BEST RESULT

Custom Search

Tuesday, August 2, 2016

شیخ العرب والعجم ،شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رح


شیخ العرب والعجم ،شیخ الاسلام  حضرت مولانا سید
حسین احمدمدنی رح۔۔۔۔۔۔ خصائص سیرت پر ایک نظ
(از:ڈاکٹر ابو سلمان شاہ جہاں پوری)
علم وعمل کی دنیا میں عظیم الشان شخصیت کے ناموں کے ساتھ مختلف خصائص وکمالات کی تصویریں ذحن کے پردے پر نمایاں ہوتی ہیں، لیکن شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی علیہ الرحمہ کا نام زبان پر آتا ہے تو ایک کامل درجے کی اسلامی زندگی اپنے ذہن وفکر ، علم وعمل اور اخلاق وسیرت کے تمام خصائص وکمالات اور محاسن ومحامد کے ساتھ تصور میں ابھرتی اور ذہن کے پردوں پر نقش ہو جاتی ہے۔
اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ اسلامی زندگی کیا ہوتی ہے؟ تو میں پورے یقین اور قلب کے کامل اطمینان کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ حسین احمد مدنی کی زندگی کو دیکھ لیجئے اگرچہ یہ ایک قطعی اور آخری جواب ہے لیکن میں جانتا ہوں کہ اس جواب کو علمی جواب تسلیم نہیں کیا جائے گا اور ان حضرات کا قلب اس جواب سے مطمئن نہیں ہو سکتا، جنہوں نے اپنی دور افتادگی وعدم مطالعہ کی وجہ سے یا قریب ہو کر بھی اپنی غفلت کی وجہ سے ، یا اس وجہ سے کہ کسی خاص وذوق ومسلک کے شغف وانہماک ، یا بعض تعصبات نے ان کی نظروں کے آگے پردے ڈال دیئے تھے اور وہ حسین احمد کے فکر کی رفعتوں ، سیرت کی دل ربائیوں اور علم وعمل کی جامعیت کبریٰ کو محسوس نہ کرسکے تھے اور ان کے مقام کی بلندیوں کا اندازہ نہ لگا سکے تھے۔ اس لیے ضروری ہوگیا ہے کہ حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی کے فکر اور سیرت کے بعض خصائص کی طرف قارئین کرام کو توجہ دلاؤں۔
جامعیت علوم وفنون:
حضرت شیخ الاسلام ایک بلند پایہ عالم دین تھے۔ وہ اپنے دور کے بے مثال محدث تھے درس وتدریس اور تحقیق حدیث میں ان کا پایہ بہت  بلند تھا تدریس حدیث میں ان کا ایک خاص اسلوب تھا جس نے انہیں اقران وامثال میں امتیاز بخشا تھا وہ بہت بڑے فقیہ تھے اور انہیں نہ صرف فقہ کے مسائل ازبر تھے بلکہ فقہ وحدیث میں ان کا درجہ ایک محقق اور مجتہد کا تھا وہ مفسر بھی تھے اور نہ صرف حروف وسواد کی رہنمائی میں بلکہ معانی کی گہرائی میں اتر کر قرآن کے بصائر وحکم اور مسائل واحکام کی تشریح وتفسیر فرماتے تھے وہ ایک زاہد شب زندہ دار بزرگ اور اپنے وقت کے ایک عظیم الشان شیخ طریقت تھے انہیں انسان کے امراض نفس وقلب کا پتا چلانے میں حذاقت کا کمال حاصل تھا معالجہ نفس وطبائع اور اصلاح وتزکیہ میں انہیں یدطولیٰ ملا تھا۔ تاریخ عالم میں ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا اور تاریخ معاشیات ہند کے وہ ایک عظیم اسکالر تھے بحر سیاسیات ہندو انقلابات عالم اسلامی کے وہ بے مثل شناور تھے ۔ وہ ایک بلند پایہ مصنف تھے اور افکار کی دنیا میں ہلچل پیدا کردینے اور اپنے عہد کے مشہور خطیب بھی تھے جنگ آزادی میں انہوں نے اپنے جسم وجان اور وقت ومال کی بے مثال قربانیاں دی ہیں وہ ایک صاحب عزیمت شخص تھے ان کی زندگی میں بے شمار مواقع ایسے آئے تھے جب وہ رخصت سے فائدہ اٹھاسکتے تھے لیکن ان کی عزیمت اور بلند ہمتی سے رخصت کی پناہ گاہوں کی پستیوں اور ذلتوں کی طرف کبھی نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ عزائم وقت میں ان کے ذوق فکر وعمل کا پایہ ہمیشہ بلند رہا۔ ذوق میزبانی سے انہیں حصہ وافر ملا تھا وہ اپنے دور کے علماء وامرا اور صوفیہ ومشائخ میں سب سے بڑے مہمان نواز تھے۔ عرب خے حسن طبعیت اور عجم کے سوزدروں سے ان کی طبعیت کا خمیرا ٹھا تھا۔
حضرت شیخ الاسلام کے یہ تمام وہ کمالات ہیں جو حضرت کی صحبت وقربت رکھنے والا ہر شخص محسوس ومعلوم کرلیتا تھا۔ اور آج بھی حضرت کی زندگی کے مطالعے سے بہ آسانی ان خصائص وکمالات کا اندازہ کرلیا جاتا ہے لیکن میں حضرت کے بعض ان کمالات کی طرف آپ کی توجہ دلاؤں گا جن کے وزن وقدر کے اندازے کے لیے علم وسائنس کی اس ترقی یافتہ دنیا میں ابھی تک کوئی میزان اور پیمانہ ایجاد نہیں ہوا ہے۔
اخلاص:
حضرت شیخ الاسلام کے ان کمالات میں سے جو دیکھے اور دکھائے نہیں جاسکتے ۔ البتہ کوئی شخص بے میل ذوق ، متوازن ذہن اور قلب سلیم کی نعمتوں سے نوازا گیا ہو تو وہ حضرت کے ان خصائص وکمالات کو محسوس کرسکتا ہے۔
حضرت کی سیرت کا پہلا عنصر، حسن اخلاص ہے لیکن اخلاص کیا ہے اخلاص ایک جوہر سیرت ہے اس کا بیج قلب کی سرزمین میں پھوٹتا ہے ٍبرگ وبار پیدا کرتا ہے اور اس کی سرمدی مہک سے مشام روح معطر ہو جاتا ہے ۔ اس جو ہر سیرت کو ہم اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھ نہیں سکتے لیکن ذوق بے میل اور قلب سلیم ہو تو اسے خوشبو کی طرح محسوس ضرور کرلیا جاسکتا ہے۔ جوہر اخلاص دادوتحسین سے بے نیاز اور ستائش کی تمنا سے بے پروا ہوتا ہے۔ اخلاص چاہتا ہے کہ صلہ وثواب کی آرزو سے قلب کو پاک کرلیا جائے ۔ حسن اخلاص عشق کے مدعی سے مطالبہ کرتا ہے کہ میری محبت کا دم بھرتے ہو اور میرے قلب وصال کے طالب ہو تو پہلے اپنی ذات کے تمام اغراض سے دس بردار ہو جاؤ اور دنیاوی عیش وراحت کی ہر خواہش کو اپنے دل سے نکال پھینکو۔ غیرت اخلاص انسانی سیرت کی کسی کوتاہی کو برداشت نہیں کرسکتی۔ اخلاص اور لوث وغرض کبھی ایک قلب میں جمع نہیں ہو سکتے۔ صاحب غرض کبھی صاحب اخلاص نہیں ہو سکتا، جو بے غرض ہو تا ہے وہی صاحب اخلاص ہوتا ہے اور جو بے غرض ہوتا ہے وہ بے پناہ ہوتا ہے اور اسے بہ قول ایک عارف کے تلوار بھی نہیں کاٹ سکتی۔
حضرت شیخ الاسلام بے غرض تھے۔قوم وملت کی خدمت کو شعار بنا یا اور تحریک آزادی کی راہ میں قدم رکھا تو پہللے اپنے قلب کو غرض سے پاک کرلیا تاکہ کوئی تلاور انہیں کاٹ نہ سکے۔ حیدر آباد (دکن) کے وظیفے کی رشوت ہو یا کسی سرکاری مدرسے (مثل مدرسۂ عالیہ کلکة) کی پرنسپل شپ کی پیشکش ہو یا جامعہ ازہر (مصر) کے منصب بلند کا لالچ ہو ۔ حالات کی سنگینی کا خوف ہو یا خاندان کے مستقبل کا اندیشہ ، انہوں نے ہر خوف وحزن سے اپنے قلب کو پاک کرلیا تھا۔ اگر انہوں نے دارالعلوم میں کوئی مقام حاصل کیا تھا یا جمعیة علمائے ہند کی صدارت کو قبول کرلیا تھا تو صرف کسی کو اگر بڑھتے اور ذمہ داری اک بوجھ اٹھاتے نہ دیکھ کر، اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کا میدان خالی پاکر اور غلام ملک میں استعمار واستبداد کے عذاب سے سسکتی انسانیت کو نجات دلانے کے  لئے صرف اپنے اسلامی اور انسانی فرض کی ادائیگی کے لیے قدم آگے بڑھایا تھا۔ اگر چہ حضرت کا اخلاص تیس سال سے زیادہ عرصے تک آزمائش کی کسوٹی پر بار بار پرکھا جاتا رہا تھا اور آپ کے اخلاص کا سونا ہر دفعہ زر خالص ثابت ہو چکا تھا، لیکن ابھی آزمائش کا ایک مرحلہ باقی تھا یہ مرحلہ ملک کی آزادی کے بعد اس وقت پیش آیا جب حضرت کی خدمت میں ملک کا سب سے بڑا سول اعزاز پدم بھوشن پیش کیا گیا اگرہندوستان میں چند حضرات اس کے مستحق تھے تو  حضرت اس اعزاز کا سب سے زیادہ استحقاقق رکھتے تھے یہ حضرت کی عظیم الشان قومی خدمات کا صلہ نہیں، اعتراف تھا یہ اعزاز حکومت یا انتظامیہ کی طرف سے نہیں تھا بلکہ قوم کی جانب سے ملک کو آزادی اور قوم کو غلامی واستبداد کے عذاب سے نجات دلانے میں ان کی خدمات کے لئے اظہار تشکر تھا اس کو قبول کرلینے کے جواز میں، ایک سو ایک دلیلیں پیش کی جاسکتی تھیںا ور آج بھی کہ ملک کی آزادی کو نصف صدی پوری ہونے والی ہے اور ایک قرن آپ کی وفات حسرت آیات پر بھی گزر چکا ہے ، اس اعزاز کے لیے آپ کے استحقاق اور جواز کے با میں دورائیں نہیں ہو سکتیں آپ کو  معلوم ہے کہ حضرت شیخ الاسلام نے قوم کی ا س پیش کش اعزاز کا کیا جواب دیا تھا؟ کیا یہی جواب نہ تھا کہ میں نے جو کچھ کیا وہ اسلام کے ایک شرعی حکم اور ملکی فرض کی ادائیگی کے لیے تھا صلہ دستائش کی آرزو، اعتراف خدمت کے جذبے اور کسی اعزاز ومنزلت کے لیے نہ تھا۔
اسقامت:  حضرت شیخ الاسلام کی سیرت کی ایک خوبی وہ ہے جسے ہم استقامت سے موسوم کرتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ ایک شخص اپنے معتقدات وافکار میں نہایت مخلص ہو سکتا ہے لیکن اخلاص کے لیے یہ لاز م نہیں ہوتا کہ اس میں استقامت بھی ہو، یہ بات بالکل اسی طرح ہوتی ہے کہ جس طرح ایک صاحب استقامت کے لیے ضروری نہیں ہوتا کہ وہ راہ حق وصواب پر بھی ہو۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص اپنے فکر میں مخلص ہوتا ہے لیکن وہ راہ حق وحریت کے شدائد ومصائب کو برداشت نہیں کرسکتا۔ اگر آپ چاہیں تو رہروان جادۂ حق وحریت کو ان کے ذوق فکر وعمل کے لحاظ سے اس طرح تقسیم کرسکتے ہیں ۔
١۔   وہ حضرات جو فکر صحیح رکھتے ہیں یعنی  حق پسند ہوتے ہیں لیکن راہ عمل وسعی کے شدائد اور اعلان حق کے نتائج سے اس درجہ خوف زدہ ہوتے ہیں کہ لسان حق کا اعتراف واعلان نہیں کرسکتے۔
٢۔  وہ حضرات جو فکر صحیح بھی رکھتے ہیں اور لساناً حق کا اعتراف واعلان بھی کردیتے ہیں لیکن آزمائش کی کسوٹی پر  پورے نہیں اترتے اور
٣۔  وہ حضرات جو حق شناس بھی ہوتے ہیں ، اعلان واظہار حق سے بھی ان کی زبانیں بند نہیں رہتیں اور جب اس راہ کی مشکات پیش آتی ہیں انہیں خوف زدہ کرنے کے لیے پھانسی کے تختے لگا دیئے جاتے ہیں، آزمائش کی صلیبیں کھڑی کردی جاتی ہیں اور تعذیر وتعذیب کے لیے زندانوں اور کال کوٹھریوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ پھر انہیں متاثر کرنے کیلئے ان کے سامنے سے انعام یافتہ انسان نما حیوانوں کی قطاریں گزاری جاتی ہیں۔ پھر ان سے دریافت کیا جاتا ہے کہ بتاؤ حالات ووقت میں سچائی کا راستہ کون سا ہے؟ لیکن وہ نہ تو کسی چیز سے متاثر ہوتے ہیں،نہ کسی بات سے خوفزدہ ہوتے ہیں اور نہ کسی عمل سحر سے دھوکہ کھاتے ہیں۔ ان کا جواب ایک ہی ہوتا ہے کہ تو اپنی طاقت وقوت سے دھوکہ کھاتے ہیں۔ ان کا جواب ایک ہی ہوتا ہے کہ تو اپنی طاقت وقوت سے دھوکا نہ کھا۔ اقدار کا گھمنڈ نہ کر، انسانوں پر ظلم سے باز اور باطل اور غلامی کے مقابلے میں حق وآزادی کے انتخاب کا حق ان سے نہ چھین۔
حضرت شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رہروان جادۂ حق وحریت کی اس آخری جماعت کے رہنما تھے۔ آپ جانتے ہیں کہ کسی طاقت کی طرف سے کسی عہدہ ومنصب کی پیشکش سیدھی انگلی سے گھی نکالنے کی کوشش کا نام ہے اقتدار کے راستے سے کسی کو ہٹانے کی کوشش کا یہ پہلا مرحلہ ہوتا ہے پس ضروری ہے کہ اگر گھی سیدھی انگلیوں سے نہ نکلے تو انہیں ٹیڑھا کرلیا جائے اور اگر پہلے مرحلے میں کامیابی نہ ہو تو قیدوبند اور تعزیر وتعذیب کے دوسرے مرحلے کا آغاز کردیا جائے حضرت شیخ الاسلام کی پوری زندگی تاریخ کی روشنی میں دنیا کے سامنے ہے جسے دیکھنے کے لیے کسی باطنی بصیرت کی ضرورت نہیں ، ظاہری آنکھوں سے دیکھ اور پڑھ لیا جاسکتا ہے کہ قیدو بند اور تعزیر وتعذیب کے ہر مرحلے میں آپ کی استقامت غیر متزلزل رہی۔ جس طرح حکومت کی کوئی پرفریب پیش کش آپ کے اخلاص کو متزلزل نہ کرسکی تھی۔ اسی طرح تعذیر وتعذیب کا خوف آپ کے پا ثبات کو اس کی جگہ سے نہ ہلا سکا۔
آپ میں سے بعض حضرات شاید اس بات میں شک کریں کہ ایک دور میں ایک جماعت کی طرف سے حضرت کے خلاف جو ہنگامہ برپا کیا گیا تھا اسے ملک کے خان بہادروں، نوابوں ، جاگیرداروں کی سرپرستی اور حکومت کی پشت پناہی حاصل تھی لیکن اس بات کو تو بہر حال آپ تسلیم فرمائیں گے کہ کسی صاحب اخلاص ودیانت کا دنیا بھر کو راضی رکھنا اور خوش کرنا ممکن نہیں ۔ ممکن ہے ایک بڑی جماعت کو وہ اپنے اخلاص ودیانت کا گرویدہ بنالے لیکن افراد کی ایک چھوٹی سی چھوٹی جماعت اس کی مخالف ضرور رہ جائے گی۔  ہم تسلیم کرتے ہیں کہ افراد کی اس چھوٹی سی جمعیة کا تعلق اس خاص جماعت کے نظام فکر سے نہ تھا جس کے وہ واقعی رکن یا کارکن تھے لیکن سوال یہ ہے کہ اختلاف وناراضگی کی صورت میں ان کا رویہ کیا ہونا چاہئے تھا؟ آپ اس سوال کا جواب دینے کی زحمت نہ اٹھائیے۔ لیکن یہ ضرور سوچئے کہ مخالفت اور توہین وتضحیک کے اس طوفان بے تمیزی میں حضرت شیخ الاسلام کی استقامت کا کیا عالم رہا؟
خواہ آپ زبان سے اس کا اقرار نہ رکیں لیکن آپ کا دل گواہ دے گا کہ آزمائش کے اس مرحلے میں بھی جو حکومت کی طرف سے قیدوبند او ر تعزیر وتعذیب کی صورت میں پیش آیا ہو، خواب کسی جماعت کے کارکنوں کی طرف سے غیر شریفانہ مخالفت اور تضحیک وتوہین کی صورت میں نمایاں ہوا ہو، حضر ت شیخ الاسلام کا اخلاص بے عیب اور استقامت بے داغ ثابت ہوتی ہے۔
جامع مذہب وسیاست : 
حضرت شیخ الاسلام کی ایک خوبی علم وعمل ، دین وسیاست، تصور وحقیقت، روزوشب کے معمولات اور ملی قومی تقاضوں، واجبات دنیا وفکر آخرت کا حسن امتزاج و توازن اور کمال جامعیت ہے۔
ہماری تاریخ بڑے بڑے اصحاب علم سے ، عظیم مدبروں اور مفکروں سے ، نہایت ذہین افراد سے ملک وقوم کے بڑے بڑے خدمت گزاروں ، نہایت دین داروں، شیرف دنیا پرستوں سے، عدیم المثال شاعروں سے ، سراپا عمل مجاہدوں سے ، شب زندہ دار زاہدوں اور عابدوں سے اور اپنے علم وعمل سے یا اپنے ذہن کی فکر پیمائیوں اور تخیل آفرینیوں سے ایک دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈالنے والوں سے کبھی خالی نہیں رہی لیکن حضرت شیخ الاسلام کے توازن وجامعیت کی شخصیت کی دید کے لیے چشم نرگ کو صدیوں تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔
حضرت شیخ الاسلام علم وعمل کی جامعیت کی مثال تھے۔ وہ عالم تھے مگر فکرو فلسفہ کی گھتیاں ہی نہ سلجھاتے رہے، عملی زندگی کے تقاضوں کو بھی ملحوظ رکھا۔ زندگی کے میدان میں ان کی شخصیت سراپا عمل نظر آتی ہے لیکن علم وفکر کی دنیا سے ان کا رشتہ اس وقت بھی قائم ہوتا تھا دین کے واجبات اور سیاست کے فرائض میں ایک ایسا حسین توازن پیدا کیا تھا کہ خالص سیاسی ہنگاموں اور ہجوم افکار واعمال میں  بھی فرائض وسنن تو کیا مستحبات بھی نہ چھوٹتے تھے آپ کی ذات گرامی تصور وحقیقت کا مجمع البحرین تھی روزوشب کے معمولات میں فی اللیل رہبان وفی النھار فرسان کی مثال تھے۔ حضرت دین وسیاست کی تفریقی کے قائل نہ تھے لیکن آپ کے موازن فکر اور جامع سیرت کا کمال یہ تھا کہ قوم اور ملت کا ہر تقاضا اور ہر کام اپنے وقت پر اور اپنے دائرے میں صحیح طور پر انجام پاتا رہا ۔
وہ انسان جو اپنا جی جان اور خاندان کنبہ رکھتا ہے ان کے واجبات اور ذمہ داریوں سے کیوں کر چھٹکارا پاکستا ہے، بچوں کی پرورش ان کی تعلیم وتربیت اور ان کی زندگی کی ضروریات واحتیاجات بعض اوقات انسان کو فکر آخرت سے غافل بھی کردیتی ہیں لیکن ٹھیک اسی طرح آخرت کی فکر اورعبادت وریاضت کا ذوق وانہماک بھی دنیاوی واجبات وفرائض میں غفلت اور کوتاہی کا موجب ہوتا ہے جام شریعت اور سندان عشق سے کھیلان اور دونوں کے حدود برقراررکھنا ، ہر مدعی اتباع شریعت اور حقوق عبادودنیا کے فہم ادراک کا ذوق رکھنے والے  کے لیے ممکن نہیں رہتا لیکن حضرت شیخ الاسلام کے لیے جام وسندان کا یہ ملاپ محض ایک کھیل تھا۔ حضرت کا کمال یہ تھا کہ وہ ایک کامل درجے کی دینی واسلامی زندگی اور اس کے تمام ظاہری وباطنی لوازم کے ساتھ سیاست کے بحر مواج میں تختہ بندی کا عزم لے کر اترے تھے اور اس کے پانی کی ایک چھینٹ سے اسلامی شرعی زندگی کو آلودہ اور دامن تر کیے بغیر وہ زندگی کے آخری سفر پر روانہ ہوگئے۔
فیضان سیرت کا ایک خاص پہلو:
اب میں حضرت شیخ الاسلام کے فیضان سیرت کے ایک خاص پہلو کی طرف آپ کی توجہ دلاناچاہتا ہوں۔
آپ جانتے ہیں کہ کسی خاص کمیونٹی کے مفادات کی بات کرنا، اس میں مذہبی عصبیت پیدا کرنا، اس کے افراد کو منظم کرنا، انہیں خاص انداز سے تعلیم دینا ، ان کی تربیت کرنا اور اس  کمیونٹی کے سامنے ایک نصب العین رکھنا اور اگر پہلے سے کوئی نصب العین ہو جو فراموش کردیا گیا ہو تو اسے یاد دلانا اور اس کے لیے جان ومال کی قربانی اور وقت کے ایثار کی دعوت دینا اور اسی ذریعے کو اس کی ہر طرح کی کامیابی کا ضامن قرار دینا عام طور پر فرقہ واریت کہلاتا ہے اور کسی سوسائٹی میں فرقہ واریت کی زہر ناکی اور سمیت اس کی زندگی اس کی جمعیة اور امن وسکون کے لیے تباہی اور ہلاکت کا جو سروسامان اپنے اندر رکھتی ہے اس پر کسی بحث کی ضرورت نہیں ۔ حضرت شیخ الاسلام کی زندگی آپ کے سامنے ہے اس کا یہ پہلو چھپا ہوا نہیں کہ حضرت نے مسلمانوں کے ملی اورفرقہ وارانہ مفاد کو ہمیشہ پیش نظر رکھا۔ مسلمانوں میں مذہبی عصبیت پیدا کی۔ ان میں اسلامی زندگی پیدا کرنے کی تلقین کی۔ رضائے الٰہی اور اتباع سنت کو زندگی کا نصب العین بنانے اور اسلامی فکروسیرت کو اپنانے کی دعوت دی اور اسلام اور صرف اسلام کے لیے جان ومال اور وقت کے ایثاروقربانی کا جذبہ پیدا کرنے کے زندگی بھر داعی رہے جمعیة کے نظام کو مستحکم کرنے یعنی مسلمانوں کی بہترین خدمات انجام دیںے کے لیے رضا کاروں کے ایک مستحکم نظام کی ضرورت کو محسوس کیا اور ملت کے جاں نثاروں کا ایک نظم قائم بھی کردیا اور جیس اکہ پہلے عرض کرچکا ہوں کہ حضرت خود بھی ایک کامل درجے کی دینی اور شرعی زندگی رکھتے تھے صرف اتنا ہی نہیںبلکہ انہوں نے ذبیحۂ گاؤ کے لئے ہمیشہ اصرار کیا نہرو رپورٹ کی مخالفت کی ،  بندے ماترم کے خلاف احتجاج کیا واردھا تعلیمی اسکیم کو رد کرتے ہوئے ایک متبادل تعلیم اسکیم پیش کی۔ سی پی گورنمنٹ کی وویا مندر اسکیم کو جوں کا توں قبول کرنے سے صاف انکار کیا۔ کشمیر اور دوسری ریاستوں میں مسلم حقوق کی پامالی کے خلاف نہ صرف جمعیة کے پلیٹ فارم سے احتجاج کیا، اخبارات میں مضامین لکھوائے اور عملی میدان میں حصہ لیا، گاندھی جی کے پرارتھنا کے گیت کو مسلمانوں کے عقیدے کے بالکل خلاف، مسلمانوں کے لیے قطعاً ناقابل قبول بتایا اور اسے صرف گاندھی جی کا فعل قرار دیا۔ ١٩٣٧ء اور١٩٣٨ء کے دوران میں کانگریسی حکومتوں کے کردار اور فیصلوں کے خلاف سب سے زیادہ لیکن سنجیدہ، مدلل اور مثبت تنقید کے محاذ کے رہنما حضرت شیخ الاسلام تھے۔
ان تمام باتوں کے باوجود یہ حقیقت اور حضرت کی سیرت کا یہ فیضان بھی ملک کے سامنے ہے کہ اس سے فرقہ واریت پیدا نہیں ہوئی جو انسانی سوسائٹی کے لیے تباہی اور  ہلاکت کا موجب ہوتی ہے حضرت شیخ الاسلام ایک مذہبی شخصیت ہونے کے باوجود ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح کے قومی رہنما تھے حالانکہ تاریخ میں ایسے قومی رہنماؤں اور سیرتوں کی مثالیں بھی موجود ہیں جو اگرچہ قطعاً مذہبی نہ تھیں اور بقول مولانا غلام رسول مہر مسلمان تھے لیکن سورۂ اخلاص بھی نہ پڑھ سکتے تھے لیکن ان کے ایک ایک قول اور ایک ایک عمل نے انسانی سوسائٹی اور ملک کی معاشرتی زندگی میں مذہبی تعصب اور منافرت کا جو زہر گھولا تھا ، وہ چالیس سال سے زیادہ عرصے میں بھی دور نہ ہو سکا۔ اور فرقہ واریت کا جو سبق ایک خاص قومی سطح پر حالات سے نمٹنے کے لیے پڑھایا گیا تھا، اس کے اثرات نے معاشرتی زندگی کو تہ وبالا اور باہمی اعتماد ومحبت کی فضا کو مسموم کردیا ہے۔
جو بات کہنا چاہتا ہوں ، یہ ہے کہ ایک شخص نے پڑوسی کو ڈرانے کے لیے (تعصب کا) ایک کتا پا لا تھا بھونکنا اور کاٹنا کتے کی فطرت میں شامل ہوتا ہے ایک مدت کے بعد مالک نے ضرورت نہ سمجھتے ہوئے کتے کو آزاد کردیا اب وہ کتا دوسروں ہی کو نہیں اپنے سابق مالک کے خاندان کو بھی بھنبھوڑ رہا ہے۔ پورا خاندان خوف زدہ ہے۔ خاندان کا اطمینان وسکون تباہ ہوگیا ہے اب مالک دوبارہ اس کے گلے میں پٹا ڈالنا اور اسے قابومیں کرنا چاہتا ہے لیکن اب یہ اس کے بس کی بات نہیں رہی یہ ایک عذاب الٰہی ہے اللہ تعالیٰ کسی قوم کو اس کی بداعمالیوں اور ظلموں سے باز آجانے کے لیے زیادہ سے زیادہ مہلت دیتا ہے اور رحمت الٰہی انتظار کرتی ہے کہ نزول عذاب سے پہلے وہ قوم اپنی بداعمالیوں سے باز آجائے، لیکن جب اس کی مہلت ختم ہو جاتی ہے اور عذاب کا نزول شروع ہو جاتا ہے تو پھر سنت الٰہی پوری ہو کر رہتی ہے اور قوم کو اس کی بداعمالیوں کی پوری پوری سزا ملتی ہے۔
اور یہ حضرت شیخ الاسلام کی سیرت ہی کا فیضان ہے کہ حضرت کے وابستگان دامن، وہ ہندوستان میں ہوں ، خواہ پاکستان میں یا دنیا کے کسی اور ملک میں ہوں ، فرقہ واریت کے جذبات سے پاک ، تعصب ومنافرت سے دور ونفور، خدا کی مخلوق سے سب سے بڑھ کر محبت کرنے والے اور دنیا کے سب سے زیادہ فراخ قلب انسان ہیں، صاحب عزم وہمت ہیں، اپنے مذہب پر مستقیم ، اپنے اعتماد میں راسخ اور اپنے دلوں میں سارے  جہاں کا درد اور احترام آدمیت لیے ہوئے بلا تفریق مذہب وملت دنیا کے تمام انسانوں کی خدمت کے لیے ہمہ وقت آمادہ ومستعد نظر آتے ہیں۔
حضرت شیخ الاسلام کی سیرت کے اس پ ہلو کے مطالعے اس کے فیضان کے مشاہدے اور حالات کے تجزئیے سے ہم یہ نتیجہ بھی نکالتے ہیں کہ یہ خیال ہر گز درست نہیں کہ فرقہ سراریت یا تعصب کا تعلق مذہبی خیالات وافکار یا تعلیمات سے ہے۔
سیاسی رہنمائی:
حضرت شیخ الاسلام جنگ آزادی میں صف اول کے رہنما تھے۔ ریشمی رومال تحریک کی وہ اہم شخصیت تھے(١٩١٧ء ) قید مالٹا سے رہائی اور ہندوستان واپسی (١٩٢٠ئ) کے بعد حضرت نے ایک بھرپور سیاسی زندگی گزاری ۔ اس دوران میں سب سے پہلی تحریک خلافت کی تھی اس کے لئے ترک موالات کا جو پروگرام وضع کیا گیا تھا اسے کامیاب بنانے اور تحریک خلافت کے مقاصد کے حصول کے لیے آپ نے سرگرم حصہ لیا۔(٢١۔١٩٢٠ئ) سائمن کمیشن کو بے ضرورت سمجھااور اس کی مخالفت کی (١٩٢٧ئ) کمیونل ایوارڈ کو قومی مقاصد کے لیے نہ صرف ناکافی سمجھا بلکہ نقصان دہ تصور کیا اور اس کی مخالفت کی (١٩٣٢ئ) واردھا تعلیمی اسکیم پر تنقید کی اور اسے قابل قبول بنانے کیلئے مناسب ومثبت تجاویز پیش کیں(١٩٢٨ئ) شاردا ایکٹ کے خلاف تحریک کے رہنماؤں میں آپ ایک بلند قامت شخصیت تھے(١٩٢٩ئ) سول میرج کے قانون کے خلاف تحریک پیدا کی(١٩٣٢ئ) اسلامی اوقاف کی حفاظت اور انہیں ان کے متعین مصارف میں خرچ کرنے اور حکومت کے دست تصرف سے انہیں بچانے کی کوششوں کی رہنمائی کا شرف جمعیة علمائے  ہند اور اس کے صدرنشین حضرت شیخ الاسلام کو حاصل تھا(١٩٣٧ئ) ودیا مندراسکیم کو اس کی طے شدہ صورت میں قبول کرنے سے انکار کیاّ١٩٣٨ئ) اردو کے بارے میں یوپی کانگریس کمیٹی اور کانگریس حکومت کے رویے کو انصاف اور کانگریس کی متفقہ پالیسی کے خلاف پایا تو انہیں فرقہ وارانہ نقطۂ نظر سے باز رکھنے کی کوشش کی(١٩٣٨ئ) شریعت بل کے نفاذ کی کوششوں میں سب سے زیادہ منظم حصہ  حضرت کی جماعت نے لیا تھا(١٩٣٧ء ) نظم جماعت کی تحریک کی رہنمائی (١٩٢٠ئ)سے اور امارت شرعیہ کے قیام کی تحریک کا سہرا جمعیة علمائے ہند اور اس کے زعما کے سر ہے۔ اس کی تاریخ ١٩٤٧ء سے تقریباً ٢٥ سال پہلے شروع ہوتی ہے انفساخ نکاح کے قانون، خلع بل ، قاضی بل، طلاق کا ترمیمی بل وغیرہ کے لیے کوششیں (٤١۔١٩٣٩ئ) حضرت شیخ الاسلام اور جمعیة علمائے ہند جس کے آ پ صدر تھے، کی ملی خدمات میں سنہری حرفوں سے لکھی جائیں گی۔
حضرت شیخ الاسلام کے یہ تمام کارنامے ملی مفاد اور اسلامی شرعی زندگی کے لیے قیام وتحفظ کے نقطہ نظر سے تھے آپ نے ان تمام تحریکوں میں بھی بڑھ چڑھ کر  حصہ لیا جن کا فائدہ کسی ایک قوم یا ملت کے لیے مخصوص نہ تھا بلکہ ان کے فوائد نہ صرف پورے ملک کے لیے عام تھے۔ بیرون ملک کے مسلمان ممالک اور تمام برطانوی مقبوضات اور دنیا کی تمام محکوم اور غلام قوموں کو پہنچنے والے تھے ۔ ان تحریکوں میں سب سے بڑی تحریک ملک کی آزادی اور استقلال قومی کی تحریک تھی ،اس کے بعد ریشمی رومال اور خلافت کی تحریکات اور ترک موالات کا پروگرام تھا، پھر سول نافرمانی کی تحریک (١٩٣٠ء و١٩٤٠ء ) نمک ستیہ گرہ، کھدر کے استعمال اور سودیشی مال کے بائیکاٹ کی تحریکات پیدا ہوئی اور آخری اہم تحریک ہندوستان چھوڑدو کی تحریک (١٩٤٢ء ) تھی۔ حضرت شیخ الاسلام نے ان تمام تحریکوں میں حصہ لیا اور اس سلسلے میں آپ کو قیدو بند کی صعوبتوں اور ایثاروقت ومال کی آزمائشوں سے گزرنا پڑا۔
١٩٤٠ء کے بعد آپ کو سخت آزمائشوں اور بڑی کٹھنائیوں سے گزرنا پڑا۔ خا ص طور پر ملک کی آزادی سے قبل کے ڈھائی تین برس آپ کے لیے سخت مشکلات کے تھے۔ اس دوران لوگ آپ کی جان کے لاگو اور عزت کے دشمن ہوگئے تھے۔ آپ کو نہ صرف تحریک پاکستان کا مخالف بلکہ مسلمانوں کا دشمن کہا گیا۔ حالانکہ ہندوستان کے سیاسی مسئلے میں آپ اپنا ایک نظریہ اور مسئلے کے حل کے لیے ایک فارمولا رکھتے تھے اگر کوئی دوسرا نظریہ رکھنے والا جمعیة علماء کے زعما سے یہ توقع رکھتا کہ وہ اس کے حق میں اپنے نظرئیے اور اس کے لیے اپنے بہترین دلائل سے دست بردار ہو جائیں و یہ حق حضرت شیخ الاسلام جمعیة علمائے ہند اور دوسری قوم پر ور مسلمان جماعتوں اور ان کے زعما کو بھی  حاصل ہونا چاہئے تھا کہ وہ ان کے حق میں اپنے نظرئیے اور اپنے دلائلس ے دستبردار ہو جائیں۔ جمعیة علمائے نے جو فارمولا وزارتی مشن کے سامنے پیش کیا تھا اور جسے مدنی فارمولا کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اسے مجلس احرار اسلام، مومن کا نفرنس، جمعیة القریش، شیعہ پولیٹیکل کانفرنس، مسلم مجلس کے علاوہ سندھ ، بلوچستان، سرحد، بنگال وغیرہ کی متعدد جماعتوں کی بھی حمایت حاصل تھی۔ لیکن کسی جماعت نے دوسری جماعت سے بے سوچے سمجھے اس منصوبے کو مان لینے کی توقع کے بجائے اصل مسئلے پر سنجیدگی کے ساتھ اور ٹھنڈے دل سے غور کرنے اور متفقہ طور پر کسی ایک نتیجے پر پہنچنے کی آرزو کی تھی۔
مدنی فارمولا:
شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ملک کی سیاسی اور فرقہ وارانہ مسئلے میں اپنی ایک مستقل رائے رکھتے تھے۔ حضرت کے نزدیک اس مسئلے کا صحیح ترین حل وہ فارمولا تھا جسے جمعیة علمائے ہندنے اپنے پلیٹ فارم سے ١٩٣١ء میں پیش کیا تھا اور بعد میں بعض وضاحتوں اور تشریح کے ساتھ ١٩٤٥ء میں قوم کے سامنے رکھا تھا اور یہی فارمولا ملک کی قوم پرور جماعتوں کی تائید کے ساتھ کیبنٹ مشں کے سامنے پیش کیا تھا جس کے بارے میں مشں کی رائے تھی کہ یہ ایک سنجیدہ غور وفکر کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے، اس کے پیچھے سیاسی بصیرت کارفرما ہے اور قابل عمل اس فارمولے میں برصغیر ہندوسان کے ہر صوبے کو مستقل اکائی کی حیثیت حاصل تھی، چند مفوضہ امور کے علاوہ تمام معاملات میں صوبے آزادوخود مختار تھے۔ مفوضہ امور کی ذمے داری مرکز کی تھی مرکز کی ہیئت ترکیبی میں ٢٥ ہندوؤں کے بالمقابل ٤٥ سیٹیں مسلمانوں کی تھیں جب کہ ١٠ سیٹیں اقلیتوں کے لیے مخصوص تھیں کوئی ایسا سیاسی ، اجتماعی ، تہذیبی معاشرتی مسئلہ جس کا تعلق مسلمانوں سے ہو، ان کی دو تہائی اکثریت کے اتفاق رائے کے بغیر طے نہیں کیا جاسکتا تھا۔
یہ وہی منصوبہ تھا جس کے صوبوں کو مختلف گروپوں کی شکل میں مرکز کی اسی ہیئت ترکیبی کے ساتھ وہی حقوق واختیارات تفویض کئے گئے تھے اور کانگریس کی طرف سے مولانا ابو الکلام آزاد نے پیش کیا تھا اور کیبنٹ مشن نے بعض جزوی ترامیم کے بعد اپنا لیا تھا اور ملک کی دیگر جماعتوں کے بہ شمول مسلم لیگ کے زعما کی اس یقین دہانی پر کہ اس کے ذریعے پاکستان کی بنیاد فراہم کردی گئی ہے ، مسلم لیگ کونسل نے بھی اسے منظور کرلیا تھا، لیکن کانگریس کے صدر پنڈت جواہر لال نہرو کی جانب سے اس منصوبے کی ایک شق کی غلط تشریح سے فائدہ اٹھا کر مسلم لیگ اس منصوبے کے بارے میں اپنی منظوری سے دستبردار ہوگئی اور اپنے سابق موقف پر  لوٹ گئی۔ جس پر اس کے ثبات نے تقسیم ملک کے نتیجے اور قیام پاکستان کے انجام پر  پہنچا دیا۔
اب جس طرح اس عہد کی خوبیاں بانیان پاکستان کے نصیب کی تاریخ ہیں، اسی طرح اگر اس دور میں ہندوستان کے  مسلمانوں کے مسئلے میں پیچیدگیاں پیدا ہوئی ہیں یا پاکستان میں مختلف  قومیتوں اور مقامی اور غیر مقامی کے مسئلے نے سراٹھایا ہے ، اسلامی نظام کے نفاذ کی منزل تقریباً نصف صدی کی مسافت طے کرنے کے بعد بھی قریب نظر نہیں آتی، اسلام کے نظام سیاسی یا طرز حکمرانی کا مسئلہ ہنوذ تصفیہ طلب ہے اسلامی تہذیب کی تعریف پر بھی اگر اتفاق نہیں ہو سکا، اردو ہندی مسئلے کے بجائے اردو بنگالی مسئلہ پیدا ہو کر ملک دولخت ہو چکا ہے ، اردو اور مقامی زبانوں کا مسئلہ موجود ہے اور اردو کے نفاذ کی راہ بھی ہموار نہیں اور سب سے بڑھ کر شریعت کا مسئلہ ہی مابہ النزاع ہے تو اس کے لیے اسی تحریک کے رہنماؤں کی بدنیتی اور بے دینی کو ذمے دار قرار دینا چاہئے اور یہ حقیقت تسلیم کی جانی چاہئے کہ زندگی کے واقعی مسائل کے تصفیے کے لیے حقیقی بنیاد کی ضرورت ہوتی ہے زندگی کے مسائل خوبصورت نعروں اور گلے کی قوت سے طے نہیں کیے جاسکتے اور نہ مفروضوں پر ان کے تصفیے کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ر


Monday, August 1, 2016

قوت برداشت پیدا کیجئے ۔

●●● قوت برداشت :
●صدر ایوب خان پاکستان کے پہلے ملٹری ڈکٹیٹر تھے‘ وہ روزانہ سگریٹ کے دو بڑے پیکٹ پیتے تھے‘ روز صبح ان کا بٹلر سگریٹ کے دو پیکٹ ٹرے میں رکھ کر ان کے بیڈ روم میں آجاتاتھا اورصدر ایوب سگریٹ سلگا کر اپنی صبح کا آغاز کرتے تھے‘ وہ ایک دن مشرقی پاکستان کے دورے پر تھے‘ وہاں ان کا بنگا لی بٹلرانہیں سگریٹ دینا بھول گیا‘ جنرل ایوب خان کو شدید غصہ آیا اورانہوں نے بٹلر کو گالیاں دینا شروع کر دیں۔ جب ایوب خان گالیاں دے دے کر تھک گئے تو بٹلر نے انہیں مخاطب کر کے کہا ’’جس کمانڈر میں اتنی برداشت نہ ہو وہ فوج کو کیا چلائے گا‘ مجھے پاکستانی فوج اور اس ملک کا مستقبل خراب دکھائی دے رہا ہے‘‘۔ بٹلر کی بات ایوب خان کے دل پر لگی ‘ انہوں نے اسی وقت سگریٹ ترک کر دیا اور پھر باقی زندگی سگریٹ کو ہاتھ نہ لگایا۔

●آپ نے رستم زمان گاما پہلوان کا نام سنا ہو گا۔ہندوستان نے آج تک اس جیسا دوسرا پہلوان پیدا نہیں کیا‘ ایک بار ایک کمزور سے دکاندار نے گاما پہلوان کے سر میں وزن کرنے والاباٹ مار دیا۔ گامے کے سر سے خون کے فوارے پھوٹ پڑے‘ گامے نے سرپر مفلر لپیٹا اور چپ چاپ گھر لوٹ گیا۔ لوگوں نے کہا’’ پہلوان صاحب آپ سے اتنی کمزوری کی توقع نہیں تھی‘ آپ دکاندار کو ایک تھپڑ مار دیتے تو اس کی جان نکل جاتی‘‘۔ گامے نے جواب دیا ’’مجھے میری طاقت نے پہلوان نہیں بنایا‘ میری برداشت نے پہلوان بنایا ہے اور میں اس وقت تک رستم زمان رہوں گا جب تک میری قوت برداشت میرا ساتھ دے گی‘‘۔

●قوت برداشت میں چین کے بانی چیئرمین ماؤزے تنگ اپنے دور کے تمام لیڈرز سے آگے تھے‘ وہ75سال کی عمر میں سردیوں کی رات میں دریائے شنگھائی میں سوئمنگ کرتے تھے اوراس وقت پانی کا درجہ حرارت منفی دس ہوتا تھا۔ ماؤ انگریزی زبان کے ماہر تھے لیکن انہوں نے پوری زندگی انگریزی کا ایک لفظ نہیں بولا ۔آپ ان کی قوت برداشت کا اندازا لگائیے کہ انہیں انگریزی میں لطیفہ سنایا جاتا تھا‘ وہ لطیفہ سمجھ جاتے تھے لیکن خاموش رہتے تھے لیکن بعدازاں جب مترجم اس لطیفے کا ترجمہ کرتا تھا تو وہ دل کھول کر ہنستے تھے ۔

●قوت برداشت کا ایک واقعہ ہندوستان کے پہلے مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر بھی سنایا کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے انہوں نے زندگی میں صرف ڈھائی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کی پہلی کامیابی ایک اژدھے کے ساتھ لڑائی تھی‘ ایک جنگل میں بیس فٹ کے ایک اژدھے نے انہیں جکڑ لیا اور بابر کو اپنی جان بچانے کیلئے اس کے ساتھ بارہ گھنٹے اکیلے لڑنا پڑا۔ ان کی دوسری کامیابی خارش تھی۔ انہیں ایک بارخارش کا مرض لاحق ہو گیا‘خارش اس قدر شدید تھی کہ وہ جسم پر کوئی کپڑا نہیں پہن سکتے تھے۔ بابر کی اس بیماری کی خبر پھیلی تو ان کا دشمن شبانی خان ان کی عیادت کیلئے آ گیا۔ یہ بابر کیلئے ڈوب مرنے کا مقام تھا کہ وہ بیماری کے حالت میں اپنے دشمن کے سامنے جائے۔ بابر نے فوراً پورا شاہی لباس پہنا اور بن ٹھن کر شبانی خان کے سامنے بیٹھ گیا‘ وہ آدھا دن شبانی خان کے سامنے بیٹھے رہے‘ پورے جسم پر شدید خارش ہوئی لیکن بابر نے خارش نہیں کی۔ بابران دونوں واقعات کو اپنی دو بڑی کامیابیاں قرار دیتا تھا اورآدھی دنیا کی فتح کو اپنی آدھی کامیابی کہتا تھا۔

●دنیا میں لیڈرز ہوں‘ سیاستدان ہوں‘ حکمران ہوں‘ چیف ایگزیکٹو ہوں یا عام انسان ہو‘ان کا اصل حسن ان کی قوت برداشت ہوتی ہے۔ دنیا میں کوئی شارٹ ٹمپرڈ‘ کوئی غصیلہ اور کوئی جلد باز شخص ترقی نہیں کر سکتا۔ دنیا میں معاشرے‘ قومیں اور ملک بھی صرف وہی آگے بڑھتے ہیں جن میں قوت برداشت ہوتی ہے۔ جن میں دوسرے انسان کی رائے‘ خیال اور اختلاف کو برداشت کیا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک‘ ہمارے معاشرے میں قوت برداشت میں کمی آتی جا رہی ہے۔ ہم میں سے ہر شخص ہروقت کسی نہ کسی شخص سے لڑنے کیلئے تیار بیٹھا ہے۔

●یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کیا ہم اپنے اندر برداشت پیدا کر سکتے ہیں؟ اس کا جواب ہاں ہے اور اس کا حل رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ میں ہے۔

●ایک بار ایک صحابیؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا ’’یارسول اللہ ﷺآپ مجھے زندگی کو پر سکون اور خوبصورت بنانے کاکوئی ایک فارمولہ بتا دیجئے‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا ’’غصہ نہ کیا کرو‘‘ آپﷺ نے فرمایا ’’دنیا میں تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ اول وہ لوگ جو جلدی غصے میں آجاتے ہیں اور جلد اصل حالت میں واپس آ جاتے ہیں۔ دوم وہ لوگ جو دیر سے غصے میں آتے ہیں اور جلد اصل حالت میں واپس آ جاتے ہیں اور سوم وہ لوگ جو دیر سے غصے میں آتے ہیں اور دیر سے اصل حالت میں لوٹتے ہیں‘‘ آپﷺ نے فرمایا ’’ ان میں سے بہترین دوسری قسم کے لوگ ہیں جبکہ بدترین تیسری قسم کے انسان‘‘۔

●غصہ دنیا کے90فیصد مسائل کی ماں ہے اور اگر انسان صرف غصے پر قابو پا لے تواس کی زندگی کے 90فیصد مسائل حل ہوجاتے ہیں۔

Monday, July 25, 2016

مسلک علماء دیوبند

علماء ِ دیوبند اپنے مسلک اور دینی رخ کے لحاظ سے کلیۃ ً اہل ِ سنت والجماعت ہیں اور اہل ِ سنت کا بھی اصل حصہ ہیں ہندوستان میں یہ سلسلہ قوت کے ساتھ اجتماعی رنگ میں حضرت الامام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی قدس سرہ سے زیادہ پھیلا اور چمکا اس سلسلہ کی وہ کڑی جو آج ہندوستان میں اہل ِ سنت والجماعت کے مسلک کی ترجمان اور رواں دواں ہے علمائے دیوبند ہیں ، جنہوں نے تعلیم وتربیت کے ذریعہ اس سلسلہ کو مشرق سے مغرب تک پہنچایا اور پھیلایا ۔
مسلک ِ دیوبند کو ئی جدید فرقہ نہیں!
علماء ِ دیوبند صرف اہل ِ سنت والجماعت کے اصول وقوانین ہی کے از اول تا آخر پابند رہے ہیں بلکہ ان کے متوارث ذوق کو بھی انہوں نے تھاما اور محفوظ کیا ہے پھر وہ خود رَوقسم کے اہل ِ سنت نہیں بلکہ اوپر ان کا استناد اور سندی سلسلہ ملا ہو اہے اس لئے مسلک کے لحاظ سے نہ وہ کوئی جدید فرقہ ہیں اورنہ بعد کی پیداوار ہیں بلکہ وہی قدیم اہل ِ سنت والجماعت کا مسلسل سلسلہ ہے جو اوپر سے تسلسل اور استمرار اور سند ِ متصل کے ساتھ کابر اً عن کابرٍ چلا آرہا ہے، وقت کے عوامل اور افراط وتفریط نے چونکہ اہل ِ سنت میں مختلف شاخیں پیدا کردیں اور ہر نئی شاخ نے اصل ہو نے کا دعویٰ کیا جودعوے کی حد تک نہ رہا بلکہ اپنے وجود وبقاء کیلئے ہر شاخ نے اصل طبقہ کے خلاف محاذ بناکر اسے غیر اصل اور اپنے کو اصل ثابت کرنے کی جد وجہد کا آغاز بھی کردیا جیسا کہ اصل سے کٹی ہو ئی شاخوں کا طرزِ عمل یہی ہوتا ہے اس لئے حقیقی اصل عوام کی نگاہوں میں مشتبہ ہونے لگی اور بہت سے سوالات اٹھنے لگے مگر اصل بہر حال اصل ہی ہو تی ہے اورمعیار پر کسنے کے بعد اس کی اصلیت پوری طرح کھل کرسامنے آجاتی ہے ۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی تعلق مع اللہ کی ساری نسبتوں کے جامع
اہل ِ سنت والجماعت کے اس اصل طبقے یا علمائے دیوبند کے اس جامع ومعتد ل ترین مسلک جس میں افراط ہے نہ تفریط نہ غلو ہے نہ مبالغہ بلکہ کمال ِ اعتدال اور جامعیت کا جوہر پیوست ہے وہ اس وجہ سے کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے تمام منتسب شعبوں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب تمام ذوات ِ قدسیہ کے تعلق کواپنے مسلک کا رکن بنایا اور انہی کی روشنی میں آگے بڑھتے ہیں کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی تعلق مع اللہ کی ساری نسبتوں کے جامع اور فرد ِ اکمل ہیں ۔
اس اصول کی روشنی میں دیکھا جائے تو شریعت کے تمام علمی وعملی شعبے اور نہ صرف علمی اور شرعی شعبے بلکہ دین کی ساری حجتیں جن سے یہ شعبے اور خود شریعت بنتی ہے وہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے مختلف الانواع نسبتوں کے ثمرات وآثار ہیں مثلاً آپ کی نسبت اسلامی سے عملی احکام کا شعبہ پیدا ہواجس کا اصطلاحی نام ’’فقہ‘‘ ہے آپ کی نسبت ِایمانی سے عقائد کاشعبہ پیدا ہوا جس کا فنی نام ’’ کلام ‘‘ ہے آپ کی نسبت ِاحسانی سے تزکیۂ نفس اور تکمیل ِ اخلاق کاشعبہ پیداہوا جس کا اصطلاحی نام’’ تصوف‘‘ ہے ۔
اہل ِ سنت والجماعت اور مسلک ِ دیوبند کے عناصر ِ ترکیبی
غرض دین کے شعبے ہوں یا حجتیں سب سنت ِ نبوی کی مختلف نسبتوں سے پیدا شدہ ہیں جن کے اصطلاحی نام بعد میں رکھ لئے گئے جب کہ ان کواور ان کے قواعد وضوابط کوسنت ِ نبوی سے اخذ کر کے فنون کی صورت دے دی گئی مگر ان کی حقیقتیں قدیم اور پہلے ہی ذاتِ نبوی سے وابستہ تھیں اس لئے یہ سارے  دین کے شعبے فقہ ،تصوف ،حدیث ، تفسیر ، روایت ، درایت حقائق ، اصول ، حکمت ، کلام اور سیاست وغیرہ  سنت کے اجزاء ثابت ہوئے جن کوعلمائے دیوبند نے جوں کا توں لے کر اپنے مسلک کا رکن بنالیا اور اس مسلک کے عناصر ِ ترکیبی قرار پائے پھر انہی شعبوں کی تحقیقات اور خصوصی مہارت وحذاقت سے اسلام میں خاص خاص طبقات پیداہوئے جواپنے اپنے فن کے مناسب ناموں سے موسوم ہوئے جیسے متکلمین ، فقہاء، صوفیاء ، محدثین ،مجتہدین،اصولیین ،عرفاء ، حکماء اور خلفاءغیرہ ۔
پس جیسے علمائے دیوبند کارجوع ان شعبوں کی طرف یکساں ہے اور کسی شعبہ پر غلو کے ساتھ زورِ دنیا ان کا مسلک نہیں بلکہ ان تمام شعبوں کی طرف ان کارجوع یکساں ہے جبکہ یہ تمام شعبے یکسانیت کے ساتھ ذات ِ بابرکت نبوی سے انتساب رکھتے ہیں ایسے ہی ان شعبوں کی مقدس شخصیتوں کی طرف رجوع اور ان کا ادب واحترام یکساں ہے جب کہ ان میں سے ہر شخصیت کسی نہ کسی جہت سے ذات ِ اقدس ِ نبوت سے وابستہ ہے ۔
جیسا کہ حضرات صحابہ کرام ؓ میں ہر رنگ اور ہر طبقے کے افراد جمع تھے او رایک دوسرے کی عظمت ، ومحبت اورادب واحترام میں بھی انتہائی مقام پر تھے اس لئے امت کے اہل ِ علم وفضل افراد میں افضل ترین اور مقبول ترین ذوات اور اعلیٰ ترین طبقات وہی سمجھے گئے ہیں جن میں ان تمام شعبہائے دین کے اجتماع سے جامعیت کی شان پیداہو گئی ہو اور وہ بیک دم قرآن وحدیث فقہ واصول ، تصوف ، کلام ،روایت ، درایت ،پھر راہِ عمل کے اخلاق میں فقر وامارت، زہد ومدنیت ،عبادت وخدمت ،خلوت پسندی وجلوت آرائی ،بوریہ نشینی وحکمرانی کے ملے جلے احوال وکیفیات سے سرفرازہوئے ہوں۔
مسلک ِ علمائے دیوبند کا مزاج
مسلک علمائے دیوبند محض اصول پسندی کا نام ہے نہ شخصیت پرستی کانہ ان کے یہاں دین اوردینی تربیت کے لئے تنہا لٹریچر کا فی ہے نہ تنہا شخصیت ،نہ تنہا مطالعہ ، نہ اپناذاتی ذہن غور وفکر کے لئے کافی ہے بالفاظ ِ مختصر لٹریچر بشرط ِ معیت وملازمت ِ صدیقین سے اس مسلک کامزاج بنا جس میں کسی ایک کے احترام سے قطع نظر جائز نہیں اور جبکہ جامعیت واعتدال اور احتیاط ومیانہ روی ہی مسلک کا جوہر ہے تودین کے ان تمام شعبوں اور علمی اصول میں قرآن وحدیث سے لے کرفقہ وکلام اور تصوف واصول وغیرہ کی چھوٹی سے چھوٹی جزئی پر جمنا اور حکمت واعتدال کے ساتھ اسے مشعل ِراہ بنانا ہی اس مسلک کا امتیاز ہے۔ ذوات اور شخصیات کی لائن میں حضرات انبیاء کرام علیھم الصلوٰۃوالسلام سے لے کر ائمہ ، صلحاء ،مشائخ صوفیاء اور حکماء کی ذوات ِ قدسیہ تک کے بارے میں افراط وتفریط سے الگ رہ کران کی عظمت متابعت پر قائم رہناہی اس مسلک کی امتیازی شان ہے ۔
عقیدہ ٔتوحید اور مسلک علمائے دیوبند کانقطہ ٔاعتدال
سو اس مسلک میں اصل چیز توحید ِ خداوندی پر زور دینا ہے جس کے ساتھ شرک یا موجبات ِ شرک جمع نہ ہو سکیں اور کسی بھی غیر اللہ کی اس میں شرکت نہ ہو .لیکن ساتھ ہی تعظیم اہل اللہ اور توقیر اہل فضل وکمال کو اس کے نافی سمجھنا مسلک کاکوئی عنصر نہیں پس تعظیم اس حد تک کہ توحید مجروح نہ ہو اور توحید اس درجہ تک کہ تعظیم اہل ِ دل متاثر نہ ہو یہی نقطہ ٔ اعتدال ہے جو مسلک علمائے دیوبند ہے ۔
حضرات انبیاء علیہم السلام اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں دیوبند کامسلک
حضرات انبیاء کرام کے بارے میں نہ تو ان کا مسلک غلو زدہ اور بے بصیرت طبقوں کی طرح ہے کہ خدا اور انبیاء میں کوئی فرق نہیں صرف ذاتی اور عرضی کا فرق ہے (معاذاللہ )یا خدا ان میں حلول کئے ہوئے ہیں اور وہ ایک محض پر دہ ٔ مجاز ہیں جن میں ربانی حقیقت سمائی ہوئی ہے گویا وہ خدا کے اوتار ہیں یاوہ بشر کی عام نوع سے الگ مافوق الفطرت کوئی اور مخلوق ہیں جن میں نوع ِبشری کی مماثلت نہیں بلکہ انبیاء کرام کے بارے میں علمائے دیوبند کامسلک یہ ہے کہ وہ بشر بھی ہیں، نوع ِبشر سے الگ ان کی کوئی نوع نہیں اسلئے جہاں انکی بے ادبی کفر ہے اور عظمت عین ایمان ہے وہیں اس عظمت میں شرک کی آمیزش بھی کفر  ہے ۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بھی علمائے دیوبند کا مسلک وہی نقطہ ٔاعتدال اور میانہ روی ہے جو خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی پیدا کردہ ہے چنانچہ علمائے دیوبند بصدق ِ قلب سید الکونین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو افضل الکائنات افضل البشر اور افضل الانبیاء یقین کرتے ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ آپ کی بشریت کا اقرار کرتے ہیں غلوئے عقیدت ومحبت میں نفی بشریت یا ادعاء ِ اوتار یا پردہ ٔ مجاز وغیرہ کہنے کی جرأت نہیں کرتے ،وہ آپ کی ذات ِ بابرکت کو تمام انبیاء کرام علیھم السلام کی تمام کمالاتی خصوصیات ،خلت ،اصطفائیت ،کلمیت ،روحیت ،صادقیت ، مخلصیت ، صدیقیت وغیرہا کا جامع بلکہ مبداء نبوت انبیاء اور منشاء ولایت اولیاء سمجھتے ہیں ،وہ آپ کی اطاعت ِمطلقہ کو فر ض عین جانتے ہیں لیکن آپ کی عبادت کو جائزنہیں سمجھتے، وہ آپ کو ساری کائنات میں فر د ِ اکمل اور بے نظیر جانتے ہیں لیکن آپ ؐ میں خصوصیات ِ الوہیت تسلیم نہیں کرتے اور اس میں ذاتی اور عرضی کا فرق معتبر نہیں سمجھتے وہ آپؐ کے ذکر ِ مبارک اورمدح وثناء کو عین عبادت سمجھتے ہیں لیکن اس میں عیسائیوں جیسے مبالغے جائز نہیں سمجھتے کہ حدودِبشریت کوحدود ِ الوہیت سے جا ملائیں وہ برزخ میں آپ کی جسمانی حیات کے قائل ہیں لیکن وہاں معاشرت ِ دنیوی کے قائل نہیں وہ اسکے اقراری ہیں کہ آج بھی امت کے ایمان کاتحفظ گنبد ِ خضراء ہی کے منبع ِ ایمانی سے ہورہا ہے لیکن پھر بھی وہ آپ کو حاضر وناظر نہیں جانتے جو کہ خصوصیت ِ الوہیت میں سے ہے وہ آپ کے علم ِ عظیم کو ساری کائنات کے علم سے خواہ ملائکہ ہوں یا انبیاء یا اولیاء بمراتب بے شمار زیادہ اور بڑھ کر جانتے ہیں لیکن پھر بھی اس کے ذاتی اور محیط ہونے کے قائل نہیں ۔
غرض تمام ظاہری وباطنی کمالات میں آپﷺ کو ساری مخلوقات میں بلحاظ ِ کمال وجمال یکتا بے نظیر اور بے مثال سمجھتے ہیں لیکن خالق کے کمالات سے ان کمالات کی وہی نسبت مانتے ہیں جومخلوق سے ہو سکتی ہے خالق کی ذات وصفات اورکمالات سب لا محدود ہیں اور مخلوق کی ذات وصفات اورکمالات سب محدود ہیں۔
صحابۂ کرام ؓکے بارے میں علمائے دیوبند کا مسلک
خدااور رسول نے من حیث الطبقہ اگر کسی گروہ کی تقدیس بیان کی ہے تووہ صرف صحابہ کرامؓ کاطبقہ ہے ان کے سوا کسی طبقہ کو من حیث الطبقہ مقدس نہیں فرمایا کہ کسی طبقہ کی تقدیس کی ہو مگر اس پورے کے پورے طبقہ کو راشد ومرشد ، راضی ومرضی، تقی القلب ، پاک باطن ،مستمر الطاعت ،محسن وصادق اور موعود بالجنۃ فرمایا پھر ان کی عمومی مقبولیت وشہرت کوکسی خاص قرن اوردور کے ساتھ مخصوص اور محدود نہیں رکھا بلکہ عمومی گردانا ۔
علمائے دیوبند نے اپنے اس مسلک میں بھی رشتہ ٔ اعتدال کوہاتھ سے نہیں جانے دیا اور کسی گوشہ سے بھی افراط وتفریط اور غلو کو آنے نہیں دیا ان کے نزدیک تمام صحابہ کرام شرف ِ صحابیت اور صحابیت کی بزرگی میں یکساں ہیں اس لئے محبت وعظمت میں بھی یکساں ہیں .البتہ باہم فرق ِ مراتب بھی ہے ، لیکن یہ فرق چونکہ نفس ِصحابیت کا فرق نہیں اس لئے اس سے نفس ِصحابیت کی محبت وعقیدت میں بھی فرق نہیں پڑسکتا ۔
اسی طرح علمائے دیوبند ان کی عظمت وجلال کی وجہ سے انھیں بلااستثناء نجومِ ہدایت مانتے ہیں اور یہ کہ بعد والوں کی نجات انہی کے علمی وعملی اتباع کے دائرہ میں محدود ہے لیکن انہیں شارع تسلیم نہیں کرتے کہ حق ِ تشریع ان کیلئے ماننے لگیں ۔
صحابہ کرام ؓ پر تنقید اور مشاجراتِ صحابہ ؓ میں مسلک ِ دیوبند
چونکہ ان مقدسین میں کمالِ زہد وتقویٰ اور کمالِ فراست وبصیرت کی وجہ سے جذبات ِمعصیت مضمحل اوردواعی ٔ طاعت مستقل تھے ،معصیت سے وہ ہمہ وقت بیگانہ تھے اور طاعت ِ حق میں یگانہ ایمان وتقویٰ ان کے قلوب میں مزین اور کفر وفسوق ان کے باطن میں مبغوض تر تھا یہی وجہ ہیکہ علمائے دیوبند انہیں غیر معصوم کہنے کے باوجود بوجہ محفوظیت دین کے بارے میں قابل ِ تنقید وتبصرہ نہیں سمجھتے ، ان کے مشاجرات اور باہمی نزاعات میں خطاء وصواب کا تقابل ہے ، حق وباطل یا طاعت ومعصیت کانہیں .اور سب جانتے ہیں کہ مجتہد خاطی کو اجر ملتا ہے نہ کہ زجر ۔ پس ان کا باہمی معاملات میں (جوکہ نیک نیتی اور پاک نفسی پر مبنی تھی)حسب ِ مسلک ِ علمائے دیوبند نہ بد گمانی جائزہے نہ بد زبانی یہ توحید کامقام ہے نہ تنقید کا ’’تلک دماء طھّر اللّٰہ عنھا ایدینا فلانلوّث بھا السنتنا‘‘
(حضرت عمر بن عبد العزیزؒ)

یہی وجہ ہے کہ علمائے دیوبندنے شخصیتوں کے عظمت کے اقرا ر کے ساتھ ان کے صواب کوصواب کہا اور خطاء کو خطاء پھر خطاء کا وہ علمی عذر بھی پیش ِنظر رکھاجو ایک اچھی اور مقدس شخصیت کی خطا ء میں پنہاں ہوتا ہے نیز اس خطاء پر اس کی ساری زندگی کو خاطئانہ قرار دینے کی غلطی نہیں کی ۔
اولیاءاللہ،تصوف اور علمائے دیوبند
اولیائے کرام ،صوفیائے عظا م کا طبقہ مسلکِ علمائے دیوبند کی رو سے امت کے لئے روح ِ رواں کی حیثیت رکھتا ہے، جس سے امت کی باطنی حیات وابستہ ہے جو اہلِ حیات ہے، اس لئے علمائے دیوبند ان کی محبت وعظمت کو ایمان کے تحفظ کے لئے ضروری سمجھتے ہیں مگر غلوکے ساتھ اس محبت وعظمت میں انہیں ربوبیت کامقام نہیں دیتے، ان کی تعظیم شرعاً ضروری سمجھتے ہیں لیکن اس کےمعنیٰ عبادت کے نہیں لیتے کہ انہیں یا ان کی قبروں کو سجدہ ورکوع اور طواف ونذر یا منت یا قربانی کا محل بنا لیا جائے وہ ان کی منور قبروں سے استفادہ اور فیض حاصل کرنے کے قائل ہیں ، لیکن انہیں مشکل کشا ،حاجت روا،دافع البلا ء و الوباء نہیں سمجھتے کہ وہ صرف شان ِ کبریائی ہے۔
مروجہ رسوم ،ایصال ِ ثواب اور مسلک ِ دیوبند
وہ رسوم ِ شادی وغم کو اسوہ ٔ حسنہ اور سلف ِ صالحین کے سادہ اور بے تکلف طریق ِ عمل میں محدود رکھنا چاہتے ہیں ، اغیار کی نقالی یا تشبہ کو قابلِ ردسمجھتے ہیں ،غمی کے رسموں ، تیجہ ، دسواں ، چہلم اور برسی وغیرہ کو بدعت سمجھتے ہیں .اس لئے سختی سے روکتے ہیں ، اور شادی کی مروجہ رسوم کو خلاف ِسنت جانتے ہیں اسلئے انہیں رد بھی کرتے ہیں ۔
وہ ایصالِ ثواب کو مستحسن اور اموات کا حق سمجھتے ہیں مگر اس کی مخصوص صورتیں بنانے کے قائل نہیں ، جنہیں مخصوص اصطلاحات نیاز ، فاتحہ وغیرہ کے وضع کردہ عنوانات سے یا د کیا جاتا ہے ۔
تکمیل ِ اخلاق تزکیۂ نفس اور شریعت وطریقت سے متعلق مسلک ِ دیوبند
وہ تکمیل ِ اخلاق اور تزکیۂ نفس کے لئے حسب ِ سلاسلِ طریقت مشائخ کی بیعت وصحبت کو حق اور طریقت کے اصول وہدایات کی پابندی تجربۃً مفید اور ضروری سمجھتے ہیں ،لیکن طریقت کو شریعت سے الگ کوئی مستقل راہ نہیں سمجھتے جو سینہ بسینہ چلی آرہی ہو بلکہ شریعت ہی کے باطنی اور اخلاقی حصہ کوطریقت کہتے ہیں جو اصلاحِ قلب کا راستہ ہے اور جسے شریعت نے احسان کہا ہے اسلئے کہ اس اصول کو کتاب وسنت ہی سے ثابت شدہ جانتے ہیں .مگر اس لائن کی بے اصولی یا خلاف ِ اصول یا من گھڑت رواجی رسوم کوطریقت نہیں سمجھتے اور ان کے اختیار کرنے کوخلافِ سنت سمجھ کر قابلِ رد سمجھتے ہیں ۔
فقہ اور فقہاء سے متعلق مسلک ِ دیوبند
فقہ اور فقہاء کے سلسلہ میں بھی علمائے دیوبند کا مسلک وہی جامعیت اورجواہر اعتدال لئے ہوئے ہے جو اولیاء ، علماء کے بارے میں انہوں نے اپنے سامنے رکھا جس کا خلاصہ بطور اصول یہ ہے کہ وہ دین کے بارے میں آزادی ٔنفس سے بچنے دینی بے قیدی اور خود رائے سے دور رہنے اور دین کو تشتت اور پراگندگی سے بچانے کے لئے اجتہادی مسائل میں فقہ معین کی پابندی اور ایک ہی امام ِ مجتہد کے مذہب کے دائرے میں محدود رہنا ضروری سمجھتے ہیں اس لئے وہ اور ان کی تربیت یافتہ جماعت فقہیات میں حنفی المذہب ہے لیکن اس سلسلہ تقلید اور اتباع میں بھی اعتدال وجامعیت کی روح سرایت کئے ہوئے ہے جس میں افراط وتفریط کا وجود نہیں نہ تو ان کے یہاں یہ آزادی ہے کہ وہ سلف کے قائم کردہ اصولِ تفقہ اور ان سے استنباط کردہ مسائل ہی کے قائل نہ ہوں اورہر قدم پر اور ہر زمانہ میں ایک نیا فرقہ مرتب کرنے کے خبط میں گرفتار ہوں یا بالفاظ ِ دیگر اپنے فہم ورائے کی قطعیت کے توہّم میں اجتہادِ مطلق کا دعویٰ لیکر کھڑے ہوں۔ اور نہ اس کے برعکس فقہیات میں ایسے جمود اور بے شعوری کے قائل ہیں کہ ان کے فقہی مسائل کی تحقیق وتدقیق یا ان کے مآخذوں کا پتہ چلانے کے لئے کتاب وسنت کی طرف مراجعت کرنا بھی گناہ تصور کرنے لگیں اور ان فقہی استنباطوں کارشتہ بھی قرآن وحدیث سے جوڑنا اور ان کی مزید حجتیں اپنی وسعت ِ علم سے نکال لانابھی خود رائے اور آزادی ٔ نفس کے مترادف باور کریں ۔
پس وہ بلاشبہ مقلد اورفقہ ِ معین کے پابند ہیں مگر اس تقلید میں بھی محقق ہیں جامد نہیں تقلید ضرور ہے مگر کورانہ نہیں پس ایک طرف تو وہ خود رائے اور آزادی ٔنفس سے بچنے کی خاطر نصوص ِ کتاب وسنت کو بنیاد مانتے  ہیں اقوالِ سلف اور ذوق ِ سلف تک کا پابند رہنا ضروری سمجھتے ہیں اور دوسری طرف بے بصیرتی اور کور ذہنی سے بچنے کی خاطر اصول ِ افتاء اور فتاویٰ کو ان کے اصل مآخذوں سے نکلتا ہو ا دیکھنے سے بھی بے تعلق رہنا نہیں چاہتے .غرض نہ تو وہ مجتہدین فی الدین کے بعد اجتہاد ِ مطلق کے قائل ہیں اور نہ ہی جنس ِ اجتہاد کی کلی نفی کرکے فتاویٰ کے حقائق وعلل کے استخراج اور ان کے مؤیدات کے استنباط سے گریزاں ہیں بلکہ تقلید کے ساتھ تحقیق کا ملاجلارنگ لئے ہوئے ہے۔
حدیث اورمحدثین سے متعلق مسلک ِ دیوبند
حدیث کے سلسلہ میں بھی علمائے دیوبند کا مسلک نکھرا ہوا اور صاف ہے اور اس میں وہی جامعیت اور اعتدا ل کا عنصر غالب ہے جو دوسرے مقاصد ِ دین میں ہے بنیادی بات یہ ہیکہ وہ حدیث کو چونکہ قرآن شریف کا بیان اور دوسرے درجہ میں مصدرِ شریعت سمجھتے ہیں اس لئے کسی ضعیف سے ضعیف حدیث کو بھی چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتے بشرط یہ کہ وہ قابل ِ احتجاج ہو حتیٰ کہ متعارض روایات کے سلسلہ میں بھی ان کی سب سے پہلے سعی اخذ وترک کے بجائے تطبیق وتوفیق اور جمع بین الروایات کی ہوتی ہے تاکہ ہر حدیث کسی نہ کسی طرح عمل میں آجائے متروک نہ ہو کیونکہ ان کے نزدیک سلسلہ روایات میں اِعمال اولیٰ ہے اِہمال سے ۔
فہم ِمرادات ِربانی اور تعین مرادات ِنبویﷺ کی اصل
علمائے دیوبند کا مسلک فہم ِمرادات ِربانی اور تعین مرادات ِنبوی میں کیا ہے اور وہ کن اصول سے یہ متعین کرتے ہیں کہ فلاں آیت اور فلاں روایت سے اللہ اور رسولﷺ نے فلاں مطلب کاارادہ کیا ہے کیونکہ فہمِ مراد کے سلسلہ میں جبکہ مختلف مذاق اور طریقے پیدا ہوگئے ہیں جن میں اصل اور حقیقی طریقہ مل کر فی زمانہ کچھ غیر متعارف بلکہ نا قابلِ توجہ ہو گیا ہے ۔
علمائے دیوبندکے مسلک پر ہر فہمِ مراد کا طریقہ نہ خود رائے ہے نہ ادبیت ہے نہ رسم ورواج ہے نہ افسانہ وحکایات ہے او رنہ نظریات ِ زمانہ ہے بلکہ تعلیم وتربیت ہے جس کے وہی دو بنیادی رکن ہیں ایک کتاب وسنت اور ایک روشن ضمیر مربی واستاد اور اس کے ساتھ دو شرطیں. ایک استاد اور ایک تربیت یافتہ ذہنیت ۔
متوارث ذوق کیا ہے ؟ کیوں ضروری ہے ؟
جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ نے اور صحابہ سے تابعین نے تابعین سے تبع تابعین نے اور پھر ان سے قرون ِ مابعد نے سلسلہ بہ سلسلہ کابراً عن کابرٍ اساتذہ کے ساتھ کتاب وسنت کی تعلیم حاصل کی اور فہم ِ قرآن وحدیث میں ان کی تربیت سے وہ متوارث ذوق حاصل کیا جو اوپر والوں کاتھا اور وہی سلف سے خلف تک توارث کے ساتھ آج تک منتقل ہو تا چلا آرہا ہے اور اس ذوق اور تیار کردہ ذہن میں وہ منقولہ مرادیں جو اللہ سے رسول ؐ تک ،رسول سے صحابہ تک ،صحابہ سے تابعین تک ،تابعین سے تبعِ تابعین تک اس کے بعد سے آج کے دور تک سند کے ساتھ آئیں کیونکہ کلام کی بہت سی خصوصیات لب ولہجہ طرز وادا اور طریق ِتکلم اور ہیئت ِ متکلم سے بھی تعلق رکھتی ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ کیفیات ِ کلام اور ہیئتیں کاغذ پر مرتسم نہیں ہوسکتیں پھر مراد کی تعیین میں اوپروالوں کا طرز ِ عمل اور نمونہ ٔ عمل بھی کافی اورد خیل ہے ظاہر ہیکہ عمل کا یہ نقشہ بھی کاغذ اور کالے نقوش میں نہیں سما سکتا مزید یہ کہ دلوں میں ایمانی حرارت کی کیفیات اور عشق ومحبت کے جذبات جو اپنے جذب وکشش سے اتباعِ حق پر ابھارتے ہیں دلوں سے ہی دلوں میں آسکتے ہیں کاغذ اور سیاہ حروف کے راستہ یا کسی اور طریقہ سے منتقل نہیں ہوسکتے اور جب کہ ان سب چیزوں کو تعین ِ مراد میں عظیم دخل بلکہ فہمِ مراد ان پر موقوف ہے اور ان کا تعلق صرف صاحب ِ ذوق اور صاحب ِ عمل اور صاحب ِ طرز شخصیتوں سے ہے کاغذ سے نہیں۔
کتاب اللہ کے ساتھ رجال ا للہ کی ضرورت
اس لئے جو طبقہ ان سارے شخصیاتی موثرات سے کٹ کر محض کاغذ اور لٹریچر کا ہو رہا ہے وہ صرف اپنے ہی نا تربیت یا فتہ نفس اور اپنے ہی خود رَو ذہن کے آزاد تخیلات اور مجر درائے سے مرادات ِ خداوندی کو سمجھنے کی کوشش کرے گا تو ظاہر ہے کہ یہ خود اس کا اپنامفہوم اورخود اس کی اپنی ہی مراد ہوگی خدا کی مراد نہیں ہوسکتی اسلئے یہ فہمِ مراد نہ ہو گا بلکہ وہمِ مراد ہوگااسی لئے جیسا کہ علمائے دیوبند کا اصل مسلک قانون ا ورشخصیت سے مرکب تھا ایسے ہی ان کا تفہیمی مسلک اور فہمِ مراد کا راستہ بھی انہی دو چیزوں سے ہے کتاب اور استاذ اور ان کے ساتھ استناد اور تربیت ِ ذہن وذوق وہ کتاب سے دین کی متعینہ تعبیر لیتے ہیں اور شخصیتوں سے ان تعبیروں کے معانی ومرادات اخذ کرتے ہیں استناد سے ان کارابطہ ذات ِنبوی سے قائم کرتے ہیں اورتربیت سے ذہن کو زیغ سے بچا کراخذ ِ مراد کی استقامت پیدا کرتے ہیں ان میں سے جو رکن بھی گرجائے گا فہم ِ مراد کی عمارت میں اتنا نقص اور کھوٹ پیدا ہو جائے گا جس سے وہ غیر معتبر ٹہر جائیگا ۔
تعلیم ہی اصل ِاصول
بہرحال دارالعلوم کایہ مسلک جامع معتدل اور ہمہ گیر ہے اور اس کے لئے اصل اصول تعلیم کورکھا ہے کیونکہ دین کا ہر شعبہ علم سے ہی وجود پذیر ہوتا ہے جہل سے نہیں تبلیغ یا تصنیف ، تمکین ہو یا سیاست ، تصوف ہو یا ریاضت ،یہ سب علم کی فروعات ہیں جو علم ہی سے وجود پذیر ہوتی ہیں علم نہ ہوتو جہالت کے ساتھ یا ان کاوجود ہی نہیں ہوسکتا یااگر ہوگاتو فتنہ بنے گا .سیاست علم سے کٹ جائے تو پرویزی وچنگیزی ،خطابت علم سے کٹ جائے تو پیشہ ورانہ وعظ گوئی ہے ، تبلیغ کی پشت پر علم نہ ہو تو رسمی تحریک اور رواجی تنظیم ہے جو علم کے لئے مہلک ہے ، تصوف کے ساتھ علم نہ ہو تو رہبانیت اور زندقہ ہے ، بحث ومناظرہ کے پیچھے علم نہ ہو تو گروہی جھڑپ اور دھڑہ بندی ہے السنۂ غیر کی پشت پر علمی مقاصد نہ ہو تو محض فنی ریسرچ یا غرض مندی ہے جس سے دین برپانہیں ہوسکتا بلکہ تلبیس کا فتنہ پھیل سکتا ہے غرض یہ تمام شعبے علم کی فروعات ہیں اور علم کے بغیر فتنے ہیں البتہ اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ان کے بغیر علم بھی طاقتور نہیں ہو سکتا اس کی قوت، وسعت ِ زینت اورتاثیر وتصرف انہی شعبو ں پر موقوف ہے اگر یہ نہ ہو تو علم کا بقاء واستحکام مشکل ہے علم کی زیادتی تو بعد کی بات ہے  پس یہ شعبے تو علم کے بغیر وجود نہیں پا سکتے اور علم ان کے بغیر بقا نہیں پا سکتا دونوں ہی ایک دوسرے کے لئے لازم وملزوم ہیں مگر اصل اصول علم ہے اور اس کے فروعی مقاصد یہ شعبے ہیں اس لئے مسلک ِ علمائے دیوبند میں تعلیم کو جو اہمیت حاصل ہے وہ مستقلاً کسی دوسرے شعبہ کو حاصل نہیں ۔
مسلک کاعملی نقشہ شخصی کیوں نہیں ؟
مسلک کے اس عملی نقشہ کو ادار ہ کی بنیادوں میں لپیٹ کر پیش کیا گیااور اس کا نام بھی نہیں لیا گیاکہ وہ کوئی نقشہ پیش کیا جارہاہے بلکہ ادار ی عمل کی لائنوں سے ذہنو ںمیں جماتے رہے اور عمل کرتے رہے اس لئے افراد بدلتے گئے مگر نقشہ قائم رہااور ان اسلاف کے بعد بھی ان کے اخلافِ رشید نے مسلک کے اسی نقشہ کے مطابق جد وجہد جاری رکھی جس سے دارالعلوم کے راستے تعلیم وتدریس کے عموم کے ساتھ ساتھ کم وبیش یہ تمام شعبے اور عملی نقشے جاری رہے اور ان کے چلانے والے علماء کی پیدا وار بھی بدستور جاری رہی جس سے اس ادارہ کے مسلک کے تحت اس کے مخلص محافظ ہزار ہا علماء ، محدث فقیہ ،متکلم ، خطیب ، واعظ ، مناظر  مفتی ، قاضی ،صوفی ،سیاسی اور محقق پیداہوئے اورہند و بیرونِ ہند میں پھیل کر اعلاءِ کلمۃ اللہ کافریضہ انجام دیا ۔
اس جامع ِمسلک کے عناصرِترکیبی
تو علمائے دیوبند کا یہی وہ جامع مسلک اور طریقۂ عمل ہے جس سے اس جماعت کامزاج جامع بنا اور اسمیں جامعیت کے ساتھ اعتدال قائم ہوا جس سے چند بندھے جڑے مسائل یا خاص خاص فنون یا عملی گوشوں کو لیکر ان میں جمود اختیار کرلینا اور اسی میں اسلام کو منحصر کردینایااسی کو پورا اسلام سمجھ لینا اس کامسلک نہیں بلکہ اس میں تعلیم ، تبلیغ ، تصنیف، سلوک، تذکیر ،اصلاح ،اجتماعیت اورجمعیت اور ساتھ ہی تعلیمی سلسلہ دین کے تمام علمی شعبے کلام، فقہ،تصوف ،حدیث ،تفسیر اصول اور حکمت وغیرہ پھر انداز ِ فکر میں دین کی ایک ایک جزئی پر تصلب اورجمنا مگر اصولِ مذہب کے دائرہ میں رہ کر مسائل وفتوے کے اختلافی اقوال میں ترجیح وانتخاب کی حد تک صلاحیت مند مفکر اہلِ علم کا اجتہاد کرلینا بشرطیکہ اجتہاد اور وسعت ِفکر خود رائے اورذہنی بے قیدی سے خالی ہو ساتھ ہی ہمہ وقت ذکر سے غافل نہ رہنا بشرطیکہ وہ تقشف اور رنگ ِ رہبانیت سے خالی ہو نیز اجتماعیت سے خالی نہ ہونا بشرطیکہ وہ زمانہ کی رسمیات کی نقالی سے خالی ہو وغیرہ یہ سب اس جامع مسلک کے عناصر ِ ترکیبی ہیں اسی طرح ان شعبوں سے متعلقہ طبقات کی شخصیتوں میں سے کسی ایک طبقہ یا ایک شخصیت کو لیکر دوسری شخصیتوں سے منحرف ہوجانا یا ان سے سوءِ ادب اور گستاخی سے پیش آنا بھی ان کامسلک نہیں بلکہ وہ بیک وقت محدثین، متکلمین ، فقہاء،صوفیاء،حکماء،عرفاء،خلفاء، امراء سبھی کے ادب کے جامع اور سب ہی سے استفادہ اور خوشہ چینی کے مقام پر ہیں اس لئے یہ مسلک جامع ِعقل و عشق جامعِ علم ومعرفت ،جامع ِ عمل واخلاق، جامعِ دیانت وسیاست ،جامع ِ مجاہد ہ وجہاد ، جامع ِ درایت وروایت جامعِ خلوت وجلوت ،جامع ِ عبادت و معاشرت ،جامعِ حکم وحکمت جامعِ ظاہر وباطن اور جامع ِحال وقال مسلک ہے نقل وعقل کے لباس میں پیش کرنے کا مکتب ِ فکر اسے حکمت ِ ولی اللہ ہی سے ملا، اصولِ دین کو معقول سے محسوس بنا کردکھلانے کا فکر اسے حکمت ِ قاسمیہ سے ملا ، فروع ِدین میں رسوخ واستحکام پیدا کرنے کا جذبہ اسے قطب الارشاد حضرت رشید احمد گنگوہی ؒؒکی حکمت ِ عملی سے ملا ، سلوک میں عاشقانہ جذبات کا والہانہ جوش وخروش اسے قطب ِ عالم حضرت حاجی امداد اللہ قدس سرہ  سے ملا اورتصوف کے ساتھ اتباع ِ سنت کا شوق وذوق اسے حضرت مجدد الف ِثانی  ؒ اور سید احمد شہید رائے بریلی قدس سرّ ھما سے ملا ،حدیث کے ساتھ فقہ فی الدین کی نسبت اور استناد اسے حضرت شاہ عبد الغنی نقشبندی قدس سرہ سے ملا اس طرح اس مسلک میں جامعیت واعتدال کے یہ سارے عناصر بیک وقت جمع ہو گئے اور اس طرح دین کے مختلف شعبوں کی ظاہری وباطنی نسبتیں مختلف اربابِ نسبت اہل اللہ کی توجہات وتعرفات سے اسے حاصل ہوئیں جنہوں نے ملکر اور یک جا ہو کر ایک مجموعی اور معتدل مزاج پیدا کردیا ۔
دیوبندی مسلک کے متعلق علامہ اقبال کا مقولہ
مسلک علمائے دیوبند کے اس جامع اور معتدل مزاج کو دیکھ کر ڈاکٹر اقبال مرحوم نے دیوبند یت کے بارے میں ایک جامع اور بلیغ جملہ استعمال کیا تھا جو اس مسلک کی صحیح تصویر کھینچ دیتا ہے ان سے کسی نے پوچھا کہ یہ دیوبندی کیا فرقہ ہے ؟ کہا کہ نہیں!   ’’ ہر معقول پسند دیندار کا نام دیوبندی ہے ‘‘
بہر حال اس جامعیت ِ اصول وشخصیات سے پیدا شدہ امتزاج کا نام مسلک ِ علمائے دیوبند ہے اور یہی دیوبندیت یا قاسمیت ہے محض درس ِ نظامی کی کتابیں پڑھنے پڑھانے کا نام دیوبندیت نہیں ۔الحمد للہ الذی بنعمتہ تتم الصالحات
(از: حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب نوّراللہ مرقدہ   ،تلخیص :مولاناسید نذیر احمدصاحب قاسمی)