BEST RESULT

Custom Search

Friday, July 22, 2016

اردو مکالمہ نویسی برائے طلبہ

مکالمہ نویسی
مکالمہ دو یا دو سے زیادہ آدمیوں کی باہمی بات چیت کو کہتے ہیں۔ اس بات چیت یا گفتگو کے کئی پہلو ہوتے ہیں۔ اسی گفتگو سے ہم ایک دوسرے تک اپنے دل کی بات پہنچاتے ہیں اور ایک دوسرے کے خیالات سے آگاہ ہوتے ہیں۔
مکالمہ زبانی بھی ہوتا ہے اور تحریری بھی۔ اسی سے ایک دوسرے کے جو ہر و کردار کا پتا چلتا ہے اور کسی کردار کی شخصیت کھل کر سامنے آتی ہے۔ یہی مکالمات ڈراما، ناول اور افسانے کی جان ہیں۔ انہی کی کامیابی سے ناول ، افسانہ اور فلم وغیرہ کی کامیابی کی شہرت پھیلتی ہے اور ان ہی سے ہم ایک دوسرے کی قدر و قیمت کا اندازہ کرتے ہیں۔
مکالمہ ایک فطری بات چیت بھی ہے اور مصنوعی گفتگو بھی۔ مگر بہر حال مصنوعی میں فطرت کا لحاظ رکھنا پڑتا ہے۔ روز مرہ بول چال اور لہبہ کے ساتھ اشارات ایک اچھی مکالمے کی جان ہیں۔ الجھائو اور تکلفا نہ گفتگو مکالمے کو بے مزہ کر دیتی ہے۔ موقع گفتگو کے مطابق ہی تاثر متکلم پر بھی پر بھی طاری ہونا چاہیے۔ خیال رکھنا چاہیے کہ گفتگو شرافت و تہذیب کے دائرے سے باہر قدم نہ رکھے۔ مخاطب کے مرتبے اور درجے کا خیال رکھا جائے ۔ ضرورت کے مطابق اشارات کے ساتھ آواز کی نرمی ، سختی، اتار، چڑھائو بھی زیر نظر رہنا چاہیے۔
گفتگو کا انداز ایسا ہونا چاہیے کہ بات سے بات خود بخود نکلتی آئے۔ ایک ہی بات بار بار دہرانے سے بھی گفتگو میں پھیکاپن پیدا ہوجاتا ہے۔
زبان کا روز مرہ کے مطابق ہونا ضروری ہے۔ زبان جس قدر روز مرہ کے مطابق ہوگی، اتنی ہی موثر ہوگی۔ اب ہم چند مکالمے بطور نمونہ درج کرتے ہیں:
مریض اور طبیب
مریض: السلام علیکم ! حکیم صاحب
طبیب: وعلیکم السلام ! تشریف رکھیے۔
مریض: حکیم صاحب!تشریف رکھنا ہی تو مشکل ہے۔
طبیب: کیوں بھئی ایسی کیا تکلیف ہوگئی ہے۔
مریض: تکلیف ہی تکلیف ہے۔ رات بھر پریشان رہا ہوں۔ گھڑی بھر سو نہیں سکا۔
طبیب: تکلیف تو بھئی تکلیف ہی ہے۔ صحت ٹھیک نہ ہو تو چین نہیں آتا۔
مریض: کچھ دوا بھی دیجیے مرا جارہا ہوں۔
طبیب: بیماری بتائو تو دوا دوں۔
مریض: حکیم صاحب! پیٹ میں سخت درد ہے۔ بیٹھے چین آتا ہے نہ للیٹے ۔
طبیب: یہ درد کب سے ہے؟
مریض: آج رات سے ۔
طبیب: رات کیا کھایا تھا؟
مریض : روٹی کا ایک ٹکڑا۔
طبیب: کیا آپ نے پہلے کبھی روٹی نہیں کھائی؟ رات کی روٹی میں کیا خاص بات تھی؟
مریض: رات کی روٹی میں خاص بات یہ تھی کہ وہ جلی ہوئی تھی۔
طبیب: ارے! تم جلی ہوئی روٹی کھاگئے؟
مریض: صرف ایک ٹکڑا کھایا تھا۔
طبیب: اوہو! کیا آپ کی نظر کمزور ہے۔ لیٹ جائو تمہاری آنکھوں میں دارو ڈالتا ہوں۔
مریض: نظر ٹھیک ہے۔ پیٹ میں کچھ ڈالیے تاکہ درد سے جان بچے ۔
طبیب: وعدہ کرو کہ آئندہ جلی ہوئی روتی نہیں کھائو گے۔
مریض: سو بار وعدہ کرتا ہوں ۔ ہائے میرا پیٹ!
(طبیت مسہل کی ایک گولی مریض کو کھلاتا ہے)
مریض: حکیم صاحب! شکریہ۔ درد کم ہو رہا ہے۔ میں جاتا ہوں۔
طبیب: ارے میاں ! دوا کی قیمت تو دیتے جائو۔
مریض: دو اکی قیمت درد سے آرام ہی تو ہے۔
طبیب: دوا کی قیمت دام بھی ہیں، جن سے دوائیں خریدی جاتی ہیں۔
مریض: (دواکی قیمت ادا کر کے) السلام علیکم! حکیم صاحب
طبیب: وعلیکم السلام۔ روٹی کھانے سے پہلے دیکھ لیا کرو کہ جلی ہوئی تو نہیں ۔
(مریض شکریہ ادا کرتا ہوا چلا جاتا ہے)۔
دوکاندار اور خریدار
خریدار: السلام علیکم!
دوکاندار: وعلیکم السلام۔ آیئے تشریف لایئے۔
خریدار: آپ کی دکان میں رومال بھی ہوں گے؟
دکاندار: رومال ہی نہیں جرابیں، بنیانیں، چھتریاں سبھی کچھ ہے۔
خریدار: رومال دکھایئے۔ کوئی سستا سا سوتی ہو۔
دکاندار: یہ دیکھیے رومال ۔ نہایت نفیس اور نرم
خریدار: آپ نے جرابوں کا ذکر کیا تھا۔ وہ بھی دکھایئے۔
دکاندار: رومال کے متعلق کیا فیصلہ ہے۔ کتنے پیش کروں؟
خریدار: جرابیں دکھایئے تو رومال کا فیصلہ بھی ہوجائے گا۔
دکاندار: یہ دیکھیے جرابیں۔ ریشمی ہیں ریشمی۔ کتنے جوڑے پیش کروں۔
خریدار: آپ مال دکھا رہے ہیں قیمت نہیں بتاتے۔ کیا آپ اپنی چیزیں بن داموں بیچتے ہیں؟
دکاندار: ہاں صاحب! بالکل مفت۔ قیمت برائے نام ہے۔ رومال دس روپے کا ہے۔ اور جرابوں کا جوڑابیس روپے کاْ
خریدار: میاں دکاندار! یہ قیمت تو بہت زیادہ ہے۔ ویسے رومال بھی نفیس ہے اور جرابیں بھی۔
دکاندار: ہم اپنے مال کو چند پیسوں کے نفع پربیچتے ہیں۔ کسی اور دکان سے دریافت کر لیں۔ پھر آپ کی تسلی ہو جائے گی۔
خریدار: رومال اور جرابوں کی صحیح صحیح قیمت بتایئے۔ میں کچھ اور چیزیں بھی خریدوں گا۔
دکاندار: صاحب! ہماری دکان کا حساب ’’باٹا‘‘ جیسا سمجھیے۔ ایک زبان ایک دام۔
خریدار: اگر آپ سچ مچ درست کہتے ہیں تو مجھے آپ کی سچائی پر فخر ہے۔ اب سچی دکان چھوڑ کر جھوٹی دکانوں پر نہیں جائوں گا۔
دکاندار: پھر حکم کیجیے۔ آپ کی قدر دانی کا شکریہ!
خریدار: پانچ رومال، پانچ جوڑے جراب، اور ایک چھتری بھی باندھ دیجیے، مگر اچھی سی ہو۔
دکاندار: یہ لیجیے۔ آپ کی تشریف آوری کا شکریہ۔
خریدار: رقم تو آپ نے نہ بتائی نہ وصول کی۔ شکریہ مفت میں دے مارا۔
دکاندار: یہ لیجیے بل! کل ۱۹۰ روپے ہی تو ہوئے۔
خریدار: یہ لیجیے دو سو روپے ۔ اپنی رقم وصول کیجیے اور بقایا دیجیے۔
دکاندار: یہ تو لینے کے دینے پڑگئے۔ اچھا آپ کی خوشی کے لیے یہ لیجیے دس روپے۔ 
دوہم جماعت
ناصر: کہاں جا رہے ہو؟ باسط میاں!
باسط: اخاہ۔ آپ ہیں۔ السلام علیکم۔
ناصر: یہا کیا کہ سر پیر کا ہوش نہیں اور بازار کو بھاگے جارہے ہو۔
باسط: بھائی صاحب! سلام کا جواب تو دیا ہوتا۔
ناصر: وعلیکم السلام۔ سچ مانو تمہیں دیکھ کر سلام کا جواب تک یا نہ رہا۔
باسط: اور اب بھی بے خودی کی کیا بات ہے۔ انگریزی کتاب کا ترجمہ خرید نے جا رہا ہوں۔ انگریزی کمزور ہے نامیری۔
باسط: انگریزی ایسا مضمون نہیں جس کے متعلق پریشان ہونے کی ضرورت ہو۔
ناصر: کیا مطلب؟
باسط: مطلب یہ ہے کہ میں مدد کے لیے حاضر ہوں۔
ناصر: شکریہ دوست! یہ تو بتائو کہ تم کہاں جا رہے ہو؟
باسط: جا کہاں رہا ہوں۔ یہی حساب کا خلاصہ خریدنے ک ارادہ ہے۔
ناصر: حساب میں تمہاری مدد میں کر سکتا ہوں۔
باسط: شکریہ ! مگر یہ دونوں مضمون تیار کیسے ہوں گے اور ہم ایک دوسرے کی مدد کیوں کر کریں گے ۔
ناصر: ہمارے گھر میں آجایا کرو اور حساب کی مشق کر لیا کرو۔
باسط: ٹھیک ہے۔ آئندہ ہم دونوں مل کر سکول کا کام کیا کریں گے اور ایک دوسرے کی مدد سے اپنی کمی پوری کرلیا کریں گے ۔
درزی خانے میں
(شاکر اور ناصر دونوں بھائی درزی خانے میں داخل ہوتے ہیں)
شاکر: السلام علیکم!
درزی: و علیکم السلام۔ کہیے کیسے آنا ہوا؟ کہیں بھول تو نہیں پڑے۔
شاکر: آپ کی طبیعت کیسی ہے ماسٹر جی!
درزی : شکر ہے۔
ناصر: ماسٹرجی ! ییہ کپڑا لیجیے۔ میرا سوٹ یار کر دیجیے۔ شاکر کے لیے دو شلواریں اور ایک قمیض تیار کیجیے۔
درزی: کس حساب سے خریدا ہے یہ کپڑا؟
شاکر: ساٹھ روپے فی میٹر۔
ناصر: میری قمیض کے لیے کتنا کپڑا درکار ہوگا؟
شاکر: اڑھائی میٹر۔ یہ کپڑا تین میٹرہے۔ آدھ میٹر کی واسکٹ بنا دیجیے۔
درزی: جو ارشاد ہو، مگر زمانے کے فیشن کا خیال بھی رکھنا پڑتا ہے نا۔
ناصر: اب ہمارے کپڑے کب تک تیار ہو جائیں گے؟
درزی: صرف پندرہ دن تک ۔ آج پیر ہے اگلا پیر چھوڑ کر آئندہ پیر کو آیئے ان شاء اللہ آپ کے کپڑے تیار ہوں گے۔
شاکر: ماسٹر جی! پیروں کے پھیر میں نہ رکھیے گا۔ ہمارے پاس اتنا وقت نہیں۔
درزی: فکر نہ کریں۔ ہمیں اپنے وقت کی بھی قدر ہے۔ کام آرہا ہے اور ختم ہونے میں نہیں آتا۔ سچی بات بھی کہتے ہیں اور لوگوں کو وعدوں پر بھی ٹرخاتے ہیں۔
ناصر: مگر ہمیں نہ ٹرخانا ورنہ ہماری دوستی بھی ٹرخ جائے گی۔
درزی: نہیں یہ صرف باتیں ہی ہیں۔ بھلا نراوعدوں سے کام چلتا ہے کہیں۔
شاکر: شکریہ ماسٹر صاحب!
درزی: دونوں جوانوں کی آمد کا شکریہ۔
تاریخ پاکستان
(کلاس میں لڑے شور مچا رہے ہیں۔ استاد صاحب کے آتیھ ہی خاموشی چھا جاتی ہے)
استاد: جاوید! بتایئے پاکستان کب وجود میں آیا تھا؟
جاوید: پاکستان ۱۴ اگست ۱۹۴۷ ء کو وجود میں آیا تھا۔
استاد: سب سے پہلے برصغیر پاک و ہند میں اسلامی سلطنت کی بنیاد کس نے رکھی تھی؟
جاوید: محمد بن قاسم نے برصغیر میں اسلامی سلطنت کی بنیادرکھی تھی اور بعد میں آنے والے فاتحوں کے لیے سلطان محمود غزنوی اور محمد غوری نے راستہ صاف کیا تھا۔
استاد: شاباش! محمد بن قاسم نے کس سنہ میں ہندوستان پر حملہ کیا تھا؟
ناصر: ۹۲ھ تھا جب کہ اس نوجوان فاتح نے راجہ داہر کو شکست دے کر سندھ میں اسلامی حکومت قائم کی ۔
استاد: سلطان محمود غزنوی نے ہندوستان پر کتنے حملے کیے اور اسلامی حکومت کو کس قدر و سعت دی؟
باسط: سلطان محمود غزنوی نے ہندوستان پر سترہ حملے کیے اور پنجاب و سندھ کو اسلامی حکومت میں شامل کیا۔
استاد: سلطان محمد غوری نے دہلی کو فتح کیا اور اسلامی سلطنت کا بانی کون تھا؟
شکیل: ہندوستان میں مستقل اسلامی حکومت کا بانی سلطان قطب الدین ایبک تھا۔ اس کے بعد خلیجی ، تغلق، لودھی خاندان حکمران رہے ۔
استاد: مغلیہ خاندان کا بانی کون تھا اور اس دورکے مشہور حکمرانوں کے نام بتایئے؟
قاسم: مغلیہ خاندان کے بانی کا نام ظہیر الدین بابر تھا۔ اس خاندان کے مشہور بادشاہ ہمایوں، اکبر، جہانگیر، شاہجہاں اور اورنگ زیب ہیں۔
استاد: ہندوستان پر ہزار سالہ اسلامی حکومت کا خاتمہ کس بادشاہ پر ہوا؟
ناظم: ہندوستان میں مسلمانوں کی ہزار سالہ حکومت بہادر شاہ ظفر پر ختم ہوئی اور انگریز ہندوستان کے حاکم ہوگئے۔
استاد: پاکستان کس طرح قیام پزیر ہوا؟
نعمان: برصغیر پاک وہندمیں مسلمانوں کی حالت نہایت ابتر ہوگئی تھی۔ انگریز اور ہندو دونوں مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہے تھے۔ علامہ اقبال نے قوم جھنجھوڑا اور پاکستان کا نظریہ پیش کیا۔ جسے قائداعظم محمد علی جناح کی شبانہ روز محنت اور جہدوجہد نے انگریز اور ہندو کو شکست دے کر قائل کر لیا کہ پاک وہند کے وہ علاقے جن میں مسلمانوں کی اکثریت ہے پاکستان کے نام سے آزاد و آباد رہیں۔ چنانچہ ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو پاکستان کے قیام کا اعلان ہوا اور قائداعظم پاکستان کے پہلے حاکم مقرر ہوئے۔ 
ہوٹل میں
(مسٹر حامد اپنے بارہ سالہ بیٹے کے ساتھ ہوٹل میں داخل ہوتے ہیں)
حامد: السلام علیکم!
منیجر: وعلیکم السلام۔ خوش آمدید۔ کیا حکم ہے؟
حامد: مجھے دو بستر کا کمرہ چاہیے۔
منیجر: آج کل مہمانوں کی آمد زیادہ ہے۔ تیسری منزل پر صرف ایک کمرہ خالی ہے۔
حامد: منیجر صاحب! کمرہ صاف ستھرا اور ہوا دار ہوناچاہیے۔
منیجر: ہمارے ہوٹل کا ہر کمرہ نہایت صاف ستھرا ہے۔ آپ اوپر جا کر دیکھ لیں۔
حامد: مجھے آپ کی باتوں پر اعتماد ہے۔
منیجر: آپ کتنے دن تک ٹھہریں گے؟
حامد: صرف دو دن تک۔ ہم مری جارہے ہیں، واپسی پر پھر دو دن ٹھہریں گے۔
منیجر: ۲۸۵نمبر کمرہ کی چابی لیجیے۔ امید ہے کہ ہماری خدمت سے خوش ہوں گے۔
حامد: شکریہ!
بیرا: کیا تناول فرمائیںگے آپ ؟
حامد: طاہر بیٹے! آپ کیا کھائیںگے؟ کھانوں کی فہرست دیکھتا ہے۔
طاہر: دہی پلائو اور شامی کباب۔
حامدـ: بیرے! میرے لیے بھنا ہوا مرغ اور بچے کے لیے ایک پلیٹ پلائو، ایک پلیٹ شامی کباب، دہی اور سلاد لائو۔
(بیرا سب کچھ حاضر کرتا ہے۔ کھانے سے فارغ ہو کر)
حامد: بیرے ! بل لائو۔
بیرا: یہ لیجیے حضور!
حامد: ایک سو پچیس روپے ہوئے سب۔ یہ لو پانچ روپے بخشش۔
بیرا: شکریہ جناب!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکری القلم لائبیری۔ 

Wednesday, July 13, 2016

15 جولائی کو اپنے گھر اور مساجد کے لئے سمت قبلہ کا تعین کریں.

15 جولائی کو اپنے گھر اور مساجد کے لئے سمت قبلہ کا تعین کریں.
چونکہ 27 مئی اور 15 جولائی کو سورج کامیل تقریبا 21.4 درجہ شمالی ہوتا ہے آسمان پر اس کا راستہ بالکل وہی ہوتا ہے جو مکہ مکرمہ کا دائرۃ الارض ہے (دائرۃ الارض کی تعریف آخر میں دیکھیں) چناچہ سورج مکہ مکرمہ کے دائرۃ الارض پر سفر کرتا ہے اس لئے جب مکہ مکرمہ کے نصف النہار کے وقت عین اس کے اوپر سمت الراس (عین سر کے اوپر) پر پہچ جاتا ہے تو سورج اور اورمکہ مکرمہ کے درمیان وہی نسبت قائم ہوجاتی ہے جو چھت پر لٹکے ہوئے بلب اور زمین پر اس کے بالمقابل نقطے پر ہوتی ہے اس وقت سورج کو دیکھ کر یقینی طور پر قبلہ کی سمت معلوم کی جاسکتی ہے ۔
اب یہ سمجھئے کہ وقت کے عالمی معیار  یعنی گرینیچ ٹائم کے مطابق 27 مئی کو 9 بج کر 18 منٹ اور 15 جولائی کو 9 بج کر 27 منٹ پر مکہ مکرمہ میں عین نصف النہار کا وقت ہوتا ہے اور اس وقت سورج مکہ مکرمہ کے سمت الراس پر ہوتا ہے ۔اس وقت جن مقامات میں دن ہو اور سورج انہیں نظر آرہا ہو ایسے مقامات والے سورج کو دیکھ کر سمت قبلہ درست کر سکتے ہیں ، چونکہ ہندوستان کا وقت گرینچ ٹائم سے + 5.30 ساڑھے پانچ گھنٹہ اگے ہے ۔ اس اعتبار سے  پورے ہندوستان میں 27 مئی کو 2 بج کر 48 منٹ اور 15 جولائی کو 2 بج کر 57 منٹ پر اور پاکستان میں 27 مئی کو 2 بج کر 18 منٹ پر اور 25 جولائی کو 2 بج کر 27 منٹ پر سمت قبلہ درست کی جاسکتی ہے ۔ ان تاریخوں سے ایک دن آگے پیچھے بھی تقریبا وقت یہی ہوتا ہے ۔
زمین پر قبلے کا خط کھینچنے کا طریقہ یہ ہوگا کہ کوئی عمودی چیز لکڑی وغیرہ زمین پر گاڑ دیں وقت مذکورہ پر عمودی چیز کا جو سایہ زمین پر پڑے اس پر Scale رکھ کر لکیر کھینچ لیں یہی اس جگہ کا خط قبلہ ہوگا سایہ کا رخ قبلے کی مخالف جانب ہوگا مثلا پاکستان بھر میں عمود کے سائے کا رخ مشرق کی طرف ہوگا اس سائے پر مغرب کی جانب رخ کرلیں تو ٹھیک قبلہ رخ ہوجائیں گے۔ پھر اس سائے کے 90 کے زاوئیے پر ایک اور لکیر لگائیں جو کہ صٖف کی لکیر ہوگی۔ 

اب تصویر کو دوبارہ دیکھیں انشا اللہ سمجھ آجائے گا۔
دائرۃ الارض : زمین پر بننے والا بڑا دائرہ ۔
میل شمس (Declination of Sun) : سورج کا آسمانی خط استوا سے شمالا جنوبا چلنا ’’ میل شمس ‘‘ کہلاتا ہے ۔ اس کو آسانی کے لئے ’’سورج کا عرض‘‘ بھی کہتے ہیں ۔
سمت الراس (Zenith) : کسی مقام کے عین سر کے اوپر آسمان میں موجود فرضی نقطہ ’’سمت الراس ‘‘ کہلاتا ہے ۔

Friday, July 1, 2016

عید کے معمولات و آداب

عیدین کے دن خوشی و مسرت کے دن ہیں، اور ان ایام کیلئے کچھ عبادات، آداب اور عادات بھی ہیں، جن میں سے کچھ یہ ہیں:

1-             غسل کرنا
یہ عمل صحابہ کرام سے ثابت ہے، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ سے ایک آدمی نے غسل کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: "اگر  چاہو تو روزانہ غسل کرو" تو آدمی نے کہا: "نہیں!  جسے غسل کہا جاتا ہے اس کے بارے میں سوال ہے" تو علی رضی اللہ عنہ  نے فرمایا:  "وہ غسل جمعہ کے دن، یوم عرفہ کے دن، عید الاضحی، اور عید الفطر کے دن ہوتا ہے"
اسے امام شافعی نے اپنی "مسند الشافعی" صفحہ: (385) میں ذکر کیا ہے اور البانی رحمہ اللہ نے ارواء الغلیل (1/176) میں اسے صحیح کہا ہے۔

2-              نئے کپڑے زیب تن کرنا

چنانچہ اس بارے میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ :  عمر رضی اللہ عنہ نے بازار سے ریشمی جبہ  خریدا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے اور عرض کیا: "یا رسول اللہ! آپ بھی اس کے ساتھ کا جبہ عیدین اور وفود سے ملاقات کیلئے خرید لیں" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: (یہ ایسے شخص کا لباس ہے جس کا [آخرت میں ]کوئی حصہ نہیں ہے)
بخاری: (906) مسلم: (2068)، امام بخاری نے اس حدیث پر عنوان قائم کرتے ہوئے لکھا ہے: "باب ہے عیدین  پر زیب و زینت اختیار کرنے کے بارے میں"

ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان مواقع میں زیب و زینت اختیار کرنا ان کے ہاں بھی مشہور و معروف تھا" انتہی
" المغنی " ( 2 / 370 )

ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اس حدیث سے  عید کیلئے زیب و زینت اختیار کرنے کا علم ہوتا ہے، اور یہ  بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایسا کرنا ان کے ہاں عام اور مشہور تھا" انتہی
" فتح الباری " لابن رجب ( 6 / 67 )

شوکانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اس حدیث سے  عید کے موقع پر زیب و زینت اختیار کرنے کی دلیل اس طرح لی جاتی ہے  کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کو عید کے دن خوبصورت لباس پہننے  سے منع نہیں فرمایا بلکہ  ممانعت کی تو صرف ریشمی لباس سے  کی" انتہی
" نيل الأوطار " ( 3 / 284 )

اس بات پر عمل صحابہ کرام کے زمانے سے لیکر اب تک  چلا آ رہا ہے۔

ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"بیہقی نے صحیح سند کیساتھ نافع سے بیان کیا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما عیدین کے موقع پر اچھے سے اچھا لباس زیب تن کرتے تھے"

نیز انہوں نے ایک جگہ یہ بھی کہا ہے کہ:
"عیدین کے موقع پر خوبصورت لباس زیب تن  کرنے میں عید نماز کے لئے جانے والے، یا گھر میں بیٹھے رہنے والے، حتی کہ خواتین و بچے سبھی  شامل ہیں" انتہی
" فتح الباری " لابن رجب (6/68 ، 72)

جبکہ کچھ اہل علم کا کہنا ہے کہ : اگر اعتکاف کیا ہو تو پھر عید کیلئے اعتکاف والے کپڑوں میں  ہی جائے، لیکن یہ بات درست نہیں ہے۔

3-             اچھی خوشبو لگانا

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے صحیح ثابت ہے کہ وہ عید الفطر کے دن خوشبو لگایا کرتے تھے، جیسے کہ فریابی کی کتاب: "احکام العیدین" صفحہ: 83 میں موجود ہے۔

ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ : میں نے اہل علم کو  عیدین کے دن  زیب و زینت  اور خوشبو لگانے کو مستحب کہتے ہوئے سنا ہے" ، اسی طرح امام شافعی نے بھی اسے مستحب کہا ہے۔
" فتح الباری" از: ابن رجب ( 6 / 68 )

مذکورہ زیب و زینت  اور خوشبو کا استعمال  خواتین کی طرف سے گھر کی چار دیواری میں خاوند،  محرم اور گھر کی خواتین کے سامنے ہوگا۔

چنانچہ موسوعہ فقہیہ (31/116) میں ہے کہ:
"خوبصورت لباس، بیرونی و اندرونی صفائی ستھرائی،  جسمانی بد بو سے چھٹکارا، وغیرہ دیگر امور میں عید نماز کیلئے جانے والے اور [مجبوری کی بنا پر]گھر میں  رہنے والے تمام افراد کیلئے ہے؛ کیونکہ یہ دن زیب و زینت کا دن ہے، اس لئے تمام کا حکم برابر ہوگا"

4-             تکبیرات کہنا

عید الفطر کے موقع پر عید کا چاند نظر آتے ہی تکبیرات کہنا مسنون ہے؛ کیونکہ فرمانِ باری تعالی ہے:
{ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ}
ترجمہ: تا کہ تم گنتی پوری کرو، اور اللہ تعالی کی کبریائی اسی طرح بیان کرو جیسے اس نے تمہاری رہنمائی کی ہے۔[البقرة : 185]

اس آیت کے مطابق گنتی روزوں کی تعداد پوری ہونے سے مکمل ہوگی ، اور تکبیرات  کا آخری وقت  یہ ہے کہ  جب امام خطبہ کیلئے  آ جائے۔

5-             رشتہ داروں سے ملاقاتیں

عید کے دن رشتہ داروں، پڑوسیوں اور دوستوں  کیساتھ  ملاقات کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، لوگوں میں اس کا اہتمام عام پایا جاتا ہے۔

بلکہ یہ  بھی کہا گیا ہے کہ عید نماز کیلئے آتے جاتے راستہ تبدیل کرنے کا حکم بھی اسی لیے دیا گیا ہے کہ  زیادہ سے زیادہ  لوگوں سے ملاقات ہو۔

بہت سے اہل علم عید نماز کیلئے آتے جاتے  وقت راستہ تبدیل کرنے کو مستحب کہتے ہیں، چنانچہ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ : "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن آتے جاتے راستہ تبدیل کرتے تھے" بخاری: (943)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:
"یہ بھی کہا گیا ہے کہ: تا کہ آپ زندہ اور فوت شدہ رشتہ داروں کے اہل خانہ سے ملیں، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ: صلہ رحمی کیلئے راستہ تبدیل کرتے تھے" انتہی
" فتح الباری " ( 2 / 473 )

6-             مبارکباد دینا

اس کیلئے کوئی بھی اچھے الفاظ استعمال کیے جا سکتے ہیں، اس کیلئے افضل ترین الفاظ " تَقَبَّلَ اللهُ مِنَّا وَمِنْكُمْ" ہیں؛ کیونکہ یہ الفاظ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت ہیں۔
چنانچہ جبیر بن نفیر کہتے ہیں کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام  عید کے موقع پر جب آپس میں ملتے تو ایک دوسرے کو کہتے: " تَقَبَّلَ اللهُ مِنَّا وَمِنْكَ"۔
حافظ ابن حجر نے " فتح الباری " ( 2 / 517 ) میں اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔

مالک رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا:
"عید کی نماز سے واپس آنے کے بعد اگر کوئی  اپنے بھائی سے کہہ دے کہ: " تَقَبَّلَ اللهُ مِنَّا وَمِنْكَ، وَغَفَرَ اللهُ لَنَا وَلَكَ " اور آگے سے جواب میں بھی اسی طرح کے الفاظ کہے تو کیا یہ مکروہ ہے؟ " تو انہوں نے کہا: "یہ مکروہ نہیں ہے" انتہی
" المنتقى شرح الموطأ " ( 1 / 322 )

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"عید کے دن مبارک باد دیتے ہوئے نماز عید کے بعد ایک دوسرے کو یہ کہنا کہ: " تَقَبَّلَ اللهُ مِنَّا وَمِنْكُمْ " یا "اللہ تعالی آپکو بار بار عیدیں نصیب کرے" اس طرح کے دیگر دعائیہ کلمات کہنا ، متعدد صحابہ کرام سے  مروی ہے کہ وہ ایسا کیا کرتے تھے،  ائمہ کرام نے اس بارے میں رخصت ہی دی ہے، جیسے کہ امام احمد کہتے ہیں کہ: "میں کسی کو عید کی مبارکباد یتے ہوئے پہل نہیں کرتا، لیکن اگر کوئی مجھے مبارکباد دے تو میں اس کا جواب دیتا ہوں، کیونکہ جواب دینا واجب ہے"
مبارکباد دینے سے متعلق احادیث میں کہیں بھی حکم نہیں ہے، اور نا ہی اس سے کہیں ممانعت  موجود ہے، اس لئے مبارکباد ینااور نہ دینا دونوں طرح درست ہے"
" مجموع الفتاوى " ( 24 / 253 )

7-             کھانے پینے کا اہتمام

کھانے پینے کا خصوصی اہتمام کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، یہ اہتمام گھر میں یا گھر سے باہر  کسی ہوٹل وغیرہ میں بھی ہو سکتا ہے، تاہم کسی ایسے ہوٹل میں کھانے کا اہتمام نہ کریں جہاں پر شراب نوشی  ہو، یا وہاں  موسیقی کی آواز آ رہی ہو، یا پھر مرد و زن کا مخلوط ماحول ہو۔

کچھ علاقوں میں ایسا بھی ممکن ہے کہ  مرد و زن کے مخلوط ماحول ، اور دیگر شرعی مخالفات سے  بچنے کیلئے زمینی یا سمندری  سفر بھی کر سکتے ہیں۔

نبیشہ ہذلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ایام تشریق کھانے پینے، اور ذکر الہی کے دن ہیں) مسلم: (1141)

8-             جائز تفریح

فیملی کے ساتھ ساحل بری، بحری سفر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اسی طرح  قدرتی  طور پر خوبصورت علاقوں   اور تفریحی پارک وغیرہ  میں بھی جا سکتے ہیں بشرطیکہ وہاں کوئی غیر شرعی امور نہ ہو ں، اسی طرح موسیقی سے خالی ملی نغمے اور ترانے بھی سنے جا سکتے ہیں۔

چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی  ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے ، اس وقت دو چھوٹی بچیاں  جنگ بعاث کے ترانے گا رہیں تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بستر پر لیٹ گئے اور اپنا چہرہ دوسری جانب کر لیا، پھر اس کے بعد ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے مجھے ڈانٹ پلائی اور کہا: "نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شیطان کی بانسریاں؟" اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم متوجہ ہوئے اور فرمایا: (انہیں ترانے پڑھنے دو) ، چنانچہ جب آپ کی توجہ  دوسری جانب ہوئی  تو میں نے انہیں ہاتھ سے اشارہ کیا اور وہ دونوں وہاں سے چلتی بنیں۔

اسی طرح عید کا دن  تھا اور سیاہ فام  لوگ  نیزوں اور ڈھالوں سے کھیل رہے تھے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا یا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی مجھ سے پوچھا تھا: (کیا تم انہیں کھیلتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہو؟) تو میں نے کہا : "ہاں" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کر لیا، میرا گال آپ کے رخسار پر تھا، اور  آپ نے انہیں فرمایا: (بنی ارفدہ [یعنی حبشہ کے لوگو!] اپنے کام میں لگے رہو) تو جب میں تھک گئی تو آپ نے پوچھا: (کافی ہے؟) میں نے کہا: "جی ہاں" تو آپ نے فرمایا: (چلو اب چلی جاؤ) ۔
بخاری: (907) مسلم: (829)

اور ایک روایت میں ہے کہ: عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن فرمایا تھا: (تاکہ یہودیوں کو علم ہو جائے کہ ہمارے دین میں وسعت ہے، بیشک مجھے وسیع ظرف  دین حنیف دے کر بھیجا گیا ہے)
مسند احمد: (50/366) مسند احمد کے محققین نے اسے حسن قرار دیا ہے، اور البانی رحمہ اللہ نے اسے سلسلہ صحیحہ: (4/443) میں "جید" کہا ہے۔

اور نووی رحمہ اللہ نے اس حدیث پر یہ عنوان قائم کیا ہے :
"باب ہے اس بیان میں کہ: عید کے دنوں  میں معصیت سے خالی کھیل کود میں رخصت ہے"

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اس حدیث میں متعدد فوائد ہیں:

عید کے دنوں میں  اہل خانہ  کیلئے ہر قسم کی فراوانی  کریں تا کہ اس کا  دل خوشگوار ہو جائے، بدن کو عبادت سے کچھ راحت دیں، اور آج کے دن [نفلی]عبادت سے دوری بہتر ہے، نیز اس میں یہ بھی ہے کہ: عید کے دنوں میں اظہار مسرت دینی شعائر میں سے ہے"
" فتح الباری " ( 2 / 514 ).

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمارے اور آپ کے نیک اعمال قبول فرمائے، اور ہم سب کو دین و دنیا  کی خیر سے نوازے۔

Thursday, June 30, 2016

خلافت سے ملوکیت ، غلطی یا تجدید ؟

ایک دوست نے مولانا مودودی صاحب کے تجزیہ تاریخ اور تنقید اور تحقیق کو اجتہاد اور ایک جدید اور درست راہ قائم کرنے کا نام دیا ہے ، ان کے اپنے الفاظ میں “ دراصل یہ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے صدیوں کی منجمد سوچ کو توڑنے کی کوشش کی۔ اور اجتہاد پر زور دیا۔ اور میرے خیال میں یہی تین لوگ تھے جو بڑھتی ہوئی مادی دنیا میں روح اور مادے دونوں کا امتزاج چاہتے تھے۔ “
گور کریں ، مولانا مودودی کو اب تک کے علماء کا نطریہ جو تعدیل صحابہ اور صحابہ کے بارے میں لب کشائی نہ کرنے پر مبنی تھا ، درست نہ معلوم ہوا تو انہوں نے اس بارے میں جراءت سے کام لے کر یہ کارنامہ انجام دیا اور اس سے بہت سارے تاریخی ، تحقیقی اور سبق آموز نتائج اخذ کیے ، اگر یہ کام ہماری نطر میں اجتہاد اور جراءت ہے اور موجودہ دور کی ضرورت ہے تو کیا حضرت معاویہ اس بات کے مستحق نہیں کہ خلافت کو ترک کے ملوکیت اپنانے میں ان کو بھی مجتہد اور ضرورت اور وقت کے تقاضوں پر عمل کرنے والا ، پر عزم ، باہمت قائد قرار دیا جائے ۔ اگر اگلوں کی روش سے اختلاف کا نام اجتہاد ہے ( چاہے وہ بالدلیل ہو ) تو پھر حضرت معاویہ کا خلافت ترک کر کے ملوکیت اپنانا بہت بڑا اور مردانہ اور ہمت والا اقدام ہے ۔ اور یاد رکھیے مولانا مودودی صاحب نے اسی نقطے پر پوری کتاب “خلافت و ملوکیت “ لکھی ہے ۔ ان کی نظر میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا فیصلہ غلط تھا، اور اب تک کے علماء کا ان کے بارے میں خاموش رہنا غلط تھا اور اپنا کام اجتہاد اور نئی راہ قائم کرنا تھا تو کیوں جناب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے فعل کو اجتہاد اور جدت کا نام نہیں دیتے ؟ 
اور غور کیا ؟ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں کتنے صحابہ حیات تھے ؟ اور ان میں سے کس نے اختلاف کیا ؟ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے خود خلافت انہیں سونپ دی، حضرت حسین رضی اللہ زندہ تھے، انہوں نے بھی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی مخالفت نہیں کی ، اور یزید کی مخالفت کی تو اس کے نا اہل ہونے کی وجہ سے ، خلافت کے ترکے کرنے اور ملوکیت اپنانے پر نہیں ۔حجاج بن یوسف سے ظالم کے سامنے آوازہ حق بلند کرنے والے صحابہ اور تابعین کا دور تو بعد میں آیا ، اس وقت تو اس سے زیادہ صحابہ موجود تھے۔ کتنوں کی مخالفت تاریخ میں درج ہے ؟ اور جناب مولانا مودودی کے اجتہاد کی کتنوں نے مخالفت کی ،اور موافقت کی ؟ تاریخ خود جواب دیتی ہے ۔ خلافت چھوڑ ملوکیت اپنانے کا امیر معاویہ رضی اللہ کا فیصلہ درست تھا یا تعدیل صحابہ کا نظریہ چھوڑ تنقید اور تجزیہ کا راستہ اپنانے کا مولانا مودودی کا فیصلہ درست ہے ؟

Saturday, June 25, 2016

ملت اسلامیہ اور فرد مسلم ۔

بحرِ حیات کا انمول گوہر ، ملتِ اسلامیہ

گلستانِ دہر میں ہزاروں گل کھلے ، مرجھا گئے ، غنچے مسکرائے ، کمھلا گئے
بحرِ حیات میں ہزاروں سفینے رواں ہوئے ، ڈوب گئے موجیں دب گئیں.
افقِ عالم پہ ہزاروں نقش ابھرے ، مٹ گئے چراغ بھڑکے ، بجھ گئے
تاریخِ عالم میں ہزاروں باب کھلے ، بند ہوگئے، عنوان ابھرے ، محو ہوگئے
عالمِ آب و گل میں ہزاروں گروہ نمودار ہوئے ،گم ہوگئے ، نگر بسے ،اجڑ گئے
مگر
ایک پھول کی نگہت سدا برقرار رہی
ایک چراغ کی لو کبھی مدھم نہ ہوئی
ایک عنوان کی اہمیت کبھی کم نہ ہوئی
ایک گوہر کی تاب کبھی ماند نہ پڑی
اور
بوستانِ دہر کا وہ گلِ سرسبد، افقِ عالم کا وہ تابندہ ستارہ، تاریخِ عالم کا وہ روشن عنوان اور بحرِ حیات کا وہ انمول گوہر ملتِ اسلامیہ ہے جسے قرآنِ کریم نے”خیر امتہ” کے شرف سے مشرف فرمایا اور “انتم الاعلون” کا مژدہ جانفزا سنایا۔
اے مری جان! تو اس ملت کا فرزند ہے جسے اللہ نے اپنے آخری پیغام کا امین ٹھہرایا اور جسے اقوامِ عالم کی امامت کا تاج پہنایا۔جب تک تو نے اپنے منصب کا اکرام کیا اور اپنی نسبت کی ناموس کا احترام کیا، اللہ نے تجھے بڑوں پر غلبہ عطا کیا ، تجھےاپنی نصرت و تائید سے ہمکنار کیا۔جب تک اللہ کا رہا ، اللہ کے لیے جیا اور اللہ کے لیے مرا۔ ہر کہیں تیرا احترام رہا ، اکرام رہا۔جب سے تو جہاں کا بنا،تیرا کوئی بھی نہ بنا اور کچھ بھی نہ بنا۔
تاریخِ عالم کی وہ داستان جس کا عنوان “مسلمان” ہے حیرت انگیز بھی ہے ، عبرت خیز بھی۔
کبھی وہ عالم کہ اس کا نام سنتےہی بحر وبر لرزتے اور کبھی ایسی بے بسی کہ الامان الامان۔ تیرے جوش کا یوں سرد پڑ جانا ، تیری بلندی کا پست میں بدل جانا ، تیری قوت کا ضعف میں ڈھل جانا ، تیرے کمال کا روبہ زوال ہوجانا کوئی معمولی حادثہ نہیں ، تاریخِ عالم کا بہت بڑا انقلاب ہے۔ تیرا یہ زوال انفرادی سطح پر بھی ہوا ، قومی سطح پربھی ، علم میں بھی ہوا ، عمل میں بھی۔ وہ بھی کیا دن تھے کہ تو لعلوں سے مہنگا بِکتا ، جب کبھی نعرہ زن ہوتا بحر وبر کانپ اٹھتے، فلک تیور بدلتا ، کروبیاں انگشت بدانداں ہوتے۔ اگر کوئی تیری غیرت کو للکارتا ، دم بھر کی مہلت نہ دیتا۔کسی قوت کو خاطر میں نہ لاتا ، نہ ہی کسی امداد کی مطلق پرواہ کرتا ، پہاڑوں سے ٹکرا جاتا ، چٹانوں کو ہلا دیتا ، کسی کثرت سے خوف نہ کھاتا۔جس میدان میں اڑ جاتا ، بازی لے جاتا۔ تیرے تیوروں کی تاب لانا کسی کے لیے ممکن نہ تھا۔ تیری سطوت وہیبت سے بحر وبر لرزتے۔ تیری گونج سے شیروں کے پتے پانی ہو جاتے۔ اگر کسی میدان میں موت سے سامنہ ہوتا ، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مسکراتا۔ تیری جبیں کی سلوٹ کسی نئے انقلاب کا عنوان بن جاتی۔
جس جاہ و حشمت کی خاطر دنیا مارے مارے پھرتی ہے تیری لونڈی بن کر تیرے حضور،دست بستہ باریابی کی منتظر رہتی۔تیرے نام کی گونج سے دنیا کا کونا کونا گونجا۔پہاڑ گونجے، صحرا گونجے، مست گونجے، رند گونجے، مدہوش گونجے، ہر کوئی گونجا مگر آج یہ گونج قصہ پارینہ بننے لگی۔تیری تاریخ کے تابناک قصے افسانے بننے لگے،تیری سطوت وہیبت کی داستان قصہ ماضی بننے لگے۔وقت کی گردش نے تیرے کردار کو دھندلا دیا۔آج تیرے کسی میدان میں کوئی علم نہیں لہرا رہا۔نہ دین کے میدان میں نہ دنیا کے۔ نہ علم کے نہ عمل کے، نہ عبادات کے نہ معاملات کے۔
اگر تیرے یہ مشاغل اور محافل جن میں گم ہوکر تو اپنی آب کھو بیٹھا ہے تجھے کچھ فرصت دیں تو اپنا محاسبہ کر۔زندگی تیز رفتاری سے گذر رہی ہے، دیارِ ہستی کی شام ہونے والی ہے ، سانس کا رشتہ ٹوٹنے کو ہے ،شیرازہ بکھرنے کو ہے ، دیا بجھنے کو ہے ، وقت کی قدر کر ۔مہلت کو غنیمت جان۔زندگی یوں گذار کہ تجھے یہاں سے جانے کا افسوس نہ ہو۔
اے ملت کے پاسبان! گزرے ہوئے دور کی داستانوں سے دل نہ بہلا۔
ملت کی داستان کا آغاز جو کسی گزری ہوئی داستان سے کم نہ ہو۔ہرداستان کی ابتدا جدوجہد سے ہوتی ہے۔جدوجہد جب جوبن پر آتی ہے داستان بن جاتی ہے۔جدوجہد کے میدان میں اتر، تاریخِ عالم تیری داستان سننے کی منتظر ہے۔وقت تیری ضرورت کو پھر تسلیم کر رہا ہے۔ اگر تو نے تاریخِ عالم کے صفحات پر نئے عنوان تحریر کرنے ہیں تو وقت کی آواز سن۔اتحاد و اخوت کا علمبردار بن۔ جو دھونی بجھ گئی ہے اسے پھر سے رما،جو آگ سرد پڑچکی ہے اسے پھر سے دہکا، جو شعلہ بجھ چکا ہے اسے پھر سے بھڑکا۔شبشتانِ عشرت سے باہر آ۔ یہ دور بات کا نہیں،صفات کا منتظر ہے۔ زندگی میں کوئی عملی نمونہ پیش کر۔تیرے پاس نمونوں کے انبار لگے پڑے ہیں۔ صدیق کی صداقت ، عمر کی عدالت ، عثمان کی سخاوت ، علی کی شجاعت،حسین کی شہادت ، اویس کی خاموش محبت ، جنید کا مراقبہ توحیدِ افعالی ، بوعلی قلند کا جذب اور مخدوم صابر صاحب کا جلال تیرا قابل فخر سرمایہ ہے۔ روشنی کے ان میناروں سے اپنی راہ منور کر۔ یہ نشانِ منزل بھی ہے جادہ بھی۔ اپنے اسلاف کے نام کی لاج رکھ۔
تیرا چلنا پھرنا عام انسانوں کا سا ہو۔ لیکن سوچ نافعِ الخلائق۔ ملت کی اقبال مندی کیلیے متحد ہو۔ذات کو ملت پر قربان کر۔زندگی،جہاد ہے۔ جہاد میں لڑنا مجاہد کا کام، فتح و نصرت اللہ کے ہاتھ۔اللہ کی رحمت سے محروم نہ ہو۔ اللہ بھی موجود ہے رحمت بھی موجود ہے۔ دنیا بھر کی باطل قوتیں مل کر بھی حق کو مٹا نہیں سکتیں۔ اس چراغ کو بجھا نہیں سکتیں۔ اس سفینے کو ڈبو نہیں سکتیں۔ یہ ہچکولے تیری بیداری کیلیے ہیں۔
ماں نے جب بھی بچے کو پیٹا، دلجوئی ضرور کی اور ہمارا رب تو ماں سے سو گنا زیادہ مہربان ہے۔
اے ہمارے رب! پٹائی تو ہماری ہوچکی، اب دلجوئی باقی ہے۔ تو اپنے حبیبِ اقدس کی ہمیشہ ہمیشہ قائم رہنے والی نبوت و رسالت کے صدقے،ہمیں ہماری کھوئی ہوئی عزت و عظمت، شان وشوکت، سطوت و ہیبت، اور غیرت و تمکنت پھر سے عطا فرما (یا حیی یا قیوم یا ذوالجلال والاکرام) آمین