى - : عند تفسير قوله تعالى : ( قَالَ يَبْنَؤُمَّ لاَ تَأْخُذْ بِلِحْيَتِى وَلاَبِرَأْسِى ) :
هذه الآيةُ الكريمةُ تدلُّ على لزومِ إعفاءِ اللحية ، فهى دليلٌ قرآنيٌ على إعفاءِ اللحية وعدم حلقها .
[ أضواءالبيان : ( 4/ 506 ـ 507 ) ]

�� قال الشيخ الألباني - رحمه الله تعالى -  وجوب إعفاء اللحية وحرمة حلقها ) .
[ آداب الزفاف ( ص : 211 ) ] . وله كلام كثير في كتبه وأشرطته يصرح فيه بحرمة حلقها .

��قال الشيخ ابن باز - رحمه الله تعالى -  وهذا اللفظ في الأحاديث المذكورة يقتضي وجوب إعفاء اللحية وإرخائها ، وتحريم حلقها وقصها .
وقال أيضاً : إن تربية اللحية ، وتوفيرها ، وإرخاؤها ؛ فرض لا يجوز تركه )
وقال أيضاً : ( وهكذا حلق اللحية وتقصيرها من جملة الذنوب والمعاصي التي تنقص الإيمان وتضعفه
ويخشى منها حلول غضب الله ونقمته ) [ وجوب إعفاء اللحية ( ص : 18 ) ]

��قال الشيخ ابن عثيمين - رحمه الله تعالى - :حلق اللحية محرم لأنه معصية لرسول الله صلى الله عليه وسلم ، فإن النبي صلى الله عليه وسلم قال :
( أعفوا اللحى وحفوا الشوارب ) ولأنه خروج عن هدي المرسلين إلى هدي المجوس والمشركين.
[ مجموع فتاوى ابن عثيمين : ( 11 / 125 ) ]

�� قال الشيخ صالح الفوزان - حفظه الله - : ( إن الأحاديث الصحيحة تدل على حرمة حلق اللحية ) [ البيان : ( ص : 312 ) ]

Tuesday, September 22, 2015

بلغ العلے بكماله اور امیر خسرو کی رباعی

حضرت امیر خسرو رحمته الله علیه نے ایک بار بہت خوبصورت نعتیه رباعی لکھی اور حضرت نظام الدین اولیاء رحمته الله علیه کی خدمت میں پیش کی . حضرت نے رباعی سن کر فرمایا " خسرو ! رباعی خوب هے لیکن سعدی رحمتہ اللہ علیہ کی جو رباعی هے بلغ العلے بکماله ، اسکا جواب نہیں "
اگلے دن حضرت امیر خسرو رحمتہ اللہ علیہ نے پہلے سے زیادہ محنت سے مزید اچھی رباعی لکھی اور پیرو مرشد کو سنائی تو انھوں نے سن کر پھر فرمایا که خسرو رباعی خوب هے لیکن سعدی رحمتہ اللہ علیہ رباعی کا جواب نہیں . حضرت امیر خسرو رحمتہ اللہ علیہ کئی بار محنت کی لیکن پیرو مرشد هر بار یہی فرماتے که خسرو ! رباعی خوب هے لیکن سعدی رحمتہ اللہ علیہ کی رباعی کا جواب نہیں . آخر ایک دن حضرت امیر خسرورحمتہ اللہ علیہ نے عرض کی " سیدی ! سعدی رحمتہ اللہ علیہ نے بھی
نعتیه رباعی لکھی اور میں بھی کئی دن سے نعت لکھ کر پیش کر رها هوں لیکن آپ هر بار یہی فرماتے هیں که سعدی رحمتہ اللہ علیہ کی رباعی کا جواب
نہیں ، ایسا کیوں هے ؟
پیرو مرشد نے فرمایا ،
اچھا ، جاننا چاهتے هو تو آج آدھی رات کے وقت آنا .
چنانچہ امیر خسرو رحمتہ اللہ علیہ آدھی رات کے وقت حاضر خدمت هوئے تو مرشد کو وظائف میں مشغول پایا . فرمایا ، " خسرو ! ادھر آؤ ، میرے پاس بیٹھو اور دیکھو"
مرشد کی توجه هوئی اور حضرت امیر خسرورحمتہ اللہ علیہ نے دیکھا که دربار رسالت صلی الله علیه وآله وسلم آراستہ هے صحابه کرام رضی اللہ عنہ اجمعین اور هزاروں اولیاء کرام
موجود هیں . شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ دربار میں موجود هیں اور پڑھ رهے هیں ،
بلغ العلے بکماله ،...
کشف الدجا بجماله ...
حسنت جمیع خصاله ...
صلو علیه وآله ... صلو علیه وآله ...
اور نبی کریم صلی الله علیه وآله وسلم فرما رهے هیں ،
سعدی ! پھر پڑھو ،
سعدی رحمتہ اللہ کہتے هیں لبیک یا سیدی ! اور پھر رباعی پڑهنے لگتے هیں ،
رباعی ختم هوتی هے اور نبی اکرم صلی الله علیه وآله وسلم فرماتے هیں ، سعدی ! پھر پڑھو اور سعدی رحمتہ اللہ علیہ پھر پڑھنے لگتے هیں .
یه دیکھ کر امیر خسرو رحمتہ اللہ علیہ نے عرض کیا ، پیرو مرشد ! لکھتا تو میں بھی خوب هوں لیکن سعدی کی رباعی کا جواب نہیں ...
اور واقعی اس رباعی کا جواب نہیں . کہتے هیں جب حضرت سعدی رحمتہ اللہ علیہ نے یه رباعی لکھی تو تین مصرعے لکھ لئے ،
بلغ العلے بکماله ...
کشف الدجا بجماله ...
حسنت جمیع خصاله ...
لیکن چوتھا مصرع موزوں نہیں هو رها تها اسی پریشانی میں سو گئے تو خواب میں نبی کریم صلی الله علیه وآله وسلم کی زیارت کی اور دیکھا که سرکار صلی الله علیه وآله وسلم فرما رهے هیں ،
سعدی کہتے کیوں نہیں ،
صلو علیه وآله ...
تب سے یه رباعی زبان زد عام هے اور آج بھی اس کی مقبولیت میں فرق نہیں آیا ...
بلغ العلے بکماله ،...
کشف الدجا بجماله ...
حسنت جمیع خصاله ...
صلو علیه وآله ... صلو علیه وآله ۔

Wednesday, April 16, 2014

تربیت اولاد کے لیے مختلف اسلوب

تربیت کے مختلف اسلوب: محبت کے اظہار کے لئےآپ اپنی صواب دِید ﴿حالات، صحت، ماحول، فاصلے﴾ کے مطابق تدابیر متعین کر سکتے ہیں اور تعلق بڑھا سکتے ہیں۔
۱۔براہ راست تعلق:
۲۔تحفے تحائف دینا:
۳۔مشاغل میں دلچسپی:
۵۔توہین آمیز رویہ:
۶۔اپنی رائے پر اصرار اور ضد:
۷۔منفی طرز عمل:
۸۔بچوں کو مشتعل کرنا:
۹۔بچوں میں امتیاز برتنا:
۱۰۔بے جا خود نمائی:
۱۱۔ننھیال ددھیال کا فرق رکھنا:
۱۲۔خواہ مخواہ کا رعب ڈالنا:

------------------------------------------
۱۔براہ راست تعلق:
اظہار محبت اور شفقت کےلئے براہ راست تعلق کی حسب ذیل صورتیں ہو سکتی ہیں: سکول لانا اور لے جانا، ہوم ورک میں تھوڑی بہت مدد، بچوں کے دوستوں سے دل چسپی، سکول کے معمولات پہ خوش دلی سےبات چیت، شام کو ہلکی پھلکی تفریح، ہفتہ وار مجلس، کارکردگی پہ انعام﴿ چاہے معمولی ہی ہو﴾، بچوں کی باتوں کو توجہ سے سننا، حوصلہ افزائی، شاباشی دینا…… محبت وشفقت کی بنیاد ہیں۔
دوسرے شہر میں رہنےوالے بچوں کے ساتھ فون کے ذریعے بات کرنا، کوئی دلچسپ بات جو بچے کو یاد رہے، گاہےبگاہے ان کو خطوط، ای میل، تصاویر بھیجنا، اور ان سے خصوصی طور پر خط اپنے ہاتھ کی ڈرائنگ، تصویر کا تقاضا کرنا، باہم دلوں کو قریب رکھنے کا باعث بنے گا۔ بچوں کےارسال کردہ خطوط اور اشیا کو امانت سمجھ کر محفوظ رکھیں گے تو بڑے ہونے پر یہی چیزیں لازوال اور سچی خوشی کا باعث بنیں گی۔
۲۔تحفے تحائف دینا:
یہ ایک عظیم الشان عمل ہے جس سے محبتیں پروان چڑھتی ہیں۔ اگر بچے کو لازمی ضرورت کی چیز خرید کر تحفہ میں دی جائے تو سونے پہ سہاگہ ہے، خصوصاً وہ چیز جو بچے کے والدین خرید کر دینے کی استعداد نہ رکھتے ہوں۔ بچوں کے ہاتھ میں رقم دینے کے بجائے سکول/کالج کی لازمی ضرورت کی چیز خرید کر دینا ان کے اور ان کے والدین کے دلوں میں قدر و منزلت بڑھادے گی۔
۳۔مشاغل میں دلچسپی:
بچوں کے ساتھ مل کر کچھ تخلیقات عمل میں لائی جائیں۔ اگر آپ ترنم کے ساتھ گا سکتے ہوں، دستکاری، سلائی یالکڑی کا کوئی ہنر جانتے ہوں تو اپنے ان پیارے بچوں کو ایسے مشاغل سے روشناس کرایئے۔ اس طرح کے مشاغل میں بچوں کو شریک کرنے سے ان کی شخصیت پر بہت مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ شخصیت کی تعمیر میں آپ کا یہ ہنر یادگار حیثیت اختیار کر جائے گا۔قریب رہنے والے، بیرون شہر یا بیرون ملک رہنے والے بچوں سے جب بھی رابطہ ہو، ان کےساتھ ہر ملاقات کو یادگار بنانے کا خصوصی پلان ہونا چاہئے۔ ہفتہ وار، ماہانہ،ششماہی یا سالانہ، جب بھی ملاقات ہو، بزرگ والدین کا نقش بچے اپنی عمر کے ساتھ ساتھ مضبوط تر اور حسین تر اور یادگار بناتے جائیں۔
۴۔ذوق مطالعہ کی حوصلہ افزائی:
بچوں کو پڑھ کر سناناایک انتہائی دلچسپ عمل ہے۔ اپنے بچپن کی کتابیں ان کو پڑھنے کے لیئے دی جائیں یاان کے والدین کے بچپن میں زیر استعمال رہنے والی کتابوں کو مل کر پڑھنے پڑھانے میں خاص مزہ ہے۔ بچوں کو بھی پڑھنے کی تلقین کی جائے۔ اس سے تلفظ، روانی عبارت، لہجہ اور تقریر کی مشق ہو گی۔
۵۔ماضی کی یادیں اور تجربات:
بچوں کو اپنے ماضی کی دلچسپ کہانیاں اور واقعات سنائیں، اپنے محلے اور شہر کے خاص کرداروں کا اور ماحول کا تذکرہ کریں۔ دور رہنے والے بچوں کو اپنی آواز میں کہانی، نظم، باہم بچوں کی مجلس، بات چیت کو ریکارڈ کر کے بھیجا جائے یا ویڈیو فلم بنا لی جائے۔ اپنے بچپن اور جوانی کے تجربات کی روشنی میں بچوں کی عمر کے مطابق گفت و شنید کی جائے۔ اپنی ناکامیوں اور نقصانات کو واضح کریں کہ ان کی کیا وجوہات تھیں۔ بچوں سے سوال کیاجائے کہ اگر ان کے ساتھ ایسا ہوتا تو وہ کیا کرتے؟ بچوں کی ذہنی استعداد جاننے کایہ بہترین ذریعہ ہے اور ان کی رہنمائی کرنے کا بھی۔
۶۔شخصیت کی تعمیر:
جب بھی موقع ملے بچوںکی عمر اور ذہنی استعداد کے مطابق ان کے ساتھ کھیلا جائے۔ ان کے بنائے ہوئے گھروںمیں مہمان بن کر جایا جائے۔ فٹ بال، لوڈو، کیرم اور اندرون خانہ کھیلوں میں شریک ہوا جائے۔ بچوں میں ہار جیت کا صحیح تصور پیدا کیا جائے اور اعلیٰ ظرفی اور دوسروںکی کامیابی پہ خوش ہونے کی تربیت کی جائے۔
بچے ننھے ہوں یانوجوان، ان کو بولنے اور اپنا ما فی الضمیر بیان کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔انہماک اور توجہ سے بات سننا، بچے کی شخصیت پہ مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔ بچوں میں یہ ظرف اور حوصلہ پیدا کیا جائے کہ جب ایک بچہ بات سنا رہا ہو تو دوسرا بچہ اس میں مخل نہ ہو۔
ہر عمر کے بچوں کے ذاتی رجحانات آپ کے علم میں ہونے چاہئیں۔ ہر بچہ آپ کو اپنا رازداں ساتھی سمجھے۔ یقین کیجئے اگر آپ اپنے ان معصوم بچوں کے رازداں ساتھی بن گئے، ان کے ننھے منے دکھ اورسکھ آپ کے دل میں ارتعاش اور ولولہ پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے تو یہ پھول مرجھانے سے بچ جائیں گے۔
اپنے بیٹے اور بیٹی کےبچوں سے دلی محبت پیدا کرنے کا ایک کارگر نسخہ یہ ہے کہ ان کے والدین کو اچھےالفاظ سے یاد کریں۔ یہ نہ ہو کہ بچے کو اپنے دکھوں کی داستان ﴿اپنی اولاد کی نافرمانیوں کے قصے﴾ سنانے لگیں۔ ننھے بچوں کے دل میں ان کے والدین کی عزت و توقیربڑھانا آپ کے لئے ہی نافع ہے۔ خصوصاً بہو اور داماد کے بارے میں۔
بچوں کو ترجیحات کےتعین کا احساس دلانا ایک اہم فریضہ ہے، یعنی کسی وقت کون سا کام اہم ہے، کون سابچہ کس عمر میں ہے، اس کے لئے کیا اہم ہے۔ اس ضمن میں نماز، قرآن، اسلامی لٹریچرکی طرف توجہ دلانا، ان کی نگرانی کرنا، بچوں میں باہم مسابقت کرانا اور انعام دیناجیسے امور اہم ہیں۔ پیار و محبت سے تعلیمی مدارج اور کارکردگی کے بارے میں پوچھنا،مشکل میں آسانی تلاش کر کے دینا، بچوں کے تعلیمی رجحانات کا اور دیگر مشاغل کابنظر غائر جائزہ لینا اور ان کے والدین کے ساتھ گفت و شنید کرنا اور مسائل کا حلتلاش کرنا، ترجیحات کے تعین میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
۵۔گھریلو امور میں دلچسپی لینا:
اگر والدین اور بچوںمیں کوئی تنازعہ ہو جائے، ﴿تعلیم، روزگار یا شادی کے معاملے میں﴾ تو غیر جانب داریسے حالات کا جائزہ لینا اور بچے کے مؤقف کو ٹھنڈے دل سے سننا اور والدین اور بچوںکے درمیان مفاہمت کی راہ تلاش کر کے دینا، بزرگ والدین کا فرض ہے۔ ۶۔بچیوں سے خصوصی لگاؤ:
لڑکیوں کی تعلیم وتربیت اور ان کو شائستگی اور رکھ رکھاو سکھانا خصوصی توجہ چاہتا ہے۔ بچیوں کےرجحانات کا ان کی عمر کے مطابق خیال رکھا جانا چاہئے۔ بچیوں کی جذباتی عمر ایک مضبوط، با اعتماد شخصیت کا سہارا چاہتی ہے۔ لڑکیاں قاہرانہ نظر سے زیادہ محبت وشفقت اور رحمت کی نظر کی طلب گار ہوتی ہیں۔ بزرگوں کا دستِ شفقت ان کی شخصیت کی تکمیل کرتا ہے۔
چند احتیاطیں
کچھ معاملات اور باتیں ایسی بھی ہیں جن سے پرہیز کرنا چاہیئے۔
۱۔کھلانے پلانے میں بے اعتدالی:
بزرگ والدین کو اپنےبچوں کی نسبت ان کے بچوں کو کھلانے پلانے، ہر وقت کچھ نہ کچھ دینے میں لطف آتا ہے۔لیکن بعض اوقات یہ معاملہ خرابی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ بچوں کو ان کی عادتیں خراب کرنے میں آپ کا کوئی عمل دخل نہیں ہونا چاہئے۔ قریب رہنے والے بچے اور دوررہنے والے بچوں میں یہ فرق بھی ہوتا ہے کہ قریب رہنے والے بچوں کی عادات، مزاج،گھریلو ماحول اور روز مرہ کے اتار چڑھاؤ سے آپ واقف ہوتے ہیں۔ عقل مندی کا تقاضایہ ہے کہ بچوں کے والدین خصوصاً والدہ نے ان کے کھانے پینے کا جو معمول بنایا ہےاس میں خلل واقع نہ ہو۔ ماں سے بڑھ کر کوئی نہیں جانتا کہ بچے کو کس وقت ، کتنااور کیا کھانے کو دیا جائے۔ ضروری نہیں کہ جو چیزیں آپ اپنے بچپن میں کھاتے تھے یااپنے بچوں کو بے دریغ کھلاتے تھے ، ان کے لئے بھی مناسب ہوں۔
۲۔والدین کو بے وقعت کرنا:
بچوں کے قلب و نظر میں انکے والدین کو بے وقعت کرنا ایک اخلاقی گراوٹ ہے۔ خصوصاً بہو یا داماد کے بارے میں منفی طرز عمل اختیار کرنا، ان کی گستاخیوں یا نافرمانیوں کو بچوں کے سامنے زیر بحث لانا، یا بچوں کے ذریعے اپنی کسی حق تلفی یا رنجش کا انتقام لینا، اپنے پاؤں پہ کلہاڑی مارنا ہے۔ بچے ایسے لوگوں کی ہرگز قدر نہیں کرتے جو ان کے والدین کے بارےمیں منفی سوچ رکھتے ہوں۔ بہو اور داماد کا آپ سے، صہر‘‘ کا رشتہ ہے مگر ان کےحوالے سے بچوں کے ساتھ آپ کا ’’نسب‘‘ کا رشتہ ہے۔ اپنے نسب کے بارے میں حد درجہ حساس اور محتاط رویہ اسی صورت ممکن ہے جب آپ ان کے والدین کو عزت و توقیر سےنوازیں گے۔
۳۔رویے میں فرق:
گھروں میں جہاں ایک سےزیادہ بیٹے بیٹیاں موجود ہوتے ہیں، ان کے بچوں کے ساتھ بڑوں کا رویہ بھی قابلِ غورہے۔ جس بیٹے سے ماں باپ خوش ہیں، اس کی بیوی بھی پیاری لگتی ہے۔ اور اسی لحاظ سےاس کے بچے بھی دادا دادی کے دلارے ہوتے ہیں۔ دوسری طرف بہت سی بہوؤں میں سے کسی سےکسی خاص رشتہ داری یا نسبت یا کوئی اور وجہ بہوؤں کے درمیان تفریق کا باعث بنتی ہے، اور پھر بچے بھی خواہ مخواہ خاندانی سیاست کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ رویہ بھی غیرمناسب ہے۔ ساس سسر ﴿خصوصاً ساس کو﴾ گھریلو معاملات میں عقل و دانش کا ثبوت دیناچاہئے۔ اسی طرح دامادوں کے ساتھ یا نواسے نواسیوں کے ساتھ معاملہ ہوتا ہے۔ لگاؤاور محبت اپنی جگہ، مگر معاملات مبنی بر عدل اور یکساں ہونے چاہئیں۔
۴۔بے جا طرف داری:
ایک اہم معاملہ جوعموماً گھروں میں بے چینی کا باعث بنتا ہے، بیٹی کی اولاد کے سامنے بیٹوں کی اولادیا اس کے مخالف معاملے میں ترجیح اور افراط و تفریط ہے۔ ماموں، پھوپھی یا چچا،تایا کے بچوں میں دوری، منافرت، بلاوجہ مسابقت، کا احساس پیدا کرنا، بزرگوں کے طرز عمل کا شاخسانہ ہو سکتا ہے۔ کسی ایک داماد یا بہو کی بے جا حمایت، طرف داری بچوں پر بھی برے اثرات ڈالتی ہے۔
۵۔توہین آمیز رویہ:
عموماً دادی کی طرف سےاس طرح کے جملے، میرا بیٹا تو بہت اچھا تھا، جب سے تمہاری ماں آئی ہے……..، سنکر بچے ہرگز اپنی دادی سے الفت محسوس نہیں کر سکتے۔ ان سے لازماً اجتناب کیا جائے۔
۶۔اپنی رائے پر اصرار اور ضد:
اگر بچوں کی تربیت کےمعاملے میں بزرگ والدین، کی رائے بچوں کے والدین سے مطابقت رکھتی ہو تو بزرگوں کوزیادہ اعلیٰ ظرفی اور وسعت قلبی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ اختلاف کی صورت میں والدین کی خواہشات کے پیش نظر اپنی رائے سے دست بردار ہو جانا چاہئے، تاہم اولاد کو بھی ادب و احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے خواہ مخواہ اور بے جا ضد نہ کرنی چاہئے اور درست بات کو تسلیم کرنا چاہیئے۔ بعض اوقات بچے کا نام رکھنے سے لے کر جو مخالف شروع ہوتی ہے تو بچوں کے رشتے کرنے تک برقرار رہتی ہے۔ بچوں کے معاملات میں فیصلہ اورحتمی رائے بہر حال ان کے والدین کا حق ہے۔
بعض بزرگ والدین ،رشتوں ناطوں کے معاملے میں ایسا رویہ بنا لیتے ہیں جس سے اپنی اولاد اور بچوں کوباغی تو بنایا جا سکتا ہے، اپنا حامی نہیں۔ یہ طرز عمل سخت نقصان دہ غیر شرعی اورقابلِ گرفت ہے۔ رشتے ناطے کرنے کی ذمہ داری بہر حال اپنے والدین کی ہی ہوتی ہے۔اپنی رائے دینا، اپنے تجربات اور دلائل کی بنا پر کچھ اصرار کرنا آپ کا حق ہے مگرجبر کرنا، ضد سے اپنی اہمیت کو کیش کرانا، بچوں کی شادیوں میں رخنے ڈالنا، خوشی سےشریک نہ ہونا، دل میں رنجش رکھنا، قطع تعلق کر لینا یا دھمکی دینا سخت معیوب ہےاور بزرگ والدین کے شایانِ شان ہرگز نہیں ہے۔
۷۔منفی طرز عمل:
اگر آپ نے بچوں کے دلوںمیں اپنی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے کوئی ایسا قدم اٹھایا کہ جس کام سے بچے کےوالدین منع کرتے ہوں اور آپ نے چوری چھپے اس کو موقع دیا، مدد کی، پھر چھپانے کےطریقے بتائے تو آپ نے اپنی نظروں میں بھی اور بچوں کی نظروں میں بھی خود کو گرالیا۔ یہ طرز عمل جتنا بچوں کے لیے نقصان دہ ہے اس سے کہیں زیادہ آپ کی شخصیت کےلیے باعث وبال ہے۔ ہاں، یہ امر قابلِ تعریف ہے کہ آپ اپنے بچوں کو اس کام میں مدددیں، تعاون کریں جس کو بچے کے والدین مشکل سمجھ کر ان کو کرنے نہیں دیتے اور آپ اسکو اپنے تجربے سے کروا لیتے ہیں۔ بچوں میں خود اعتمادی پیدا کرنے کے لیے آپ کیاکیا چھوٹے بڑے کام کر سکتے ہیں، اس پر غور کیا کیجئے۔
۸۔بچوں کو مشتعل کرنا:
بچوں کو ہر وقت دوسرےکے سامنے نظمیں، تقریریں وغیرہ سنانے پر مجبور نہ کریں۔ بچے کی ذہنی اور قلبی کیفیت ہر وقت ایک جیسی نہیں ہو سکتی۔ ہر ملاقات پر ان کو کتابیں سنانے یا ان کوپڑھنے پر مجبور کرنا دل میں تنگی اور انقباض پیدا کرتا ہے۔ ہر وقت ہر کام، ہر کھیل، ہر واقعہ، کہانی، لطیفہ یا ایک ہی جیسا طرزِ عمل ﴿ہر بچے کے ساتھ﴾ مناسب نہیں ہوتا۔ اگر آپ کو بچوں سے قلبی تعلق پیدا کرنا ہے تو جبر سے یہ کام نہیں ہوتا۔ یہ پورے صبر و ثبات کا متقاضی ہے۔ بچوں کو بلاوجہ قابو میں لانے کی کوشش کرنا ان کومشتعل کرناہے۔
۹۔بچوں میں امتیاز برتنا:
اپنے پوتے پوتیوں،نواسے نواسیوں میں کسی ایک سے کبھی ایسی بات نہ کیا کیجئے کہ یہ تو سب سے ہوشیارہے، ذہین ہے، یہ میرا فرماں بردار ہے، یہ تو اپنے باپ کی طرح فرماں بردار ہے اوریہ اپنے باپ یا ماں کی طرح ہمیشہ سے ضدی اور گستاخ ہے۔ اپنے ان بچوں کی کامیابیوںپہ یکساں خوشی کا اظہار کیجئے۔ اپنی کسی بیٹی یا بیٹے کی حد درجہ محبت میں آ کر انکے بچوں کے ساتھ ہمیشہ نرم رویہ رکھنا اور کسی دوسری اولاد کے بچوں کے ساتھ معاندانہ رویہ، ان کی کامیابیوں اور خوشیوں میں دل کے پورے افراح کے ساتھ شریک نہ ہونا سخت ناانصافی ہے۔ یقین کیجئے اللہ تعالیٰ نے آپ سے اس رعیت کے بارے میں سوال کرنا ہے۔ جذبات، احساسات ، خوشی، غمی اور مالی و اخلاقی طور پر سب کے ساتھ انصاف کرنا آپ کے اجر و ثواب کو قائم رکھے گا۔ کسی بچے کو خوب بڑھانا اور کسی کی اہمیت کو گھٹانا اپنے خاندان کی دیواروں میں شگاف ڈالنے کے مترادف ہے۔ اپنے دل کے میلان دوسروں کی طرف سے اکسانے پہ بچوں کی صلاحیتوں کو گھٹانا بڑھانا اپنی عزت وتوقیر کم کرنے کے مترادف ہے۔ بچوں میں باہم رقیبانہ اور حاسدانہ جذبات پیدا کرناایک بہت بڑا اخلاقی عیب ہے۔
۱۰۔بے جا خود نمائی:
اپنی جوانی کی غیراخلاقی سرگرمیوں کو فخر سے بچوں کو بتانا حد درجہ حماقت ہے، یا پھر اپنے کارناموںکو نمک مرچ لگا کر پیش کرنا کہ بچے جان جائیں کہ یہ سراسر جھوٹ ہے۔ بچہ فطرت کےقریب ہوتا ہے۔ وہ سچ اور جھوٹ کا ادراک کر لیتا ہے اگرچہ اس کو اس کے اظہار کاطریقہ نہ آتا ہو۔ ہر بات میں اپنی تعریف کرنا، اپنے گن گانا، ہر وقت دوسروں پہ خودکو ترجیح دینا، شیخی بگھارنا، درحقیقت اپنی کمزور شخصیت کا اظہار ہے۔
۱۱۔ننھیال ددھیال کا فرق رکھنا:
لڑکوں کو لڑکیوں پرترجیح دینا، یا ننھیال /ددھیال والوں کی برائیاں کرنا، یا بچوں کا ننھیال/ددھیال والوں سے قلبی تعلق برداشت نہ کرنا، لڑکیوں کی پے درپے پیدائش سے دل تنگ ہونا اوران کے مقابلے میں لڑکے کی آؤ بھگت کرنا، لڑکیوں کے والد کو بے چارہ، بوجھ کے تلےدبا ہوا جیسے احساسات دلانا، ایک طرح کا گناہ میں ملوث ہونا ہے ۔لڑکیوں کی پیدائش پہ انقباض محسوس کرنے والوں کی مذمت قرآن پاک میں کی گئی ہے۔
۱۲۔خواہ مخواہ کا رعب ڈالنا:
بزرگوں کو اپنی بزرگی اور مقام و مرتبے کا احساس دلانے کے لیے رعب ڈالنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے۔ سلام کروانے کے لئے بچوں پہ سختی کرنا کوئی اعلیٰ اخلاق کی مثال نہیں۔ اعلیٰ اخلاق تویہ ہے کہ آپ خود بڑھ کر بچوں کو سلام کریں، محبت سے، پیار سے، اور یہی سنت رسولاللہ محمد ؎ﷺ ہے۔ بچے آپ کو وہی کچھ لوٹائیں گے جو آپ ان کو پہلے عطا کریں گے۔