BEST RESULT

Custom Search

Friday, June 3, 2016

حکمرانوں کی اقتدار کی ہوس

اقتدار کی ہوس شہزادوں اور بادشاہوں کو اندھا کردیتی ہے،دیوانہ اور سنگدل بھی، لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ اس ہوس کا انجام براہے۔

اقتدار کی ہوس کے باعث جو شام اور مصر کو جلارہے ہیں ، تاریخ سے سبق سیکھیں ،اس ہوس کا انجام برا ہے ۔

مشہور ہے:” اہل یونان نے ایک دیوی بنائی، بہت ہی عمدہ و خوبصورت۔ سفید مرمریں بدن پر تیکھے نقوش کھودے گئے۔ قامت میں نخرا اور کاٹھ میں ایک غرور بھرا۔ دیوی کو اٹھا کر” ایتھنز“ کے مرکزی چوک میں رکھ دیا گیا۔ لوگ جمع ہوئے، سراپا ناز کے حسن اور اعضاءکے توازن پر بے شمار داد دی گئی۔ تحسین کا یہ سلسلہ جاری تھا کہ کسی نے آواز لگائی۔ ”لوگو! دیکھو دیوی کی تو آنکھیں ہی نہیں۔“لوگوں نے چونک کر دیکھا، واقعی آنکھوں کی جگہ ہموار تھی۔ لوگ اعضاءکے توازن اور نقوش کی جادوگری میں اتنے کھو گئے تھے کہ انہیں آنکھوں کی کمی کا احساس ہی نہیں ہوا۔”ارے ارے اس کے تو پاؤں بھی غیر انسانی ہیں۔“ کسی نے ہانک لگائی۔ لوگوں کی نظریں بے اختیار دیوی کے قدموں میں آپڑیں۔ دیوی کے پاؤں نہیں تھے۔ بت تراش نے پنڈلیوں کے فوراً بعد پنکھ تراش دیے تھے۔ چیل کے لمبے لمبے بدصورت پنکھ۔”اوئے اس کا دل....“ مجمعے میں سے آواز آئی۔ سب کی نظریں سینے پر جا الجھیں۔ وہاں عین دل کے مقام پر ایک سوراخ تھا اور اس سوراخ میں لوہے کا ایک بدصورت ٹکڑا۔ لوگ سنگ تراش کو ڈھونڈنے لگے۔ بت ساز حاضر ہو گیا۔ لوگوں نے مذمت شروع کر دی۔ جب لوگ چیخ چیخ کر تھک گئے تو بت تراش نے اداس لہجے میں کہا۔”حضرات! یہ اقتدار کی دیوی ہے۔ اقتدار کی آنکھیں نہیں ہوتی ہیں۔ لہٰذا اقتدار کا پجاری اندھا ہوتا ہے۔ اقتدار کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ لہٰذا ہر وہ شخص جس میں رحم ہو، وہ بھی اقتدار تک نہیں پہنچ سکتا اور حضرات! اقتدار کے پاؤں بھی نہیں ہوتے، یہ اڑتا ہوا آتا ہے اور اڑتا ہوا واپس چلا جاتا ہے۔“





حقیقت یہی ہے کہ اقتدار کی ہوس ہر دور میں انسانوں کو اندھا، سنگدل اور دیوانہ بناتی آئی ہے۔ جس پر اقتدار کا بھوت سوار ہوجائے تو پھراقتدار کو حاصل کرنا اور اسے قائم رکھنا ہی اس کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد بن جاتاہے۔ بہت دفعہ ایسا بھی ہوا کہ اقتدار کے نشے نے بھائی کو بھائی کے سامنے لا کھڑا کیا اور ایک دوسرے کا خون بہانے سے بھی دریغ نہیں کیا گیا۔ مغلیہ دور حکومت میں اورنگزیب عالمگیر سب سے زیادہ پارسا باد شاہ گزرے ہیں، ان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ سلطنت ہند کی سیا ہ و سفید کے مالک ہو نے کے باوجود اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنے ہاتھ سے ٹوپیاں بنتے تھے اور قرآن مجید کی کتابت کر تے تھے۔ ایسے پارسا انسان اورنگزیب عالمگیر کی زندگی کا بھی ایک حصہ اقتدار کے حصول کے لیے اپنے والد شاہجہان اور اپنے بھائیوں مراد بخش ، شجاع اور دارا سے لڑتے گزرا۔


آج تک اقتدار نے کسی کے ساتھ وفا نہیں کی،اقتدار آتا بہت مشکل سے ہے، لیکن جاتے ہوئے پتا بھی نہیں چلتا۔

فرعون کو جب اس کے نجومیوں نے بتایا کہ ایک بچہ تمہارے اقتدار کے لیے خطرہ بنے گا تو فرعون پر یہ بہت شاق گزرا، اپنا اقتدار بچانے کی خاطر اس نے سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بے شمار نومولود بچوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا، لیکن اقتدار اس کا پھر بھی نہ بچ سکا اور فرعون دریا میں ڈوب کر عبرت ناک انجام سے دوچار ہوا۔
  • نمرود کو جب اپنا اقتدار ڈولتا ہوا نظر آیا تو وہ بھی اقتدار کی ہوس میں ایسا اندھا اور دیوانہ ہوا کہ مقرب پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈال دیا،لیکن اس کا اقتدار انتہائی ذلت و رسوائی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
  • فرانس کے بادشاہ لوئی شانزدہم بڑے ٹھاٹھ باٹھ اور شان و شوکت کے ساتھ ایک عرصہ اقتدار پر براجمان رہا،لیکن عوام نے شاہی محل پر حملہ کرکے بادشاہ اور ملکہ کو قید کیا، بعد ازاں دونوں کوموت کی سزادے دی گئی۔
  • عالم اسلام کے دو عظیم فاتح تیمور لنگ اور بایزید یلدرم جب تقریباً آدھی دنیا فتح کرچکے تو بلاشرکت غیرے پوری دنیا کے اقتدار کا مالک بننے کے لیے دونوں نے آپس میں لڑکر لاکھوں مسلمانوں کو خون میں نہلادیا، لیکن برا ہو اس اقتدار کا، یہ پھر بھی جاتا رہا۔
اگرماضی قریب میں جھانکیں تو تاریخ کی گواہی کھل کر سامنے آتی ہے۔
  • ایران کے رضا شاہ پہلوی نے بڑی عیاشی، دبدبے اور جبر کے ساتھ حکومت کی،لیکن اس کا کا انجام عبرت سے لبریز ہے۔
  • اقتدار کی محبت میں غرق حسنی مبارک نے طویل عرصہ تکبرونخوت کے ساتھ مصر پر راج کیا ، لیکن عوام کے ہاتھوں ذلت سے دوچار ہوا۔
  • کرنل معمر قذافی نے نصف صدی جابرانہ طریقے سے لیبیا کے اقتدار کے مزے لوٹے، وہ بھی عوام کے انتقام کا نشانہ بنا۔
  • صدام حسین نے بھی اقتدار کی ہوس میںعراق کو ہائی جیک کیے رکھا۔جب قدرت نے حساب برابر کیا تو صدام حسین کو پھانسی کے پھنداملا۔
  • پرویز مشرف نے زبردستی اقتدار چھینا،اقتدار کو طول دینے کےلئے ہر جائز و ناجائز طریقہ اختیار کیا، لیکن کل کا صدر آج عدالتوں کے چکر کاٹ رہا ہے۔


اقتدار کی ہوس کے باعث جو شام اور مصر کو جلارہے ہیں ، تاریخ سے سبق سیکھیں ،اس ہوس کا انجام برا ہے ۔

کیونکہ جب قدرت کی مار پڑتی ہے تو اقتدار، طاقت، عیش و طرب، حاکمیت اور فرعونیت کاسہ گدائی میں بدل جاتی ہے۔سچ ہے کہ اقتدار کی ہوس ہے ہی بری۔




Saturday, May 28, 2016

درہم، وزن، تاریخ اور فوائد

درہم خالص چاندی کا بنا ہوا سکّہ ہوتا ہے جسکا وزن 2.975 گرام ہوتا ہے۔ وزن کے اعتبار سے سات دینار کا وزن دس درہم کے برابر ہوتا ہے.

ترکی کی سلطنت عثمانیہ میں درہم 3.207 گرام کا تھا۔
1895 میں مصر میں درہم 3.088 گرام کا تھا.

تاریخ 

محمدصلی اللہ عليہ وسلّم کے دور میں چاندی کے ساسانیاور یونانی سکّے استعمال ہوا کرتے تھے، جس کا وزن 3 گرام سے لے کر 5۔3 گرام ہوا کرتا تھا۔ اہل عرب اس کاتبادلہ وزن کے حساب سے کیاکرتے تھے لیکن محمدصلی اللہ عليہ وسلّم نے ایک دینار کا وزن ایک مثقال قرار دیا، جو کہ 72 جو(barley) کے دانوں کے وزن کےبرابر ہوتاہے۔اور جدید معیار وزن کے مطابق اس کا وزن تقریبا 4.25 گرام ہوتاہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں ان سکّوں کو کاٹھا گیا اور اس کے وزن کوایک مثقال تک لایاگیا۔ اور آپ نے ایک معیار قائم کیا کہ سات دینار کا وزن دس دراہم کے برابر ہو۔ لہذا ایک درہم کا وزن تقریبا 2.975 گرام (تقریبا 3 گرام) ہوتاہے۔ حضرت عثمان کے دور میں اس پر بسم اللہ لکھا گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے پہلی مرتبہ اپنے سکّے جاری کئے۔ بعد میں عبدالملک بن مروان نے مسلمانوں میں باقائدہ طورسےاپنے سکّے ڈھالنے شروع کئے۔ جس کاوزن نہایت احتیاط کے ساتھ 2.975 گرام (تقریبا 3 گرام) رکھا گیا۔

معیارِ وزن

درہم کا وزن بھی ایک مثقال سے اخذ کیا گیا ہے۔ جس کا وزن 72 جو(barley) کے دانوں کے وزن کے برابر ہوتاہے، جوکہ 25۔4 گرام کے برابر ہوتاہے۔ حضرت عمر کے قائم کردہ معیارکے مطابق سات دینار کا وزن دس دراہم کے برابر ہو، تو ایک درہم کا وزن تقریبا 2.975 گرام (تقریبا 3 گرام) ہوتاہے۔ اور اس کی خالصیت کم ازکم 22 قیرات (یعنی 7۔91 فیصد) ہونی چاہئیے۔اس لئےجدید اسلامی درہم بنانے والی اکثرکمپنیاں مثلاً عالمی اسلامی ٹکسال، وکالہ انڈیوک نوسنتارہ، ضراب خانہ اسعار سنّت وغیرہ اسی معیار کو استعمال کرتی ہیں۔ 

استعمالترميم

درہم کے بہت سے استعمالات ہیں۔جن میں چند ایک مندرجھ ذیل ہیں۔

بطورِ زر(زر)
بطورِمعیار نصابِ زکوٰۃ
بطورِادائیگی زکوٰۃ
مہر کا نصابِ معیار
اسلامی قوانینِ سزاوجزا (حدود) میں اس کا استعمال

فوائد

چاندی کے درہم کےبہت سے فوائدہیں۔

چاندی کے درہم کے بہت سے فوائد ہیں۔ کیونکہ کرنسی کی قیمت اس کے اندر ہونی چاہیے۔ لہٰذا چاندی کے سکوّں کی اپنی ایک قدر و قیمت ہے جو پوری دنیا میں قابل قبول ہے کیونکہ یہ ایک حقیقی دولت ہے کوئی ردّی کاغذ نہیں۔جدید معاشی نظام سے پہلے جب لوگ آپس میں تجارت کرتے تھے تو وہ جفرافیائی حدود سے آزاد تھے۔ وہ دنیا میں جہاں بھی جاتےتھے سونے اور چاندی کے سکےّ وہاں وزن کے حساب سے قبول کیے جاتے تھے۔ لوگوں کو کوئی تکلیف نہیں ہوا کرتی تھیں۔ ایسا ممکن نہ تھا کہ امریکہمیں بیٹھا کوئی بینکر یا شخص ہندوستان کی پوری قوم کو غلام بناسکے۔ اور اسکے علاوہ یہ بھی ممکن نہ تھا کہافغانستان میں بیٹھا ہوا کوئی شخص اگر تجارت کرے تو یورپ میں بیٹھا ہوا کوئی بینکر اس میں سے اپنا حصّہ نکال لے۔یعنی تجارت حقیقی دولت میں ہوا کرتی تھیں اسی لیے انسان آزاد تھے۔اسکے ساتھ ساتھ لوگ حکومت کے دھوکوں سے بھی آزاد تھے۔ اگر کوئی حکومت یا بادشاہ منڈی میں دولت لانا چاہتا تھا تو اسے سونا یا چاندی کہیں سے ڈھونڈ کر لانا پڑتا تھا۔ ایسا نہ تھا کہ بے دریغ دولت(کاغذی کرنسی)کے روپ میں یکدم منڈی میں ڈال دی جاتی، روپے،ڈالر وغیرہ کی قیمت میں کمی ہوجاتی۔ جسکی سزا عام عوام کو بگتنی پڑتی۔

یعنی اس دور مین جب کوئی حکومت یا بادشاہ ملکی خزانہ لوٹ لیتے ہیں تو پھر انکے پاس سرکاری ملازمین وغیرہ کو تنخواہ دینے کے پیسے(کاغذی کرنسی)کم پڑجاتی ہے تو وہ زیادہ کاغذی کرنسی چھاپ دیتے ہیں تاکہ ملازمین کو تنخواہیں دی جاسکے تو کاغذی کرنسی کی قدر میں کمی ہوجاتی ہے، لہٰذا اگر کسی مزدور نے پچھلے دس سالوں میں ایک لاکھ روپے جمع کئے ہیں۔ تو حکومت کی کاغذی کرنسی کی زیادہ چھپوانی سے اب اسکے ایک لاکھ روپے کی قدر پچاس، ساٹھ ہزار روپے ہوگی۔لہٰذا اس مزدور کی آدھی دولت حکومت نے ہڑپ کرلی اور اس بیچارے کو پتہ ہی نہیں کہ اصل میں کیا ہوا اس کے ساتھ۔. لہٰذا کاغذی کرنسی کے زیادہ چھپوائی کے ذریعے دنیا کی ہر حکومت اپنی عوام کی دولت کو لوٹنے کیلئے استعمال کرتی ہیں۔ اسی لیے اگر کرنسی سونے کی ہو تو حکومت کے لئے ممکن نہیں کہ زیادہ کرنسی کو چھپوا سکےکیونکہ اب کرنسی کاغذ کی نہیں بلکہ سونے کی ہے۔ لہٰذا سونے اور چاندی سے بنے کرنسی سے عوام کی دولت، حکومت اور بین الاقوام ادارہ برائے زر(IMF)کے دھوکوں سے محفوظ رہتیں ہیں۔

اس کے علاوہ چاندی کے دراہم اپنی قیمت ہر دور میں برقرار رکھتی ہے۔ اگر آپ کے پاس سونے اور چاندی کے سکےّ ہو تو آپ خواہ کسی بھی ملک میں چلے جائے تو اس کی قیمت برقرار رہتی ہیں۔ چاہے وہ کوئی بھی دور ہو یا جیسے بھی حالات ہو، جنگ کا زمانہ ہو یا امن کا دور، ملک کی معاشی حالت خراب ہو یا اچھی ہو، ہر حالت میں سونااپنی قیمت کو برقرار رکھتی ہے۔ کیوں کہ سونے سے بنے کرنسی کی وجہ سے، کرنسی کی قیمت و قدر اس کے اندر ہوتی ہے جب کہ کاغذ سے بنی کرنسی کی قدر اس کے اندر نہیں ہوتی بلکہ وہ ایک کاغذ کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ اس لئے اگر ایک انسان سونے اور چاندی کے سکوّں کو زمین میں دبادے اور چھار، پانچ سو سال بعد کوئی شخص اس کو نکالے، تب بھی اس کی قیمت برقرار رہے گی، اور اس کے لئے یہ سکےّ ایک قیمتی خزانے کی شکل اختیار کریں گے۔ اس لئے اگر کسی کو آج سے چھار پانچ سو سال پہلے کے دور کے سکےّ مل جائے تو ہم کہتے ہے کہ اس کو خزانہ مل گیا ہے۔ یہ خزانہ دراصل اس دور کی کرنسی(روپیہ،پیسہ)ہی ہے، جو خزانے کی شکل اختیار کئے ہوئے ہے۔ اب آپ ذرا سوچئے کہ اگر اس دور میں بھی کرنسی کاغذ کی ہوتی تو پھر اس کی قدر ردّی کاغذ کے سوا کچھ بھی نا ہوتی۔ اس لئے اگر انسان سونا لیکر زمین میں دبا دے اور سو سال بعد اسکو نکالا جائے تو اسکی قیمت برقرار رہتی ہے۔ لہٰذا سونے چاندی کی وجہ سے وہ پرانا معاشی نظام پائیدار تھا۔اسکےعلاوہ سونے چاندی کے سکوّں کا یہ فائدہ بھی پہلے حکومتوں اور عوام کو ہوا کرتا تھا کہ اگر کوئی دشمن ملک آپکی کرنسی بنانا چاہتا تھا، تو اسے بھی سونے اور چاندی کے سکےّ ہی بنانے پڑتے تھے۔ اس کے لیے ممکن نہ تھا کہ وہ کوئی بھی ردّی کاغذ چھپوالیتا اور کرنسی کاپی کرلیتا۔

یعنی اس دور میں کرنسی کو دشمن ملک کی معیشت کو تباہ کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ دشمن ملک آپ کی کرنسی کو چھاپ کر آپ کے ملک کے منڈی میں لاتا ہے، تو آپ کے ملک میں کرنسی زیادہ ہوجاتی ہے، جس کی وجہ سے اس کی قدر میں کمی ہوجاتی ہے اور ملک کا پیسہ تباء ہوجاتا ہے، جسکی وجہ سے معیشت خراب ہوجاتی ہے۔ لیکن اس نظام میں یہ ممکن نہیں جہاں کرنسی سونے اور چاندی سے بنی ہو۔چنانچہ دنیا کا سب سے پائیدار معاشی نظام ایک ایسا نظام ہوسکتا ہے جس میں کرنسی کی قدر میں کمی نہ ہو، یعنی کرنسی کی اصل قدر اسکے اندر ہو۔

اس کے علاوہ اگر دشمن ملک آپ کی کرنسی چھاپ لے تو وہ صرف کاغذ کے چند نوٹوں کے بدلے آپ کے ملک کے مارکیٹ سے کوئی بھی چیز خرید سکتے ہیں۔ مثلاً وہ آپکے مارکیٹ سے سونا، چاندی،گندم، وغیرہ ، غرض ہر چیز خرید سکتے ہیں۔ لیکن سونے کی صورت میں یہ ممکن نہیں۔ کاغذی نوٹ جل کر راکھ ہو جاتے ہیں، پٹ جاتے ہیں، پانی لگنے سے خراب ہو جا تے ہیں، وقت کے ساتھ ساتھ خراب ہو جاتے ہیں لیکن سونا اور چاندی نا جل کر راکھ ہو تی ہیں اور نا ہی پانی لگنے سے خراب ہوتی ہیں اور 22 قیرات سونے کا سکّہ جس کی ساتھ تھوڑا سا تانبا ملا ہوا ہو ، کی عمر ساٹھ سال سے زیادہ ہوتی ہیں۔یعنی ساٹھ سال مسلسل استعمال کےبعد شاہد اس کے وزن میں ایک فیصد کمی آ جائے، جس کو واپس ٹکسال لے جا کر اس میں ایک فیصد سونا ڈالنا ہو گا۔ جب کہ کاغذی کرنسی کی عمر دو سے تین سال ہوتی ہیں۔ 

Monday, May 23, 2016

مولانا ظفر علی خان.. تاریخ صحافت کا درخشندہ باب


مولانا ظفر علی خان ........ تاریخ صحافت کا درخشندہ باب
مولانا ظفر علی خان19 جنوری، 1873ء میں کوٹ میرٹھ شہر وزیر آباد میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد کا نام مولوی سراج الدین تھا۔ پہلے آپ کا نام خداداد خاں رکھا گیا بعد میں اُن کی پیشانی پر فتح و جرا¿ت اور شجاعت و ظفر کے آثار دیکھتے ہوئے ان کا نام ظفر علی خاں رکھ دیا گیا۔ علی اللہ کا نام بھی ہے۔ علی ایک ایسا نام ہے جو جنگ ہو یا جلسہ، مسلمانوں میں حوصلہ، جراءت اور جوش و جذبہ پیدا کرتا ہے۔ ظفر علی خاں نے ابتدائی تعلیم مشن ہائی سکول وزیرآباد اور قرآن پاک کی تعلیم برصغیر کے نامور عالم دین حافظ عبدالمنان وزیرآبادی سے حاصل کی۔ بعد ازاں ظفر علی خاں نے اینگلو محمڈن کالج علی گڑھ سے فارغ التحصیل ہو کر ریاست حیدرآباد کے محکمہ داخلہ میں بحیثیت اسسٹنٹ سیکرٹری ملازمت کر لی۔ انہوں نے حیدرآباد میں ایک اطالوی کمپنی کے حیا سوز رقص کے بائیکاٹ کی پرزور حمایت کی جس پر ریاست کے انگریز ریذیڈنٹ سر مائیکل اوڈوائر نے حکومتِ ہند سے مولانا کی شکایت کر دی نتیجتاً انہیں فوری طور پر ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔ 

مولانا کے والد مولوی سراج الدین نے 1903ءمیں اپنے گاﺅں کرم آباد سے ایک ہفتہ وار اخبار ”زمیندار“ جاری کیا۔ والد کے انتقال کے بعد 1909ءمیں ظفر علی خاں اس کے ایڈیٹر مقرر ہوئے اور بعدازاں 1910ءمیں انہوں نے اپنے والد کے گہرے دوست چوہدری شہاب الدین جو کہ مشہور وکیل تھے، کے مشورے پر اخبار کو لاہور منتقل کر دیا۔ بعدازاں اخبار کو ہفتہ وار کی بجائے روزنامہ بنا دیا گیا اور یکم مئی 1911ءکو روزنامہ ”زمیندار“ کا پہلا پرچہ لاہور سے شائع ہوا۔

مولانا ظفر علی خاں کی شخصیت کا ایک اور اہم پہلو اُن کی صحافت، ادب اور سیاست سے جڑا ہوا ہے۔ اس صف میں مولانا کا کوئی ہم پلہ نہیں۔ نڈر، بے خوف، غرض و لالچ سے بے نیاز، کسی بھی جھوٹے پراپیگنڈے سے آپ کبھی دل برداشتہ نہیں ہوئے۔ جس مشن کو لے کر اُٹھے اُس کا علم بلند رکھا اور ظلم و استبداد کی طاقتوں کی خلاف پوری طرح نبردآزما رہے۔ دینِ اسلام کی سربلندی، شدھی اور سنگٹھن تحریکوں کے خلاف جہادِ مسلسل میں اُن کے پائے استقلال میں کبھی کوئی لغزش نہیں آئی۔ وہ برملا کہتے تھے کہ ”انسان آزاد پیدا ہوا ہے اور آزادی اُس کا پیدائشی حق ہے۔ انسان کا سر صرف خدائے لم یزل کے روبرو جھکنا چاہئے کیونکہ وہی عبادت کے قابل ہے۔“
انگریز کی غلامی اور ہندوستان کی محکومیت کے خلاف روزنامہ زمیندار کا کردار تاریخِ صحافت کا ایک درخشندہ باب ہے۔ مولانا میدانِ عرفات میں بارگاہِ ایزدی میں عرض گزار ہیں:
جو سزا چاہے، ہمیں دے لے کہ تُو مختار ہے
لیکن اپنوں کو نہ غیروں کی نظر میں خوار کر
ہند کو بھی اے خدا قیدِ غلامی سے چھڑا
اپنے گھر کا ہم کو بھی مالک بنا مختار کر

جیل میں چکی کی مصیبت کے ساتھ ساتھ مشق سخن جاری رکھنے کے لیے جو طرفہ طبیعت درکار ہے وہ حسرت کے ایک ہمعصر مولانا ظفر علی خاں کے حصے میں بھی آئی۔ ان دونوں کی مشکلیں اور مشغلے یکساں تھے۔ انگریز سے نفرت اور اس کی پاداش میں نظربندی۔ آزادی کا مطالبہ اور اس کے جواب میں جیل۔ دین کی خدمت، لہٰذا جائیداد قرق۔ اور جب اس احوال کو نظم کیا تو شعر بھی ضبط ہو گیا۔ شوق گناہ ہر سزا کے بعد بڑھتا چلا گیا اور ایک نے شائد گیارہ اور دوسرے نے چودہ سال قید اور نظربندی میں گزار دیئے۔ ان کی ایذا پسندی اور نازک خیالی کا یہ عالم تھا کہ ساری عمر مار کھاتے اور شعر کہتے گزر گئی۔ بالآخر سیاست کی راہ میں زندگی لٹا دینے کے بعد ان دونوں کا وہ سفر جو شور انگیزی سے شروع ہوا تھا، بڑھاپے اور قدر شناسی کی منزل پر ختم ہو گیا۔

مولانا کی شاعری کے دیوان: بہارستان، نگارستان، چمنستان، حبسیات کے صفحات سے درج ذیل چند اشعار پیش خدمت ہیں جن میں وہ جیل کی مشقت کا نقشہ یوں کھینچتے ہیں:
آج جن کی یہ خطا ہے کہ ذرا کالے ہیں
پی رہے ان کا لہو جیل کے رکھوالے ہیں
کبھی کولھو کی مشقت، کبھی چکی کا عذاب
جس سے ہاتھوں میں بچاروں کے پڑے چھالے ہیں
گوشت اور خون کے پرزے ہیں جو انگریزوں نے
قیصریت کی مشینوں کے لیے ڈھالے ہیں!
قید گورے بھی ہیں چوری میں مگر ان کے لیے
جیل سرکار نے گلزار بنا ڈالے ہیں
ہم کسی بات میں کم ان سے نہیں لیکن
اس کو کیا کیجئے وہ گورے ہیں ہم کالے ہیں
رنگ کے فرق پہ موقوف ہے قانونِ فرنگ
یوں نکلتے نئی تہذیب کے دیوالے ہیں
ہو گئے کس لیے کونسل کے سب ارکان خاموش
وہ بھی کیا ان ستم آرائیوں کے آلے ہیں
ہو گئیں زندہ روایاتِ احد زنداں میں
دانت ٹوٹے ہیں انہیں کے جو خدا والے ہیں

1934ء میں جب پنجاب حکومت نے اخبار پر پابندی عائد کی تو مولانا ظفر علی خان جو اپنی جرات اور شاندار عزم کے مالک تھے انہوں نے حکومت پر مقدمہ کردیا اور عدلیہ کے ذریعے حکومت کو اپنے احکامات واپس لینے پر مجبور کر دیا۔ اگلے دن انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور ایک طویل نظم لکھی جس کے ابتدائی اشعار یہ ہیں

یہ کل عرش اعظم سے تار آگیا
زمیندار ہوگا نہ تا حشر بند
تری قدرت کاملہ کا یقین
مجھے میرے پروردگار آگیا

مولانا ظفر علی خاں ہندوﺅں کے ساتھ چومکھی لڑائی لڑتے تھے۔ کہیں پنڈت مدن موہن مالویہ کے ساتھ شدھی اور سنگٹھن کی تحریک پر جھگڑا کیا اور اُن کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ہندوستان میں مسلمانوں کو شدھ کر کے ہندو دھرم میں شامل کرنے کی یہ سازش سوامی شردانند نے تیار کی تو مولانا کا قلم پوری قوت سے اُن کے مقابلے میں آ گیا اور لکھا:

اک مست الست قلندر نے جب کفر کے چیلوں کو رگڑا
پہلے تو رگڑنے ناک لگے پھر پاﺅں پڑے اور سر رگڑا
وہ شدھی دوڑی جاتی ہے اور پیٹتی چھاتی جاتی ہے
خود کہنے لگی اب جاتی ہے دھڑ مست قلندر دھڑ رگڑا
یہ رگڑے جھگڑے یونہی رہے کچھ روز اگر اخباروں میں
سن لو گے ماتھا بھارت نے اسلام کی چوکھٹ پر رگڑا

ہندوﺅں اور انگریزوں کے مکروہ ارادوں کے آگے آہنی دیوار بن کر مسلمانوں کی آزادی کے تحفظ اور حرمتِ رسول مقبول ﷺ اور دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے تن من دھن قربان کرنے والی عظیم شخصیت اور بطلِ حریت مولانا ظفر علی خاں کے بارے میں جس قدر بھی لکھا جائے وہ کم ہے۔
مولانا کے دل میں صرف برصغیر کے مسلمانوں ہی کا درد نہ تھا بلکہ دنیا کے جس حصے میں بھی مسلمانوں پر آفت آتی، مولانا تڑپ اٹھتے۔ انہوں نے دامے درمے سخنے قدمے ان کی مدد کی۔ چندہ ہی نہیں کندھا بھی دیا۔ عثمانیوں پر کوہِ غم ٹوٹا تو مولانا نے ٹرکش ریلیف فنڈ قائم کیا۔ پہلی دفعہ 61 ہزار 815 روپے آئے۔ دوسری دفعہ 24 ہزار پاﺅنڈ تیسری مرتبہ 20 ہزار پاﺅنڈ ترک حکومت کو پیش کیے۔ آپ کی اپیل پر لاکھوں پاﺅنڈ مزید بھیجے گئے جس پر مصطفےٰ کمال پاشا نے مولانا کے نام شکریہ اور تعریفی خطوط ارسال کیے۔
بابائے صحافت مولانا ظفر علی خاں انگریزوں اور ہندوﺅں سے لڑتے لڑتے اور تحریک آزادی کے لیے قوم کو تیار کرتے کرتے 27 نومبر 1956ءکو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے اور کرم آباد میں دفن ہیں۔ وہ اپنے پیچھے صحافیوں کے لیے تربیت کا ایک ایسا معیار چھوڑ گئے جو صدیوں تک مشعل راہ رہے گا۔
آسماں اس کی لحد پر شبنم افشانی کرے
مولانا الطاف حسین حالی نے مولانا ظفر علی خاں کے بارے میں لکھا:
اے دیں کے امتحان میں جانباز
اے نفرت حق میں تیغ عریاں
اے صدق و صفا کی زندہ تصویر
اے شیر دل اے ظفر علی خاں

(انور بشیرکی تحریر سے اقتباس)

Thursday, May 19, 2016

ستاروں اور سیاروں کا تقابلی جائزہ

ستاروں اور سیاروں کا تقابلی جائزہ

ہم جس جگہ رہتے ہیں اس کو ’’کرۂ ارض ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ سورج کے گرد چکر لگانے والے سیاروں میں سے ایک چھوٹا سا سیارہ ہے اس سے کئی گنا بڑے سیارے جیسے مشتری (Jupiter) اور زحل (Saturn) وہ بھی سورج کے تابع ہیں۔ سورج خود ایک کہکشاں کا ممبر ہے جس میں سورج سے کئی لاکھ گنا بڑے بڑے ستارے پائے جاتے ہیں اور ایسے ستاروں کی تعداد ہماری اس کہکشاں میں کئی سو بلین ہے۔ پھر اس طرح کی کئی سو بلین کہکشائیں اس کائنات میں موجود ہیں تو اس کائنات کی وسعتوں کا اندازہ لگائیں کہ وہ کس قدر عظیم الشان ہے اور جو اس کائنات کا بنانے والا ہے اس کی کیا شان ہوگی ؟
اس پوسٹ میں سیاروں اور ستاروں کا حجم کے اعتبار سے آپس میں تقابل دکھایا گیا۔
اس تصویر میں 6 گروپ بنائے گئے ہیں پہلے گروپ میں 4 سیارے ہیں جن میں زمین سب سے بڑی ہے اس کے بعد دوسرے گروپ میں زمین کو پہلے دکھایا گیا ہے تاکہ اندازہ ہوجائے کہ زمین جو پہلے گروپ میں سب سے بڑی تھی اب ان بڑے سیاروں کے مقابلے میں کتنی چھوٹی ہے۔ اسی ترتیب سے تمام گروپ میں سیاروں اور ستاروں کے حجم کو دکھایا گیا ہے ۔
ہر گروپ میں اوپر بائیں سے دائیں جانب نمبر وار ستاروں اور سیاروں کے نام انگریزی میں لکھے ہوئے ہیں ان میں سے جن کے نام اردو میں میسر ہوسکے وہ لکھ دئے گئے ہیں۔
آخر میں کائنات کا (سائنس دانوں کی معلومات کے مطابق) سب سے بڑا ستارہ ’’کلب اکبر‘‘ (VY Canis Majoris) ہے جس کے مقابلے میں سورج ایک نقطے کے برابر ہے تو ہماری زمین کی کیا حیثیت ہوگی۔ سبحان اللہ

Saturday, May 14, 2016

پندرھویں شعبان کا روزہ اور اس رات کے محرومین

           پندرھویں شعبان کا روزہ ہے یانہیں؟
           اس سلسلہ میں ایک روایت حضرت علیؓ کی ہے؛ ابن ماجہ شریف میں ہے کہ نبی کریم نے فرمایا پندرھویں شعبان کی رات میں قیام کرو اور اس کے دن میں روزہ رکھو۔ لیکن حضرت علیؓ والی یہ روایت نہایت ضعیف ہے۔(سنن ابن ماجه، كتاب إقامة الصلاة والسنة فيها، باب ما جاء في ليلة النصف من شعبان)
          بلکہ سننِ ابن ماجہ کی جن روایات پر محدثین نے نقد کیا ہے ان میں ایک یہ بھی ہے۔ علاّمہ عبد العظیم منذری نے بھی الترغیب و الترہیب میں حضرت علیؓ کی اس روایت کو ذکر کیا ہے،مگر شروع میں انہوں نے جو اصول بتلائے ہیں،اس کے مطابق بھی یہ روایت درست نہیں۔(کتاب الترغیب ،الترغیب فی صوم شعبان)
          مسائل کی جو کتابیں ہیں،ان میں جہاں نفل روزوں کا تذکرہ کیا گیا ہے،  وہاں بھی پندرویں شعبان کے روزہ کا تذکرہ نہیں ہے۔ احناف کی کتابوں میں بھی دسویں محرم اور نویں ذی الحجہ کے روزہ کا ذکرہے، ایام بیض کے روزے کا بھی ذکر ہے، لیکن پندرویں شعبان کے روزے کاخصوصیت سے کوئی ذکرنہیں ہے۔
           ویسے شعبان کے مہینہ میں نبی کریم کا کثرت سے روزہ رکھناثابت ہے۔ حضرت اُسامہؓ کی روایت مسلم شریف میں موجود ہے کہ نبی کریم   شعبان کے مہینے میں کثرت سے روزے رکھتے تھے، بلکہ کتب حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایام ممنوعہ کی وجہ سے ازواجِ مطہرات کے رمضان کے جو روزے رہ جاتے تھے ،انہیں اپنے روزے رکھنے کا موقع شعبان ہی میں نبی کریم  کے کثرت سے روزہ رکھنے کی وجہ سے ملتا تھا۔ حضور اکرم کثرت سے روزے رکھتے تھے اور فرماتے تھے کہ بندوں کے اعمال اس مہینہ میں پیش کئے جاتے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال ایسی حالت میں پیش ہوں کہ میں روزے کی حالت میں ہوں۔ ایک تو شعبان کے مہینہ میں روزہ رکھنے کی مستند فضیلت ہے، اس کی بنیاد پر۔اور دوسرا یہ کہ ایامِ بیض یعنی چاندنی راتوں۱۳ ، ۱۴ ، ۱۵  کے دنوں میں روزوں کا مستحب ہونا حدیث سے ثابت ہے،فقہا نے بھی لکھا ہے، اس طرح یہ پندرہویں شب کے بعد کا روزہ ہوتا ہے، اس معنی کر کے فضیلت والا ہوتا ہے۔ ان دو حیثیتوں سے رکھے تو کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔ مگر اس کو الگ سے مستحب سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ سب سے بہتر تو یہ ہے آدمی کہ ۱۳، ۱۴، ۱۵ کا روزہ رکھ لے، پھر بھی صرف پندرہ کا ہی رکھ لے گا تو کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔ بعضوں نے اسی اعتبار سے شعبان کے روزوں کی فضیلت کی وجہ سے اجازت دی ہے۔ خاص اس روایت کوپیشِ نظر نہ رکھا جائے ۔
          جن کی اس رات میں مغفرت نہیں ہوتی۔
           ان برکت والی راتوں میں اللہ تعالی کی طرف سے مغفرت کی جاتی ہے، لیکن حدیثوں میں آتا ہے کہ بعض ایسے گنہگار بھی ہیں کہ ان برکت والی راتوں میں بھی ان کے گناہ معاف نہیں ہوتے۔ (الترغیب والترہب ، کتاب الادب ،۱۱- الترہب من  التہاجروالتشاحن)
          ۰ایک تو شرک کرنے والا۔
          ۰دوسرامشاحن۔اپنے دل میں کینہ رکھنے والا۔ ’مشاحن‘ شحنہ سے ہے، کینہ ۔ کسی مسلمان کے متعلق اپنے دل میں کینہ رکھتا ہو تو اس کی بھی مغفرت اللہ تعالی کے یہاں نہیں ہوتی۔ آج کل ایک مصیبت ہم میں عام ہو گئی ہے۔ ہمارے معاشرہ میں آپس کے تعلقات خراب ہوتے ہیں۔ دو آپس میں لڑنے والے جنہوںنے آپس میں صلح نہ کی ہواورقطع تعلق رکھنے والے بھی اس میں آجاتے ہیں۔ آج کل ہمارے معاشرہ میں یہ وباء بھی بہت عام ہوتی جارہی ہے کہ غیر تو غیر اپنے رشتہ داروں میں بھی اتنی زیادہ آپس میں منافرت اور اتنا زیادہ قطع تعلق ہو جاتا ہے کہ بھائی بھائی کے ساتھ، قریبی رشتہ دار قریبی رشتہ دار کے ساتھ بولنے کے لئے روا دار نہیں ہوتے۔یہ بڑی خطرناک چیز ہے۔ ایسے موقعوں سے فائدہ اُٹھا کر کے ان تعلقات کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی جائے ورنہ اتنی مبارک راتوں میں بھی جن لوگوں کے گناہ معاف نہیں ہوتے،جن کی مغفرت نہیں ہوتی ان میں اس کو شامل کیا گیا ہے
          ۰جو شراب کا عادی ہو اس کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے۔
          ۰ماں باپ کا نافرمان بھی اس میں ہے۔
          ۰المنّان احسان کر کے جتلانے والا بھی اس وعید میں شامل ہے۔
          ایک بیماری ہمارے معاشرہ میں یہ بھی ہے کہ کسی کے ساتھ کوئی احسان کیا ہو تو چاہتے یہ ہیں کہ جس کے ساتھ احسان کیا ہے وہ میرا غلام بن کر رہے۔ ذرّہ برابر بھی اس کے مزاج کے خلاف کچھ ہواتوکہیںگے ارے یار ! ااس پر میں نے یہ احسان کیا، میں نے یوں کیا، فلاں کیا۔ دیکھو نا اس کے باوجود ایسا کام کیا ۔ بھائی ! یہ سب کچھ اللہ تعالی سے ثواب اور صلہ حاصل کرنے کے لئےکیا تھا،اس سے کیوں توقع رکھتے ہو۔یہ احسان کر کے جتلانے والا بھی ان لوگوں میں ہے،جس کی اتنی بڑی راتوں میں مغفرت نہیں ہوتی۔
          ۰ ٹخنے سے نیچے لنگی کرتہ پائجامہ رکھنے والا۔
           آج کل لمبے عربی کرتے پہننے کا بعض لوگوں کوشوق ہوتا ہے وہ بھی ٹخنے سے نیچے نہیں ہونا چاہئے۔ کرتہ ہو، پائجامہ ہو، پتلون ہو اور لنگی ہو تو بھی؛ ٹخنے ڈھک جاویں اس طرح پہنے تو ایسے آدمی کو حدیث میں شمار کیا گیا ہے کہ اس کی ان مبارک راتوں میں مغفرت نہیں ہوتی۔ یہ ٹخنے ڈھانکنے والا مرض بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ جوانوں کے اندر خاص طور سے۔اس سے اپنے آپ کو بچانے کی ضرورت ہے۔
          حضرت مولانا احتشام الحق تھانویؒ تو فرمایا کرتے تھے کہ ہمارا حال تو یہ ہے کہ انگریز کے کہنے سے نیکر اور چڈی پہن لی تو گھٹنے تک کھول دیے اور اللہ کے رسول کے کہنے سے ٹخنے کھولنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ پائجامہ ذرا اونچا رکھنے کے لئے بھی تیار نہیں۔انگریز کی مشابہت میں آدھا بدن کھولنے تک تیار ہیں اور اللہ کےرسول کی اتنی سی بات ماننے کو راضی نہیں، بلکہ بزرگوں نے لکھا ہے کہ بعض گناہ وہ ہوتے ہیں کہ آدمی نے گناہ کیا ،پھراس گناہ سے نکل آیا۔جیسے ایک آدمی زنا کرتا ہے، بد کاری کرتا ہے تو جب تک کہ وہ بدکاری میں مبتلا ہے وہاں تک وہ گناہ چل رہا ہے۔ وہ ختم ہو گیا۔ اب وہ گناہ اس کے سر پر تو ہے لیکن اس گناہ کے اندر تو مبتلا نہیں ہے۔ ایک آدمی شراب پی رہا ہے تو جب تک پی رہا ہے گناہ کر رہا ہے۔ پی چکا تو اس کے نامئہ اعمال میں تو وہ گناہ لکھ دیا گیا لیکن گناہ کا تسلسل ختم ہو گیا ،اب گناہ میں نہیں ہے۔ تو اب مسجد میں ہے تو یہ نہیں کہیں گے کہ شراب پی رہا ہے؛ لیکن بعض گناہ ایسے ہوتے ہیں کہ آدمی اس میں ایسامبتلا ہوتا کہ ہرحال میںگناہ چل رہاہے، چوبیس گھنٹے لگاتا ر وہ گناہ جاری رہتا ہے۔اسی میںیہ ٹخنے سے نیچے پائجامہ لٹکانا بھی ہے ، نماز پڑھ رہا ہے اور ٹخنہ ڈھکاہوا ہے تو و ہی گناہ چل رہا ہے، سویا ہوا ہے تب بھی اس گناہ کے اندر مبتلا ہے۔ بھائی جب اللہ تعالی کی مغفرت ہم چاہتے ہیں، اورطلب گار ہیں تو اپنے آپ کو ان چیزوں سے بچانے کا اہتمام ہو تا کہ ہم اپنی بڑی اور مبارک راتوں میں بھی اللہ تعالی کی مغفرت سے محروم نہ ہوں۔
                   اللہ تعالی ہمیں توفیق عطا فرمائیں۔ آمین۔ 
(مستفاد از وعظ حضرت اقدس مولانا مفتی احمد خانپوری دامت برکاتھم )
                  


Monday, May 9, 2016

تاریخ : حقیقت ، ابتداء اور فوائد

تاریخ کیا ہے ؟
تاريخ ايک ايسا مضمون ہے جس ميں ماضی ميں پيش آنے والے لوگوں اور واقعات کے بارے ميں معلومات ہوتی ہيں
اناتول قراش کے خیال میں تاریخ گزشتہ حادثات و اتفاقات کے تحریری بیان سے عبارت ہے۔ ای ایچ کار کی رائے میں تحقیق شدہ واقعات کے ایک سلسلے پر مشتمل ہے۔ کارل بیکر کے نزدیک اقوال و افعال کا علم ہے۔ سیلی کی رائے میں تاریخ گزشتہ سیاست اور گزشتہ سیاست موجودہ تایخ ہے۔ (ڈاکٹر آفتاب اصغر، مقدمہ تاریخ مبارک شاہی۔ 22) اطخاوی کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسا علم ہے جس کاموضع انسان زماں و مکاں ہے، جس میں وہ زندگی بسر کرتا ہے۔ ابن خلدون کا کہنا ہے یہ ایک ایسا علم ہے جو کسی خاص عہد ملت کے حالات واقعات کو موضع بحث دیتاہے۔ ظہیرالدین مرغشی کے نزدیک یہ ایک ایسا علم ہے جو اگلے وقتوں کے بارے میں اطلاعات پر مشتمل ہے۔ ڈاکٹر محمد مکری کا قول ہے کہ تاریخ ایسا علم ہے جس میں کسی قوم یا فرد یا چیز کے گزشتہ حالات واقعات پر بحث کرتا ہے۔ آقائے مجید یکتائی کا کہنا ہے کہ اعصار و قرون کے ان احوال و حوادث کی آئینہ دار ہے، جو ماضی سے آگئی و مستقبل کے لئے تنبیہ کا باعث بنتے ہیں۔ (ڈاکٹر آفتاب اصغر، مقدمہ تاریخ مبارک شاہی۔22) حقیقت یہ ہے کہ تاریخ کا نظریات میں کتنا ہی اختلاف ہو، مگر اس حد تک سب متفق ہیں کہ یہ ایک ایسا علم ہے جو عہد گزشتہ کے واقعات اور اُس زماں و مکاں کے بارے میں جس میں واقعات وقوع پزیر ہوئے ہیں، آئندہ نسلوں کو معلومات بہم پہنچاتا ہے۔ یہی وجہ ہے تاریخ اتنی قدیم ہے کہ جتنی تحریر۔ یہ اور بات ہے تاریخ کی ابتدا اساطیر یا دیومالائی کہانیوں سے شروع ہوئی۔ گو تاریخ اور اساطیر مین فرق ہے۔ تاریخ کے کردار حقیقی اور زمان اور مکان متعین و مشخص ہوتے ہیں۔ جب کہ اساطیر میں کردار مقوق الفطرت مسخ شدہ یا محض تخیل کی پیداوار اور زمان و مکان غیر متعین اور نامشخص ہوتے ہیں۔ (ڈاکٹر آفتاب اصغر، مقدمہ تاریخ مبارک شاہی۔ 22، 23)
تاریخ کی ابتدا :
عمدة القاری کی جلد 7 میں علامہ بدرالدین عینیؒ تاریخ کی ابتداء کے حوالے سے فرماتے ہیں:
جب زمین پر انسان کی آبادی وسیع ہونے لگی تو تاریخ کی ضرورت محسوس ہوئی ، اس وقت ہبوطِ آدم علیہ السلام سے تاریخ شمار کی جانے لگی، پھر طوفانِ نوح علیہ السلام سے اس کی ابتدا ء ہوئی ، پھر نارِ خلیل سے، پھر یوسف علیہ السلام کے مصر میں وزیر بننے سے، پھر موسی علیہ السلام کے خروج ِمصر سے، پھر حضرت داؤد سے ،ان کے فوراً بعد سلیمان علیہ السلام سے پھر حضرت عیسیٰ علیہم السلام سے۔ اس کے بعد ہر قوم اپنے اپنے علاقہ میں کسی اہم واقعہ کو سن قرار دیتی تھی، مثلاً قوم ِاحمر نے واقعۂِ تبایعہ کو، قومِ غسان نے سد ِسکندری کو، اہلِ صنعاء نے حبشہ کے یمن پر چڑھ آنے کو سن قرار دیا۔جس طرح ہر قوم نے اپنی تاریخ کا مدار قومی واقعات وخصائص پر رکھا، اسی طرح اہلِ عرب نے بھی تاریخ کے لیے عظیم واقعات کو بنیاد بنایا، چناں چہ سب سے پہلے اہلِ عرب نے حرب ِبسوس (یہ وہ مشہور جنگ ہے جو بکر بن وائل اور نبی ذہل کے درمیان ایک اونٹنی کی وجہ سےچالیس سال تک جاری رہی) سے تاریخ کی ابتدا کی۔ اس کے بعد جنگ ِداحس ( جو محض گھڑدوڑ میں ایک گھوڑے کے آگے نکل جانے پر بنی عبس اور بنی ذبیان کے درمیان نصف صدی تک جاری رہی )پھرجنگ ِغبراء سے، پھر جنگ ِذی قار سے پھر جنگ ِفجار سے تاریخ کی ابتدا کی۔
اس کے بعد حضور ﷺ کے اسلاف میں سے ایک بزرگ کعب کے کسی واقعہ سے سالوں اورتاریخ کا حساب لگاتے رہے ،پھر اصحاب ِالفیل کے واقعہ سے، یہاں تک کہ عام الفیل کی اصطلاح ان کے یہاں رائج ہوئی ۔لیکن اتنی بات واضح ہے کہ رومیوں اور یوناینوں کے دور، بالخصوص سکندراعظم کی فتوحات سے تاریخ کا وہ حصہ شروع ہوتا ہے جس نے دنیا کے اکثر ملکوں کے حالات کو اس طرح دنیا کے سامنے پیش کیا کہ سلسلہ کے منقطع ہونے کی بہت کم نوبت آئی اور عام طور سے یہیں سے تاریخ زمانہ کی ابتدا سمجھی جاتی ہے۔
کچھ حضرات نے تاریخ کو 3 زمانوں میں تقسیم کیا:
1-قرون اولیٰ، جو ابتدائے عالم سے سلطنت روماتک ہے۔
2-قرون وسطیٰ جو سلطنت روما کے آخر زمانہ سے قسطنطنیہ کی فتح تک ہے۔
3- قرون آخر وقسطنطنیہ کی فتح سے تاحال ہے۔۔
تاریخ کے فوائد :
مقدمۂِ ابن خلدون میں علامہ ابن خلدون تاریخ کے فوائد پر نظر ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :
تاریخ ایک ایسی چیز ہے او رایک ایسا فن ہے جوکثیر الفوائد اور بہترین نتائج پر مشتمل ہے اورتاریخ کا علم ہم کو سابق امتوں کے اخلاق، حالات، انبیاء کی پاک سیرتوں
اور سلاطین کی حکومتوں او ران کی سیاستوں سے روشناس کرتا ہے، تاکہ جو شخص دینی ودنیوی معاملات میں ان میں سے کسی کی پیروی کرنا چاہے تو کر سکے۔
مولانا محمّد میاں مصنف ِتاریخ اِسلام تاریخ کا مقصد اور فائدہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ : جو حالات موجودہ زمانہ میں پیش آرہے ہیں ان کو گزرے ہوئے زمانے کی حالتوں سے ملا کر نتیجہ نکالنا او راس پر عمل کرنا تاریخ کا مقصد اور فائدہ ہے 

سلسلہ تصوف اور شجرہ تصوف

سلسلہ

اس سے مراد صحبت اور اعتماد کا وہ سلسلہ ہے جو موجودہ شیخ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم تک جاتا ہے ۔ہند میں چار بڑے سلاسل چل رہے ہیں ۔جو کہ چشتیہ ،نقشبندیہ ،قادریہ اور سہروردیہ ہیں۔جس شیخ سے آدمی بیعت ہوتا ہے تو اس کے ساتھ آدمی اس کے سلسلے میں داخل ہوجاتا ہے ۔ان سلاسل کی مثال فقہ کے چار طریقوں حنفی ،مالکی ،شافعی اور حنبلی یا طب کے مختلف طریقوں یعنی ایلوپیتھی ،ہومیوپیتھی ،آکو پنکچر اوریونانی حکمت وغیرہ سے دی جاتی ہے ۔ان کے اصولوں میں تھوڑا تھوڑا فرق ہے لیکن سب کا نتیجہ وہی روحانی صحت یعنی نسبت کا حاصل کرنا ہے ۔
چاروں سلسلوں کے مشائخ کے اسمائے گرامی

سلسلہ چشتیہ کے سرخیل حضرت خواجہ معین الدین چشتی (رحمۃ اللہ علیہ) ہیں۔ان کے آگے پھر دو شاخ ہیں چشتیہ صابریہ کے سرخیل حضرت صابر کلیری (رحمۃ اللہ علیہ) ہیں اور چشتیہ نظامیہ کے سرخیل حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء (رحمۃ اللہ علیہ) ہیں،سلسلہ قادریہ کے سرخیل حضرت شیخ عبد القادر جیلانی (رحمۃ اللہ علیہ)،سلسلہ سہروردیہ کے حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی (رحمۃ اللہ علیہ) اور سلسلہ نقشبندیہ کے حضرت شیخ بہاؤالدین نقشبندی (رحمۃ اللہ علیہ) ہیں۔

شجرہ اور اس کی اہمیت
آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مناسب جو اللہ تعالیٰ نے قُرآن میں بیان فر مائے ہیں چار ہیں۔یعنی قُرآن کی تلاوت سکھانا،صحابہ کرام (رضی اللہ عنہ) کا تزکیہ کرنا، کتاب کی تعلیم دینا اور حکمت کی تعلیم دینا۔قُرآن کی تلاوت کے شعبے کی ذمہ داری قرّا ءحضرات نے ،تزکیہ کی صوفیاء کرام نے اور علم و حکمت کی علماءکرام نے۔علماء کرام میں محدثین کرام نے احادیث شریفہ کو اُمت تک محفوظ طریقے سے پہنچانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔اس مقصد کے لئے وہ اپنی سندوں کی حفاظت کرتے ہیں اور اپنی سندوں کو اس ترتیب سے روایت کرتے ہیں جس ترتیب سے ان تک روایت پہنچی ہوتی ہے۔بعینہ اسی طرح صوفیاء کرام اپنی نسبت کو اسی ترتیب سے بیان کرتے ہیں جس ترتیب سے ان تک نسبت پہنچی ہوتی ہے۔نسبت کی اسی ترتیب کا بیان شجرہ کہلاتا ہے۔بعض حضرات نے اپنا شجرہ منظوم انداز میں چھاپا ہوتا ہے اور برکت کو حاصل کرنے کے لئے اس کو پڑھتے ہیں۔یہ دعائیہ شکل میں بھی ہوتی ہے اور مریدین اپنی دعا کی قبولیت کے لئے اس نسبت کو بطور وسیلہ پکڑتے ہیں۔